Tags » Incompetence

Drone Crash At White House Kills None As Irony Jokes Fall Like Rain

Photo from Indianapolis Sun

The President most associated with the use of lethal drone strikes in the war on “extremism” wasn’t at home when a small drone crashed over night on the White House lawn. 91 more words

President Obama

Presentation: Good News/Bad News

News and information is presented mainly by:

—  the established news media

—  government

—  other organizations

All of them in their presentation of news/information: 92 more words

COMMENTARY

u-bam-a's Wasteful Trip to India

u-bam-a and his little buddy, Modi put out joint propaganda about how much was accomplished on u-bam-a’s vacation to India.

Accomplished nothing.

The only real issue was to open the Indian market for nuclear power plants to United States companies. 127 more words

NEWS

Authoritarian Leaders and Agenda Setting

On Tuesday, Andrew Cuomo proposed a new signature initiative: a $450 million AirTrain to LaGuardia, connecting to the Mets’ stadium on both the 7 train and the LIRR. 1,322 more words

Transportation

سویا ہُوا محل

“سویا ہُوا محل”

گاؤں والے سخت تنگ آ چکے تھے۔ ڈاکو دن دیہاڑے آتے اور کسی کو بھی لُوٹ کر لے جاتے۔ مریض کلینک کے باہر ‘بند ہے’ کا بورڈ دیکھ کر واپس چلے آتے۔ بچوں کی تعلیم کا کوئی انتظام نہیں تھا۔ سرکاری اہلکار کٹائی کے وقت گاؤں آتے اور شاہی حکمنامہ دکھا کر دو تہائی فصلیں قبضے میں کر لیتے۔ اگرکبھی کچھ لوگ ہمت کر کے  اِن سے مشکل حالات کی شکایت کرتے تو یہ اہلکار اُنہیں ایک بار پھر شاہی حکمنامہ دکھا کر کہتے کہ وہ صرف لگان اکھٹی کرنے پر مامور ہے۔  اِن اہلکاروں کی نقل و حرکت اور اِن کا کام بھی عجیب تھے۔ نہ جانے کہاں سے عین کٹائی کے وقت یہ گاؤں پہنچ جاتے اور پھر اگلی کٹائی تک دوبارہ نظر نہ آتے۔ لگان میں لی ہوئی فصلوں کو بیل گاڑیوں پر لاد کر گاؤں کے قریبی دریا تک لے جاتے اور وہاں بڑے بڑے لکڑی کے جڑے ہوئے تختوں پر رکھ کر دریا کے بہاؤ پر روانہ کر دیتے۔ یہ دریا آگے کہاں تک جاتا تھا، گاؤں والوں کو ٹھیک طرح سے معلوم نہیں تھا۔ کچھ بوڑھوں کا کہنا تھا کہ اُنہوں نے اپنی جوانی میں اِس دریا کے ساتھ ساتھ کئی دن تک سفر کیا ہے۔ اور یہ کہ گاؤں سے کم از کم پانچ دن کی مسافت پر یہ دریا چار چھوٹے دریاؤں میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ اور وہ دریا کہاں جاتے ہیں؟ یہ جاننے کی کوشش کسی نے کبھی نہیں کی تھی۔ صرف اتنا کہا جاتا تھا کہ اِن چار دریاؤں پر ایک طلسماتی اور قدرے خوفناک سی دُھند چھائی رہتی ہے۔ چوپال میں جب کبھی اِن دریاؤں کا ذکر آتا تو گاؤں کا دیوانہ اچانک ایک پاؤں پر کھڑا ہو کر ناچنے لگتا۔ طرح طرح کے منہ بناتا اور انگھوٹا بند کر کے ہاتھ کی چار اُنگلیاں ہوا میں لہراتا۔ پھر ایک ایک انگلی بند کرتا اور کچھ عجیب سے الفاظ بَکتا، جیسے دریاؤں کے نام گِنوا رہا ہو۔

“سوئٹزرلینڈ، لندن، دبی، ڈیفینس”

گاؤں والوں کو یقین تھا کہ یہ نام اُس کے مفلوج ذہن کی پیداوار ہیں اور بالکل بے معنی ہیں۔ دیوانہ تو خیر دیوانہ تھا، مگر اب حالات کے ہاتھوں گاؤں والے بھی پاگل ہوتے جا رہے تھے۔ بالآخر پنچائت نے طے کیا کہ گاؤں کے پانچ نوجوانوں کو بادشاہ کے دربار میں بھیجا جائے گا۔ مگر یہ کام اِتنا آسان نہیں تھا۔ پہلا اور سب سے اہم مسئلہ تو یہ تھا کہ اُن میں سے کسی نے بھی دارالحکومت اور بادشاہ کا محل نہیں دیکھے تھے۔ پھر اُنہیں اِس بات کا بھی ہرگز اندازہ نہیں تھا کہ دربار میں اپنی شکایات کیسے پیش کی جاتی ہیں، یا پیش کی بھی جا سکتی ہیں یا نہیں؟ (گاؤں میں رعایا کے حقوق کے بارے میں کبھی بات ہوئی ہی نہیں تھی۔ اور جس دور میں کچھ عرصے تک گاؤں کا اسکول چلتا رہا تھا وہاں بچوں کو طوطا مینا کی کہانیاں ہی پڑھائی جاتی تھیں، جنہیں بچے لفظ بہ لفظ یاد کر لیتے اور بغیر توجہ دیئے لفظ بہ لفظ سُنا دیتے)۔ چار و ناچار اُنہوں نے گاؤں کے نجومی سے راستے کا اندازہ لگوایا اور نوجوانوں کو اِس راستے پر روانہ کر دیا۔ نجومی نے اُنہیں دو اہم نشانیاں بتائی تھیں، چار دریا اور دو رنگا پہاڑ۔ سفر کے پہلے حصے میں اُنہیں دریا کے ساتھ ساتھ گاؤں سے مغرب کی طرف چلتے جانا تھا۔ جب چار یا پانچ دن کی مسافت کے بعد دریا چھوٹے چھوٹے چار دریاؤں میں تقسیم ہوتا نظر آئے تو اُنہیں عین بائیں یعنی جنوب کی جانب مُڑ کر ناک کی سیدھ میں سفر کرنا تھا، یہاں تک کہ اُنہیں دو رنگا پہاڑ نظر آ جائے۔ نجومی کا دعوی تھا کہ پہاڑ سے آگے اُنہیں محل کا راستہ خود مل جائے گا۔ اور ہُوا بھی ایسا ہی۔ چار دریاؤں کے پھوٹنے کے مقام پر نوجوان بائیں مُڑے اور مزید تین دِن کے سفر کے بعد دو رنگے پہاڑ تک پہنچ گئے۔ یہ وسیع و عریض پہاڑ بھی ایک عجیب معمہ تھا۔ جس جانب سے وہ اِس تک پہنچے تھے وہ بالکل بنجر اور ویران تھی۔ جبکہ اِسکا عقبی رُخ (جو پوری طرح چوٹی پر چڑھ کر نظر آتا تھا) کسی عظیم الشان باغ کا منظر پیش کررہا تھا۔ پہاڑکے اِس رُخ پر موجود خوبصورت درخت اور بُوٹے پہاڑ کے دامن پر ختم نہیں ہوتے تھے بلکہ تاحدِ نگاہ ایک جنت نظیر میدان میں پھیلے ہوئے تھے۔ اِسی سرسبز میدان میں پہاڑ سے  بہت دُور بادلوں اور دُھند میں گھِرے ہوئے بلند و بالا میناروں کی ہلکی سی جھلک دیکھی جا سکتی تھی۔ یہی بادشاہ کا محل تھا۔ نوجوان اِن میناروں کی جانب سفر کرتے ہوئے بالآخر محل کے قریب پہنچ گئے۔ اب اُنہیں پورا محل اپنی مکمل شان و شوکت میں نظر آ رہا تھا۔ مگر ساتھ ہی ساتھ اُنہیں ایک مشکل درپیش تھی۔ محل کے چاروں طرف ایک گہری خندق کُھدی ہوئی تھی جس میں نصف گہرائی تک پانی چل رہا تھا۔ اِس خندق پر ایک ہی  پُل تھا جو محل کے بڑے دروازے تک جاتا تھا۔ پُل کا داخلی کنارہ ایک بھاری زنجیر سے بند کر دیا گیا تھا اور اِس کی ایک جانب ایستادہ ایک قدرے چَوڑی اور قدِ آدم  سے اونچی سنگِ مرمر کی سِل پر شاہی حکمنامہ درج تھا

یہاں سے آگے جانا منع ہے۔ بادشاہ سلامت اور اُن کے وزیر پانچ سال کے لئے سو رہے ہیں۔ اگر آپ کو کوئی مشکل  درپیش ہے تو بالکل فکر نہ کریں، پانچ سال بعد بادشاہ سلامت خود آپ کے گھر پر حاضر ہو کر آپ کی داد رسی کریں گے۔

تحریر : نوید رزاق بٹ

Naveed Razzaq Butt

Israeli Prime Minister Benjamin Netanyahu Ignore u-bam-a

Israeli Prime Minister Benjamin Netanyahu’s plans to address Congress in March regarding the Iranian threat.

House Speaker John Boehner invited Netanyahu — and the Israeli leader accepted – without any involvement from the White House. 191 more words

NEWS