Tags » Domestic Issues

"too many love apples?" problem solved

Even my neglected garden produces too many tomatoes this time of year. One of the best/worst to deal with is the cherry tomato. They are small, sweet, delicious… and pop up by the hundreds, much too fast for even my tomato-loving family to consume. 156 more words

Domestic Issues

The American Dream Means Inequality and the Freedom to Be So

Several months ago, Obama was accusing income inequality as threatening the American Dream. His accusation proves he knows nothing of the principle behind this idea. 298 more words

Domestic Issues

art imitates life, life irritates art

I can’t believe it is time for another Insecure Writer’s Support Group post!

This month, I wanted to talk about another kind of writing insecurity. The one where you worry: … 382 more words

Dear Diary...

My Bad (Ex) Boyfriend

As I write this post, my abusive ex-boyfriend is staying at my house. Why you ask? Because I have no say… This man cheated on me with my sister (who is also abusive) so now they make a bully couple. 334 more words

True Stories

انگلی کٹوا کر شہیدوں میں نام

کئی لوگ مجھ سے سوال کرتے ہیں کہ بھائی آپ تو مغرب کے  خلاف اتنا  زیادہ  لکھتے ہیں اور آپ تو فیس بک اور یوٹیوب کے اوپر لگنے والی پابندی کے بھی حق میں تھے تو اب آپ خود ہی فیس بک باقاعدگی سے استعمال کرتے ہیں اور گوگل کی دیگر مصنوعات  سے بھی استفادہ حاصل کررہے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کھلی منافقت کر رہے ہیں۔ بظاہر ان کی بات درست بھی معلوم ہوتی ہے کیونکہ میں نے فیس بک پر توہین آمیز خاکوں پر مبنی صفحات کے حوالے سے  زبانی اور تحریری طور پر کافی احتجاج بھی کیا تھا اور میں یوٹیوب کی بندش کا بھی حامی تھا۔

  مجھے اس بات کا دکھ اور زیادہ شدید تھا کہ ہماری نئی نسل کس دلدل میں دھنستی جا رہی ہے۔ ایک نوجوان سے بات ہوئی تو اس نے کہا کہ میرے تو زیادہ تر کاروباری گاہک فیس بک پر موجود تھے اور اب پابندی کی وجہ سے میں ان سے رابطہ نہیں کر پا رہا ہوں۔ دوسرے نوجوان نے کہا کہ میرے تو یونیورسٹی کے تما م ہم جماعت فیس بک پر تھے اب میں ان سے بات نہیں کر پا رہا۔ غرض ہر کوئی اپنا مدعا پیش کرتا رہا اور میں  یہ سوچتا رہا کہ یا الٰہی کسی کو بھی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت کا احساس نہیں ہے۔ کسی کے دل میں بھی رسولِ  خدا  صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تھوڑی سی بھی محبت باقی نہيں رہی ہے۔ حبِ رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  کا تو تقاضا  یہ ہے کہ وہ ہمیں  ماں باپ سے بڑھ کر عزیز ہوں مگر نوجوانوں کو تو اپنے کاروباری اور دوستانہ روابط عزیز تھے۔ فیس بک بند ہونے سے تو انکی دنیا ہی اندھیری ہو گئی تھی  کیونکہ جڑے ہوئے دلوں میں دراڑ جو پڑگئی تھی۔ کئی لوگ تو اس بات سے پریشانی کا شکار تھے کہ جن با حیاء خواتین سے وہ پیار کی پینگیں بڑھا رہے تھے انکے تو موبائل نمبر  انکے پاس نہیں تھے اور فیس بک ہی ان کا آخری سہارہ تھا۔

پابندی ہٹنے کے کچھ عرصے بعد میں بھی  فیس بک پر نظر آنے لگا۔  یہ وہ موقع تھا جب  کچھ لوگ حیرت کے سمندر میں غوطے لگاتے رہ گئے، کچھ لوگوں نے مجھے خوش آمدید کہا اور کچھ لوگوں نے پہلے کی طرح اپنی جیت کا جشن منایا کہ دیکھو یہ وہی شخص ہے جو ہمیں منع کرتا تھا آج خود یہاں موجود ہے اور مجھے  “موسمی مولوی”   کا خطاب بھی عطا کردیا گیا۔

گزرتے دنوں کے ساتھ ساتھ مجھے یہ اندازہ ہوا کہ ٹیکنالوجی ایک ایسا سیلاب ہے جس کے آگے بند باندھنا تقریباً    ناممکن ہےمگر نوجوانوں کے ناپختہ ذہنوں کو شعور بخشا جاسکتا ہے۔ ان کو  کم   از کم وہ   راہ   ضرور دکھائی جاسکتی ہے جو ان کو حبِ رسول تک لے جائے یا پھر وہ مغرب کی کارستانیوں سے ضرور آگاہی حاصل کر لیں اور  کم از کم ان کو شعور کی سیڑھیاں چڑھنے کی دعوت ضرور دی جاسکتی ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس دور میں نوجوان معلومات کے سیلاب میں بہتے چلے جارہے ہیں ان کو معلومات اور علم میں تمیز کرنا سکھایا جا سکتا ہے جیسا کہ صحیح بخاری و مسلم سے پتہ چلتا ہے کہ علم اٹھالیا جائے گا اور  مسند احمد کی حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ خط وکتابت اور تحریری مواد کی بہتات ہو گی۔

ان تما م اہداف کو حاصل کرنے کےلیے سماجی میڈیا سےزیادہ آسان اور بہتر پلیٹ فارم مجھے اور کوئی نظر نہیں آیا کیونکہ نوجوانوں کو اکثریت یہاں موجود ہے۔ کیونکہ آج کل نوجوان معلومات کے حصول کے لئے  کتب و رسائل سے زیادہ  انٹرنیٹ پر بھروسہ کرتے ہیں۔ اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے میں نے مغرب کا ہتھیار انکے خلاف ہی استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کی ۔  جس کا پہلا قدم یہ تھا کہ فیس بک کو  دعوت و تبلیغ کے لیے استعمال کیا جائے۔  میری فیس بک پر آمد کی وجہ یہی تھی اور الحمدللہ آج تک اپنے مشن سےپیچھے نہیں ہٹا۔

مغرب کے ہتھیارکو مغرب کے خلاف استعمال کرنے میں اور انکے بنائے ہوئے پلیٹ فارم پر  ان کو ہی شکست دینے میں   جو مزا ہے  وہ  کسی اور چیز میں مجھے حاصل نہیں ہوتا۔ مگر ڈر بس اس بات کا ہے اکیلے یہ جہاد ميں کب تک کر پاؤں گا۔ نا پائیدار زندگی نجانے کب تک ساتھ دے۔  اس وجہ سے ہر دن کو اپنا آخری دن سمجھ کر زیادہ سے زیادہ محنت کرنے کی کوشش کرتا ہوں کہ مرنے سے پہلے اتنا کر جاؤں کہ نوجوان اس سے کچھ استفادہ حاصل کر سکیں او رمیں انگلی  کٹوا کر شہیدوں میں نام لکھوا لوں۔

Domestic Issues

کتب خانوں کی کمیابی اور مطالعہ کا فقدان

ایک  وقت تھا جب  کتب و رسائل پڑھنے کا رجحان کافی زیادہ تھا جو رفتہ رفتہ ناپید ہوتا چلا گیا۔ اس کا ذمہ دار ٹی وی یا کمپیوٹر کو دیں یا کسی اور چیز کو اس کا سبب بیان کریں مگر حقیقت تو یہ ہے کہ من حیث القوم ہم نے کتب بینی سے منہ موڑ لیا ہے۔ انٹرنیٹ اور ویب کو بھی ہم معلومات کے حصول کے لیے انتہائی کم اور دیگر تفریحی مشاغل کے لیے زیادہ استعمال کرتے ہیں۔

مجھے اپنا بچپن یاد ہے جب ہم “ماہنامہ نونہال” کے دیوانے تھے اور پورا مہینہ اسکا انتظار کیا کرتے تھے اور جب پڑھنے بیٹھتے تو پورا      رسالہ ختم کر کے ہی اٹھتے تھے۔ صرف یہی نہیں بلکہ اخبار کا مطالعہ بھی روزانہ کے معمولات میں شامل ہوتا تھا بھلے اس میں صرف ٹارزن کی تصویری کہانی  ہی پڑھیں۔ جب عمر تھوڑی سی زیادہ ہوئی تو کہانیوں کے انتحاب میں بھی تبدیلی ہوئی اور مشہور مصنف اشتیاق احمد کے لکھے ہوئے جاسوسی ناول پڑھنے شروع کیے۔ ساتھ ساتھ ابنِ صفی اور مظہر کلیم کے لکھے ہوئے عمران سیریز کے ناول بھی سیکڑوں کی تعداد میں  پڑھے۔ صرف یہی نہیں  بلکہ دیگر اخبارات اور  رسائل  بشمول  ڈائجسٹوں کے مطالعہ میں شامل رہے۔ یہ مطالعہ تو وہ ہے جو محض تفریحات میں شامل ہے مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مختلف موضوعات پر کتابوں کے مطالعے کا سلسلہ بھی چل نکلا تھا جن میں سائنس ، ادب، مذہب اور تاریخ شامل تھے جو اب بھی جاری ہے۔ بچپن سے مطالعہ کی عادت جو کہ ہمیں ہمارے بڑوں سے ورثہ میں ملی بڑے ہو کربہت کام آئی اور جب ہی آج بھی کتابوں سے محبت اپنی جگہ برقرار ہے۔

کسی نے ٹھیک ہی کہا ہے کہ کتاب انسان کی بہترین دوست ہوتی ہے۔ مگر یہ سچا دوست آجکل  نا پید ہوتا جا رہا ہے۔ آجکل نوجوانوں کے ہاتھوں میں موبائل فون اور ٹیبلٹ  تو نظر آتے ہیں مگر کتابیں نہیں ۔ انکے لیے تو نصاب کی کتب کو پڑھنا بھی جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔

لائبریریوں کا تو میری نوجوانی کے زمانے میں بھی فقدان تھا اور اب تو کتب خانے تباہی کے دہانے پر ہیں۔ کالج کے زمانے میں اپنے گھر کے قریب ایک کتب خانے جانے کا اتفاق ہو۔ کتب خانے ميں داخل ہونے کے بعد یہ پہلے تو یہ گمان  ہوا کہ غلطی سے کہیں میں کسی کباڑخانے میں تو داخل نہیں ہو گیا ہوں۔ اتنا وحشت زدہ ماحول پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا جس کی وجہ سے  ذہین میں یہی سوچ چل رہی تھی کہ لوگ یہاں بیٹھ کر مطالعہ کس طرح کرتے ہوں گے۔ ان مشکالات سے گزرنے کے بعد جب کتابوں کی فہرستوں تک پہنچا تو کافی دیر سر کھپانے کے بعد بھی اپنی مطلوبہ کتب تلاش  نہ کرسکا۔  فہرستوں سے صاف اندازہ ہوتا تھاکہ نئی کتب کی آمد کا سلسلہ عرصہ دراز سے بند ہو چکا ہے۔ اس دن کے بعد سے پھر دوبارہ اس کتب خانے کا رخ کرنے کی ہمت نہ ہوئی۔ یہ بات آج سے کوئی بیس سال پہلے کی ہوگی اور آج نجانے کیا حال ہو چکا ہو گا۔

زمانہء طالب علمی کے گزرنے اور عملی زندگی میں قدم رکھنے کے بعد ایک بار انٹر بورڈ جانا ہوا تو لگے ہاتھوں یہ بھی سوچا کہ یہاں کی لائبریری میں ممبرشپ بھی حاصل کرلی جائے۔ یہ سوچ لے کر اندر داخل ہوا تو دائیں طرف ایک خاتون میز کرسی لگائے بیٹھی تھیں۔  ان کے پاس پہنچ کر میں نے اپنا مدعا بیان کیا کہ  تو  ان کا جواب سن کر میں سٹپٹا کر رہ گیا  کیوں کہ خاتون نے مجھ سے پوچھا تھا کہ میں لائبریری کی  ممبرشپ کیوں حاصل کرنا چاہتا ہوں۔ تھوڑی دیر تک ميں خاموشی سے کھڑا رہا اور پھر جواب دیا کہ لائبریری میں لوگ کس کام کےلیے آتے ہیں یہ بات آپ مجھ سے بہتر جانتی ہیں۔ اسکے بعد تو خاتون نے مجھے ممبر شپ فارم تو دے دیا مگر  پوری کوشش کی کہ میں ممبر شپ لیے بغیر ہی وہاں سے چلا جاؤں۔  وجہ اسکی صرف یہ تھی کہ جنتے زیادہ لوگ ممبر شپ حاصل کریں گے تو لائبریرین کے کام میں اتنا ہی زیادہ اصافہ ہو گا۔ یہی وجہ تھی کہ خاتون گنے چنے چند لوگوں کو ممبر شپ دے کر آرام سے میز کرسی لگائے بیٹھیں تھیں اور میں انکے آرام میں مخل ہونے جسارت کر بیٹھا تھا۔

مطالعہ کے فقدان کی ایک بنیادی وجہ مہنگائی میں اصافہ ہے جس کی وجہ سے قارئین کتب کی خریداری سے قاصر ہیں۔ ایک بار ایک کتابوں کی دکان پر صحیح بخاری کا  کئی جلدوں پر مشتمل مکمل مجموعہ دیکھا۔ دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ خریدا جائے اور دکاندار سے قیمت معلوم کر بیٹھا اور خود ہی شرمندہ ہو کر واپس آگیا کیونکہ انکی قیمت سینکڑوں  میں نہیں  بلکہ ہزاروں ميں تھی  جو میری استطاعت سے باہر تھی۔ کتب خانوں کی ضرورت اسی وجہ سے ہوتی ہے کہ تمام کتب ہر کسی کی دسترس میں آ سکیں اور ہر خاص و عام ان سےفائدہ اٹھا سکے۔

کراچی کی جتنی آبادی ہے اس کے تناسب میں کتب خانے نہ ہونے کے برابر ہیں اور دیگر شہروں کا بھی حال ایسا ہی ہے اور لوگوں میں کتب بینی کا شوق ویسے ہی معدوم ہو چکا ہے ۔  جن قوموں میں مطالعہ کا فقدان ہوجاتا ہے  انکی ذہنی صلاحیتیں تنزلی کا شکار ہو جاتی ہیں اور وہ کبھی  ترقی کی منازل طے نہیں کر سکتی ہیں۔

Pakistan

Cycle of My Mind

I am a simple, hard working person.

I like to have fun, but I put my goals for success as the number one priority in my life. 913 more words

Domestic Issues