دین اسلام میں علم کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ کتاب وزشدو ہدایت  قرآن حکیم کا آغاز علم کی عظمت سے بیان ہوا ہے میرے آقا صلوٰۃ وسلام کا فرمان مبارک ہے “علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے” . باب شہر علم و حکمت حضرت علی کرم اللہ وجہہ شیر خدا کا قول ہے ” علم مال سے بہتر ہے کیونکہ علم انسان کی حفاظت کرتا ہے اور انسان مال کی ،علم حاکم ہے اور مال محکوم ،مال  خرچ کرنے سے گھٹتا ہے اور علم خرچ کرنے سے بڑھتا ہے .
علم حاصل کرنا ہر مرد اور عورت پر فرض ہے کیونکہ علم ایک بہت بڑی دولت اور عظیم نعمت ہے علم دل کی زندگی اور آنکھوں کا نور ہے در حقیقت یہ بات تو روز روشن کی طرح ہر کسی پر عیاں ہے کہ قوموں کے عروج و زوال میں تعلیم ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرتی ہے تاریخ انسانی اس بات کی شاہد ہے کہ کوئی بھی قوم اقوام عالم پر  اس وقت تک حکمرانی کرتی ہے جب تک اس کو دوسری قوموں پر تعلیم کے میدان میں  برتری حاصل رہتی ہے .آج کے موجودہ دورمیں امریکہ اور یورپ ایشا اورافریقہ سے اگے ہیں اور یہ ہم سے جب تک آگے رہے گے جب تک ہمارا تعلیمی نظام بہتر نہیں ہوجاتا

میرا تعلق پاکستان کے پانچویں اور سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآبادسے ہے جہاں پاکستان کی آزادی کے 67 سال بعد بھی کوئ یونیورسٹی نہ بن سکی جس کی بنیادی وجہ حیدرآباد میں مہاجروں اردو بولنے والوں کی اکثریت ہونا اور الطاف حسین ،ایم کیو ایم کا شہر ہونا ہے اور اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ شہری  سندھ حیدرآباد کی عوام  باشعور ہے یہ ہی وجہ ہے کہ سالہ سال حکومت کرنے والی جماعت پاکستان پیپلزپارٹی نے حیدرآباد کے طلباوطالبات کو اعلیٰ تعلیم جیسے بنیادی حق سے محروم رکھا  جو آئین پاکستان کی کھلی خلاف  ورزی بھی ہے  پاکستان پیپلزپارٹی کے اس متعصبانہ رویہ سے شہری سندھ کے باشعور عوام میں غصہ پایا جاتا ہے

ایک طرف پیپلزپارٹی کہتی ہے کہ سندھی بولنے والے سندھی اور اردو بولنے والے سندھی میں کوئی تفریق نہیں اور دوسری طرف پیپلزپارٹی کے سابق صوبائی وزیرتعلیم سندھ پیر مظہر الحق صاحب انکشاف کرتے ہیں کہ  “حیدرآباد لطیف آباد میں  یونیورسٹی اس لیے  نہیں بننے دی کہ وہاں ایم کیو ایم والے جاتے “.موصوف جناب پیر مظہر الحق صاحب اس سے پہلے 23 فروری 2013  میں بھی اس طرح کا متعصبانہ بیان دے چکے ہیں اگر اس طرح تعصب رکھنے والے لوگ وزارت تعلیم جیسی اہم زمہ داری پر آتے رہے تو پاکستان ترقی تو دور کی  بات  بلکہ صرف تنزلی کی طرف  جاۓ گا

لیکن پیر مظہر الحق صاحب  جیسے متعصب سوچ رکھنے والے اور شہری  سندھ کے طلباوطالبات کے لیے اعلی تعلیم کے دروازے بند کرنے کی سوچ والے لوگوں  کے لیے 27 نومبر 2014 کا دن ایک بہت بڑا طمانچہ ہے کیوں کہ اس دن ایم کیو ایم قائدالطاف حسین صاحب نے حیدرآباد میں یونیورسٹی کے قیام کا وعدہ پورا کردیا اور اس نیک مقصد کے لیے اللہ نے چیرمین بحریہ ٹاون نامور بزنس مین  ملک ریاض صاحب کو وسیلہ بنایا اور ملک ریاض صاحب سے رابطے اور تعلیم کے فروغ کے لیے گورنرسندھ  ڈاکٹر عشرت العباد نے بھی  اپنا بھرپورکردار ادا کیا اور حیدرآباد کے علاوہ کراچی میں بھی نئ جامعات کے قیام کا اعلان کیا اور ملک ریاض صاحب نے از خود اس بات کا اعلان کیا  کہ کراچی و حیدرآباد میں بننے  والی جامعات الطاف حسین صاحب کے نام سے منصوب کی جائنگی

حیدرآباد میں یونیورسٹی کا قیام عوام کا دیرینہ مطالبہ تھا جو چند متعصب لوگوں کی وجہ سے پورا نہیں ہوسکا تھا لیکن الطاف حسین  نے اپنی انتھک محنت سے اپنی قوم کا سر فخر سے بلند کردیا اور ملک ریاض صاحب نے الطاف حسین  کے قول و فعل سے متاثر ہوکر حیدرآباد کے طلباوطالبات کے تعلیم کے فروغ  کے لیے لطیف آباد میں الطاف حسین کے نام سے جامعہ کے قیام کا اعلان کردیا جو حق پرستوں کی بہت بڑی فتح ہے

 

ویسے تو حیدرآباد سے 25 کلو میٹر کے فاصلے پر جامشورو اور حیدرآباد کے درمیان 3 جامعات واقع  ہیں مگر حیدرآباد کے طلبأ یا تو کوٹہ سسٹم کی نظر ہوجاتے ہیں اور یا پھر وہاں کی جامعات کے لوگوں کے رویہ کی وجہ سے نہیں جا پاتے جس سے حیدرآباد کے طلباوطالبات اعلی تعلیم  سے محروم رہ جاتے ہیں.
حیدرآباد 25 سے 30 لاکھ کی آبادی کا شہر ہے جس کے لیے کوئی ایک یونیورسٹی بھی  نہیں اور جو حیدرآباد کے گردونواح میں جامعات ہیں ان میں کوٹہ سسٹم جیسے کالے قانون کی وجہ سے حیدرآباد کی نمایندگی نہ ہونے کے برابر ہے جس کی ترتیب کچھ  اس طرح سے ہے .
یونیورسٹی آف سندھ جس میں حیدرآباد کے طلباوطالبات کے لیے  350 نشستیں ہیں .
مہران یونیورسٹی میں 95 نشستیں ہیں .
اور لیاقت میڈیکل یونیورسٹی میں 37 نشستیں ہیں.
یہ تمام اگر ٹوٹل کی جایئں تو صرف 482 نشستیں ہیں .

حیدرآباد جو 25 سے 30 لاکھ کی آبادی کا شہر جہاں ہر سال 30000سے زائد طلباوطالبات انٹرمیڈیٹ سے پاس آؤٹ ہوکر مختلیف جامعات میں داخلے کے خواہش مند ہوتے ہیں مگر افسوس کہ یونیورسٹیز نہ ہونے کی وجہ سے نہ جانے کتنے باہنر طلباوطالبات کا مستقبل تاریک ہوجاتا ہے .
حیدرآباد کے طلباوطالبات اورعوام  الطاف حسین صاحب،چیرمین بحریہ ٹاؤن ملک ریاض صاحب ،گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد صاحب اور ایم کیوایم کے شکر گزار ہیں کہ آپ نے ہمارے مستقبل روشن کرنے کے لیے یونیورسٹی کے قیام کا اعلان کرکے علم کا دیپ جلادیا ہے جو حیدرآباد کے طلباوطالبات کے لیے قیمتی تحفہ ہے .
اور آج بے شک وقت نے ایک بار پھر ثابت کردیا کہ حق آنے کو ہے اور باطل مٹ جانے کو ہے . لہذا وقت  کا تقاضا ہے کہ تعلیم کو فروغ دیا جاۓ اور تعلیم کو عام کیا جاے تاکہ ملک سے جہالت کے چھاے بادل چھٹ جائیں .