Tags » Others

It Has To Start Somewhere

I wanted something new to do. It was only a couple months in since I left Manila for better career opportunities here in Singapore before I got bored. 280 more words

Black And White

I am...Not Self-Centered

I am…Not Self-Centered

“Do nothing from selfishness or empty conceit, but with humility of mind regard one another as more important than yourselves;  do not merely look out for your own personal interests, but also for the interests of others.” Philippians 2:3-4 NASB…

243 more words
All Posts

DAAI KE AUSAAF

داعی کے اوصاف
……………………………
ایک مبلغ کے لیے عام لوگوں کی نسبت زیادہ ضروری ہے کہ وہ اسلامی اوصاف ، دینی ، اخلاقی آداب سے متصف ہو کیونکہ داعی اور مبلغ کا باعمل ہونا دعوت و تبلیغ کے لیے موثر ہونے میں فیصلہ کن کردار کی حیثیت رکھتا ہے ۔
درج ذیل سطور میں بعض اوصاف کا تذکرہ کیا جا رہا ہے ۔

1 ۔ اخلاص:
اخلاص دین اسلام کی اساس و بنیاد ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اخلاص کا پابند بنایا ہے کوئی عمل خواہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو اس کو ادا کرنے والا کس قدر قربانی کیوں نہ پیش کرے اگر اس میں اخلاص نہ ہو تو وہ مردود ہوتا ہے ۔ اس حدیث نبوی کا مطالعہ فرمائیں جس میں ان تین بدنصیب اشخاص کا تذکرہ کیا گیا ہے جن کے ساتھ آتش جہنم کو بھڑکایا جائے گا ( العیاذ باللہ ) وہ قاری قرآن ، سخی اور مجاہد ہوں گے جنہوں نے اپنی جان و مال اور وقت کی قربانی پیش کی ہو گی جو انسان کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتا ہے لیکن ان تینوں کی نیکیاں عدم اخلاص کی وجہ سے قبول نہ ہوں گی ۔

2 ۔ شرعی علم:
اخلاص اور علم شرعی ایک مبلغ اور داعی کا اصل سرمایہ ہوتا ہے جس کی نشاندہی اللہ تعالیٰ نے اس طرح سے فرمائی ہے:
قل ھذہ سبیلی ادعو الی اللہ علی بصیرۃ ( یوسف: 108 )
” کہہ دیجئے یہ میرا راستہ ہے میں اللہ کی طرف بصیرت کے ساتھ دعوت دیتا ہوں ۔ “
یعنی امور دنیا یا خواہشات نفس کی طرف نہیں ۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتا ہوں اور بصیرت کے ساتھ دعوت حق پیش کرتا ہوں اور بصیرت شرعی علم کا نام ہے جو کتاب و سنت اور طریقہ سلف صالحین رحمہم اللہ تعالیٰ پر مبنی ہے ۔ پس دعوت حق علم سے عاری مجرد جوش و جذبہ کا نام نہیں بلکہ ایک مبلغ کے لیے از حد ضروری ہے کہ وہ دینی علوم سے بہرہ ور ہو ، صحیح عقیدہ ، سنت مطہرہ ، سیرت نبوی ، تاریخ اسلام اور دیگر دینی علوم و فنون کی معلومات رکھتا ہو اس کا وعظ و تقریر کتاب و سنت کے دلائل سے مزین ہو ۔
فرمان ربانی ہے:
فذکر بالقرآن من یخاف وعید ( ق: 45 )
” قرآن کے ساتھ نصیحت کرو جو میری وعید سے ڈرتا ہے ۔ “

3 ۔ تقویٰ:
تقویٰ کی خوبی ایک مبلغ کا نفع مند زاد راہ اور میدان تبلیغ کی تمام مشکلات کا کامیاب علاج ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وتزودوا فان خیر الزاد التقویٰ ( البقرۃ: 197 )
” اور زاد راہ پکڑو بلاشبہ بہترین زاد راہ تقویٰ ہے ۔ “

(4)تبلیغ کا معاوضہ طلب نہ کرنا:
یہ تمام انبیاءکرام ورسل علیہ السلام کا طرہ امتیاز تھا جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
ویاقوم لا اسالکم علیہ مالا ان اجری الا علی اللّٰہ ( ھود:29 )
” اے میری قوم میں تم سے اس ( تبلیغ ) پر مال نہیں مانگتا میرا اجر نہیں مگر اللہ پر ۔ “
جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:
ازھد فی الدنیا یحبک اللہ وازھد فیما فی ایدی الناس یحبوک ( ابوداود )
” دنیا سے بے نیازی کرو تو اللہ تمہارے ساتھ محبت کرے گا اور لوگوں کی چیزوں سے بے نیاز ہو جاؤ تو لوگ تمہارے ساتھ محبت کریں گے ۔ “
داعی حق کے لیے لازمی ہے کہ وہ آخرت کی کامیابی کو دنیا پر ترجیح دے اور لوگوں کی چیزوں سے امیدیں وابستہ نہ کرے ۔

(5)نرم اسلوب اختیار کرے:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:
(( ان اللّٰہ یحب الرفق فی الامر کلہ )) ( صحیح البخاری )
” بے شک اللہ تعالیٰ ہر معاملے میں نرمی کو پسند کرتا ہے ۔ “
اسی طرح فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
(( ان الرفق لا یکون فی شی الا زانہ ولا ینزع من شی الا شانہ )) ( مسلم )
” جس معاملے میں نرمی ہو وہ اسے مزین کر دیتی ہے اور اگر نرمی نکل جائے تو اسے بدنما کر دیتی ہے ۔ “

(6)مجمع شناسی:
مبلغ کے لیے لازمی ہے کہ وہ مجمع شناس ہو ، سامعین کی علمی اور ذہنی استعداد کے مطابق گفتگو کرے جناب علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ:
(( حدثوا الناس بما یعرفون اتحبون ان یکذب اللہ ورسولہ )) ( بخاری )
” لوگوں کی معرفت کے مطابق ان سے گفتگو کرو ( وگرنہ ) کیا تم چاہتے ہو کہ اللہ اور اس کے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کی جائے ۔ “
جناب عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
(( ما انت بمحدث قوما حدیثا لا تبلغہ عقولھم الا کان لبعضھم فتنۃ )) ( مسلم )
” اگر تم کسی قوم کی ذہنی استعداد سے بالا گفتگو کرو تو ان میں سے بعض فتنے میں مبتلا ہو جائیں گے ۔ “

(7)مسلسل محاسبہ نفس:
مبلغ کا مسلسل محاسبہ نفس کرنا اور میدان دعوت میں اپنے وسائل و ذرائع اور نتائج و ثمرات پر بار بار نظرثانی کامیابی کی ضمانت ہے ۔ مبلغ کو اپنے نقائص و عیوب پر نظر رکھنی چاہیے اور ان کو دور کرنے کے لیے جستجو کرتے رہنا چاہیے ۔
ارشاد ربانی ہے:
یا یھا الذین آمنوا اتقوا اللّٰہ ولتنظر نفس ما قدمت لغد واتقوا اللّٰہ ان اللّٰہ خبیر بما تعملون ( الحشر:18 )
” اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو اللہ سے ڈرو اور ہر نفس دیکھے کہ اس نے کل ( آئندہ ) کے لیے کیا بھیجا ہے اللہ سے ڈرتے رہو اور یقینا اللہ تعالیٰ باخبر ہے جو تم عمل کرتے ہو ۔ “

(8)تنظیم اوقات کار:
ہم اپنے مال و دولت کے متعلق جس قدر حریص ہیں اس سے بڑھ کر سلف صالحین رحمہم اللہ تعالیٰ اپنے اوقات زندگی کی حفاظت کرتے تھے کیونکہ لمحات زندگی ایسی دولت ہے جو جانے کے بعد لوٹا نہیں کرتے اور ہم سب وقت کی اہمیت کو جانتے ہیں لیکن پھر بھی ہماری حالت تعجب خیز ہے کہ اوقات کار کی تنظیم و ترتیب کے بجائے فضول اور بے مقصد کاموں میں قیمتی لمحات زندگی ضائع اور برباد کر دیتے ہیں ۔

(9)تالیف قلبی:
مبلغ کا فرض ہے کہ وہ عوام کی تالیف قلبی کے لیے ہاتھ کھلا رکھے اور اپنے اثر و رسوخ کے ساتھ ان کے مسائل اور معاملات کو حل کرنے کی کوشش کرتا رہے کیونکہ اس طرز عمل کا لوگوں پر بہت بڑا اچھا اثر پڑتا ہے ویسے بھی کرم نوازی ایمان کی ایک شاخ ہے ۔ اللہ تعالیٰ کریم کرم کو پسند کرتا ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ ہمارے لیے مشعل راہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس قدر غرباءاور نادار افراد اور نو مسلموں کے ساتھ خلق عظیم کا برتاؤ فرماتے تھے ۔

(10)لوگوں سے میل جول:
لوگوں سے میل جول رکھنا اور خود ان کے پاس چل کر جانا اور انہیں دعوت اسلام دینا خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم موسم حج میں بالخصوص اور عام دنوں میں بھی مکہ مکرمہ میں آنے والے عرب وفود سے ملاقاتیں کرتے اور ان کے سامنے دعوت اسلام پیش کرتے تھے کیونکہ دینی دعوت کی مثال باران رحمت جیسی ہے جو ہر جگہ دوست اور دشمن پر برستی ہے ۔

(11)پروٹوکول کی دیواریں:
پروٹوکول کی دیواریں کھڑی کرنا اور عوام کی دسترس سے باہر ہو جانا ان کے لیے ملاقات کا طریقہ مشکل بنا دینا ایک داعی حق کے لیے مناسب نہ ہوگا کیونکہ لوگوں کا جسمانی غذا سے زیادہ روحانی غذا کے حصول کے لیے مبلغ دین کو اہم معاملے کا ادراک کرتے ہوئے اپنے آپ کو عوام کے لیے نرم خو اور ان کے قریب تر کرنا چاہیے ۔ جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ کس قدر عظیم ہے کہ بسا اوقات کوئی لونڈی حاضر خدمت ہوتی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک پکڑ کر اپنے کام کاج کے لیے لے جاتی ۔

(11)بلند ہمت ہونا:
ایک داعی کے شایان شان ہے کہ وہ بلند ہمت ، متحرک اور سخی ہو اور اپنے آپ کو امت کی خیر خواہی کا ذمہ دار سمجھے ۔ اعلیٰ اہداف کے حصول کے لیے مسلسل جدوجہد جاری رکھے اس ضمن میں حد درجہ حریص ہونا ایک داعی حق کا طرہ امتیاز ہوتا ہے کیونکہ مومن خیر اور بھلائی سے کبھی بھی سیر نہیں ہوتا ۔ رحمن کے پاک باز بندوں کی شان قرآن میں یوں بیان کی گئی ہے:
والذین یقولون ربنا ھب لنا من ازواجنا وذریاتنا قرۃ اعین واجعلنا للمتقین اماما ( الفرقان:74 )

اللہ تعالیٰ ہمیں ان تمام باتوں پر عمل کرنے کی توفیق اور اخلاص کی دولت سے مالا مال فرمائے ۔ آمین

Others

14.08.23 Mahakarya RCTI (19p)

Credit : perMINent.net
Photo by: KMU
Re-uploaded by : KaNGaRooBaby910
DO NOT HOTLINK
TAKE OUT WITH FULL CREDIT

Super Junior M

Fashion Project: Avant-Garde

140902

Yeah~ for my first post!

~

Do you know, Lady Gaga? How about, Katy Perry?
 You might see their extravagant clothing that made us in awe.   257 more words

Art