Tags » Canterbury Tales

The monk narrates of De Petro Rege de Cipro - 38

کینٹربری کہانیاں یوں جاری ہیں کہ تمام مسافر ، مونک کے المیہ تذکرے سُن رہے ہیں اور اب مونک بارہویں صدی کے اطالوی برنابو وِزکونٹی کی ہلاکت کے بعد ، سولہواں کردار متعارف کرواتا ہے۔ …

Canterbury Tales

The Beautiful Ache

We are back in the swing of things.  Once again we sit at the table and complete math pages.  We make our beds, conjugate verbs, fill up the dog bowls.  544 more words

Censorship

Alrighty, here’s the last one, get some of this knowledge off of my mind. Censorship is one thing that has really affected my blogging recently. For some reason, our school district has blocked blogging websites off of our iPads. 436 more words

Travel advice from my mentor, the Wife of Bath

My blogging name, The Wife of Bath, has become a kind of secret handshake with English lit nerds.  One of my readers commented “I saw your WOB handle and I just had to follow.  850 more words

Travel

Modern Travelers

In the “Prologue” to The Canterbury Tales, Geoffrey Chaucer provides us with a fictitious cultural snapshot of England in the late 1300’s. His snapshot consists of the good, the bad, … 382 more words

English 4 2014-2015

De Wife of Bristol on BBC Radio 4

Check out Edson Burton’s radio comedy, De Wife of Bristol, on BBC Radio 4!  Available for only a short time.

The monk tells of De Barnabo de Lumbardi - 37

کینٹربری کہانیوں میں مونک اپنی کہانی سنارہا ہے اور چودہواں الم ناک انجام اُس نے “ہوگولینو آف پِیسا” کا سنایا جس نے آخری ایام گولانڈی مینار میں ایڑیاں رگڑ رگڑ کر گزارے اور مؤرخین کو اِس بات میں اختلاف ہے کہ آیا وہ مرتے دم آدم خوری کا مرتکب ہوا یا نہیں ۔ یہ سب مسافر کینٹربری کے بڑے کلیسا کی جانب مذہبی زیارت کی غرض سے روانہ ہوئے تھے اور راستے میں ایک دوسرے کو کہانیاں سنانے کا معاملہ طے پایا تھا۔ سب مسافروں نے اپنی اپنی باری پہ کہانی سنائی، یہ کہانیاں الگ الگ اصناف سے تعلق رکھتی ہیں اور جب مونک کی باری آئی تو اس نے ایک مکمل کہانی کی جگہ مشہور شخصیات کےعروج و زوال پہ مشتمل تذکرے سنائے جن کے انجام المیہ اور عبرت ناک تھے ۔ ان تذکروں کو پڑھنے کے دوران آج کا قاری تاریخِ بعید و قدیم کے کئی چہروں سے شناسا ہوتا ہے اور یہ ضرورسوچتا ہے کہ اِن سب واقعات میں کہیں کوئی اشارہ یا سبق پنہاں ہے ؟ …

Canterbury Tales