Tags » Black Humour

زبان دراز کی ڈائری - 15

پیاری ڈائری!

شاعر اور ادیب ہونا بھی کتنا مشکل کام ہے۔  خاص طور پر اس معاشرے میں جہاں لکھنے سے لیکر رویئے تک کسی بھی چیز میں ادب کا نہ کوئی گزر ہو اور نہ قدر۔ اپنے ہم عمر لوگوں کو بتائو کہ آپ ادیب ہیں تو سوال آتا ہے کہ وہ کیا ہوتا ہے؟ اور اگر بزرگوں سے اس بات کا ذکر کرو تو پوچھا جاتا ہے کہ لکھنا وکھنا تو ٹھیک ہے مگر کرتے کیا ہو؟ کوئی بتلائو کہ ہم بتلائیں کیا۔
احباب میں کسی کو پتہ چل جائے کہ آپ شاعر ہیں تو رات کے تین بجے فون کرکے “جانی کوئی پوپٹ سا شعر تو بھیج، تیری بھابھی کو میسج کرنا ہے” کی فرمائش اٹھتی ہے اور کالم نویسی کا بیان ہو تو رازداری سے کان میں پوچھا جاتا ہے کہ کس سیاسی گروہ سے تعلق ہے؟ نیز یہ بھی کہ آج کل لفافے کا کیا بھائو ہے اور پیسے کام ہونے سے پہلے ملتے ہیں یا کام ہونے کے بعد؟؟؟ ہم تو اس لکھنے کے ہاتھوں مر چلے!!!

شام کو بیٹھا ایک کہانی مکمل کررہا تھا کہ بھابھی نے ہمارے بھتیجے کو ساتھ میں لاکر بٹھا دیا کہ فارغ تو بیٹھے ہو زرا اس کے ساتھ کھیل ہی لو۔ مجھے امی سے بات کرنی ہے اور صاحبزادے کو موبائل چاہیئے اپنے گیم کھیلنے کیلئے۔ جتنی دیر میں فون پر بات کر رہی ہوں زرا اس کے ساتھ بیٹھ جائو۔ ہمارے بھتیجے کی عمر کوئی آٹھ سال کے قریب ہے۔ ان کی عمر میں ہم شام کے وقت کھیلنے باہر جاتے تھے جبکے یہ صاحب کھیلنے کیلئے ایپ اسٹور یا پھر گوگل پلے اسٹور کا رخ کرتے ہیں۔ باقی کی رہی سہی کسر اس ٹیلیویژن نے پوری کردی ہے جسے دیکھ دیکھ کر وہ آدھے بقراط ویسے ہی بن چکے ہیں۔

بھتیجے صاحب نے ہمارے برابر میں بیٹھتے ہی سوال داغ دیا کہ چاچو کیا کر رہے ہیں؟ میں نے اسے بتایا کہ ایک کہانی لکھ رہا ہوں۔ ان کی ننھی سی بانچھیں کھل گئیں اور فورا سے کہانی سننے کی فرمائش داغ دی۔ میں نے اس سے جان چھڑانے کیلئے کہہ دیا کہ مجھے کوئی کہانی نہیں آتی۔ آتی ہوتی تو اب تک لکھ نہ چکا ہوتا؟ اتنی دیر سے بیٹھا ہی اس لیئے ہوں کہ کہانی آنے کا نام ہی نہیں لی رہی۔ ہمارے بھتیجے نے ٹٹولتی ہوئی نگاہوں سے ہمیں دیکھا تو ہم نے فورا چہرے پر معصومیت طاری کرلی۔ ایک لحظے کیلئے اس کے چہرے پر مایوسی آئی مگر پھر فورا ہی چہک کر بولا، کیا چاچو! آپ کو ایک سٹوری بھی نہیں آتی؟ چلیں میں آپ کو سٹوری سناتا ہوں۔
کہانی لکھنے سے زیادہ مشکل کام دوسروں کی کہانی سننا ہوتا ہے مگر کسی کا دل توڑنا سب سے مشکل کام ہے۔ آپ زندگی میں کتنے ہی سفاک کیوں نہ ہوجائیں، کسی کا دل توڑنے کیلئے ہر بار آپ کو محنت کرنی پڑتی ہے۔ اس محنت کی مقدار کم اور زیادہ ہوسکتی ہے مگر انسانی فطرت کے مطابق دل توڑنے کیلئے محنت بہرحال درکار ہوتی ہے۔ میں نے اس کی معصوم خوشی کیلئے اس کے آگے ہتھیار ڈال دیئے۔

ہمارے بھتیجے کے مطابق ایک بیچارے بھوکے کوے کو کہیں سے ایک چنے کا دانہ مل گیا۔ وہ اسے لیکر درخت پر بیٹھا ہی تھا کہ دانہ اس سے گر کر درخت میں چلا گیا۔ کوے نے درخت سے درخواست کی کے میرا چنا واپس کردو! درخت نے کہا جائو میاں! میں کیوں واپس کروں؟ کوے نے اسے دھمکایا کہ اگر درخت نے اس کا چنا واپس نہ کیا تو وہ لکڑہارے سے کہہ کر درخت کو کٹوا دے گا۔ درخت کو بھی اب غصہ آگیا، اس نے کہا کہ کیا کوا اور کیا کوے کا چنا، جا بھائی جو کرسکتا ہے کرلے! چنا تو اب نہیں ملنے والا۔ کوا طیش کے عالم میں اڑا اور لکڑہارے سے جاکر بولا کہ درخت میرا چنا نہیں دیتا تم درخت کو کاٹ دو۔ لکڑہارے نے کہا، درخت نے میرا کیا بگاڑا ہے؟ تس پہ کوے نے اسے دھمکی دی کہ اگر اس نے درخت کو نہ کاٹا تو وہ لکڑہارے کی بیوی سے کہے گا کہ وہ اپنے میکے چلی جائے۔ لکڑہارے نے جواب دیا کہ جو بن سکتا ہے کر لو میں تو درخت نہیں کاٹتا۔ اب لکڑہارے کی بیوی کی باری تھی۔ کوے نے اپنا دکھڑا سنایا کہ درخت میرا چنا نہیں دیتا، لکڑہارا درخت کو نہیں کاٹتا، تم اس سے ناراض ہوکر میکے چلی جائو۔ لکڑہارے کی بیوی تنک کر بولی، لکڑہارے نے میرا کیا بگاڑا ہے؟ جائو جائو اپنا کام کرو۔ کوا وہاں سے ناکام ہوکر اڑا اور اب چوہے کے پاس پہنچا کہ درخت میرا چنا نہیں دیتا، لکڑہارا درخت کو نہیں کاٹتا، لکڑہارے کی بیوی اس سے ناراض ہوکر گھر نہیں جاتی، تم اس کی بیوی کے کپڑے کتر دو! چوہے نے انگڑائی لیکر کہا کہ کپڑے کترنے والے زمانے چلے گئے ہیں اور ویسے بھی لکڑہارے کی بیوی اب لان کے سوٹ پہنتی ہے جن میں کپڑے کے علاوہ سب کچھ ہوتا ہے سو میرا موڈ نہیں ہے۔ کوا وہاں سے جھنجھلا کر اب بلی کے پاس پہنچا اور بولا کہ درخت میرا چنا نہیں دیتا، لکڑہارا درخت کو نہیں کاٹتا، لکڑہارے کی بیوی اس سے ناراض ہوکر گھر نہیں جاتی، چوہا اس کے کپڑے نہیں کترتا، تم چوہے کو کھا جائو! بلی انسانوں کے ساتھ رہ کر انگریزی زدہ ہوچکی تھی سو جھرجھری لیکر بولی، چوہا کھالوں؟ اررر ڈسگسٹنگ!!! مجھ سے نہیں ہوگا میں صرف کیٹ فوڈ کھاتی ہوں۔
کوا اب غصے اور بھوک سے پاگل ہورہا تھا اس نے راہ چلتے ایک کتے کو پکڑا اور ہاتھ جوڑ کر بولا کہ بھائی میری مدد کرو! درخت میرا چنا نہیں دیتا، لکڑہارا درخت کو نہیں کاٹتا، لکڑہارے کی بیوی اس سے ناراض ہوکر گھر نہیں جاتی، چوہا اس کے کپڑے نہیں کترتا، بلی چوہے کو نہیں کھاتی، تم بلی کو کھا جائو؟ کتے نے کوے کو سر سے پائوں تک دیکھا اور بولا کہ کوے ہو کوے رہو! کتے نہ بنو! یہ سب انسانوں کی اڑائی ہوئی افواہیں ہیں۔ لڑائی جھگڑا اپنی جگہ مگر آج تک تم نے کسی کتے کو کسی بلے کو کھاتے دیکھا ہے جو میں یہ کام کروں؟  کوا اپنے پر نوچتا ہوا ایک ڈنڈے کے پاس پہنچا اور اس سے بولا کہ درخت میرا چنا نہیں دیتا، لکڑہارا درخت کو نہیں کاٹتا، لکڑہارے کی بیوی اس سے ناراض ہوکر گھر نہیں جاتی، چوہا اس کے کپڑے نہیں کترتا، بلی چوہے کو نہیں کھاتی، کتا بلی کو نہیں مارتا، تم کتے کی پٹائی کردو؟ اتفاق سے یہ ڈنڈا گاندھی جی کا پیروکار تھا اور اہنسا میں یقین رکھتا تھا۔ اس نے کوے کو بٹھا کر ایک تفصیلی لیکچر دیا اور کسی بھی قسم کے تشدد سے معذرت کرلی۔

کوا اس کے بعد ڈنڈے کو جلانے آگ کے پاس اور پھر آگ کو بجھانے کیلئے پانی کے پاس پہنچا مگر نتیجہ ہر بار اس کی امید کے برخلاف ہی تھا۔ بہت ساری امیدیں لیکر کوے نے اس بار ہاتھی کا رخ کیا جو جنگل کا چوکیدار بھی تھا اور اس کی جسامت کی وجہ سے سب اسے ڈرتے بھی تھے۔ کوے نے ہاتھی کے سامنے ایک لمبی تمہید باندھی کہ وہ جانتا ہے ہاتھی کو پانی کی کس قدر ضرورت ہوتی ہے اور اگر وہ چاہے تو اس کا اور کوے کا باہمی مفاد اس ہی میں ہے کہ آگ کو نہ بچھانے کی سزا دیتے ہوئے وہ پانی کو پی جائے۔ ہاتھی نے اسے محبت سے سمجھایا کہ اس کا جنگل والوں سے معاہدہ ہے اور اب وہ اس تالاب سے پانی نہیں پی سکتا۔ اگر کسی نے اسے پانی پیتے ہوئے دیکھ لیا تو اس کی بڑی سبکی ہوگی اور وہ بڑی مشکل سے بحال کی گئی اپنی عزت ایک کوے کے چکر میں نہیں کھوئے گا۔

کوا سب طرف سے مایوس ہوکر زمین پر بیٹھ گیا اور رونے لگا۔ اتفاق سے وہاں ایک چیونٹی کا گزر ہوا جس کی بہن اس ہی درخت کی ٹہنی گرنے سے دب کر ہلاک ہوگئی تھی۔ اس نے کوے سے پوچھا کہ ماجرہ کیا ہے؟ کوے نے اسے روتے ہوئے جواب دیا کہ درخت میرا چنا نہیں دیتا، لکڑہارا درخت کو نہیں کاٹتا، لکڑہارے کی بیوی اس سے ناراض ہوکر گھر نہیں جاتی، چوہا اس کے کپڑے نہیں کترتا، بلی چوہے کو نہیں کھاتی، کتا بلی کو نہیں مارتا، ڈنڈا کتے کی پٹائی نہیں کرتا، آگ ڈنڈے کو نہیں جلاتی، پانی آگ کو نہیں بچھاتا اور اب یہ ہاتھی بھی اس پانی کو پینے سے انکاری ہے۔ اب تم خود بتائو میں کیا کروں؟

چیونٹی کو جلال آگیا۔ اس نے کوے کو ساتھ لیا اور ہاتھی کے پاس پہنچ گئی کے اگر اس نے اب بھی پانی نہ پیا تو وہ اس کی سونڈ میں گھس کر اسے مار ڈالے گی۔ ہاتھی کی اپنی جان پر بنی تو وہ گھبرا کر بولا کہ نہیں نہیں میری سونڈ میں نہ گھسنا، میں ابھی پانی پیتا ہوں۔ پانی نے کہا نہیں نہیں مجھے مت پینا میں ابھی آگ کو بجھاتا ہوں۔ آگ نے کہا مجھے مت بجھائو میں ابھی ڈنڈے کو جلاتی ہوں۔ ڈنڈا بولا مجھے مت جلانا میں ابھی کتے کو سبق سکھاتا ہوں۔ کتے نے کہا مجھے مت مارو میں ابھی بلی پر حملہ کرتا ہوں۔ بلی گھبرا کر بولی مجھے چھوڑ دو میں ابھی چوہے کو کھاتی ہوں۔ چوہے نے فریاد کی کہ مجھے مت کھانا میں ابھی لکڑہارے کی بیوی کے کپڑے کترتا ہوں۔ لکڑہارے کی بیوی چلائی میں لعنت بھیجتی ہوں لکڑہارے پر، میرے کپڑے نہیں کترنا۔ لکڑہارے نے کہا کہ ایسی کی تیسی درخت کی، مجھے چھوڑ کر مت جانا۔ درخت گھبرا کر بولا کہ بھائی کوے! تشدد کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتا۔ آئو بیٹھ کر بات کرتے ہیں۔ یہ رہا آپ کا چنا اور اس کے علاوہ اگر آپ چاہیں تو میں سب سے آرام دہ شاخ پر آپ کو ایک گھونسلہ اور اپنے سب سے رسیلے پھل اگلے تین سال تک آپ کو مفت دوں گا۔ کوا خود بھی اس سب سے تھک چکا تھا سو اس نے بھی درخت کی پیشکش خوشی خوشی قبول کرلی اور اس کے بعد سب ہنسی خوشی رہنے لگے،

بھتیجے صاحب تو کہانی سنا کر دوبارہ اپنے کھیل کود میں مصروف ہوگئے مگر میں بیٹھا سوچ رہا ہوں کہ کہانی کچھ سنی سنی سی لگ رہی ہے۔ خدا معلوم کہاں سنی تھی، یاد آیا تو تمہیں بھی ضرور بتائوں گا۔ تب تک کیلئے اجازت۔

والسلام

زبان دراز

Urdu

The British Stiff Upper Lip

A commuter train station in Düsseldorf.  A single, solitary Brit on platform 1, waiting for a train.

What’s that there on the railyway line?

Guess it’s my old brown shoes.

244 more words
Ex-pat Life

Aside

So, I discovered that my email service at work has a “recall” feature.

Yup. That’s right. If you accidentally hit the “send” button on that scathing ream-out email that you’ve composed to your boss, you can recall it. 141 more words

Personal Thoughts

زبان دراز کی ڈائری – 14

پیاری ڈائری!

تمہیں تو معلوم ہے کہ کل سے گھر میں دادی آئی ہوئی ہیں سو تمام تر مصروفیات موقوف ہیں۔ انسان کتنا بھی بڑا ہوجائے بزرگوں کے نزدیک ہمیشہ بچہ ہی رہتا ہے۔ دادی کے نزدیک بھی ہم بہن بھائی اب تک بچے ہی ہیں۔ ان کی یہ ہر وقت کی بزرگی بچپن میں کھَلتی تھی مگر نوجوانی میں آکر اس ہی بزرگی کی قدر ہوگئی ہے کہ کچھ ہی تو رشتے ہیں جو بدلے کی پرواہ کیئے بغیر سراسر خلوص ہوتے ہیں۔ وہی ڈانٹ ڈپٹ جو بچپن میں ایک بوجھ لگتی تھی اب اس احساس میں بدل چکی ہے کہ صحیح غلط برطرف، یہ بزرگ اپنے تئیں ہماری بہتری کیلئے ہی ہمیں ٹوکتے ہیں ورنہ باقی دنیا نے تو گویا نپولین کے اس قول کو حدیث ہی سمجھ لیا ہے کہ دشمن کو غلطی کرتے دیکھو تو ٹوکو مت!!

کل سے دادی گھر میں ہیں اور موبائل اور انٹرنیٹ گھر سے باہر۔ شاید اس ہی وجہ سے کل بہت مدت بعد کھانے کی میز پر سب ایک ساتھ بیٹھے اور ایک خوشگوار تبدیلی محسوس کی۔ کھانے کی میز پر اکٹھا ہونے والی یہ کہانی بھی خوب رہی کہ کل جب کھانا لگا اور حسب معمول امی کا واٹس ایپ پر میسج آیا کہ کھانا کھا لو تو میں اسے نظر انداز کرکے دوبارہ ٹوئیٹر پر مشغول ہوگیا کہ ملک کے سیاسی مستقبل پر ایک نہایت دلچسپ مکالمہ جاری تھا۔ میں ابھی اپنی جوابی ٹوئیٹ بھیجنے ہی لگا تھا کہ اچانک وائے فائے بند ہوگیا۔ میں وائے فائے رائوٹر کو کوستا ہوا نیچے اترا تو دیکھا کہ وائے فائے کا تار نکلا ہوا ہے اور دادی صاحبہ بہت اطمینان سے اسے ہاتھ میں پکڑے کھڑی ہیں۔ میں نے التجائیہ نظروں سے امی کی طرف دیکھا تو انہوں نے مسکرا کر کاندھے اچکا دیئے۔ پانچ منٹ میں گھر کے تمام افراد کھانے کے کمرے میں جمع تھے کیونکہ بدقسمتی سے وائے فائے رائوٹر بھی اس ہی کمرے میں موجود تھا۔ دادی اماں نے فیصلہ سنا دیا کہ بہو نے مجھے سب بتا دیا ہے! کھانے کے اوقات میں یہ نگوڑ مارا بند ہی رہے گا، غضب خدا کا! ایک گھر میں رہتے ہوئے تم لوگ کھانے کی میز تک پر اکٹھے نہیں ہوسکتے؟ کچھ ان سیاستدانوں سے ہی سبق سیکھ لو جو کھانے کے وقت تمام چیزیں بھلا کر ایک میز پر جمع ہوجاتے ہیں۔ لاحول ولا قوۃ

 دادی اس مرتبہ کئی سال بعد آئی ہیں اور ان کے آنے کے بعد سے ہم گھر والوں پر حیران کن انکشافات کا ایک حسین سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ کل سے اب تک مجھے معلوم ہوا ہے کہ اگر موبائل فون ایک طرف رکھ کر کھانا کھایا جائے تو امی نہایت لذید کھانا بناتی ہیں۔ نیز زندگی ٹوئیٹر اور فیس بک کے بغیر بھی گزاری جاسکتی ہے۔ سب سے اہم بات یہ کہ اگر گھر میں گھر والوں کو وقت دیا جائے تو انسان کو انٹرنیٹ پر منہ بولے رشتے بنانے کی ضرورت نہیں پڑتی کہ خدا کے بنائے ہوئے رشتے اپنے آپ میں خود ہی بہت حسین ہیں۔

کل تو دادی بہت تھکی ہوئی تھیں سو جلدی ہی سوگئیں مگر آج ہم بہن بھائیوں نے دادی کو گھیر لیا اور کہانی کی فرمائش کردی۔ بچپن میں ہم دادی سے روز کہانی سنا کرتے تھے اور اس وقت کی حسین یادیں ہم سب ہی دہرانا چاہتے تھے۔ پہلے تو دادی نے ٹال مٹول سے کام لیا کہ، اے نوج! اتنے بڑے گھوڑے ہو رہے ہو سب کے سب۔ اب اس عمر میں جن، پریوں اور شیر، بندر کی کہانیاں سنتے ہوئے  اچھے لگو گے؟ مگر ہماری مسلسل ضد کے آگے بالآخر دادی نے ہتھیار ڈال ہی دیئے اور بندر اور بلیوں کی وہی کہانی سنادی جسے ہم بچپن سے سنتے آئے ہیں۔ کہانی کے مطابق تین بھوکی اور ندیدی بلیوں کے ہاتھ کہیں سے تین روٹیاں لگ گئیں۔ اصولی طور پر تو ان بلیوں کو ایک ایک روٹی بانٹ کر کھالینی چاہیئے تھی مگر چونکے وہ بھوکی کے ساتھ ساتھ ندیدی بھی تھیں تو تینوں ہی ان روٹیوں پر لڑ پڑیں کہ کس کو کتنا حصہ ملنا چاہیئے۔ قریب بیٹھا ایک بندر جو پچھلے پانچ سال سے بھوکا تھا یہ سب کاروائی دیکھ رہا تھا۔ اسے اندازہ ہوگیا تھا کہ یہ تینوں بلیاں بلا کی جذباتی اور پرلے درجے کی احمق ہیں۔ ویسے بھی شیر ہو، چیتا ہو یا بلی، عقل تو تینوں میں جانور والی ہی ہوتی ہے۔ جہاں تک بندر کا تعلق ہے تو بقول ڈارون یہ وہ انسان ہیں جو ارتقاء کے عمل میں پیچھے رہ گئے ہیں اور انشاءاللہ کچھ عرصے بعد یہ بھی انسان بن ہی جائیں گے۔ سو بندر نے اپنی تقریباؔ انسانی عقل کا استعمال کرتے ہوئے ان تینوں بلیوں کو مشورہ دیا کہ اگر وہ چاہیں تو وہ ان کے بیچ ثالثی کروا سکتا ہے۔ بلیاں ہنسی خوشی راضی ہوگئیں۔

بندر نے روٹیاں ایک کے اوپر ایک رکھیں اور ان کے تین ٹکڑے کر  دیئے۔ ٹکڑے کرنے کے بعد بندر نے افسوس سے سر ہلایا کہ ایک ٹکڑا تھوڑا بڑا رہ گیا تھا۔ انصاف کے تقاضے کو پورا کرنے کیلئے بندر نے اس بڑے ٹکڑے میں سے ایک ٹکڑا توڑا اور بلیوں سے اجازت چاہی کہ چونکہ یہ ٹکڑا اضافی ہے اور ان کے درمیان فساد کا باعث بن سکتا ہے لہٰذا یہ ٹکڑا اسے کھانے دیا جائے۔ بلیوں کی نظریں بڑے ٹکڑوں پر تھیں اور اتنا سا ٹکڑا لینا تو بہرحال بندر کا بھی حق تھا کہ وہ ثالثی جیسا کارِخیر انجام دے رہا تھا سو بلیوں نے اسے بخوشی اجازت دے دی۔ بندر نے روٹی کا ٹکڑا کھایا اور اب باقی روٹیوں کی طرف متوجہ ہوا جہاں اب دو بڑے ٹکڑے اور ایک چھوٹا ٹکڑا اس کا منتظر تھا۔ اس مرتبہ دونوں بڑے ٹکڑوں سے انصاف کیا گیا اور اضافی ٹکڑے ایک مرتبہ پھر بندر کے ہی حصے میں آئے۔ روٹیوں میں سے یہ چھوٹی چھوٹی کٹوتی کا سلسلہ چلتا رہا یہاں تک کہ تینوں روٹیاں بندر کے پیٹ میں چلی گئیں اور بلیاں آخر میں ایک دوسرے کی شکل دیکھتی رہ گئیں۔

دادی تو کہانی سنا کر سو گئیں اور اب میں ان کے برابر میں بیٹھا یہ ڈائری لکھتا ہوا سوچ رہا ہوں کہ کاش ان بلیوں کی بھی کوئی دادی ہوتیں جو یہ ہزار مرتبہ سنی ہوئی کہانی انہیں بھی سنا دیتی کہ بلیوں کی آپس کی لڑائی میں بندر کو الجھانے سے فائدہ صرف بندر کا ہوتا ہے۔

والسلام

زبان دراز

Pakistan

مریض

میرا نام عاطف علی ہے اور میں ایک مریض ہوں۔ میرا مرض عام لوگوں جیسا نہیں جس میں مریض خود تڑپتا ہے اور لوگ اسے دیکھ کر ترس کھاتے ہیں۔ میرے مرض میں لوگ میری بیماری کی وجہ سے تکلیف سے تڑپتے ہیں اور میں انہیں دیکھ دیکھ کر خوش ہوتا ہوں۔

میں شروع سے ایسا نہیں تھا۔ اکیس سال کی عمر تک میں بھی آپ جیسا ایک عام سا ہی انسان تھا جو روزانہ صبح اٹھ کر ایک خاص عادمی کی نوکری کرتا تھا اور پھر پورا دن سہانے مستقبل کے خواب دیکھتا ہوا رات گئے اپنے ادھاروں کی گنتی کرتے ہوئے سو جاتا تھا۔ زندگی نے عجیب موڑ اس وقت لیا جب میں نے حب الوطنی کے کسی جرثومے کے زیرِاثر اپنی کمپنی کے ٹیکس کے گھپلوں کی رپورٹ ایک اخباری روزنامے کو بھجوادی۔ مجھے کیا معلوم تھا کہ اس روزنامے کا مالک خود بھی ایک خاص آدمی اور ہماری کمپنی کے مالک کا دوست نکلے گا۔ رپورٹ گھوم کر واپس کمپنی میں پہنچ گئی اور میں گھما کر واپس گھر بھیج دیا گیا۔

بیروزگاری کے یہ دن شدید اذیت ناک تھے۔ جس ادارے میں بھی نوکری کیلئے جاتا وہاں یہ خبر پہلے سے پہنچ جاتی کہ اس لڑکے کو ایمانداری کی جان لیوا بیماری ہے۔ کمپنیز کو لگتا تھا کہ یہ چھوت کی بیماری ہے اور پھیل سکتی ہے لہٰذا کوئی بھی اب مجھے نوکری دینے کیلئے تیار نہ تھا۔ تین ماہ کی بیروزگاری میں جتنی بھی ایمانداری تھی وہ مناسب راستہ دیکھ کر جسم سے باہر نکل گئی تھی۔ اب میں چوری، ڈکیتی اور اجرت پر قتل تک کرنے کو تیار تھا مگر وہ کہتے ہیں نہ کہ بد اچھا بدنام برا۔ شہر کے سارے چور اور ڈکیت مجھے پہچانتے تھے اور کوئی بھی مجھے گروہ میں شامل کرنے کا خطرہ مول لینے کو تیار نہ تھا کہ کیا پتہ کب پرانے جراثیم جاگ جائیں اور میں اپنے ساتھ انہیں بھی لے ڈوبوں۔

بیروزگاری کے ان تین ماہ میں میرے اندر ایک اور بہت بڑی تبدیلی آئی تھی۔ میں اب بلاتھکان اور بغیر سوچے سمجھے بولنا شروع ہوگیا تھا۔ مجھے احساس ہی نہیں ہوتا تھا کہ میں کیا بول رہا ہوں، کس سے بول رہا ہوں اور کیوں بول رہا ہوں؟ جو منہ میں آتا تھا بک دیتا تھا۔ لوگ اب مجھ سے ڈرنا شروع ہوگئے تھے۔ ان بیچاروں کو اب مجبوری میں میری عزت کرنی پڑتی تھی کہ وہ جانتے تھے کہ اگر ایسا نہ کیا تو میں کہیں بھی کھڑا ہوکر ان کے بارے میں کچھ بھی بولنا شروع کردوں گا اور پھر ان کی ساری عمر اس کی وضاحت میں گزر جائے گی کہ معاملہ ایسا نہیں ایسا تھا۔ معاشرے کی یہ خوبی کہ اگلے سے منسوب ہر اچھائی کے بخیے ادھیڑ دو اور ہر برائی کو من و عن تسلیم کرلو، میرے بہت کام آرہی تھی۔

اب مجھے نوکری کرنے کی ضرورت نہیں تھی کہ میری ضروریات کا خیال رکھنے کیلئے محلے والے موجود تھے۔ جس کسی کو بھی کسی غریب سے دشمنی نکالنی ہوتی تھی وہ میرے گھر کچھ نذرانہ لیکر پہنچ جاتا اور میں ایک کے چار بنا کر اگلے دن محلے میں اس بات کا ڈھنڈورا پیٹ دیتا تھا۔ زندگی اب سکون سے گزر رہی تھی مگر محلے والوں کو احساس ہوگیا کہ ایک ایک کرکے میرے ہاتھوں وہ سب ہی ذلیل ہورہے ہیں۔ محلہ کمیٹی کا اجلاس بیٹھا اور سب نے سر جوڑ کر بالآخر حل یہ نکالا کہ میری اس بیماری کا علاج کروایا جائے ورنہ میری بیماری کی وجہ سے بہت جلد محلے میں طلاقیں شروع ہوجائیں گی۔

اب میرے علاج کا مرحلہ شروع ہوا جس کا خرچہ محلے والوں نے بخوشی اٹھانے کا اعلان کردیا۔ خدا جانے کتنے حکیم، وید اور ڈاکٹر تھے جن کے پاس مجھے بھیجا گیا مگر نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔ طب یونانی سے لیکر طب مشرقی اور ایلوپیتھک سے لیکر ہومیو پیتھک تک کون سا طریقہ علاج تھا جو آزمایا نہ گیا ہو مگر میرا وہی حال تھا کہ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔ ان تمام روائتی طریقوں سے تنگ آکر پھر بابوں اور پیر فقیروں کا سلسلہ شروع ہوا مگر الحمدللہ میں جہاں بھی گیا وہاں موجود پیر کو اپنا مرید ہی بنا کر اٹھا۔ مجھے خود بھی اب اس سارے کھیل سے لطف آنے لگا تھا۔ محلے کا واحد بیروزگار ہونے کے باوجود محلے کا سب سے شاہانہ طرزِ زندگی میرا تھا۔ محلے والے اس حقیقت کو جانتے تھے مگر مجبور تھے۔ وقت کے ساتھ ساتھ وہ بھی میرے علاج سے مایوس ہوگئے تھے۔ پھر ایک دن پتہ چلا کہ اخلاق صاحب نے جو محلہ کمیٹی کے سربراہ بھی تھے، ہمالیہ کی چوٹیوں پر موجود ایک سادھو کا پتہ لگایا ہے جو ہر اس بیماری کا علاج جانتا ہے جس کا علاج دنیا میں کہیں اور ممکن نہیں۔ چار دن کے بعد میں ہمالیہ کے برفاب پہاڑوں پر ان بابا کے سامنے بیٹھا تھا۔

اس سے پہلے کہ بابا مجھ سے کچھ پوچھتے اور کہتے میں ہمالیہ کی پگھلتی ہوئی برف اور انسانی آبادی کے اس پہاڑ پر اثرات کے سلسلے میں اپنی تقریر شروع کرچکا تھا۔ کوئی سات منٹ تک میں نے ان بابا کو ایران توران کے قصے سنائے اور تحقیق سے ثابت کیا کہ کس طرح وہ بابا اور انسانیت کے مسیحا کہلانے کے باوجود دراصل انسانیت کے مجرم ہیں۔ بابا خاموشی سے میری بات سنتے رہے اور جب میں سانس لینے کیلئے رکا تو انہوں نے جیب میں ہاتھ ڈالا اور کمال محبت سے میرے منہ پر ٹیپ لگادی۔ میں حیرانی سے ان کی شکل دیکھ رہا تھا کہ ایک زناٹے دار تھپڑ انہوں نے میرے گال پر رسید کیا اور دھیمے لہجے میں گویا ہوئے کہ، ابے سالے! تیرے جیسوں کو میں بچپن سے دیکھتا آرہا ہوں۔ تیری یہ بیماری کوئی نئی نہیں بلکہ اولین انسانوں کے اندر بھی اس بیماری کے جراثیم پائے گئے تھے۔ یہ کل کے لونڈے جو ڈاکٹر بنے پھرتے ہیں اگر تاریخ انسانی اور نفسیات بھی پڑھ لیتے تو تجھے ہمالیہ تک ذلیل ہونے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ چل اب منہ پر سے ٹیپ ہٹا اور مزید سن۔ طب نے بہت کوشش کرنے کے باوجود بھی تیری اس بیماری کی صرف دو قسمیں دریافت کی ہیں جو خونی اور بادی کہلاتی ہیں جبکہ تجھے اس بیماری کی تیسری اور سب سے خطرناک قسم لاحق ہے جسے ہزاروں سال پہلے ہمارے بزرگوں نے “منہ کے بواسیر” سے تعبیر کیا تھا۔ مجھے افسوس ہے کہ یہ بیماری ہنوز ناقابل علاج  ہے۔ البتہ اگر تو چاہتا ہے کہ معاشرے میں تیری کھوئی ہوئی عزت دوبارہ بحال ہوجائے تو اپنا یہ منحوس کان میرے قریب لا اور میری بات سن۔ بابا نے اس کے بعد جو حل مجھے بتایا وہ یقینا قابل عمل بھی تھا ور کارآمد بھی۔ میں خوشی خوشی بابا کے پاس سے اٹھ کر واپس کراچی آگیا۔ مجھے اپنی بیماری کا حل معلوم ہوگیا تھا۔

میرا نام عاطف علی ہے اور آپ نے بالکل درست پہچانا، میں اب ایک مشہور ٹیلیویژن چینل پر دن میں مارننگ شو اور رات کو حالات حاظرہ کا پروگرام کرتا ہوں۔

Pakistan

Pads Brat: Etymology

Those of you who are pure “bl00dy civvies” are maybe wondering about the origins of the term “pads brat” as a description of a serviceman’s offspring.   131 more words

People

Some good news...

Just received a text from my gas and electricity supplier. Good news! My gas and electricity bills will come down by about 4 and 8% respectively due to the… 80 more words

Humour