Tags » Musharraf

For how long the daughters will be denied justice in this land of pure?!

“Sometimes right, Sometimes wrong”, “Boys are boys will make the mistake”, “Just for a MINOR crime, you want us to hang the BOY” – these are the replies given by the elders when told about the most odious crime of their boys. 756 more words

Pakistan: The politics behind Imran’s bouncers

By Ameen Izzadeen
(September 5, 2014) – Imran Khan appears to be in a mighty hurry to form a government in Pakistan, though undemocratically. The speed with which he tries to topple the elected government of Prime Minister Nawaz Sharif invokes memories of his heydays as a much feared and highly respected pace bowler. 1,093 more words

Political Analysis

2014 Make or Break

dسال 2014 میک اور بریک کا سال

قائد ایم کیو ایم الطاف حسین کا بیان
اور اسکے آثار

پاکستان کی موجوده صورتحال بڑهتی ھوئی بیروزگاری .آسمان سے بات کرتی مهنگائی 8سے 12 گھنٹے تک لوڈ شیڈنگ افرأ تفری کا ماحول انتظامیا کی عدم دستیابی اور وزیر اعظم 50 لوگوں کے عملے کے ساته عوام کی مهنت کی کمائی کے پیسے غیر ملکی دوروں میں صرف کرنا یه وه اقدام هیں جو ن لیگ کی رڈ کو چیلنج کرتے هیں
ایسے میں عوام وه آواز ڈھونڈتی ھے جو عوام کے حقوق کی بات کرے
اور پهر وه چاهے اسٹیبلشمینٹ کی جانب سے هو یا دوسری جماعت کی اسکے بعد جلسے جلوس هنگامے دهرنے احتجاج مطالبات جیسا کے آج کل همارے سامنے ھے
اور عوام قادری صاحب کا ساتھ اسلئے دے رهی هے عوام واقعی اس حکومت کو بادشاهت مان رهی هے
موروسی سیا ست ایک وقت میں بادشاهت کا روپ لیلیتی ھے
خیر نا جانے اونٹ کس کروٹ بیٹھیگا مگر یه جو ھوا چل رهی هے یه الطاف حسین کے اس بیان کی طرف اشاره کر رهی هے جو انهو نے 3 جنوری کو حیدرآباد میں باغ مصطفی کے جلسے سے خطاب کے دوران کها تھا کے سن 2014ء میک اور بریک کا سال ھے جس بیان کی ویڈیو ثبوت کے طور پرWWW.YouTube.com سے با آسانی مل سکتی ھے
بے شک الطاف حسین پاکستان کے بڑے اور پاۓ کے سیاست دان ھیں اور انکی متعدد پیشن گوئیاں سچ ثابت ھوئ جن میں بلدیاتی نظام اور طالبان کا مسئله سرے فهرست ھے جن کے انجام کے حوالے سے پهلے هی الطاف حسین نے اپنے تعثرات کا اظهار کر دیا تھا
الطاف حسین بهت بعید نظری اور باریکی سے حالات کا جائزه لینے والے چند سیاست دانوں میسے ایک هیں انکا همیشه پاکستان کی سیاست میں مثبت کردار رها هے
اور اس وقت وزیر اعظم میاں نواز شریف صاحب نے سیاسی جماعتوں سے تجااویز طلب کی ھیں تو ان کو چاهئے کے الطاف حسین کے مشورے کو زیر غور رکھیں اور اسپر عمل کرتے هوۓ اپنے عهدے سے مستفعفی هوجائیں تا کے ملک بڑی خون ریزی سے بچ جاۓ اور جمهوری سائیکل بھی چلتی رهے
اور اپنی هی پارٹی کے کسی دوسرے شخص کو منتخب کردیں الله نا کرے کے پاکستان میں کوئی بڑی خون ریزی ھو یا کسی تیسری طاقت کو موقع ملے جو همارے لئے نقصان کا باعث بنے
7 اگست ایم کیو ایم کا بیان قابل تعریف هے کے احتجاج عوام کا آئینی حق ھے مگر هم کسی احتجاجی سیاست کا حصه نھی بنیںگے واقعی یه بات درست هے کے اگر کوئ شخص آئین یا قانون کی حد میں ره کر اسکا غلط استعمال کرتا ھے اور ارادے ملک میں انتشار پهیلانے کے رکهتا ھے تو اسکا یه عمل قابل مذمت هے بے شک قادری صاحب کی ایک علیحده شخصیت ھے وه همارے مزهبی اسکالر بھی ھیں اور انکے ووٹرز نھی بلکے لاکھوں فالوورز ھیں سوال یه بھی پیدا هوتا ھے کے اگر ایسا چلتا رها تو کل کوئی بھی 30.000 یا 40.000 هزار آدمی لیکر حکومت گرانے کی بات کرسکتا ھے تب هماری سوچ کیا هوگی ؟