<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><!-- generator="wordpress.com" -->
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	>

<channel>
	<title>people-correcting-people &amp;laquo; WordPress.com Tag Feed</title>
	<link>http://en.wordpress.com/tag/people-correcting-people/</link>
	<description>Feed of posts on WordPress.com tagged "people-correcting-people"</description>
	<pubDate>Sat, 25 May 2013 05:34:36 +0000</pubDate>

	<generator>http://en.wordpress.com/tags/</generator>
	<language>en</language>

<item>
<title><![CDATA[Polluted Minds and Souls]]></title>
<link>http://rubikh.wordpress.com/2010/10/21/polluted-minds-and-souls/</link>
<pubDate>Thu, 21 Oct 2010 11:26:32 +0000</pubDate>
<dc:creator>Rubik</dc:creator>
<guid>http://rubikh.wordpress.com/2010/10/21/polluted-minds-and-souls/</guid>
<description><![CDATA[Getting sick and tired of keep telling men especially to observe some street manners; not to spit, n]]></description>
<content:encoded><![CDATA[<p>Getting sick and tired of keep telling men especially to observe some street manners; not to spit, not to break line, not to throw garbage or water on the street, reply salaam because it&#8217;s a blessing and the best manner&#8230;. O God, nobody minds spitting everywhere.  It&#8217;s disgusting, just like lower class living in pollution, just like upper class drinking rotten juices (wine bhaee).</p>
<p>I am thinking about writing letters to the owners of restaurants and other businesses (owners of colleges and universities, academies, schools) describing them the importance of cleanliness and discipline in a society.  Suggesting them to employ someone just to keep eye on customers so they don&#8217;t break the line, don&#8217;t spit anywhere, don&#8217;t throw garbage and in the mean time he should clean the tables, chairs, counters and walls with dettol to keep the flies away.  Shouting and admonishing their employees doesn&#8217;t help because they don&#8217;t have any authority.  They just want to do their job somehow and go home.  Ten or twenty thousand letters would make a difference.  My lonely voice wouldn&#8217;t do anything.</p>
<p style="text-align:right;"><span style="font-size:large;">مزیدار حلیم کی دکان پر نان  کے لئے کافی سارے لڑکے اور مرد لائن میں لگے ہوئے تھے۔۔۔ لائن  سیڑھیوں کے پہلے قدم پر لگی تھی۔۔۔ پچھلے دو تین سالوں میں دکان کو بڑا اور  ماربلائز کرکے منظم اور صاف کرنے کی کوشش کی گئی اور کسی حد تک کامیاب بھی  ہو گئے مگر الله ہدایت دےمیری جاہل قوم کو۔۔۔ سوائے چیزیں برباد کرنےکےاور  کوئی شوق نہیں پال رکھا۔۔۔ خیر لائن میں کھڑے ہوئے پندرہ سولہ سال کے لڑکے  نے حسب عادت اپنے ہی قدموں کے پاس تھوکا یعنی ایک قدم نیچے۔۔۔اس لڑکے کی  بدقسمتی کہ میں گذررہی تھی۔۔۔ میںنے اسے گھورنا شروع کردیا۔۔۔ پہلے تو اس  نے ادھرادھر دیکھا پھر مجھہ سے کہنے لگاآگے آجائیں۔۔۔ میں نے تیز آواز میں  کہا  تاکہ آخری مذکر تک آواز جائے۔۔۔ کہ آپ کیسے لوگوں کے راستے میں تھوک  دیتے ہیں آپ کو تمیز نہیں سکھائی کسی نے کہ تھوکنا غلیظ عا دت ہے۔۔۔  سب چپ  سنتے رہے۔۔۔ کیوں کہ شاید سب ہی دن رات یہ غلیظ حرکت کرتے ہوں گے۔۔۔ ورنہ  کوئی تو میری طرح اپنے گلی محلوں اور بازاروں میں زبان درازی کرتا۔۔۔<br />
</span></p>
<p style="text-align:right;"><span style="font-size:large;">میں سوچ رہی ہوں کہ ایک خط و کتابت کا سلسلہ شروع کیا جائے جس میں مختلف کاروبار کے مالکان کو براہ راست مخاطب کیا جائےاور انھیں صفائی ستھرائی کی اہمیت بتائی جائے اور یہ کہ وہ ایک شخص کو  صرف اس لئے ملازمت دیں کہ وہ صرف لوگوں پر نظر رکھےکہ لائن نہ توڑیں,  تھوکیں نہیں, کوڑا نہ پھینکیں۔۔۔ اور اس دوران وہ وقتا فوقتا دیٹول سے  کاؤنٹر, میزکرسیاں اور دیواریں صاف کرتا رہے۔۔۔ ویسے بھی میرا تجربھ یہ  کہتا ہے کہ نیچے والوں سے بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا کیونکہ ان کے  پاس نہ اختیار ہوتا ہے اور نہ لگن۔۔۔ انھیں صرف اپنے نمبر بڑھانے ہوتے  ہیں۔۔۔ اپنے کاروبار کے فائدے نقصان سے دلچسپی تو مالک کو ہی ہو گی۔۔۔<br />
</span></p>
<div style="text-align:right;"><span style="font-size:large;"> </span></div>
<div style="text-align:right;"><span style="font-size:large;">دس بیس ہزار خطوط پہنچ جائیں تو فرق پڑے گا یقینا ورنہ میرے اکیلے بولنے سے تو کیا ہوگا۔۔۔<br />
</span></div>
<div style="text-align:right;"><span style="font-size:large;"> </span></div>
<div style="text-align:right;"><span style="font-size:large;">اسی طرح مرغیوں اور گوشت  بیچنے والوں سے بات کی جائے۔۔۔ حیرت تو جب ہوتی ہے کہ کپڑا اور برتن بیچنے  والوں کی دکانوں پر بھی مکھیاں پلی ہوتی ہیں۔۔۔ اڑاتے ہی نہیں کہ کسی مکھی  کو چوٹ نہ لگ جائے۔۔۔ شاید اسی لئے انھیں انڈین ۔۔۔۔ بھی بری نہیں لگتیں۔۔۔  غیر پڑھے لکھے ظاہری اور جسمانی جبکہ معزز ڈگری ہولڈرز ذہنی اور اندرونی  غلاظتوں میںمبتلا ہیں جبھی تو پاکستان کایہ حال ہے۔۔۔ سیما غزل صاحبہ تک نے  کہہ دیا کہ انڈین گانوں پر تھرکنے میں کوئی برائی نہیں۔۔۔ واہ ۔۔۔ اس دفعہ  مشرف صاحب کے ہاتھوں یہ لوگ پاکستان کو پورنستان بنا کر ہی دم لیں گے۔۔۔  حالانکہ میں نے سنا ہےکہ آخری عمر میں انسان کچھہ کچھہ ذہنی آلودگی کو کم  کرنے کی کوشش کرتا ہے۔۔۔۔<br />
</span></div>
<div style="text-align:right;"><span style="font-size:large;"> </span></div>
<div style="text-align:right;"><span style="font-size:large;">کیا کہا نہیں سمجھہ آئی۔۔۔  اس کامطلب دل پہ لگی ہے۔۔۔ بھئی سیدھی سی بات ہے۔۔۔ نچلا سمجھے جانے والا  طبقہ گندگی میں رہ کر گندی غذا کھاتا ہے اور خود کو اونچلا سمجھنے والا  طبقہ سڑے ہوئے پھلوں کا رس ذرا صاف ستھرے ماحول میں بیٹھہ کر پی لیتا ہے۔۔۔  فرق کیا ہے۔۔۔ اپنے اپنے کنوؤں میں دونوں ہی غلاظت سے لطف اندوز ہو رہے  ہیں۔۔۔</span></div>
<div style="text-align:right;"><span style="font-size:large;">تو ضرورت ہے ذہنی آلودگی  کو کم کرنے کی۔۔۔ اور اس عادت کو ترک کرنے کی کہ جب کوئی کام نہ کرنا ہو یا  برائی پر جمے رہنا ہو تو پوچھیں کہ۔۔۔ قرآن و حدیث میں کہاں لکھا ہے۔۔۔</span></div>
<p style="text-align:right;"><span style="font-size:large;">ہر چیز کو اپنانے یا چھوڑنے کے لئے قرآن وحدیث کا حوالہ ضروری نہیں۔۔۔ اسکا انحصار نفس کی پاکیز گی پر بھی ہوتا ہے۔۔۔</span></p>
]]></content:encoded>
</item>

</channel>
</rss>
