Tags » Musharraf

مہاجروں سے متعصبانہ رویہ بند کردو‎

 

کراچی میں جاری آپریشن جو ہر بار کی طرح اس بار بھی ایم کیو ایم اور مہاجروں کی طرف موڑ دیا گیا ہے اور ہر بار کی طرح اس بار بھی مہاجر اور ایم کیو ایم اپنی دگنی طاقت اور ہمت سے ابھرینگے اور مخالفین کو اس بار بھی رسوائ اور زلت کا سامنا کرنا ہوگا مہاجراپنی منزل حاصل کرنے تک اپنے اس سلسلے کو جاری رکھے گے اور اس کے لیے تمام مہاجر اور ایم کیو ایم تیار ہیں اور اپنی منزل کی جانب رواں دواں ہیں جس منزل کو حاصل کرنے کیلیے لاکھوں لوگوں نے اپنے بچے، ماں باپ، بہن بھائ ، عزیز رشتہ داروں اور اپنی تمام عمر کی قربانی دی ہے اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے جو اپنی منزل تک پہنچ کر ہی دم لے گا .

PAKISTAN PROTECTION ORDINANCE 2014 is a "BLACK LAW"

 

تحفظ پاکستان آرڈیننس ایک کالا قانون ہے

 

‎‎

 پاکستان پروٹیکشن آرڈیننس 2014 کی شکل میں پھر سے قانون نافذ کرنے والے اداروں میں موجود متعصب اہلکاروں کی چاندی اور عید سے پہلے عید کروانے کی تیاری کیں جارہی ہیں ویسے بھی کراچی میں جب سے آپریشن جاری ہے تب سے کتنے ہی بے گناہ معصوم شہری لاپتہ ہیں اور پھر سپریم کورٹ میں دائر لاپتہ افراد کا کیس چل بھی رہا تھا کہ اچانک وفاقی حکومت نے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے مترادف تحفظ پاکستان آرڈیننس بل کو قومی اسمبلی میں پیش کردیا اور اپنی ہی اکثریت سے اس تحفظ کے نام پر کالے قانون کے بل تحفط پاکستان آرڈیننس بل 2014 کو منظور کرالیا جس کی مخالفت تمام اپوزیشن جماعتوں نے کی مگر اس کے باوجود حکومت نے اسے منظور کرلیا سمجھ نہیں آتا کہ پاکستان میں ایسے نازک حالات میں ایسا  کالا قانون عوام پر مسلط کردینا کہاں کی حماقت ہے مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکہ کے دہشتگردی کے خلاف بناےگئے 2002 کے اس قانون سے بھی زیادہ خطرناک یہ  پاکستان ٹروٹیکشن آرڈینینس بل 2014  ہے  جو نواز شریف کی حکومت نے اپنی سادہ اکثریت سے   قومی اسمبلی سے پاس کروایاہے .پاکستان پروٹیکشن آرڈیننس  2014 ایسا کالا قانون جس میں متعصب اہلکاروں کو بااختیار اور عام عوام کو بے اختیار کیا جارہا ہے جس کی تمام شقیں عین انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے ویسے ہی حالیہ کراچی آپریشن میں  قانون نافذ کرنے والے ادارے آپریشن کے آڑ میں عام شہریوں کو کئ کئ دن کے لئے حراست میں لے رہے اور انکو چھوڑنے کے لئے رشوت بٹور رہے ہیں اور رشوت نہ ملنے پر تشدد کا نشانہ بناتے ہیں یہاں پہلے ہی عام انسان کے ساتھ ناروا سلوک کیا جارہا ہے اور ان حالات میں اس طرح کا کالا قانون عام انسان سے جینے کا حق چھیننے اور انکے حقوق غضب کرنے کے مترادف ہے .پاکستان  پروٹیکشن آرڈیننس 2014 ایک غیر آیئنی اقدام ہےاس قانون کے نفاز کے بعد کوی اپنے حق کے لیے لڑنا تو دور کوئ حق کے لئے اپنی آواز بھی بلند نہیں  کرسکے گا یہ آزادی اظہار کی خلاف ورزی اور آئین پاکستان کی خلاف ورزی اور اسکے بالکل متصادم ہے  جس میں لکھا ہے  قانون نافذ کرنے والے کسی کو بھی شک کی بنیاد پر 90 دن تک رکھ سکتے ہیں تحویل کے دوران اگر کوئ بے  گناہ شہری ہلاک ہوجاے تو وہ سیکیورٹی اہلکار  کسی  کو جوابدہ نہیں ہونگے اور نہ  ہی کوئی انکی تحویل کے دوران قانونی کاروائی کرسکتا  ہے  ، قانون نافذ کرنے والے ادارے کسی کے بھی گھر  پر  شک کی بنیاد پر چھاپا مار سکتے ہیں  .

INNOCENT ARMY

جو لوگ خواجہ آصف کی تقریر کو زندگی اور موت کا مسئلہ بنائے ہوئے ہیں کیا وہ یہ جانتے ھیں کے یہ تقریر 2006 کی ھے!

Why u forgot CIVIL and Administrative Martial laws of Gen ZIA UL HAQ and ZULFIQAR ALI BHUTTO?

جنرل ضیاء الحق اور زولفقار علی بھٹو کےسول مارشل لا بھی غداری تھی یا صرف مشرف کا مارشل لا غداری تھی؟

 ماضی کے ادوار کے دو سوال جو شائد موجودہ حکمران اور نئ نسل کے ٹیوٹر رہنما اپنے اجداد کے کیے کارنامے بھول گئے ہیں انکی یاداشت کے لئے اور  اختر بہوپالی کے قالم سے دو سوالوں کو مزید بہتر انداز میں کرنے کے لیے عرض ہے کہ بتایے کہ

Hyderabad Deprived Of The University Till Yet

 

 

 

حیدرآباد اب تک یونیورسٹی سے محروم  

 

حیدرآباد سندھ کا دوسرا بڑا شہر ہے اور پاکستان کا ساتواں بڑا شہر ہے  .اس لحاظ سے دیکھا جاۓ تو اس کا تعلیمی معیار بھی ایسا ہونا چاہیئے مگر افسوس سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد کے طلبہ اب تک یونیورسٹی سے محروم ہیں اور انکے مستقبل کو بھی سیاست کی نظر کردیا یہ ہمارے لیے المیہ ہی ہے جو آج نااہل حکمران ہمارے حاکم بنے ہوۓ ہیں.سندھ کے دوسرے بڑے شہر  حیدرآباد سے سندھ حکومت کو کیا نفرت ہے کہ سندھ حکومت حیدرآباد کے طلبہ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا حق کیوں نہیں دے رہی؟ آ خر کیا وجہ ہے جس کی وجہ سے سندھ حکومت اورپیپلز پارٹی حیدرآباد کے طلبہ سے زیادتی کررہے ہیں؟ ٹنڈوجام،خیرپور ،میرپورخاص،سکھر،لاڑکانہ اور دیگر چھوٹے شہروں کے لیے تو سندھ حکومت اور پیپلزپارٹی یونیورسٹی بنواسکتی ہے مگر حیدرآباد کے طلبہ کے لیے نہیں بنوا سکتے …آ خر کیوں؟ حیدرآباد کے طلبہ  نے ان حکمران کا کیا بگاڑا ہے ؟ یا پھر میں اسے سیاسی تعصب سمجھوں؟ کیوں کی حیدرآباد ایک باشعور لوگوں کا شہر ہے اور پیپلز پارٹی کو ووٹ نہیں دیتا اسی لیے سندھ حکومت حیدرآباد کو اعلیٰ تعلیم کا حق نہیں  دینا چاہتی …سندھ حکومت اس تفریق کوکردے اس طرح سے حیدرآباد کے زہین طلبہ میں شدید غصہ پایا جاتا ہے کیونکہ حیدرآباد  اردو بولنے والے مہاجروں کی آبادی کا شہر ہے اور ہمیشہ سے مہاجروں کے ساتھ سندھ حکومت اور پیپلزپارٹی نے تعصب کیا ہے اور اب تک یہ سلسلہ جاری ہے