Tags » Karachi

استحصال زدہ مظلوم عوام کے لیے

استحصال زدہ مظلوم عوام کے  لیے

استحصال زدہ مظلوم عوام کے حقوق کے لیے جدوجہد کرنا، یہ وہ مقصد ہے جو کم و بیش ہر سیاسی جماعت کے منشور کا حصہ ہے کیونکہ یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ جسکی بنیاد پر سیاسی جماعتیں یا تحریکیں عوام کی نمائندگی حاصل کرتی ہیں لیکن اگر اس حقیقت پسندی کا موازنہ عملیت پسندی سے کیا جائے اور اس روشنی میں سیاسی جماعتوں کے کردار کا جائزہ لیا جائے تو قدرے مایوسی ہوتی ہے کہ پاکستان میں یہ نعرہ لگانے والی جماعتیں اپنے نمائندہ افراد کے لیئے اسی استحصالی طبقے سے جاگیردار، وڈیروں اور سرمایہ داروں کا انتخاب کرتی ہیں جو مظلوم عوام کے استحصال میں ملوث ہوتے ہیں . روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ دینے والی ppp نہ صرف حصول اقتدار کے لیئے جمہوریت کے بنیادی اصول اکثریت کی حکمرانی کی نفی کرتے ہوئے اکثریتی جماعت کو اقتدار سے دور رکھ کر ملک کو دو لخت کرنے کا سبب بنی بلکہ ملک میں سرمایہ دارانہ
نظام رائج کرکے پاکستان کے کسانوں ,ہاریوں اور مزدوروں کو وڈیروں ,سرمایہ داروں کی نظر میں کمی کمین کا درجہ دیا.اسلامی نظام کا نعرہ لگانے والی جماعتوں نے بھیIJI کے نام پر نواز شریف کی صورت میں سرمایہ داروں کو عوام کا خون چوسنے کے لیے ان پر مسلط کردیا اور قائداعظم کی مسلم لیگ کے نام سے سرمایہ داروں کی حکمرانی قائم کردی گئی جو بعد میں کئی ٹکڑوں ن,ق,ض وغیرہ میں بٹ گئی. عمران خان پچھلے کئی برسوں سے وزیراعظم کے نعرے لگو ارہے ہیں اور خوش ہورہے ہیں مگر اپنے تمامتر دعوؤں کے برعکس انہوں نے بھی انتخابی نمائندگان میں سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کو فوقیت دی. نیز وزارتوں اور عہدوں کا لالچ تحریک ا نصاف کو اس مقام پر لے آیا ہے جہاں خود تحریک ا نصاف کے اندر تحریک ا نصاف بچاو تحریک چل رہی ہے.ان دوغلی جماعتوں کے برعکس ایک ایسی جماعت ایک ایسا لیڈر ہے جس نے نعرہ بعد میں دیا عملی جدوجہد پہلے کی.الطاف حسین کی مہاجر قومی موومنٹ….متحدہ قومی موومنٹ درجہ بدرجہ ترقی کے منازل طے کرتی ہوئی,جسکی ابتداء بالکل اس انداز میں ہوئی جیسے موجودہ سپر پاور امریکہ میں ایک سیاہ فام خاتون نے نسلی امتیاز کی بناء پر بس کی سیٹ خالی کرنے سے انکار کردیا اور یہ انکار ایک ایسے احتجاج میں تبدیل ہوگیا کہ نہ صرف وہ سیاہ فام جنھیں ووٹ کا حق تھانہ ملازمتوں کا,اپنے حقوق حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے بلکہ آج اس سپر پاور کا سربراہ ایک سیاہ فام ہے. اسی طرح شہر کراچی کی جامعہ کے دروازے ایک متعصبانہ پالیسی کے تحت اس شہر کے طالبعلم پر بند کئے گئے تو ایک طالبعلم نے صدائے احتجاج بلند کیا اور بی. ایس.سی ایکشن کمیٹی تشکیل دی گئی.الطاف حسین سے کہا گیا کہ تم اپنا داخلہ کروالو اور خاموش ہو جاؤ مگر اس حق کی آواز کو دنیا میں گونجنا تھا یہ صدائے حق کہاں خاموشی میں بدلتی استحصال زدہ مڈل کلاس شہری طبقے کے طالبعلموں کو انکا حق دلانے کے بعد  اور اے پی ایم ایس او نے کے نام سے اس عظیم تحریک کا آغاز ہوا جو اسٹوڈنٹ لیول سے شروع ہوئی  عوامی پزیرائی پائی.پاکستان کی تقریبا تمام سیاسی جماعتوں کی تشکیل پہلے ہوئی اور انکی طلبا تنظیمیں بعد میں تشکیل دی گئی.

مہاجر قومی موومنٹ کو عوامی پذیرائی ملتے ہی استحصالی طبقے نے لسانیت کے نام پر کشت و خون کا بازار گرم کردیا مگر الطاف حسین کی مدبرانہ سیاست نے نفرتوں کو محبت میں بدل دیا یہاں تک کہ MQM پاکستان کے تمام استحصال ذدہ سندھی,پنجابی,بلوچی,پختون,سرائیکی,ہزارہ وال,بروہی بھائیوں کی نمائندہ جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے قالب میں ڈھل گئی.1987 میں کراچی اور حیدرآباد کی بلدیہ عظمی کی نمائندہ جماعت MQM واحد جماعت ہے جس کے سو فیصد نمائندگان خوائندہ اور استحصال ذدہ طبقے سے تعلق رکھتے ہیں ,بڑھتی ہوئی مقبولیت کے پیش نظر کئی وڈیرہ شاہی اور جاگیردارانہ نظام سے تعلق رکھنے والے سیاسی اکابرین نے شمولیت کے ذریعے تحریک کو ہائی جیک کرنے کی کوشش کی مگر الطاف حسین نے کسی بڑے نام کا سہارا لینا گواراہ نہیں کیا کیونکہ الطاف حسین کو پاکستانی سیاست کے افق پر آفتاب بننا تھا جسکے ظہور سے مصنوعی ستاروں کی چمک مانند ہوجاتی. جب کوئی پروجیکٹ تشکیل دیا جاتا ہے تو پہلے اسکا ماڈل بنایا جاتا ہے الطاف حسین نے کراچی ,حیدرآباد اور میر پور خاص کی شہری حکومتوں کو نمونہ بنایا اور پورے پاکستان کے استحصال ذدہ غریب و مظلوم 98% محکوم عوام کو سمجھادیا کہ تمہارا حق تمہیں اس صورت ہی مل سکتا ہے جب تم اپنے اندر سے نمائندے لاؤ غریب کے درد کو غریب ہی سمجھ سکتا ہے,کسی گاؤں کا ہاری, کسی شہر کا چھوٹے مکانوں میں رہنے والا مزدور کلرک ہی جانتا ہے کہ آٹا مہنگا ہوتا ہے تو کیا ہوتا ہے,بجلی گیس یا پانی میسر نہ ہو تو کیا مصائب ہوتے ہیں .موجودہ نظام میں کوئی غریب صرف خواب ہی دیکھ سکتا تھا کہ وہ بھی کبھی وزیر مشیر یا گورنر بن سکتا ہے الطاف حسین نے ثابت کیا کہ اگرنظریئے میں پختگی اور کردار میں استقامت ہو تو حقیقت پسندی عملیت پسندی میں بدل جاتی ہے.اور استحصال ذدہ غریب و محکوم طبقے کوانکی منزل ملتی ہے.

پاکستان کے استحصال ذدہ ہ غریب و محکوم طبقے کے لیئے الطاف حسین کی جدوجہد تا حال جاری ہے,داخلے سے محروم کیا جانے والا طالبعلم مارٹن لوتھر اور نیلسن منڈیلا کی طرح ایک نہ ڈرنے والا نہ جھکنے والا عظیم لیڈر بن چکا ہے .مزید انتظامی یونٹس اور چھوٹے صوبوں کی حمایت اور پاکستان کے سیاسی و انتخابی نظام کو موئثر و مربوط کرنے کے لیئے انکے خیالات کا اندازہ ہوتا ہے.استحصالی قوتیں پاکستان کے استحصال ذدہ ہ غریب و محکوم طبقے کو الطاف حسین سے دور رکھنے کیلیئے اس کے مرکزی شہر کراچی میں بدترین تشدد کو فروغ دے رہی ہیں اگر اس کوشش کا خاتمہ نہ کیا گیا تو یہ ایسی ہی بدترین غلطی ہوگی جیسی 1971 کے انتخاب میں اکثریتی جماعت کو حکومت نہ دے کرکی گئی تھی.
الطاف حسین کے وژن کے مطابق اس مملکت کی بقاء اسی صورت ممکن ہے جب 98%عوام اپنے اندر سے انقلاب لائیں اور خود آگے بڑھ کر ان معاشی اصلاحات کا نفاذ کریں جو انکے بنیادی مسائل کا خاتمہ کردے اور ایسا اس وقت ہی ممکن ہے جب عوام تمام سازشوں کو ناکام بناتے ہوئے الطاف حسین کا ساتھ دیں .

AltafHussain

!!! Dizzy in Karachi: A Journey to Pakistan reviews

Dizzy in Karachi: A Journey to Pakistan

Dizzy in Karachi: A Journey to Pakistan. If you looking for Dizzy in Karachi: A Journey to Pakistan. 85 more words

A Worthy Experience of Internship!

July was this year’s favourite month .. Well specially for me, as we all got a month’s leave to celebrate and finally relax from hectic routine of Proff exams. 565 more words

Some Random Experiences..

EDHI "The Real Hero"

For some people life is all about living it to the fullest but for some life is all about helping the needy. Dr.Abul Sattar Edhi belongs to the second kind. 510 more words

Pakistan

12 Reasons Why My Son and I Ride a Bicycle to School Everyday

By Anila Weldon

Commuting by bicycle is an absolutely essential part of my day. It’s mind-clearing, energizing, and heals my heart. I like to go out and pedal through Karachi in the early morning hours daily, to see life come back and refresh each day, as the sun comes out. 992 more words

Pakistan, China investment: Sindh plays host to $130m wind power project

KARACHI: An investment of $130 million is being made for setting up a 50-megawatt wind power project near Gharo, Sindh. Two private companies – HydroChina and Dawood Power Limited – are working on the project as part of a joint venture. 266 more words

Latest News