Tags » Naveen Naqvi

”محبت“

اچانک سے کچھ موتی پلکوں کی جھالر سے بہتے ہوئے گالوں پر اپنا لمس چھوڑنے لگے تو ایک لفظ سسکیاں لیتا ہوا لبوں سے باہر آنکلا۔۔۔”محبت“ ! محبت اتنی آسانی سے نہیں ملتی۔۔ اسے پانے کے لئے در در بھٹکنا پڑتا ہے، دھتکار سننی پڑتی ہے۔۔۔ لیکن محبت جو ہے ناں ہر کسی کی قسمت میں تارے کی مانند ٹوٹ کر نہیں بکھرتی۔۔۔ محبت تو اپنا راستہ خود بناتی ہے۔۔۔ اسے کسی کی آہ سے کسی کے آنسووں سے مطلب نہیں ہوتا بلکہ اسے تو محبت سے غرض ہوتی ہے۔۔۔۔ محبت تو پیروں فقیروں کو نہ ملی۔۔۔وہ بھی بلکھتے تڑپتے اپنی آخری منزل تک جا پہنچے۔۔۔تو میری تو اوقات ہی کیا ہے۔۔۔ میں نے محبت سنی ہے۔۔۔ محبت دیکھی ہے لیکن کبھی محسوس نہیں کی۔۔۔۔ لیکن اسے پانے کی تڑپ اسقدر غالب ہے دل دماغ پر اسقدر حاوی ہے کہ کچھ سوجھتا ہی نہیں۔۔۔۔ دیکھو تو وہ دور کھڑی بس ہنس رہی ہے میری بے بسی پر۔۔۔ یا شاید وہ میرے قریب آتی ہو مجھے چھوتی ہو اور پھر مر جاتی ہو۔۔۔ایسا بھی تو ممکن ہے۔۔۔ اس دنیا میں محبت اور نفرت ایک ساتھ تو نہیں رہ سکتے ناں تو بس میرے نصیب کی محبت پر نفرت غالب آگئی ہوگی۔۔۔لیکن ایک بات ہے کہ محبت کی چاہ میں نکلے یہ موتی بہت تکلیف دیتے ہیں۔۔۔!

آرزو