Tags » Nobel Prize

Vicuña, an often unnamed gem in the desert.

To say that Vicuña is a quaint little town in the Atacama desert is to scratch the surface of the place that Gabriela Mistral – Noble prize for Literature in 1945 – called home and where she wrote so much of her poetry. 382 more words

Travel

ڈاکٹر عبد السلام! میں آپ سے معافی کا طلبگار ہوں

 آج کا دن یعنی 21 نومبر، بیسویں صدی کے ایک عظیم طبیعات دان اور پاکستان کے پہلے نوبل انعام یافتہ سائنسدان ڈاکٹرعبدالسلام کا یوم وفات ہے جو ہر برس کی طرح یوں خاموشی سے گزر جائے گا جیسے کہ سلام کا وجود اس معاشرے کے لئے کوئی وقعت ہی نہیں رکھتا۔

سلام کی کامیابیوں اور ایوارڈز کی طویل فہرست دیکھ کر حیرانی ہوتی ہے کہ پنجاب کے نسبتَاَ چھوٹے اور قدرے پسماندہ علاقے میں پیدا ہونے والے بظاہر ایک عام سے شخص میں اس قدر صلاحیتیں ہوسکتی ہیں۔ مگر ہیر اور رانجھا کے مدفن اور صوفی درویش سلطان باہو کی سرزمین جھنگ کی زرخیزی میں بھلا کیا شبہ ہوسکتا ہے، جس نے پاکستان کو پہلا نوبل انعام یافتہ سائنسدان دیا۔ یہ الگ بات کہ اس دھرتی کی مٹی اپنے اندر تعصب اور تنگ نظری کا سیم و تھور بھی رکھتی ہے۔

چودہ برس کی عمر میں میٹرک کے امتحان میں پچھلے تمام ریکارڈ توڑ کر اول آنے والے اور محض اٹھارہ برس کی عمر میں اپنا پہلا تحقیقی پرچہ شائع کرنے والے عبدالسلام جانتے تھے کہ کسی بھی ملک کے آگے بڑھنے کا درست راستہ کیا ہے۔ آپ تیسری دنیا کے ممالک، بالخصوص پاکستان کی سماجی و معاشی ترقی کے لیے ایک نظریہ رکھتے تھے اور آپ کے نزدیک ایسا سائنس کی ترویج کے ذریعے ممکن ہے۔ آپ نے اس کی تکمیل کے لئے عمر بھر جدوجہد کی۔ مثال کے طور پر آپ نے حکومت پاکستان کے مشیر برائے سائنس کی حیثیت سے کام کیا اور ملک میں سائنس کے انفرا سٹرکچر کی بنیاد رکھی۔ پاکستان کے ایٹمی اور خلائی پروگرام کی بنیاد کا سہرا آپ کے سر جاتا ہے۔ آپ نے سپارکو کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں نبھائیں، پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے قیام کے لئے کوششیں کیں اور پاکستان ادارہ برائے جوہری سائنس اور ٹیکنالوجی کے لئے بھی اپنی خدمات سر انجام دیں۔ آپ ایٹم برائے امن کے خواہاں تھے اور آپ کی کاوشوں کے بغیر پاکستان مسلم امہ کا پہلا ایٹمی ملک نہیں بن سکتا تھا۔

یہ سب آپ کی خدمات کی طویل فہرست میں سے محض چند کا ذکر ہے۔ ڈاکٹر عبدالسلام کا سب سے بڑا خواب پاکستان میں عالمی ادارہ برائے تحقیق کا قیام تھا جس سے پاکستان کے طلباء کے لئے علم و تحقیق کے دروازے کھل جاتے۔ افسوس کہ پاکستان کی حکومتوں اور مقتدرہ حلقوں نے اس میں کوئی دلچسپی نہیں لی اور بالآخر ڈاکٹر عبدالسلام کو عالمی ادارہ برائے نظری طبیعات اٹلی کے شہر ٹریسٹی میں بنانا پڑا،جس کا نام بعد میں عبدالسلام سینٹر برائے نظری طبیعات رکھ دیا گیا۔

یہ جولائی 2012ء کی بات ہے جب سائنس کی دنیا میں ہگز بوزوسن نامی ذرہ کی دریافت ہوئی۔ یہ ایک عظیم ترین پیش رفت تھی اور اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اس ذرہ کو گاڈ پارٹیکل کا نام دیا گیا۔ اس ذرے کی تحقیق اور نظریاتی فریم ورک کی تشکیل میں ڈاکٹر عبدالسلام کا کام بنیادی نوعیت کا ہے۔ لہٰذا اس ذرہ کی دریافت کے بعد سائنس کی دنیا میں عبدالسلام کو شد و مد کے ساتھ خراج تحسین پیش کیا گیا۔

اس حقیقت سے کون آگاہ نہیں کہ انہیں ان کے اپنے وطن میں کس بے دردی سے رد کیا گیا، یہی وجہ تھی کہ دنیا کے مشہور خبر رساں ادارے سی این این نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ عبدالسلام سائنس کی دنیا کا ایک وژنری تھا مگر ان کو اپنے ملک میں نظر انداز کیا گیا اور بھلا دیا گیا، یہاں تک کہ نصاب میں سے ان کا ذکر بھی ہٹا دیا گیا۔

یہ بحیثیت قوم ہمارے لئے کیسی شرمندگی کی بات ہے کہ جب پاکستان کا نام اس قدر تکریم سے آیا کہ ایک پاکستانی نے اس عظیم دریافت کے لئے بنیاد فراہم کی ہے، وہیں ہماری بے قدری کا تذکرہ بھی ناگزیر ٹھہرا۔ عبدالسلام نے عمر بھر اس وطن کے لئے اپنی خدمات سر انجام دیں اور ان کی وفات کے بعد بھی ان کا کام پاکستان کی عزت کا باعث بنتا رہا مگر ہمارے علم دشمن رویے نے ان کی بے توقیری کی۔

مہذب دنیا اپنے ہیروز کی پرستش کرتی ہے مگر ہم نے انہیں ٹھکرانا بہتر سمجھا۔ کیا اس قومی جرم کی پردہ پوشی کے لئے کوئی بھی توجیہہ کام آسکتی ہے؟مجھے تاریخ کا وہ منظر یاد آتا ہے جب منگولوں نے بغداد پر یلغارکی تو علم کے پیش بہا خزانے ’’بیت الحکمہ‘‘ کو مسمار کردیا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ کیسے ابن تیمیہ کی کتب جلا دینے اور کاغذ اور قلم چھین لینے کے بعد انہیں قید میں پھینک دیا گیا۔ کون نہیں جانتا کہ ابن رشد کو کیسے جلا وطن کیا گیا اور ان کی کتب قرطبہ چوک میں نذر آتش کی گئیں۔مگر یہ تو صدیوں پرانی باتیں ہیں، کیا آج کی دنیا میں بھی ایسی علم دشمنی کی کوئی گنجائش باقی ہے؟

کیمبرج سے پی ایچ ڈی کرنے کے بعد جب سلام پاکستان واپس آئے اور گورنمنٹ کالج لاہور میں ملازمت اختیار کی تو انہیں ان کے حق سے محروم رکھتے ہوئے سرکاری رہائش گاہ نہیں دی گئی۔ سلام نے جب وزیر تعلیم عبدالحکیم دستی سے رابطہ کیا تو انہیں یہ کہہ کر ٹال دیا گیا کہ اگر انہیں یہ ملازمت پسند نہیں تو وہ اسے ترک کر کے کہیں اور چلے جائیں۔ سلام نے حالات سے سمجھوتہ کرنے میں عافیت جانی۔ بعد میں سلام کو کالج کے پرنسپل نے ہاسٹل کے سپرانٹنڈنٹ یا کالج کی فٹ بال ٹیم کے انچارج کے طور پر کام کرنے کی دعوت دی۔ مگر یہ سب تو ابتداء تھی۔

اس سب کے باوجود سلام نے ہمت نہ ہاری اور بالآخر ان کی محنت اور صبر رنگ لائے اور آپ کو طبیعات میں نوبل انعام کا اہل قرار دیا گیا۔

ڈاکٹر عبدالسلام نے دسمبر 1979ء میں جب سویڈن کے بادشاہ سے نوبل انعام وصول کیا تو آپ سفید پگڑی، سیاہ اچکن، سفید شلوار اور کھسوں میں ملبوس تھے۔ آپ نے اپنی تقریر میں قرآن پاک کی آیات کا بھی حوالہ دیا۔ کیا پاکستان کی اس سے بہتر نمائندگی ممکن تھی؟

پاکستان کو اپنی تاریخ کا پہلا نوبل انعام دلانے والے ڈاکٹر عبدالسلام جب اپنے وطن واپس آئے تو ائیر پورٹ پر ان کا استقبال کرنے کے لئے کوئی بھی موجود نہ تھا۔ اگر ان کی جگہ کوئی شو بز کا فنکار، کوئی کھلاڑی یا کوئی سیاستدان ہوتا تو شائد وہاں لاکھوں کا مجمع لگ گیا ہوتا جو آنے والے کا گل پاشی سے استقبال کر رہا ہوتا۔ ڈاکٹر عبدالسلام افسردہ قدموں سے تنہا ہی وہاں سے چل دئیے۔

اسلامی جمیعت طلبہ کی جانب سے تشدد کی دھمکیوں کے سبب ڈاکٹر عبدالسلام قائد اعظم یونی ورسٹی، اسلام آباد میں اپنا لیکچر دینے بھی نہ جا سکے۔ یہ کوئی واحد واقعہ نہیں تھا بلکہ پاکستان کی دیگر یونی ورسٹیاں بھی ایسے ہی ہنگاموں کے خوف سے انہیں مدعو کرنے سے کتراتی رہیں۔ ان کی ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کے لئے کچھ صحافیوں نے طرح طرح کے افسانے تراش کر انہیں غدار، ملک دشمن ایجنٹ اور وطن فروش سائنسدان قرار دینے کی مہم چلائی اور یہ تشہیر کی کہ آپ نے پاکستان کے جوہری راز بھارت کو فروخت کئے ہیں۔

 ڈاکٹر عبدالسلام کے ذاتی صدمے اسی پر ختم نہیں ہوئے بلکہ انہیں سرکاری سطح پر بھی پریشان کیا گیا۔

یہ 1988ء کی بات ہے جب ڈاکٹر عبدالسلام کو اس وقت کی وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو نے ملاقات کے لئے بلایا۔ آپ دو دن تک اپنے ہوٹل کے کمرے میں انتظار کرتے رہے مگر آخر میں انہیں فون کر کے اطلاع دی گئی کہ وزیر اعظم کے پاس ملاقات کے لئے فرصت نہیں۔

90 کی دہائی میں اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف نے گورنمنٹ کالج لاہور کی ایک تقریب میں سابقہ قابل فخر طلباء کا تذکرہ کرتے ہوئے بہت آسانی سے عبدالسلام کو نظر انداز کر دیا۔

افسوس کہ انہیں ان کی وفات کے بعد بھی نہیں بخشا گیا۔

ایک مقامی مجسٹریٹ کے حکم پر ان کی قبر کے کتبے سے ’مسلم‘ کا لفظ کھرچ ڈالا گیا۔ یہ عمل ڈاکٹر عبدالسلام کے ساتھ ان کی زندگی میں روا رکھے جانے والے سلوک کی تشریح کر دیتا ہے۔ انہیں ان کے عقیدے کی سزا دی گئی۔ ہر شخص کو اپنے عقیدے پر عمل کا بنیادی حق ہے مگر ہم نے منفی رد عمل کی نفسیات پر عمل کرتے ہوئے نہ صرف اپنے ہیرو کی عمر بھر تذلیل کی بلکہ اس عمل میں اپنے پاؤں پر بھی کلہاڑی ماری۔ اگر ہم آئن سٹائن یا سٹیفن ہاکنگ کو آئیڈیل قرار دے سکتے ہیں تو سلام کو کیوں نہیں؟ مگر شاید ہم حسد کی ماری ہوئی قوم ہیں جسے اپنے کسی ہیرو کی قدر کرنا نہیں آتی۔ یہی وجہ ہے کہ دوسری نوبل انعام یافتہ ملالہ کو بھی اس کے ہم وطنوں نے طنز اور تضحیک کا نشانہ بنایا۔

اگرچہ ڈاکٹر عبدالسلام کو ان کے اپنے ملک نے دھتکارا مگر دنیا بھر میں ان کا احترام کیا گیا۔ بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے جب انہیں بھارت آنے کی دعوت دی تو نہ صرف انہیں اپنے ہاتھوں سے چائے پیش کی بلکہ ان کے قدموں میں بھی بیٹھیں۔

جینیوا، سوئٹزر لینڈ میں ڈاکٹر عبدالسلام کے نام سے ایک سڑک منسوب کی گئی۔

بیجنگ میں چائنا کے صدر اور وزیر اعظم نے آپ کے اعزاز میں عشائیہ دیا اور جنوبی کوریا کے صدر نے ڈاکٹر عبدالسلام سے درخواست کی کہ وہ کورین سائنسدانوں سے ملاقات کے لئے وقت نکالیں اور انہیں بھی نوبل انعام جیتنے کی تحریک دیں۔

اس کے علاوہ دنیا بھر میں ڈاکٹر عبدالسلام کو درجنوں اعزازی ڈگریوں اور ڈاکٹریٹ سے نوازاگیا۔

میں سوچتا ہوں اگر ہم نے ڈاکٹر عبدالسلام کو قبول کر لیا ہوتا تو شاید ہم آج علم کے میدان میں کافی آگے ہوتے اور سائنسی ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہوتے۔

افسوس ایسا نہیں ہو سکا۔ہم نے انہیں صدموں پر صدمے دئیے اور بالآخر فولادی اعصاب کا مالک سلام ہمت ہار گیا۔ وہ بولنے، چلنے سے محروم ہو کر وہیل چیئر کا محتاج ہو گیا اور ایک روز جلا وطنی کی زندگی میں چل بسا۔

شاید یہ بھی ’ہمت‘ کی بات تھی کہ ان کا تابوت وطن واپس لانے کی حکومتی ’اجازت‘ مل سکی، یہ اور بات کہ ان کی تدفین سرکاری اعزاز کے بغیر ہوئی۔ یہ بھی ’غنیمت‘ ہے کہ 1988ء میں پاکستانی سائنسدانوں کی سیریز میں عبدالسلام کے نام کا ایک ڈاک ٹکٹ جاری ہوا۔ ہمیں امتناع قادیانیت آرڈیننس کے تحت اذان اور کلمہ پڑھنے پر قید کی سزا دینے والے آمر ضیاء الحق کا بھی شکر ادا کرنا چاہئے کہ اس نے انہیں نشان امتیاز دینے کی زحمت کی۔

یہ سلام کی زندگی کے آخری ایام کی بات ہے۔ ٹریسٹی میں ہونے والی ایک تقریب میں انہیں یونی ورسٹی آف پیٹرزبرگ کی جانب سے پی ایچ ڈی کی اعزازی ڈگری دی گئی۔ کانفرنس ہال کچھا کچھ بھرا ہوا تھا۔ درجنوں افراد قطار بنائے سلام کو مبارک دینے کا انتظار کر رہے تھے۔ وقت چیونٹی کی رفتار سے رینگتا رہا۔ پھر ایک پاکستانی طالب علم کی باری آئی۔ اس نے احتراماََ جھکتے ہوئے کہا، ’’سر، میں پاکستانی سٹوڈنٹ ہوں۔ ہمیں آپ پر فخر ہے۔۔‘‘۔

سلام اپنے اعصابی عارضے کے سبب ایک بے جان وجود کی طرح اپنی وھیل چئیر پر بے حس و حرکت اور خاموش بیٹھے تھے۔ اپنے وطن پاکستان کا نام سنتے ہی ان کے کندھوں میں کچھ حرکت کے آثار دکھائی دئیے اور ان کے رخسار پر آنسوؤں کی ایک لکیر سے جھل مل ہونے لگی۔

سلام مزید جی سکتے تھے مگر افسوس کہ توڑ کر رکھ دینے والے ذاتی صدمات نے انہیں مار ڈالا۔ سلام اب کبھی واپس نہیں آئے گا مگر کیا ہم وقت کھو چکے ہیں؟ شاید ابھی بھی دیر نہیں ہوئی۔ اگر پوپ جان پال دوئم کیتھولک چرچ کی جانب سے سترہویں صدی عیسوی میں گلیلیو کے ساتھ علم دشمن سلوک کرنے پر معافی کے خواستگار ہو سکتے ہیں تو کیا ہم بھی ایسا نہیں کر سکتے۔

یاد رہے کہ جب تک اپنی غلطی کا اعتراف نہ کرلیا جائے، اصلاح کی گنجائش ممکن نہیں۔ ہم نے ریاستی امور میں مذہب کی ملاوٹ تو کی ہی، ہم نے سائنس اور علم کی دنیا کو بھی تعصب کے عدسے سے دیکھا۔

سلام! ہم نے آپ کی قدر نہ کی۔ ہم نے آپ کے ساتھ برا سلوک روا رکھا اور نفرت کی آگ میں جلتے رہے۔ یہ ایک بہت بڑا جرم ہے مگر میں ایک پاکستانی کی حیثیت سے آپ سے اس روئیے کی معافی چاہتا ہوں۔

(تحریر: سبز خزاں/ نیر آفاق)

 اسی تحریر کا انگریزی ورژن پڑھنے کے لئے یہاں کلک کیجئے۔ شکریہ۔

ملائیت

Shuji Nakamura: What I'm Thankful For

I am thankful to Nichia Chemical Corporation and its founder Nobu Ogawa, who gave me the research opportunity to create a blue LED. I want to thank the Chancellor of UC Santa Barbara, Henry Yang; the Dean of the College of Engineering, Rod Alferness; and all of my colleagues at the University of California, Santa Barbara for their steadfast support for my research since I came to Santa Barbara in 1999. 217 more words

The heart in conflict.

“… the young man or woman writing today has forgotten the problems of the human heart in conflict with itself, which alone can make good writing, because only that is worth writing about, worth the agony and the sweat.” 9 more words

Fiction