Tags » Musharraf

2014 Make or Break

dسال 2014 میک اور بریک کا سال

قائد ایم کیو ایم الطاف حسین کا بیان
اور اسکے آثار

پاکستان کی موجوده صورتحال بڑهتی ھوئی بیروزگاری .آسمان سے بات کرتی مهنگائی 8سے 12 گھنٹے تک لوڈ شیڈنگ افرأ تفری کا ماحول انتظامیا کی عدم دستیابی اور وزیر اعظم 50 لوگوں کے عملے کے ساته عوام کی مهنت کی کمائی کے پیسے غیر ملکی دوروں میں صرف کرنا یه وه اقدام هیں جو ن لیگ کی رڈ کو چیلنج کرتے هیں
ایسے میں عوام وه آواز ڈھونڈتی ھے جو عوام کے حقوق کی بات کرے
اور پهر وه چاهے اسٹیبلشمینٹ کی جانب سے هو یا دوسری جماعت کی اسکے بعد جلسے جلوس هنگامے دهرنے احتجاج مطالبات جیسا کے آج کل همارے سامنے ھے
اور عوام قادری صاحب کا ساتھ اسلئے دے رهی هے عوام واقعی اس حکومت کو بادشاهت مان رهی هے
موروسی سیا ست ایک وقت میں بادشاهت کا روپ لیلیتی ھے
خیر نا جانے اونٹ کس کروٹ بیٹھیگا مگر یه جو ھوا چل رهی هے یه الطاف حسین کے اس بیان کی طرف اشاره کر رهی هے جو انهو نے 3 جنوری کو حیدرآباد میں باغ مصطفی کے جلسے سے خطاب کے دوران کها تھا کے سن 2014ء میک اور بریک کا سال ھے جس بیان کی ویڈیو ثبوت کے طور پرWWW.YouTube.com سے با آسانی مل سکتی ھے
بے شک الطاف حسین پاکستان کے بڑے اور پاۓ کے سیاست دان ھیں اور انکی متعدد پیشن گوئیاں سچ ثابت ھوئ جن میں بلدیاتی نظام اور طالبان کا مسئله سرے فهرست ھے جن کے انجام کے حوالے سے پهلے هی الطاف حسین نے اپنے تعثرات کا اظهار کر دیا تھا
الطاف حسین بهت بعید نظری اور باریکی سے حالات کا جائزه لینے والے چند سیاست دانوں میسے ایک هیں انکا همیشه پاکستان کی سیاست میں مثبت کردار رها هے
اور اس وقت وزیر اعظم میاں نواز شریف صاحب نے سیاسی جماعتوں سے تجااویز طلب کی ھیں تو ان کو چاهئے کے الطاف حسین کے مشورے کو زیر غور رکھیں اور اسپر عمل کرتے هوۓ اپنے عهدے سے مستفعفی هوجائیں تا کے ملک بڑی خون ریزی سے بچ جاۓ اور جمهوری سائیکل بھی چلتی رهے
اور اپنی هی پارٹی کے کسی دوسرے شخص کو منتخب کردیں الله نا کرے کے پاکستان میں کوئی بڑی خون ریزی ھو یا کسی تیسری طاقت کو موقع ملے جو همارے لئے نقصان کا باعث بنے
7 اگست ایم کیو ایم کا بیان قابل تعریف هے کے احتجاج عوام کا آئینی حق ھے مگر هم کسی احتجاجی سیاست کا حصه نھی بنیںگے واقعی یه بات درست هے کے اگر کوئ شخص آئین یا قانون کی حد میں ره کر اسکا غلط استعمال کرتا ھے اور ارادے ملک میں انتشار پهیلانے کے رکهتا ھے تو اسکا یه عمل قابل مذمت هے بے شک قادری صاحب کی ایک علیحده شخصیت ھے وه همارے مزهبی اسکالر بھی ھیں اور انکے ووٹرز نھی بلکے لاکھوں فالوورز ھیں سوال یه بھی پیدا هوتا ھے کے اگر ایسا چلتا رها تو کل کوئی بھی 30.000 یا 40.000 هزار آدمی لیکر حکومت گرانے کی بات کرسکتا ھے تب هماری سوچ کیا هوگی ؟

 

Slipping down slippery tongue slips

Aik Awaz – One Voice

Pakistan might lack a million sensible things but the one thing it has never run out of is political drama. As a nation we sure love our dramas – whether they be Turkish or home-grown, the murkier the better. 1,089 more words

Slipping down slippery tongue slips

Aik Awaz – One Voice

Pakistan might lack a million sensible things but the one thing it has never run out of is political drama. As a nation we sure love our dramas – whether they be Turkish or home-grown, the murkier the better. 1,089 more words

جمہوریت مقامی حکومت کے بغیر نامکمل ہے‎

   

ہمارے یہاں  پر سیاسی جماعتیں جمہوریت کی مالا جھپتی ہیں  اور خصوصی طور پر دو سیاسی جماعتیں جو ہر دور اقتدار میں مرکز یا صوبائی حکومتوں میں ہوتی ہیں اور اپنے آپ کو جمہوریت کی سب سے بڑی چیمپیئن سمجھتی ہیں لیکن انکے قول وفعل میں ہمیشہ سے تضاد رہا ہے جو اس وقت ابھر کر سامنے آجاتا ہے جب یہ دور اقتدار میں ہوتے ہیں انتخابات سے پہلے عوام کے مسائل کو حل کرنے کے لیے خوب وعدے کیے جاتے ہیں مگر اقتدار میں آنے کے بعد حکمران عوام مسائل اور انکے بنیادی حقوق بھی بھول جاتے ہیں اور جمہوریت کی مالا جھپنے والے اقتدار میں آنے کے بعد جمہوریت کی نرسری بلدیاتی ادارے اور بلدیاتی انتخابات کی طرف رخ ہی نہیں کرتے بلدیاتی نظام کے بغیر جمہوریت نامکمل ہے بنا بلدیاتی انتخابات کے عوام تک جمہوریت کے ثمرات پہنچنا ناممکن ہے
افسوس کی بات تو یہ ہے جب بھی پاکستان میں مقامی حکومت اور نچلی سطح میں عوام تک  اختیار پہنچے ہیں تو وہ بھی صرف جنرلوں اور فوجی حکومت میں پہنچے ہیں 2002  سے 2008 تک  کے ترقیاتی کام دیکھیں تو اس طرح سے تو کبھی 20 سالہ جمہوری دور یا پاکستان کی 67 سالہ تاریخ میں ایسے ترقیاتی کام نہیں ہوۓ  جو جنرل مشرف کے دور میں بلدیاتی مقامی حکومت کے قیام کے بعد ہوۓ  ہیں جس کی مثال نہیں ملتی مگر اس کے باوجود جمہوری دور حکومت میں مقامی حکومت کے قیام کے لیے بلدیاتی انتیخابات نہیں کروانا ایک غیر جمہوری رویہ 
ہے

اگر ہم  جمہوری ترقی یافتہ ممالک کا پاکستان سے موازنہ کریں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ وہاں انکی ترقی کی سب سے بڑی وجہ اس جمہوری حکومت کے ثمرات عام عوام تک  پہنچنا ہے اور جب جب پاکستان میں جمہوری حکومت آئی ہے تب سے لیکر آج تک پاکستان کی جمہور  اپنے جمہوری حق سے محروم ہے جمہوری حکومت نے آج تک پاکستان کی جمہور کو لوکل گورنمنٹ جیسی بنیادی ضرورت سے محروم رکھا ہے اگر پاکستان میں جمہوری نظام کو اور مضبوط کرنا ہے تو بلدیاتی انتخابات کے زریعے عام عوام  میں سے مقامی لوگوں کو بااختیار بنایا جاۓ تاکہ  مقامی لوگوں کو اپنے مسائل کے حل کے لیے کہیں دور نہ جانا پڑے اور عام عوام کو مسائل کا حل انکے گھر کے باہر ملے

  

مقامی حکومتوں کے ادارے ہی ہیں جنکے زریعے جمہوری قدروں کو فروغ دیا جاسکتا ہے اس لیے کہ مقامی حکومت کے ادارے شہریوں کو حقوق و فرائض سے آ گاہی کے لیے مواقع فراہم کرتے ہیں تاکہ وہ اپنی زمہ داریوں سے اگاہ ہوکر اپنے ملک کی ترقی میں کردار ادا کرسکیں .یہ ادارے نہ صرف عوام میں اپنے مسائل خود حل کرنے کے لیے راہیں تلاش کرنے کا شعور بیدار کرتے ہیں بلکہ عوامی نظم و نسق کا تجربہ حاصل کرتے ہیں اور پھر یہ تجربہ قومی سطح پر بہت مفید ثابت ہوتا ہے مقامی حکومتوں میں شامل ہونے سے لوگوں کو نہ صرف اپنے علاقے کی انتظامیہ کو سمجھنے اور چلانے کا شعور ملتا ہے بلکہ لوگوں کو اعلیٰ سطح کی صوبائی اور مرکزی انتظامیہ اور  دیکر سرکاری و نیم سرکاری اداروں کی انتظامیہ کے معاملات کو بھی سمجھنے کا موقع ملتا ہے مگر افسوس کہ اس نظام کی اتنی اہمیت و افادیت ہونے کے باوجود ہمارے پاکستان کے مفاد پرست حکمرانوں کی عوام دشمن پالیسیوں کی وجہ سے اقتدار کی نچلی سطح تک منتقلی محض خواب بنتا جارہا  ہے اور مقامی حکومتوں کا تصور ختم ہوتا جارہا ہے ایک طرف دعویٰ کیا جاتا ہے کہ مقامی سطح پر عوام کے منتخب نمائندوں کی حکومت ہوگی تو دوسری طرف انتخابات کے بعد اختیارات عوام نمائندوں کو سونپنے کے بجاۓ سارے کے سارے اختیارات بیوروکریسی کو سونپ دیے جاتے ہیں .
مقامی حکومتوں کے قیام سے عام عوام کے بنیاد مسائل حل کیے جاسکتے ہیں جیسے صحت و صفائ  ، خراب عمارات کے امور، صفائ ستھرائ ،قبرستانوں کی دیکھ بھال ، پانی کی فراہم ، نکاسی آب کے لیے سیوریج سسٹم کی بحالی ،پانی کے نکاس کے لیے نئ اسکیموں کو تیار کرنا ، پرائیوٹ مارکیٹوں سے متعلقہ امور کو کنٹرول کرنا ، زبح خانوں کی تعمیرات ،تعلیمی ادارے قائم کرنے کے بعد لوگوں کی اعلی تعلیم تک رسائی دلوانا ،شہری دفاع سیلاب کی روک تھام ،.گلی کوچوں عام سڑکوں کی تعمیر  اور انکا انتظام ، تجاوزات کی روک تھام،.لوگوں کی آمدورفت کنٹرول ،.صحت عامہ کو فروغ دینا ،طبی سہولیات اور تعلیم عام کرنے کے اقدامات کرنا ، تفریح و آسائش کے لیے باغات لگانا ،مناسب جگہوں پر شجرکاری کرنا ،قحط کی صورت میں ضروری انتظامات کرنا اور بہت سارے ایسے امور ہیں جنکی نگرانی کے زریعے مقامی حکومتوں کے عوامی نمایندے باآسانی ثمرات پہنچا سکتے ہیں لیکن افسوس کے ہمارے حکمران عوام تک بنیادی سہولتوں کی فراہمی کو اپنے اختیارات میں کمی  کا باعث سمجھتے ہیں اور لوکل  گورنمنٹ مقامی حکومت کے نظام کو کامیابی کی طرف لے جانے کے بجاے اسکی ناکامی کے لیے اوچھے ہتھکنڈوں کو ازماتے ہیں .قائداعظم کے قریبی ساتھی اور عظیم سیاسی مفکر چوہدری مشتاق ورک آف کلے ورکاں کے خیال میں کہ ” پاکستان میں اختیارات کی عوام تک منتقلی کے  بغیر نہ تو ترقی کا تصور کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی عوامی خوشحالی کی ضمانت دی جاسکتی ہے لہذا کوئ بھی حکمران اگر حقیقی معنوں میں عوام کی خدمت کا جزبہ رکھتا ہے تو اسے بلدیاتی انتیخابات کےانعقاد کے بعد اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کو یقینی بنانا ہوگا

Democracy doesn't deserve Pakistan.

“Pakistan has always had a sham democracy”-Pervaiz Musharraf.

Democracy, by definition, is a system of the people, by the people and for the people. In Pakistan, however, all the concepts of democracy are flawed. 587 more words

Politics

An ‘understanding’, not deal, was reached on Musharraf’s exit: PPP

* Kaira says Musharraf could not have been ousted forcefully because he was empowered with 58(2)(b) at that time

ISLAMABAD: Pakistan Peoples Party (PPP) on Sunday came up with a new version about deal with former military ruler Pervez Musharraf saying that it was a kind of “understanding” to let him go rather than a deal or agreement. 360 more words

Latest News