Tags » Imran Khan

شیخ صاحب کی زبان بمقابلہ دانی

یار لوگ ہیں کہتے ہیں کہ شیخ رشید سیاستدان ہے۔ ہم جواب دیتے ہیں کہ وہ ایک جنگجو ہے۔ دو باتیں الگ پر شخصیت ایک۔ تو سوچا کہ تتبیق ہو۔ تتبیق کا نتیجہ یہ نکلا کہ شیخ رشید سیاست میں جنگ کرتا ہے اور جنگ میں سیاست۔ لال حویلی کا ایلی دو جگہوں پر مقبول ہے۔ ایک اپنے حلقے میں اور دوسرا ٹی وی پر۔ دونوں کی وجہ کیا شیخ صاحب کی زبان ہے؟ پاکستان کے ایک سیاسی مہربان جو آزادی کے متوالے ہیں اور آج کل سرخ علاقوں کے باسی ہیں، شیخ صاحب کو، (شاید زبان کی وجہ سے) ٹلی کہا کرتے تھے۔ شاید اُن کا مطلب یہ ہو گا کہ جب وہ بولتے ہیں تو ‘ٹلی’ کی طرح کھڑکتے ہیں۔، مگر، المعنی الشعر فی بطن الشاعر، آپ اپنی زبان(کا مطلب) جانے عمران المعروف کپتان۔

شیخ صاحب کی زبان اور دانی کے درمیان کی خلیج پر جی چاہتا ہے کہ ایک کہانی گھڑوں، الف لیلیٰ جیسی۔

چنانچہ ہوا یوں کہ زباندانی کی دیوی ایک بار رالپنڈی کے دورے پر نکلی تو اسے راجہ بازار پسند آیا۔ دیوی تھوڑی دیر کے لیے راجہ بازار کے رش سے لطف اندوز ہونے کے لیے رک گئی۔ وہ آتے جانے، بھائو تائو کرتے لوگوں کو دیکھ کر محظوظ ہو رہی تھی کہ لال حویلی کا راجہ، راجہ بازار آنکلا۔ دیوی کی نظر جب لال حویلی کے راجہ پر پڑی تو اپنا آپ بھول کر راجہ کے خیالوں میں کھو گئی اور راجہ کی ہو گئی۔ ایک دن دیوی نے راجہ سے کہا کہ اے مہربان، ہم جان و دل سے آپ پر قربان، ہمیں اچھا نہیں لگتا کہ آپ شیرِ گائو کے لیے اتنی تدبیر کرتے ہیں۔ اگر ایک گائے یہیں آ جائے تو ہم بھی باقی زندگی لال حویلی کے نام کر دیں۔ لال حویلی کے راجہ نے جواب دیا، جب بازار سے شیر ارزاں نرخون پر دستیاب ہے تو گھر میں گائے کی ضرورت کیا؟ زباندانی کی دیوی اس بات پر آگ بگولہ ہو گئی اور انتقام سینے میں بھڑک اٹھا۔ چنانچہ وہ اپنے پیار یعنی راجہ کو زبان تو دے گئی مگر دانی کو کاٹ کے الگ کر دیا ۔

بس اس وقت سے زبان اور دانی کے مابین ایک ایسی خلیج حائل ہو گئی کہ زبان آئے تو دانی جائے اور دانی آئے تو زبان ندارد۔ پھر، ہم نےسعدی کی وہ حکایت بھی سُن ہی رکھی ہے؛

ایک شخص جنگل سے گزر رہا تھا کہ اسے ٹھوکر لگی۔ دیکھا تو ایک کھوپڑی زمین پر پڑی ہے۔ کھوپڑی نے کہا دیکھ کر نہیں چل سکتا۔ وہ شخص حیران ہوا کہ کھوپڑی بول رہی ہے، پوچھا تو یہاں کیسے آئی تو کھوپڑی بولی زبان کی وجہ سے۔ وہ شخص بھاگا اور بادشاہِ وقت کے دربار میں انعام کے لالچ میں جا پہنچا۔ عرض کیا بادشاہ سلامت میں نے دیکھا ہے ایک کھوپڑی کو کلام کرتے۔ بادشاہ بولا، ہم بادشاہ ہیں مگر ہم نے ایسا کبھی نہیں دیکھا، ‘خبر’ غلط ہوئی تو سر قلم کر دیں گے۔ چنانچہ باشاہ اپنے مصاحبین کے ساتھ جنگل میں اُس جگہ پہنچا۔انفارمنٹ نے کھوپڑی سے کہا بول جو تو نے مجھ سے کہا تھا۔ کھوپڑی کی جانب سے کوئی جواب نہ آیا۔ بار بار پوچھنے ہر بھی جب کھوپڑی کچھ نہ بولی تو بادشاہ نے انفارمنٹ کا سر تن سے جدا کر دیا اور واپس ہو لیا۔ بادشاہ کے جاتے ہی کھوپڑی اُس شخس کے کٹے سر سے مخاطب ہوئی ”نہیں کہا تھا کہ میں یہاں زبان کی وجہ سے آئی”۔ 

شیخ صاحب سگار پیتے ہیں، پان نہیں کھاتے مگر اُن کی ‘پیکیں’ مشہور ہیں۔ ہر بات اُن کی، پیک پر ہوتی ہے۔ یہ پیک عموماً چوبیس سے بہتر گھنٹوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ ان پیکوں کی نشانی یہ ہے کہ ان میں ‘کتھا’ کم اور ‘چونا’ زیادہ ہوتا ہے۔ شیخ صاحب کی زبان کی پھسلن بھی مشہور ہے۔ یہ بات بات پر تلک جاتی ہے۔ چنانچہ، فُل سٹاپ اور’ قوموں’ کا حشر ہو جاتا ہے۔ امید ہے کہ ماہرینَ نفسیات اور حیاتیات اس کی وجہ یہی بتائیں گے کہ ایسا عموماً لعابِ دہن کی زیادتی کے باعث ہوتا ہے۔ اگر غصہ تھوکا نہ جائے تو زبان کو لعاب کی زیادتی کے باعث چلنے میں دشواری ہوتی ہے۔ چنانچہ، تلکن اور پھسلن بڑھ جاتی ہے۔

اندازہ ہے کہ ایک بار خواب میں شیخ صاحب کی ملاقات فیض کی روح سے ہوئی تو شیخ صاحب نے کہا کہ جناب آپ بھی کمال کرتے ہیں، بھلا زبان کو بھی کبھی زنجیر ‘ڈل’ سکتی ہے۔ روحِ فیض نے جواب دینے کی بجائے آسمان کی جانب اشارہ کیا۔ شیخ صاحب نے دیکھا کہ اپنی چونچ میں ایلفی لیے ایک ‘چڑیا’ آئی اور ایلفی شیخ صاحب کے ہونٹوں پر لگا دی۔

آج کل تو شیخ صاحب کی زبان کی تلکن بہت بڑھ گئی ہے۔ وہ یہاں تک کہہ گئے کہ یہ سکرپٹ کہیں اور نہیں آسمان پر لکھا گیا ہے۔ قوتِ گویائی تو شیخ صاحب کی مشہور ہی تھی، اس بیان سے لگا کہ قوتِ بصارت بھی کمال کی ہے، کہ کاتبِ تقدیر کا ادھر قلم چلا، ادھر شیخ کی نظر پڑی۔ نتیجہ یہ نکالا کہ شیخ صاحب کو دعویٰ سیاست تو تھا ہی، اب ‘دعویٰ’ ‘ولایت’ کا بھی ہے۔ مگر، شیخ صاحب سے بصد ادب عرض یہ کہ زباندانی کی جس دیوی کا شراپ آپ پر ہے وہ دوبارہ پنڈی کے دورے پر ہے۔ راجہ بازار سے اسے علم ہوا ہے کہ آپ لال حویلی سے سرخ علاقے میں گئے ہوئے ہیں۔ لوگوں نے دیوی سے پوچھا کہ کوئی پیغام ہو تو دے دیں ہم شیخ کو پہنچا دیں گے۔ دیوی نے پیغام دیا کہ شیخ سے کہہ دو جو زبان برسوں قبل ہم نے اسے دی تھی اب ہم وہ لینے آئے ہیں۔   

Politics

آؤ جمہوریت سیکھیں

سوشل ڈیموکریٹ پارٹی سویڈن کی سب سے بڑی اور سب سے پرانی سیاسی پارٹی ہے جس نے کم و بیش تیس سال تک سویڈن میں حکومت کی ہے اور سویڈن کو ایک سوشل ویلفئیر ریاست بنانے میں اھم کردار ادا کیا ہے مارچ  دو ہزار گیارہ میں اس پارٹی کی چیئرمین نے  استعفیٰ دے دیا اور ہوکون جوھولٹ نامی پارٹی کے لیڈر نے پچیس مارچ کو اگلے چیئرمین کی ذمہ داری سنبھال لی – اکتوبر دو ہزار گیارہ میں ایک اخبار نے خبر لگائی کہ ہوکون جوھولٹ جوکہ پارلیمنٹ کا رکن بھی تھا اس نے پارلیمنٹ کے رکن کے طور پر جو الاؤنس لیا اس میں خود کو اکیلا یا سنگل ظاہر کیا جبکہ اسکی گرل فرینڈ بھی اسکے ساتھ رہتی تھی اس لیے اسکا الاؤنس کم ہونا چاہئیے تھا – اس خبر سے مختلف فورمز پے بحث چھڑ گئی  ہوکون جوھولٹ نے سب سے پہلے جو اضافی رقم لی تھی وو واپس سرکاری خزانے میں جمع کروا دی اور وضاحت کی کہ اسے الاؤنس لینے کے قوائد کا علم نہیں تھا اس لیے یہ یہ اضافی الاؤنس اسکے اکاؤنٹ میں آتا رہا – اسکی اس وضاحت کے بعد سرکاری جرائم کے تحقیقاتی ادارے نے اپنی تفشیش کی اور رپورٹ دی کہ سرکاری الاؤنس کے طریقہ کار میں  اس طرح کی صورت حال کے بارے میں کوئی ہدایت موجود نہیں اور اس بنا پر ہوکون پر کوئی جرم نہیں بنتا – رپورٹ کے شائع ہونے کے بعد پارٹی کے سات اور لیڈروں نے بیانات دے دئیے کہ ہوکون جوھولٹ مستعفی ہو جاۓ – ہوکون صاحب نے انکار کردیا – بحث چل پڑی اخبار ٹی وی اور سوشل میڈیا میں ہوکون جوھولٹ کے حق اور خلاف ایک طوفان کھڑا ہوگیا اور آخر اکیس جنوری دو ہزار بارہ کو ہوکون صاحب نے پارٹی کی چیئرمین شپ سے استفیٰ دے دیا -

اس وقت پاکستان میں اپوزیشن کی جماعتوں میں سب سے زیادہ ووٹ لینے والی پارٹی نے دارالحکومت میں دھرنا دیا ہوا ہے اور آج پارلیمنٹ کا وہ مبینہ طور پر کئی دنوں تک چلنے والا اجلاس شروع ہوگیا جس میں تمام دوسری جماعتوں نے جمہوریت اور آئین کی حفاظت اور حکومتی جماعت کا ہر مشکل وقت میں ساتھ دینے کے عہد کیے -جس خطے میں ہم رہتے ہیں وہاں سن سنتالیس سے تھوڑا پہلے سے لیکر قدیم تاریخ تک جمہوریت نام کی کوئی چیز نہیں تھی یہاں سے انگریز جاتے ہوۓ ہمہیں جمہوریت کا تحفہ دے گۓ پھر جنھیں موقع ملا انہوں نے کچھ الفاظ ڈھونڈھ لیے اب ہر طرف جمہوریت کی تکرار ہے انہوں نے آہستہ آہستہ ایک طبقے کو جنم دیا جو پارلیمنٹرین ہے انکا ایک استحقاق ہوتا ہے اگر انہیں آپ صاف بات منہ پے کر دو تو وہ مجروح ہوتا ہے یا آپکی بات غیر پارلیمانی ہوتی ہے انہیں خصوصی مراعات کا حق ہے کیونکہ یہ عوام کی طاقت سے اس خاص طبقے میں شامل ہوگۓ ہیں اس لیے ان سے آپ کوئی مطالبہ نہیں کر سکتے ایسا کرنا آئین -کے خلاف ہے انکا کوئی جرم قبل گرفت نہیں کیونکہ انہیں استثنیٰ حاصل ہے اور یہی جمہوریت کا حسن ہے آپ یہ پیرا دوبارہ پڑھیں اور اس لفاظی پے غور کریں یہ وہ جمہوریت ہے جس کی حفاظت بہت ضروری ہے

عوام کا ایک حصہ ان دھرنوں کو غیر قانونی اور دہشت گردی کہہ رہا ہے اسکی وجہ جمہوریت سے ناواقفیت ہے جس نے ووٹ دیا ہے اسے حق ہے وہ مطالبہ کرے آپ اسکے مطالبے پر سوال کرسکتے ہو اسکے حق پر نہیں – دھرنے میں ایک شخص ہوتا یا سو یا ہزار یہ بحث فضول ہے  یہی جمہوریت ہے ہم نے ووٹ دیا ہم مطمئن نہیں آپ تشریف لے جائیں  آج پارلیمنٹ میں کی جانے والی ہر تقریر اس جاہلیت کی تصویر تھی جس میں عوام کی طاقت سے اس پارلیمنٹ میں آے ہوۓ لوگ اسی عوام کو ریاستی طاقت سے سیدھا کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے  یہ جمہوریت کی کسی بھی قسم میں نہیں لکھا کہ آپکو ایک بار ووٹ مل جاۓ تو ووٹر پھر اگلی باری تک سوال نہیں کر سکتا

Democracy

The good things about Pakistan.

I have been told, on more than one occasion that I only post negative things about Pakistan. Also, that I make Pakistan look bad in front of everyone, including our ‘apparently unfriendly’ neighbor. 1,128 more words

Pakistan

Pakistan’s Street of Shame Channel 4, 11pm, written and presented by Jamie Doran.

http://www.channel4.com/programmes/pakistans-hidden-shame/4od

What if your child came home from school and told you that he didn’t want to go to that cinema because they showed porn movies and adults took young boy there to rape whilst watching? 304 more words