Tags » Pakistan

PTI and PAT crisis with PML-N

PTI AND PAT LONG MARCHES AGAINST NAWAZ SHARIF

PTI and PAT (Pakistan Tehreek-e-Insaaf and Pakistan Awami Tehreek) hold sit-ins against PM Nawaz Sharif. Both Imran Khan and Tahir ul Qadri are demanding resignation from Nawaz Sharif, although Imran and Tahir both have different intentions. 353 more words

News

There is no PTI or PMLN, there is just Pakistan.

Imran Khan’s protest began against alleged rigging in general elections, transformed into a march and sit in against the Prime Minister, and apparently has blossomed into one of the firmest stances against status quo in the history of Pakistan. 709 more words

Blogs

You show me a revolutionist, and I’ll show you the stubborn Sharif

Once upon a land of utopians lived ideologies of thinkers and swayed lullabies of philosophers. Life was an ardent happiness and no one was to ever question the rights of animals, let alone the rights of humans. 1,095 more words

Imran Khan

ضربِ عضب اور ذمہ دار میڈیا

نو گیارہ کے بعد حالات نے یکایک نیا رخ اختیار کیا ۔ دنیا نے محسوس کرنا شروع کر دیا کہ پاکستان کے خلاف کوئی بڑی سازش تیار کی جا رہی ہے، تاہم یہ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ پاکستان کو قربانی کا بکرا بنانے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں ۔ ہرکوئی اطمینان و سکون سے بیٹھا تھا کہ ہنوز دلی دور است ۔ گو کہ اصل تماشا افغانستان میں کھیلاجانا تھا لیکن اس کے لئے اسٹیج عراق میں سجایا گیا ۔ ہمارا اب بھی یہی نظریہ تھا کہ ہنوز دلی دور است ۔ اس سے مجھے مارٹن نائمولر کا مشہور قول یاد آیا کہ،
’’پہلے وہ کیمونسٹوں کیلئے آئے مگر میں کچھ نہ بولا کیونکہ میں کیمونسٹ نہیں تھا ۔ پھر وہ سوشلسٹوں کی دشمنی میں آگے بڑھے مگر میں کچھ نہ بولا کیونکہ میں سوشلسٹ نہیں تھا ۔ اس کے بعد انہیں ٹریڈ یونینسٹوں کے شکار کی سوجھی مگرمیرا بولنا نہیں بنتا تھا کیونکہ میں ٹریڈ یونینسٹ نہیں تھا ۔ بالآخر انہوں نے مجھے جا لیا لیکن افسوس کہ میں تنہا تھا اور میرے حق میں بولنے کیلئے کوئی زندہ نہیں تھا‘‘

بعینہ یہی کچھ ہم پاکستانیوں کے ساتھ ہوا اور جب تک ہمیں حقیقت کا ادراک ہوتا ہم کڑی دھوپ میں کھڑے تھے ۔ رفتہ رفتہ معاملات ہر حکومت وقت کے ہاتھ سے نکلنے شروع ہو گئے ۔ پاکستان کو نہ صرف افغان جہاد کے سنگین اثرات کو برداشت کرنا پڑ رہا تھا بلکہ نہایت خاموشی سے شدت پسندی کی نرسریوں میں پروان چڑھنے والی اُن آکاس بیلوں سے بھی نمٹنا تھا جو وطن عزیز کے طول و عرض میں معصوم ذہنوں میں نفرت کے بیج بو رہی تھیں ۔ ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر ہونے والے ڈرامائی حملے سے لیکر ابتک تقریباً ساٹھ ہزار کے قریب معصوم پاکستانی دہشت گردی کے مختلف واقعات اور خود کش حملوں میں اپنی قیمتی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جبکہ پاک افواج کے کم و بیش سولہ ہزار کے لگ بھگ سرفروش ادائیگی فرض کے دوران اپنی جانیں قربان کر چکے ہیں ۔

ان وطن دشمن سرگرمیوں اور دہشت گردی کے حملوں نے نہ صرف ملک کی معیشت کو تباہ و برباد کیا بلکہ اہلِ وطن کی نفسیات پربھی گہرا اثر مرتب کیا ۔ ہمارے قومی رویے میں شکست خوردگی کا احساس واضح اور نمایاں نظر آتا تھا جو کہ ایک خطرناک رجحان تھا ۔ عوام نے خود کو غیر محفوظ تصور کرنا شروع کر دیا تھا ۔ انکی ذاتی اور معاشرتی زندگیاں بے معنی ہو کر رہ گئی تھیں اور حالات فوری علاج کا تقاضا کر رہے تھے ۔

چنانچہ موجودہ حکومت نے امن مذاکرات کو ایک اور موقع دینے کا فیصلہ کیا ۔ گو کہ سابقہ کوششوں کا ریکارڈ کچھ ایساحوصلہ افزا نہ تھا اور عمومی طور پر وہ ناکامی سے دوچار ہی رہی تھیں تاہم خلوص نیت کے ساتھ تازہ ترین کوششوں کیا آغاز کیا گیا اور حکومتی اور طالبان کے نمائندے مارچ 2014 میں دارالحکومت اسلام آباد میں آمنے سامنے آن بیٹھے ۔ باوجودیکہ طالبان کو متنبہ کر دیا گیا تھا کہ مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں واحد حل فوجی آپریشن رہ جائیگا لیکن پھر بھی گفت و شنید میں کوئی پیش رفت نہ ہوئی ۔ بدقسمتی سے ان مذاکرات پر اچھے اور برے طالبان والی حقیقت کی چھاپ کا اثر موجود رہا ۔ بیشتر گروہ دل سے امن کو ایک موقع دینے کے خواہشمند تھے لیکن چند دھڑے حکومت سے سینگ پھنسانے کو ترجیح دے رہے تھے ۔ یہ مذاکرات بھی اُس وقت اپنے المناک انجام کو پہنچے جب طالبان نے 2010 سے قید میں رکھے فرنٹیئر کور کے 23 جوانوں کو نہایت بیدردی سے ذبح کر دیا ۔ جلتی پر تیل کا کام قائد اعظم انٹرنیشنل ائرپورٹ پر اس حملے نے کیا جس میں 28 قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور جس کی ذمہ داری حیران کن طور پر طالبان نے فوراً قبول کر لی ۔ چنانچہ مذاکرات کے منطقی انجام کے بعد اب فوجی آپریشن کے سوا کوئی چارہ نہ رہ گیا تھا ۔

آپریشن ضربِ عضب کا آغازشمالی وزیرستان ایجنسی میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں اور انکی تنصیبات کو تباہ کرنے کیلئے کیا گیا ۔ پوری قوم بشمول میڈیا، سول سوسائٹی، سیاسی جماعتوں اور عوام نے اس آپریشن کو سراہا ۔ اس سلسلہ میں سب سے حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ قومی میڈیا اس آپریشن کے دوران نہایت ذمہ دارانہ اور مُثبت کردار کا مظاہرہ کر رہا ہے ۔ پاکستانی میڈیا نہ صرف پاکستانی عوام کی اس خواہش کا کہ مادر وطن سے دہشت گردی کا خاتمہ ہو شمالی وزیرستان ایجنسی سے عسکریت پسندوں کے صفایا میں فوج کی کامیابیوں کو بھی نمایاں طور پر اجاگر کر رہا ہے ۔ پاکستانی میڈیا کی غالب اکثریت آپریشن ضرب عضب کی رپورٹنگ کے دوران نہایت ذمہ داری، ذہنی پختگی اور قومی مفاد کو مقدم رکھنے کا مظاہرہ کر رہا ہے جو کہ یقیناً ایک خوش آئند بات ہے اور میڈیا اس کے لئے تعریف کا مستحق ہے ۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ میڈیا اس آپریشن کی رپورٹنگ نہیایت تفاخرانہ انداز میں مسلح افواج کےلئے ستائش کا انداز لئے کر رہا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ میڈیا کی رپورٹنگ میں کہیں بھی جانبدارانہ رپورٹنگ کا شائبہ تک نہیں اور اسکے تجزیوں اور خبروں میں ذمہ داری جھلکتی ہے ۔ میڈیا سنسنی خیزی اور غیر ذمہ داری کو بالائے طاق رکھتے ہوئے آپریشن ضرب عضب کی کوریج کر رہا ہے جس سے یقیناً اسکی ساکھ میں گراں قدر اضافہ ہوا ہو گا ۔ میڈیا کا یہ عزم کہ وطن دشمنوں کے نقطہ نظر کو کسی صورت بھی جگہ نہیں دی جائیگی، بھی لائقِ تحسین ہے ۔ ایسے سنگین حالات میں میڈیا کا افواج پاکستان کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہونا باعثِ تقویت ہے اور یقیناً اسکے ملکی حالات اور عوام کےجذبے پر دورس اثرات مرتب ہونگے، انشاء اللہ

National

Militias attack on Sunni mosque kills 73 in eastern Iraq

Militants targeted a Sunni mosque in a province next to the Iraqi capital during weekly prayers on Friday, killing at least 73 people and wounding over 35 as members of the Islamic State group continue to push through the area, officials said. 359 more words

Reports

One dead in Swiss mosque shooting, police

One person was killed Friday in a shooting at a mosque full of worshipers in Switzerland at, police said.
The suspected killer was arrested at the scene in the northeastern city of Sankt Gallen, local police said, without giving further details about the individual. 53 more words

Reports

کراچی میں فرانس کی ملکہ

اعظم طارق کوہستانی
فرانس کی ملکہ تو ویسے ہی بدنام ہیں۔۔۔ اپنے پاکستان میں فرانس کی ملکہ سے بڑے بڑے اداکار موجود ہیں۔ ہم نے جو ایک اسی قسم کے اداکار سے پوچھا: ’’جناب! اگر پاکستان میں ’’پانی‘‘ ٹینکر مافیا ہڑپ کرجائے تو عوام کیا کرے گی؟‘‘
انہوں نے ہماری بات نہایت تحمل سے سنی۔ ایک لمبی جمائی لی اور ہمارا ہاتھ پکڑ کر اچانک چبا چبا کر بولنے لگے: ’’بھائی! پہلی بات تو یہ ہے کہ پانی کھانا نہیں ہے جو ہڑپ کرلیا جائے۔۔۔ ہاں اس میں غڑپ ہوا جاسکتا ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ یہ منرل واٹر کی بڑی بڑی فیکٹریوں کس کے لیے قائم کی گئی ہیں۔‘‘
’’کس کے لیے۔‘‘ہم سے یہ پہیلی برداشت نہیں ہوسکی۔
’’عوام کے لیے ۔۔۔میری جان اور کس کے لیے۔ اس لیے وہ منرل واٹر اور جوس پیئیں۔‘‘
موصوف کی باتیں سن کر دماغ سلگ اُٹھا لیکن خاموش رہے کہ کہیں بھنک عمران خان اور طاہر القادری تک نہ پہنچ جائے۔ انقلاب تو وہ لارہے ہیں لیکن بہانہ یہ نہ ہوجائے کہ قوم پانی نہ ہونے کی وجہ سے مر رہی ہے۔ پریشان ہے اور حکمران کہہ رہے تھے کہ جوس پی لو۔۔۔ وہ بھی آم والا۔
پانی کا سب سے بڑا مسئلہ کراچی میں ہے۔ پانی ہوتے ہوئے بھی موجود نہیں۔ واٹر بورڈ کرپشن کی آماجگاہ بن چکا ہے۔ آئے روز اخبارات میں واٹر بورڈ کی کرپشن سے متعلق خبریں لگتی رہتی ہیں۔ جگہ جگہ ٹینکر مافیا نے قبضہ جما یا ہوا ہے۔ ان کی دلیری اتنی بڑھ چکی ہے کہ کمشنر کراچی نے بھی کہہ دیا ہے کہ کراچی میں ٹینکر مافیا سرگرم ہے۔
لیکن بے بسی تو دیکھیے وہ اس ٹینکر مافیا کو لگام دینے میں ناکام نظر آتے ہیں۔ روز اخبارات میں ٹینکر مافیا کے خلاف خبریں لگتی ہے لیکن یہ سلسلہ رکنے کے بجائے بڑھتا جارہا ہے۔ پانی کا مصنوعی بحران پیدا کیا جاتا ہے اور پھر انہیں پر پانی بیچا جاتا ہے۔ شہر کے مختلف حصوں سے عوام سراپا احتجاج ہواجاتا ہے لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوتی۔ صفورا سے چیک پوسٹ 6 کی طرف جاتے ہوئے پانی کے ٹینکروں کی لائینیں لگی ہوئی ہیں جو اندر پمپ سے پانی بھرے جارہے ہیں۔۔۔ اس سے کچھ ہی فاصلے پر علاقہ مکین پانی کی عدم فراہمی پر احتجاج کر رہے ہوتے ہیں۔ اسی طرح قائدآباد کے علاقے مرغی خانے میں بھی ایک پمپ اسٹیشن بنایا گیا ہے جو پولیس کی سرپرستی میں پانی کی ناجائز سپلائی میں دھڑلے سے مصروف ہے۔ جبکہ اس کے پیچھے جو علاقہ ہے قذافی ٹاؤن اور ظفرٹاؤن ۔۔۔وہاں پانی نہ ملنے کی وجہ سے علاقہ مکین کے گلے کے سوتے سوکھ گئے ہیں ہیں۔ مرغی خانے کے ٹینکرمافیا آکر ظفرٹاؤن اور قذافی ٹاؤن کا پانی پولیس کی موجودگی میں بند کردیتے ہیں۔ یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔
کراچی واٹر اینڈ سوریج بورڈ کی لاڈلی ٹینکر مافیا نے ہر جگہ پنجے گاڑھ رکھے ہیں۔ کراچی کا ٹینکر مافیا اہلِ کراچی کا پانی چوری کرکے ان ہی کو منہگے دام فروخت کرتی ہے، حب پمپنگ اسٹیشن کے عقبی حصے سے نکالی گئی مصنوعی نہر سے ٹینکر دھڑا دھڑ بھر کر سپلائی کیے جاتے ہیں۔
اسی طرح اورنگی ٹاؤن میں بھی شہد کی مکھیوں کی طرح جتھہ لگائے مافیا کے کارندے جرمن اسکول پر پانی چوری میں مصروف ہیں۔ شہر کے بیچوں بیچ جمشید کوارٹر کے ایک رہائشی مکان میں بھی آبی فروخت کا انتظام کیا گیا ہے جہاں کھلے عام ٹینکرز موجود ہیں۔
آبی مافیا کا سب بڑا گڑھ بلدیہ ٹاؤن ہے جہاں جرائم پیشہ عناصر اتنے سرگرم ہیں کہ ایک نجی چینل کو کیمرہ بھی خفیہ استعمال کرنا پڑا، ہر دوسری گلی میں جہاں نگاہ اٹھاؤ گھر سے پائپ اور اس کے نیچے ٹینکر نظر آتا ہے، شام ڈھلنے کے بعد تو کام اور بھی دھڑلے سے ہوتا ہے۔ کورنگی چکرا گوٹھ کا منظر بھی مختلف نہیں وہاں بھی اطمینان سے شہریوں کے پانی پر ڈاکہ مارا جارہا ہے، پاک کالونی میں ٹینکر کچھ چھپ چھپا کے لگایا جاتا ہے۔ سب کچھ جانتے بوجھتے بھی انتظامیہ کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ طاقتور مافیا کا ڈر ہے یا پھر جیبیں گرم ہیں۔ یہ صرف چند مقامات کا ذکر ہے اس کے علاوہ شہر کے بیشتر مقامات پر ٹینکر مافیا سرگرم عمل ہے۔
سوال یہ ہے کہ اسے روکے گا کون؟پانی بنیادی ضرورت ہے اور اگر پانی نہ ملے تو یہ عام عوام حلق میں گھس کر اپنا پانی نکال لے گی۔ لیکن مافیا سے ٹکرانے کا مطلب کچھ جانوں کا ضیاع یا قربانی۔۔۔
پولیس ، انتظامیہ، واٹر بورڈ یا پھر پیپلز پارٹی کی حکومت ان تھرڈ کلاس غنڈوں سے نہیں نمٹ سکتی۔۔۔ پانی کی چوری اور عوام کی بے بسی پر خاموش ہے تو اسے حکومت کرنے یا پولیس کی وردی پہننے کا اختیار بھلا کیونکر ہوسکتا ہے؟

Reports