Tags » Mohammad Ali Jinnah

2nd January 1965: A day when Sons of the Soil throttled Democracy

تحریر: سید جنید علی، طاحہ اور وشال نین

2 جنوری  1965 : ایک ایسا دن جب فرزندان زمین کے تعصب نے جمہوریت کا گلہ گھوٹ دیا:

پاکستان اپنے بھرپور وسائل، خوبصورت موسموں، گوناگوں جغرافیائی خطوں، جفاکش مزدوروں، اعلیٰ ذہن کے حامل دانشوروں،سائینسدانوں اور ماہرین معیشت کی جنت ہونے کے باوجود دہشتگردی کی آگ میں جلنے والا ایک بدنصیب ملک ہے۔ اس  ملک کی مثال اُس گھر کے مانند ہے جسے اس کے اپنے ہی چراغ سے آگ لگ گئی ہو۔  اس ملک میں اقتدار پر قابض طبقے نے ابتدا سے ہی قوم کو تاریخ سے بے خبر رکھا اور دل ہلادینے والی سبق آموز حقیقتوں کے اوراق کو تاریخ کی کتاب سے پھاڑ کر تاریکی کو روشنی اور روشنی کو تاریکی بنا کر پیش کیا۔

بات تو بڑی تلخ ہے مگر کہے بغیر رہ بھی نہیں سکتے کہ اگر 16 دسمبر 2014 کو پشاور حملہ میں قاتلوں نے قتل گاہ نہ سجائی  ہوتی تو قوم کو پتہ ہی نہ چلتا کہ پاکستان میں اس دن بھی کوئی اور بڑا سانحہ گذرا ہے۔  صد افسوس کہ اس بدنصیب کا 11/9 پشاور حملہ قراردیا جا رہا ہے اور اسکے آدھے جسم کے کٹ جانے کو جو درحقیقت اس کا 11/9 تھا اسے بھلا دینے کی کوششیں کی جارہی ہیں! یعنی اب وہی ہونے جا رہا ہے کہ آئیندہ سالوں میں ہم اپنے 11/9 کی کے دکھ کو بانٹا کریں گے کہ اس دن اتنے بچوں کو شہید کیا گیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ بدترین سانحہ تھا مگر 11/9 سقوط ڈھاکہ تھا یا یہ سانحہ !

اس کالم کو لکھنے ایک وجہ صرف اپنے پڑھنے والوں کو یہ یاد دلانا ہے کہ اس ملک کے ساتھ ایک اور سانحہ 2 جنوری 1965 کو بھی ہوا تھا جس میں اس ملک کی قسمت میں جمہوریت کی چادر کو آمریت نے اُڑھ لیا۔ اس قوم کو یہ یادہی نہیں کہ جمہوریت کا گلا تو اُسی دن گھونٹ دیا گیا تھا جب مغربی پاکستان کی عوام نے صرف اس لیے ایک آمر ایوب خان کو دوبارہ صدر چُن لیا کہ اس کے مقابلے میں کھڑی مادر ملت فاطمہ جناح کو بنگالی اور مہاجروں کی سپورٹ حاصل تھی۔ مغربی پاکستان کے فرزندان زمین نے قائد اعظم کی بہن کو بھی صرف اس لیے دھتکار دیا کہ انہیں ایوب خان فرزند زمیں لگا ۔یعنی وہی متعصب رویہ جو عقل و شعور کو اندھا کر دیتا جس سے دیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت ہی ختم ہوجاتی ہے۔ مغربی پاکستان نے آمر ایوب خان کو اپنا صدر منتخب کیا اور ملک کے بانی قائد اعظم محمد علی جناح کی بہن کو جنہیں قوم نے مادر ملت کا لقب دیا تھاا نہیں کھلی دھاندلی سے شکست دے گئی۔

2 جنوری 1965 درحقیقت پاکستان کی تاریخ کا وہ سیاہ دن تھا جس دن پاکستان کے مقدر میں سیاہی سے بے شمار ایام سیاہ لکھ دیئے گئے۔ اس قوم نے اپنے ہاتھوں سے اپنے تقدیر میں آمریت کی حکمرانی لکھ دی اور جمہور کےلیے ہی جمہوریت کو دفن کردیا۔  شائد پاکستان کا 11/9  2 جنوری  تھا جس کے سفر میں 16 دسمبر 1971 سے 2014 تک کا سفر کٹتا رہا مگر منزل روٹھی ہی رہی۔ خدا جانے اور کتنے دسمبر آنے ہیں اس قوم کی تاریخ میں۔

! 1958میں ایوب خان صاحب نے اقتدار پر قبضہ کرکے ہر طرح کی سیاسی سرگرمیوں پر پابندی لگا دی۔ جمہوریت کے براہ راست نظام انتخاب کو ختم کرکے ایوب خان صاحب نے بنیادی جمہوریت کے نام سے 80000 افراد پر مشتمل ایک الیکٹورل کالج کا قیام عمل میں لا کر پوری قوم کی قسمت اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کی ۔ ایوب خان صاحب پہلے ڈکٹیٹرتھے جس نے ملک کے اندر اور باہر اس بات کا پرچار کیا کہ پاکستانی عوام جمہوریت کا شعور نہیں رکھتے لہذاانکی ترقی صرف آمریت ہی میں ہوسکتی ہے۔ بنگال میں جمہوریت کی جڑیں انیسویں صدی سے ہی مضبوط تھیں اور انکے یہاں مقامی حکومت کا نظام تب ہی سے کام کررہا تھا۔ ایوب خان صاحب  کی اس غیر ذمہ دارانہ رویے سے بنگالیوں میں شدید مایوسی پھیلی کیوں کہ اس نئے نظام کے بعدان کے پاس اپنے مقامی مسائل حل کرنے کا اختیار بھی ختم ہو گیاتھااور وہ وفاق کے منتخب شدہ نمائندے کی مرضی کے اسیر ہوکر رہ گے تھے  ۔ ایوب خان صاحب کے اس متعصبانہ اقدام نے بنگالیوں میں پاکستان کی طرف سے خیر کی رہی سہی اُمید ہی ختم کردی۔

اقتدار پر گرفت کمزور ہوتی دیکھ کر ایوب خان نے 1964 میں آمریت کو جمہوریت کا لباس پہنانے کی چال چلی تاکہ انکے اقتدار کی رسی مذید دراز ہوسکے  اور براہ راست انتخاب کے ذریعے صدر کا انتخاب کا اعلان کردیا۔ آئین میں ترمیم کرکے ایوب خان  صاحب نے خود الیکشن میں حصہ لیا اور نئے صدر کےانتخاب کے بعد منتخب ہوجانے تک اپنے آپ کو صدر رکھنے کی ترمیم کرڈالی۔ اس انتخابی مہم میں کمبائینڈ اپوزیشن نے قائد اعظم محمد علی جناح کی بہن مادر ملت جناب فاطمہ جناح کو اپنا متفقہ اُمیدوار بنایا۔ فاطمہ جناح کی عمر جب انھوں نے الیکشن میں حصہ لیا 71 برس تھی۔ انھوں نے پاکستان کی آذادی کے بعد دوبارہ کبھی سیاست میں حصہ نہیں لیا تھامگر پاکستان میں ڈکٹیٹر شپ کو مضبوط ہوتا دیکھ کر اس پیرانہ سالی میں انھوں نے یہ فیصلہ کیا کہ انھیں جمہوریت کے نفاذ میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ فاطمہ جناح کی عظمت کا یہ عالم تھاکہ قائداعظم محمد علی جناح نے فاطمہ جناح کا داخلہ باندرہ کانوینٹ اسکول میں کروایاتھا لیکن وہ ہر اتوار کو بمبئی سے باندرہ اپنی بہن فاطمہ سے ملاقات کے لیے گھوڑے پر سوار ہوکر اتنے دور کا سفر طے کرتے تھے تاکہ انکی خبر گیری کرسکیں۔

انتخابی مہم کی مدت کو اچانک گھٹا دیا گیا اور اس کو صرف چند مٹینگوں تک محدود کردیا گیا۔ بد دیانتی کا یہ عالم کہ عوام کو ان میٹنگوں میں آنے کی اجازت نہ تھی بلکہ ایوب خان کے منتخب شدہ الیکٹورل کالج کے لوگ ہی ان میٹنگ میں شرکت کرتے تھے۔ 2 جنوری 1965 کو یہ انتخابات منعقد ہوئے۔ ایوب خان صاحب نے جو فوج کا سربراہ تھے پورے الیکشن کے دوران پولنگ اسٹیشن کو آرمی کےذریعے کنٹرول کیا اور اس الیکشن میں اپنی مرضی کے مطابق دھاندلی کروائی۔اس الیکشن کے دوران ایوب خان نے براہ راست الیکشن کو کنٹرول کیا۔ جب صدارتی الیکشن میں ایوب خان کی جیت کا اعلان کیا گیا تو فاطمہ جناح نے فرمایا کہ یہ پورا الیکشن اور اس کا طریقہ کار دنیا کی آزمودہ جمہوریتوں سے متصادم تھا اورصرف ایوب خان کوصدر منتخب کروا نے کے لیے بنایا گیا ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ پورا انتخابی عمل دھاندلی پرمشتمل تھا اور مجھے اس بات کا پختہ یقین ہے کہ ایوب خان جیت کر بھی ہار گئے ہیں۔

افسوس اس بات کا ہے کہ ایوب خان کے ساتھ آج کے قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو ہر گاہ شامل تھے اور آمر کی آمریت کو مضبوط کرنے اور جمہوریت کی کسی بھی کوشش کو سبوتاژ کروانے میں سب سے آگےنظر آتے تھے۔ ایوب خان کو ڈیڈی کہتے  ڈکٹیٹر کی تقریر لکھتے ایوب خان صاحب کو عوام کے جذبات سے کھیلنے کے گُر سکھاتے اورمحترمہ فاطمہ جناح پر رکیک غیراخلاقی حملے کرواتے تھے۔ یہاں تک کہ ایوب خان صاحب نے بھٹوکے اُکسانے پر محترمہ فاطمہ جناح پرغیر فطری زندگی گذارنے کا الزام لگایا۔ اس طرح جمہوریت کی خاطر اپنی زندگی تج دینے والی خاتون کے ساتھ وہ کیا گیا جو کوئی اپنے بدترین دشمنوں کے ساتھ نہیں کرتا۔  ڈکٹیٹر نے اپنے ملک کے بانی کی بہن کو جنھوں نے بذات خود بھی تحریک پاکستان میں ہر اول دستے کا کردار ادا کیا اور قوم نے انہیں انکو مادر ملت کے خطاب سے نوازا اقتدار کی ہوس میں تذلیل و توہین کی۔  غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق ایک دن متحرمہ فاطمہ جناح جو اپنے گھر میں صبح مردہ پائی گئیں تو اس میں بھی ان سے اپنی نفرت کا بدلہ لیا گیا اور انکے بارورچی پر قتل کا شک تھا اس سے کوئی تحقیق نہ ہوئی کیوں کہ شائد تحقیق سے خطرہ تھا کہ اس کے پیچھے اصل ہاتھ سامنے آجاتے۔ متحرمہ فاطمہ جناح سے نفرت کا ا ظہار انکی موت کے بعد بھی کم نہ ہوا انھیں قائد اعظم کے ساتھ دفن کرنے سے بھی منع کردیا گیا۔ وہ تو بھلا ہو ان سے محبت کرنے والے جنازے کے شرکاء کا جنھوں نے زبردستی  قائد اعظم محمد علی جناح کی قبر کے برابر میں انھیں دفن کروایا۔

موجودہ پاکستان میں ہر اُس قوم اور علاقے کو تعصب کی بنیاد پر نقصان پہنچایا گیا جس نے محترمہ فاطمہ جناح یعنی جمہوریت کے ساتھ کھڑا رہنے کے عزم کا اظہار کیا۔ پورا مشرقی بنگال اور شہر کراچی ایوب خان  صاحب کی آمریت کا براہ راست اور بلاواسطہ شکار رہا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ایوب خان نے بنگالیوں کو صرف اس لیے غدار قرار دیا کہ انھوں نے اکثریت میں فاطمہ جناح کو ووٹ دیا۔ جبکہ کراچی کو جمہوریت کے ساتھ کھڑا دیکھ کر ڈکٹیٹر ایوب خان نے دھمکی دی تھی  کہ کراچی میں رہنے والے اردو بولنے والے یہ سوچ لیں کہ اگر انھوں نے فاطمہ جناح کو ووٹ دیا تو انکے آگے ہم اور پیچھے سمندر ہے۔ جس کا عملی مظاہرہ انکے بیٹے گوہر ایوب نے باقاعدہ کیا اور اپنے باپ کے الیکشن جیت جانے کے دوسرے دن دہشت گردوں کے ساتھ جمہوریت کے ساتھ کھڑا ہونے کی پاداش میں گوہرایوب نے کراچی کی مہاجربستیوں لالوکھیت، گولیمار پر حملہ کیا۔ یہ وہ علاقے تھے جہاں کے الیکٹرل کالج کے ووٹرز نے فاطمہ جناح کو بڑی تعداد میں ووٹ دیا تھا ۔ اس وحشیانہ جشن فتح نے ایک ہی روز میں کئی درجن مہاجروں کی جان لے لی۔ سینکڑوں افراد زخمی ہوئے اور کئی لوگوں کو گولیوں سے بھون دیا گیا۔ لالوکھیت اور گولیمار اس وقت چھونپڑیوں پر مشتمل آبادیاں تھیں جنہیں آگ کے گولے پھینک کر نذر آتش کر دیا گیا۔ باہر نکلنے کی کوشش کرنے والوں کو گولیاں ماری گیئں۔ کئی روز جاری رہنے والے ان فسادات میں یلغاریوں نے سیکڑوں نہتے شہریوں کو قتل کیا۔ لیکن جب نہتے عوام نے ڈنڈوں اور چھریوں سے ان کا مقابلہ کرنے کی ٹھان لی تو رد عمل کےخوف سے کرفیو نافذ کرکے لوگوں کے زبان اور جذبات پر بوٹوں اور سنگینوں کا وزن ڈال دیا۔ کوئی گرفتاری نہ ہوئی اور کسی سے پوچھ گُچھ نہ کی گئی۔ یہ خون خاک نشیناں تھا رزق خاک ہوا۔

 الیکشن میں دھاندلی کے بعد ایوب خان نے پوری پاکستانی عوام کو ایک اور عذاب میں مبتلا کر دیا وہ تھا کشمیر کے نام پر سیاست کو خون سے رنگین کرنا ۔ ایوب خان صاحب نے اپنی گرتی ہوئی ساکھ کو سیاست میں دہشت گردی سے بدل لیا۔یعنی اچانک انھوں نے کشمیر بزور شمشیر کا نعرہ لگا دیا اور پاکستان دہشت میں  گردی کرنے اور سہنے کی ناختم ہونے والی داستان لکھی جانے لگی۔   باالآخر سنہ 1968 میں اس آمر مطلق کے اقتدار کا سورج غروب ہوا۔ آج پشاور کا دلخراش سانحہ ایسے ہی آمروں کے اقتدار پر غاصبانہ قبضوں کا شاخسانہ ہے۔

Karachi

Happy birthday Jinnah - we know you aren't happy

He was rich. He was educated. He was well settled. He didn’t have to struggle for anything…all he had to do was sit back, chill and live life to the fullest. 427 more words

Random

Vacation Diaries, Day 4: Happy Birthday Jinnah

Today, as our nation struggles to understand and recapture its place among the nations of the world, Jinnah’s words are as relevant as they were all those years ago. 39 more words

Vacation Diaries