Tags » Karachi

Karachi: The City That Burns

People ask about the causes of all the violence and killings in Karachi. Every year countless people die violently in the great sea side city of Karachi, once known as the city of lights. 745 more words

Karachi

The Noisy "Jalsa" Season

This new wave of political dharnas and jalsas has gripped the Pakistani nation. It sure has awakened a dormant section of society and for a worthy cause no doubt. 462 more words

Environment

وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے یادگار شہداء کارساز پر حاضری دی اور پھول چڑھائے۔

کراچی(19۔ اکتوبر): وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے آج شام یادگار شہداء کارساز پر پہنچ کر شہداء کے یادگار پر پھول چڑھائے اور کارساز کے شہیدوں کیلئے دعا کی۔ وزیراعلیٰ سندھ کے معاونین خصوصی وقار مہدی، راشد ربانی، پولیٹیکل کوآرڈینیٹر صدیق ابو بھائی، پاکستان پیپلز پارٹی کراچی ڈویزن کے صدر قادر پٹیل و دیگر ان کے ہمراہ تھے۔اس موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے مختصر بات چیت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کارساز کا سانحہ نہ صرف ملکی بلکہ عالمی تاریخ کا بھی ایک بہت بڑا سانحہ ہے، جس کی مثال کہیں بھی نہیں ملتی۔ آج ہم ان شہیدوں کو سلام پیش کرنے اور دعا کیلئے شہداء یادگار پر آئے ہیں۔

Latest News

وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کا ایدھی سینٹر میں ڈکیتی کی واردات کا نوٹیس،ڈاکؤں کی گرفتاری کے احکامات

کراچی(19۔ اکتوبر): وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے میٹھادر ایدھی سینٹر میں ڈاکوں کی لوٹ مار کا سخت نوٹیس لیتے ہوئے اے آئی جی پولیس کراچی کو واقع میں ملوث ڈاکوں کی فوری گرفتاری کے احکامات دیئے ہیں۔ انہوں نے ایڈیشنل آئی جی پولیس کراچی کو ڈکیتی کی واردات کی تحقیقات کرکے رپورٹ پیش کرنے اور لوٹا ہوا ساماں فوری طور پر برآمد کرنے اور ایدھی سینٹر کو سیکیورٹی فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔

Latest News

وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کا عبدالستار ایدھی سے رابطہ

کراچی(19۔ اکتوبر): وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے آج شام معروف سماجی رہنما عبدالستار ایدھی سے فون پر رابطہ کیا اور میٹھادر ایدھی سینٹر میں ڈکیتی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہیں یقین دلایا کہ ڈکیتی میں ملوث ملزمان کو کسی صورت میں بخشا نہیں جائے گا۔ انہوں نے عبدالستار ایدھی کو بتایا کہ آئی جی سندھ پولیس، ایڈیشنل آئی جی، متفقہ ڈی آئی جی پولیس کو سخت سے سخت ہدایات جاری کردی گئی ہیں کہ ہر صورت میں ڈاکوں کا سراخ لگاکرگرفتار کرکے انہیں کیفر کردار تک پہنچایا جائے اور لوٹا ہوا سامان واپس حاصل کرکے ایدھی سینٹر کے حوالے کیا جائے۔

Latest News

"اردو " تہذیب و تمدن کی زبان ہے

  پاکستان میں تعلیم  و تربیت میں تہذیب و تمدن کی زبان اردو ہے جس کا کردار بہت اہمیت کا حامل ہے ہم اج ماشاءاللہ اردو لکھتے ہیں اور اردو بولنے کے ساتھ پڑھتے بھی ہیں ہماری نئ نوجوان نسل بھی اردو بولتی ہے اور لکھتی اور پڑھتی ہے اورکافی حدتک اردو کو سمجھتی بھی ہے لیکن اج ہماری نئ نسل اردو کے اداب اسکی ادائیگی اور اسکی اہمیت سے محروم ہے جبکہ اردو زبان میں تہذیب و تمدن کے ساتھ اسلامیات اور اخلاقیات کا زخیرہ بھی موجود ہے اس لیے اردو کی اہمیت و افادیت سے محرومی کی وجہ سے اردو  میں موجود زخیرے یا  مواد سے محرومیوں کا سبب بھی بنتی ہے
آج تہذیب و تمدن اور دینی زخائر کی زبان اردو جس دور سے گزر رہی ہے اس کی بدحالی کے زمہ دار خود اردو داں حضرات  اساتذہ کرام  اور ہمارے والدین ہیں ماضی میں اس زبان کی دلکشی کی وجہ سے دشمن نرغے میں آجاتے تھے اور اسی زبان کے ایک نعرے کی وجہ سے انگریز ہندوستان چھوڑنے پر مجبور ہوگۓ تھے مگر افسوس کہ آج خود اردو والے ہی اسے تنگ نظری اور حقارت کی نظر سے دیکھنے لگے ہیں جو ایک المیہ ہے ہمارے لیے کہ ہم اردو زبان پر عبور حاصل کرنے کے بجاۓ انگریزی زبان پر عبور حاصل کرنے کی جستجو میں مصروف ہیں جو اردو بولنے والوں کے لمحہ فکریہ ہے کہ آج ایک خاص مقصد کے تحت ہمارے نوجوانوں کو اردو  تہذیب سے دور کرکے اردو کی اہمیت کو کم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ اردو زبان آج کسمپرسی کی حالت سے گزرنے لگی ہے اگر سرسری سا جائزہ لیا جاۓ تو اندازہ ہوگا کہ اردو اسکولوں ، کالجوں میں جتنے بھی اساتذہ کرام اردو پڑھا رہے خود انکے بچے بچیاں انگریزی اسکول کالجز میں تعلیم حاصل کررہے جہاں اردو بحیثیت مضمون پڑھائی ہی نہیں جاتی ہے .

بانیان پاکستان  جو تقسیم ہند کے بعد اور پاکستان کے معروض وجود میں آنے کے بعد “اردو” زبان کو ورثے میں پاکستان لاے جنھوں نے اردو کو ایک عظیم زبان کا درجہ دلانے اور اسکی اہمیت کو منوانے میں اہم کردار ادا کیا انکی اولادیں اپنے اجداد کی وراثت کا صحیح استعمال کررہی ہیں؟ آج اردو کو وراثت میں لانے والوں کی اولادیں بھی اردو زبان کا حق ادا نہیں کررہی ہیں .
کیا بانیان پاکستان کی اولادیں نہیں چاہتی کہ ہماری نئ نسل بھی ہماری اس شیریں زبان “اردو” پر عبور حاصل کرکے اردو زبان کی اہمیت میں اور اضافہ کرے ؟ کیا انکے دل میں اردو سے محبت دکھاوے کے لیے ہے ؟
جب یہ ہی زمہ دار قوم بانیان پاکستان کی اولادیں ہی اپنی نئ نسل کو اردو سے دور کررہے ہیں تو ہم دوسروں سے کیسے امید کرسکتے ہیں کہ کوئی اپنی اولاد کو اردو کی تعلیم سے آراستہ کرےگا؟
یہ وقت ہمیں پھر نہ ملے گا یہ ہی وقت ہے سنبھل جانے کا اپنے بچوں کو اردو کی تعلیم سے آراستہ کرنے کا انہیں صحیح تعلیم  سوچ و فکر دینے کا .سوچیے اگر  یہ زبان نہ رہی تو ہمارے اولیا کرام شعراء کرام مصنفوں کی لکھی ہوئی کتابیں کون پڑھےگا بابائے اردو مولوی عبدالحق  مولانا ابوالکلام آزاد علامہ اقبال مرزا غالب  مولانا حالی اور سر سید احمد خان جیسے تاریخی ہیروں کو کون یاد رکھے گا؟
اگر تہذیب کو بچانا ہے تو اردو زبان کا ساتھ کبھی مت چھوڑیے اردو کو زندہ رکھیے یہ ہمارا قیمتی اثاثہ اور ہمارا فخر ہے .