Tags » Bangali

سانحہ مشرقی پاکستان 16 دسمبر

جو قوم تاریخ سے سبق حاصل نہ کرے اور اپنے ماضی کو یاد نہ رکھے وہ بار بار ماضی کی غلطیوں کا اعادہ کرتی ہے .ماہرین عمرانیات قوموں کے ماضی کو انکی یادداشت سے تشبیہ دیتے ہیں وہ کہتے ہیں جو قوم اپنا ماضی بھول جاۓ وہ اپنی یادداشت کھو بیٹھتی ہے پھر ایسی قوم پر ایک وقت آتا ہے جب وہ خود قصہ ماضی بن جاتی ہے اس لیے ماضی کو بہر صورتِ یاد رکھنا چاہیے اور اسی طرح ماضی کا نہ بھولنے والا ایک سبق سانحہ مشرقی پاکستان ہے جسے شائد آج ہمارے سیاستدان بھول گئے ہیں سانحہ مشرقی پاکستان چند دن اور ماہ میں رونما نہیں ہوا تھا بلکہ اس کے پیچھے بنگالیوں کے ساتھ ہونے والی نہ انصافیاں اور ظلم و بربریت کی طویل داستان ہے جسے آج ہماری نوجوان نسل سے چھپایا جاتا ہے .یہ ایک فطری عمل ہے کہ جب ہم کسی قوم یا کسی خاص طبقہ کی عوام کو انکے جائز حقوق نہیں دینگے اورمتعصبانہ سوچ کے تحت جبر کے طور  پرکسی  نہ کسی طرح  انکے حقوق عضب کیے جاینگے انکے حق پر قابض ہوکر انکے حقوق  پر ڈاکہ  مارا جاۓ گا  تو ظاہر سی بات ہے کہ اس قوم اور طبقہ آبادی میں احساس محرومی جنم لے گی اورپھر اس  قوم  یا طبقہ آبادی کو اپنے آنے والی نسلوں کی بقا اور بہتر  مستقبل کے لیے فیصلہ کن جدوجہد کرنا پڑتی ہے جو ملک و  علحیدہ ریاست تک جا پہنچتی ہے اور جہاں تک میری معلومات اور میں نے جتنی تاریخ پڑھی ہے اس میں میں  نے یہ پڑھا کہ جب بنگالیوں کو مسلسل سرکاری سطح پر نظرانداز  کیا جاتا رہا  اور انکے ساتھ متعصبانہ سوچ کے تحت وفاقی و صوبائی سطح پر  ملازمت و دیگر میں اس  قدر تعصب برتا گیا کہ انکی احساس محرومی نے آزادی کے جذبہ کو بیدار کیا  جس کے نتیجے میں  سانحہ مشرقی پاکستان رونما ہوا.
میں ایک 22 سالہ طالب علم ہوں اور سانحہ مشرقی پاکستان ( سقوط ڈھاکہ) کو 43 سال  ہوگئے ہیں اور میں نے آج تک سقوط ڈھاکہ کے بارے میں بہت سی متضاد ڈاکومنٹری سنی ہیں جو میرے لیے کنفیوزن کا باعث ہے 

کیا ہمارے حکمرانوں نے سقوط ڈھاکہ سانحہ مشرقی پاکستان اور پاکستان کے دو لخت ہونے سے کچھ سبق نہیں سیکھا ؟
آج ہماری نوجوان نسل میرے بھائی اور دوست اس پر غوروفکر کیوں نہیں کرتے کہ بنگالیوں  نے پاکستان کے قیام کے لیے بھر پور ساتھ دیا اس کے باوجود ان میں احساس محرومی کیوں پیدا ہوئی؟ جس کی وجہ سے وہ پاکستان سے علیحدگی کی طرف گئے. کیوں انکی برابر  اکثریت ہونے کے باوجود انکو برابری کا درجہ کیوں نہیں دیا گیا؟
ہم سانحہ مشرقی پاکستان سقوط ڈھاکہ پر افسوس تو کرتے ہیں مگر کوئی اس سانحہ کے سدباب کو اُجاگر نہیں کرتا ،کیوں؟
آج بنگلہ دیش ہم سے آگے نکل گیا ہے اور ہم سے زیادہ ترقی کی جانب بڑھ رہا ہے مگر ہم شائد آگے بڑھنے کو تیار نہیں.
آگر ہم جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے سیاستدان آج بھی ماضی کی غلطیوں سے سیکھنے کے بجاے دھرا رہے ہیں اور آج بھی پورے پاکستان میں لوگ اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کررہے ہیں خواہ وہ پنجاب میں سرائیکی ہزارہ والی ہوں یا سندھ میں اردو بولنے والے مہاجر ہوں حقوق سے محروم عوام  آج 2014 میں بھی  اپنے حقوق کے لیے اپنے  الگ صوبے کا مطالبہ کررہے بہت سے ناقدین صوبوں کے  مطالبہ پر  تعصب تو دکھاتے ہیں مگر کوئی دلائل کے ساتھ قائل کرنے کو تیار نہیں ہے .
اگر سندھ میں صحیح طرح سے مردم شماری کروالی جاۓ تو سندھ کے سندھی بولنے والے سندھی اور اردو بولنے والے سندھی دونوں کا تناسب برابر ہوگا مگر اس کے باوجود سندھ کے اردو بولنے والوں کے ساتھ متعصبانہ رویہ کیوں؟آخر 40 سالوں سے سندھ میں ہی کیوں کوٹہ سسٹم نافذ ہے دوسرے صوبوں میں کیوں نہیں ؟ شہری سندھ پاکستان کو سب سے زیادہ ٹیکس / ریونیو دیتا ہے اس کے باوجود شہری سندھ کو کچھ نہیں ملتا جس کی وجہ سے شہری سندھ اور کراچی جو کہ اردو  بولنے والوں کی اکثریت کا شہر ہے  وہاں عوام میں اس متعصبانہ رویہ  سے شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے کراچی اور شہری سندھ کے عوام کو اپنے ہی شہر میں ملازمتیں نہیں ملتیں شہری سندھ پر دیہی سندھ قابض رہا تو ہمیں نتائج کا اندازہ نہیں ہوسکتا کہ کتنے  بھیانک نتائج  مرتب ہوسکتے ہیں .سندھ  کی کل آبادی ساڑھے تین کروڑ ہے  جس میں  کراچی بھی شامل ہے جس کی کل آبادی 2 کروڑ یا اس سے زائد ہے جو سندھ کی  کل آبادی کی 60 فیصد کی آبادی کا شہر ہے اس کے بعد بھی کراچی کو سندھ کے وسائل میں  سے 40 فیصد حصہ بھی  نہیں ملتا جس کا شکوہ کراچی سے منتخب ہونے والی جماعت ایم کیو  ایم کو بھی ہے . وقت کا تقاضا  ہے کہ سیاسی جماعتوں کو ایک دوسرے کا مینڈیٹ تسلیم کرلینا چاہیے کہ شہری سندھ میں ایم کیو ایم  اور دیہی سندھ میں پیپلزپارٹی کا مینڈیٹ ہے لہذا حق دیا جاۓ  نہ کہ حقوق چھیننے پر مجبور کیا جاۓ.
اگر پنجاب و دیگر صوبوں میں دیکھا جاۓ تو وہاں بھی غریب عوام کے حقوق غضب کیے جارہے ہیں جس کی وجہ سے مختلیف شہروں میں بھی صوبوں کے لیے آوازیں سنائی دیتی ہیں مگر کوئی انکی محرومیوں کو دور کرنا تو دور  انکے مطالبات سننے کو تیار نہیں ہیں جس سے ظاہر ہے کہ ہمارے حکمرانوں نے ماضی سے کچھ نہیں سیکھا اور آج بھی  عوام انھی مسائل اور متعصبانہ رویہ کا شکار ہے جس کی بناء پر پاکستان دو لخت ہوا تھا .
میں کوئی اچھا بلاگر یا کوئی لکھنے والا نہیں میں ایک معمولی سا طالب علم ہوں اور اپنے بلاگ کے زریعے سے یہ بتانے کی کوشش کرنا چاہتا ہوں کہ “اج  بھی پاکستان میں مخصوص قوموں کے ساتھ وہی رویہ روا رکھا جارہا ہے جو 1971 سے پہلے بنگالیوں کے ساتھ بھی روا رکھا گیا تھا جس کی وجہ  سے پاکستان دولخت ہوا” .ہمارے حکمرانوں کی سوچ اج بھی وہی ہے مگر اب پاکستان کوئی سانحہ برداشت  نہیں کرسکتا. 

#MYANMAR #Police #Search for #Terrorist’ #Rohingya #Suspects in #Mon, #Pegu

Rohingya Solidarity Organization (RSO) | Terrorist Group

NEED TO BE CAREFUL OBAMA’S TRIP IN MYANMAR ( BURMA )

Burma