Tags » PTI

مرنے والا ہیپیٹاٹس سی کا مریض تھا

کہتے ہیں کہ لاعلمی بھی ایک نعمت ہے۔ مگر آج کل کے دور میں جہاں انٹرنیٹ اور سٹیلائٹ نے دنیا کو گلوبل ولیج بنا دیا وہیں ہمیں اس نعمت سے بھی محروم کر دیا۔ جی ہاں کم از کم ہم پاکستانیوں کیلئے تو لاعلمی کسی نعمت سے کم نہیں۔ ہم بھی اپنے تمام ساتھیوں کے ساتھ اسی نعمت عظیم سے لطف اندوز ہو رہے  تھے کہ کسی ناہنجار نے فیصل آباد کے ایک مریض میں ابولا وائرس کی تصدیق کا شوشہ چھوڑ دیا ۔  ہسپتالوں اور میڈیکل یونیورسٹیز میں چہ مہ گویاں شروع ہو گئیں اور یہ سوچ کر ہی ہماری جان پہ بن آئی کہ  اب وزارت صحت اس ایبولا نامی آفت سے نمٹنے کیلئے سیمینارز، کانفرنسز اور ورکشاپس کروائے  گی ۔ڈاکٹرز اور میڈکل پریکٹیشنرز کیلئے سپشل لیکچرز کا اہتمام کیا جائے گا ۔عوام الناس میں  اس جان لیوا وائرس سے بچنے کیلئے احتیاتی تدابیر وغیرہ پر مشتمل کچھ لٹریچر چھپوایا جائے گا اور اس موت کے وائرس کے بارے میں لوگوں کو آگاہ کرنے کیلئے ایک بڑی اویرنیس کمپین چلائی جائے گی۔ جس کی وجہ سے ہمارا شیڈول یقینی طور پر متاثر ہو گا۔روٹین مزید ٹف ہو جائے گی ۔شاید چھٹیاں منسوخ کر دی جائیں اور یونیورسٹی نے ہمارے تین سالہ احتجاج کے بعد جس ناران کاغان کے ٹرپ کا  اعلان کیا تھا وہ بھی انسانیت کی اسی خدمت کی نظر ہو جائے گا۔

یہ سب سوچ کہ ہمارا دل بہت ہی خراب ہوا۔ ہم اس وقت کو کوس ہی رہے تھے جب ایک کمزور جذباتی لمحے میں ہم نے اپنے والدین کی خواہش کو پورا کرنے کیلئے ڈاکٹر بننے کا فیصلہ کیا تھا کہ ہمارے بھیا جی کا فون آگیا۔ شدید غم و غصہ کی کیفیت میں اپنے لہجے میں زمانے بھر کا درد سمو کر ہم نے یہ ساری کتھا بھیا جی کو سنائی۔ہم تو ہمدردی کے چند الفاظ کی توقع کر رہے تھے  مگر یہ کیا۔ بھیا  جی نے میڈیکل ایتھکس، مسیحا وں کی زمہ داریوں اورانسانیت کی خدمت کے اجرو ثواب پہ ہمیں وہ لیکچر دیا کہ تھوڑے وقت کیلئے ہی سہی مگر ہمارے اندر کا عبدلستار اید ھی جاگ اٹھا اور ہم نے یہ عزم کیا کہ نہ صرف ہم  تمام ورکشاپس اور لیکچرز اٹینڈ کریں گے بلکہ  کسی بھی میڈیکل ایمرجنسی کی صورت میں اپنے سینیئرز کے ساتھ  رضا کارانہ طور پر کام بھی کریں گے۔

اسی جذبے کے ساتھ جب آج ہم یونیورسٹی گئے تو ہر کوئی اس بات پر شکر کے کلمات ادا کر رہا تھا کہ کل مرنے والا  شخص ابولا نہیں بلکہ ہیپیٹاٹس سی کا مریض تھا۔ اور  ہم یہ سوچ رہے تھے کہ جہاں ڈینگی، ٹی بی،یرقان   جیسے قابل علاج امراض کی وجہ سے لوگوں  کی جانیں جا رہی ہیں وہاں ہم  ابولا وائرس یا کسی نئی آفت کا مقابلہ کیسے کر سکتے ہیں؟  لیکن افسوس ایسا  صرف ہم ہی سوچ رہے تھے۔  کیا مریض کیا ڈاکٹرزاور کیا وزارت صحت سب ہی اس  بات پہ مطمئن تھے کہ مرنے والا  ہیپیٹاٹس سی کا مریض تھا۔

اپنے ساتھیوں کے رویہ اور وزارت صحت کی   لاپرواہی  سے ہم پریشان  تو ضرور ہوئے مگر ہمیں امید تھی کہ سوشل میڈیا پر  یہ موضوع ضرور زیر بحث ہو گا۔ لیکن ہماری تمام امیدیں اس وقت دم توڑ گئیں جب  ہم نے سوشل میڈیا پہ  بھی وہی روز کا ڈرامہ دیکھا۔ اول تو کسی کو اس موضوع پر بات کرنے کی  ضرورت محسوس نہ ہوئی اور اگر کسی نے زحمت کی بھی تو  فقط یہ بتانے کیلئے کہ مرنے والا  ا  ہیپیٹاٹس سی کا مریض تھا۔اس قدر حساس موضوع پر بھی لوگوں کی  لاپرواہی  اور لاتعلقی دیکھ کر ہمیں بہت مایوسی ہوئی۔ اپنی اخلاقی زمہ داری نبھانے کیلئےہم نے اپنے فیس بک  اور ٹویٹر پر چیخ و پکار شروع ہی کی تھی کہ روم میٹ نے ٹی وی آن کر دیا۔  وہاں وزارت صحت کی جانب سے تو کوئی  ایڈ نہیں دکھایا گیا مگر حکومت پنجاب کا سپانسرڈ اشتہار ضرور چل رہا تھا جس میں لاہور کو پیرس بنتے دکھایا جا رہا تھا۔ یہ نا جانے کونسا لاہور  دکھاتے ہیں کیونکہ ہم جس لاہور میں رہتے ہیں اسکی  گلیاں اور سڑکیں تو وینس کا نظارہ پیش کر رہی ہوتی ہیں۔ہم وینس اور پیرس کی حکومتی بھول بھلیوں میں  ہی گم تھے کہ ڈاکٹر قادری صاحب  کی آواز ہمیں  واپس لاہور لے آئی۔  طاہر القادری صاحب دل کی شدید تکلیف کے باوجود  عوام کے حقوق انہیں واپس  دلوانے کیلئے انقلاب کی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔   شدید علالت کے باوجود وہ ہسپتال داخل ہونے سے انکار کر چکے ہیں  اور خراب صحت کے باوجود غریبوں کی جنگ جاری رکھنے کا اعلان کیے ہوئے ہیں۔ دوسری طرف عمران خان صاحب  ملک گیر جلسوں کے بعد عوام کو آزادی کی جنگ جیتنے کا ایک اور موقع دیتے ہوئے ۳۰ نومبر کو اسلام آباد پہنچنے کا حکم دے رہےہیں۔ اور ہمارے زہن میں تب سے ایک ہی سوال گردش کر رہا ہے کہ معاملہ خودکش حملوں کا ہو یا موت کے کسی وائرس کا، جس معاشرے کے لوگ اس بات پہ خوش ہو رہے ہوں کہ ابھی ہماری باری نہیں آئی کیا اس معاشرے میں کوئی انقلاب اور تبدیلی  ممکن ہے؟؟؟

!!!زرا سوچیئے

IK

Peshawar: Food streets in Namak Mandi, Gor Khatri

PESHAWAR: KPK Chief Minister Pervaiz Khattak here on Thursday on the approvel of food streets Namak Mandi and historic Gor Khatri Park.

Amid his visit to Namak Mandi, the Chief minister communicated fulfillment over the courses of action for the proposed food street and said that it would be an endowment of the administration to inhabitants of the commonplace city on Eidul Fitr. 153 more words

Foodie People

Govt should refrain from using force against PTI, warns PPP

LAHORE: Pakistan Peoples Party (PPP) Punjab chapter secretary Tanvir Ashraf Kaira has urged the Nawaz-League’s government to give free hand to the PTI on November 30 like the last time and must not resort to use of force or pre-emptive detentions of the workers of the Party. 272 more words

Latest News

Manoj kumar boxing arjuna award

Manoj kumar boxing arjuna award

2010 సంవత్సరంలో కామన్వెల్త్ క్రీడల్లో స్వర్ణ పతకం గెలిచిన బాక్సర్ మనోజ్‌కుమార్‌కి అప్పట్లో భారత ప్రభుత్వం అర్జున అవార్డు ఇవ్వాలని………………...Read More………….

بڑے بھائی ٹھیک کہتے تھے

یہ کہانی ہے دو بھائیوں کی۔پرانے وقتوں کی بات ہے کسی گائوں میں دو بھائی رہا کرتے تھے۔انکے والدین ورثے میں ایک کمبل،کھجور کا ایک درخت اور ایک گائے چھوڑ گئے تھے۔بڑا بھائی ہمیشہ امن، محبت،  اتفاق اور بھائی چارے کی بات کرتا۔ وہ ایک اکیلا دو گیارہ کی گردان دہراتا اور ساتھ رہنے کی بات کرتا مگر چھوٹا بھائی خود کو ضرورت سے زیادہ ہی عقل مند اور ہوشیارسمجھتا تھا اور اسے ہر حال میں وراثت تقسیم کر کے اپنا حصہ چاہیئے تھا۔ لاکھ سمجھانے پر بھی جب چھوٹا بھائی نہ مانا تو بالآخر بڑے بھائی نے چھوٹے کی ضد کے سامنے ہار مان لی۔اب جب وراثت کی تقسیم کی باری آئی تو چھوٹے بھائی نے مشورہ دیا کہ تقسیم کچھ اس طرح سے کی جائےگی کہ کمبل دن کو آپکا اور رات کو میرا ، درخت کا نچلا حصہ آپکا اور اوپر کا حصہ میرا اور اسی طرح گائے کا سر کی طرف کا اگلا حصہ آپکا اور باقی کا حصہ میرا ۔ بڑا بھائی مسکرا کہ مان گیا۔ اب ہوتا کچھ یوں کہ دن کے وقت   جب موسم معتدل ہوتا،کمبل بڑے بھائی کے پاس ہوتا اور رات کو جب سردی بڑھتی تو چھوٹا بھائی کمبل لے لیتا آدھا نیچے بچھاتا آدھا اوپر اوڑھ لیتا اور صوفی منش بڑا بھائی صبر کے گھونٹ بھرتا اور سردی میں ٹھٹھرتے ہوئے صبح ہونے کا انتظارکرتا۔صبح ہوتی تو چھوٹا بھائی گائے کا دودھ پی کہ بڑے بھائی کو کہتا کہ اب جا کہ گائے کیلئے چارہ لے کہ آئو کہ گائے کے سر والا حصہ تمہاری زمہ داری ہے۔ بڑا بھائی طبیعت سے مجبور چھوٹے بھائی کی کمینی فطرت جان کے بھی گائے کے ساتھ سارا دن چراہگاہ میں اسکے ساتھ گزارتا اسے کھلاتا ۔اسی طرح چھوٹا بھائی کھجور کے درخت پر چڑھ کہ پھل کھا جاتا جبکہ درخت کو پانی ڈالنا بڑے بھائی کی زمہ داری ہوتی۔ کافی عرصہ ایسا ہی چلتا رہا ۔بڑا بھائی چھوٹے بھائی کی اس عادت سے پریشان اور تنگ تو بہت تھا مگر کچھ اپنی فطری سخاوت کی وجہ سے برداشت کر لیتا اور کچھ زمانے کا لحاظ کر کے اپنے کم ظرف بھائی کی گھٹیا حرکت پہ بھی خاموش رہتا  ۔ اپنی حق تلفی پہ شکوہ تو کرتا مگر کوئی لڑائی جھگڑا نہ کرتا۔

ایک دن انکے چچاان سے ملنے کیلئے آئے۔جب انہوں نے اپنے چھوٹے بھتیجے کی یہ حرکت دیکھی توانہیں بہت غصہ آیا۔

چھوٹے بھتیجے کو سبق سکھانے کیلئےانہوں نے اپنے بڑےبھتیجے کے کان میں کچھ کہا اور واپس چلے گئے۔اگلے دن جب چھوٹا بھائی گائے کا دودھ دوہنے لگا تو بڑے بھائی  نےگائے کے سر پہ ایک ہلکی سی چھڑی مار دی ۔گائےنے اچھلنا شروع کر دیا ۔ چھوٹا بھائی اس حرکت پر تلملایا توبہت مگر خود ہی گائے کے سر والا حصہ بڑے بھائی کے حوالے کر چکا تھا لحذہ بھائی کو آدھا دودھ دینے کی پیشکش کر دی۔  دن میں جب کھجور کھانے درخت پر چٹرھا تو بڑے بھائی نےدرخت کاٹنا شروع کر دیا۔خود کو یہاں بھی بےبس دیکھ کرچھوٹے بھائی نے التجا کی کہ بڑے بھائی ایسا نہ کرو میں آدھی کھجوریں تمہیں دے دیا کروں گا۔بادل نخواستہ دودھ اور کھجوروں میں سے آدھا حصہ بڑے بھائی کو دے کر رات کو چھوٹےبھائی نے جب کمبل اوڑھنا چاہا تو اسے معلوم پڑا کہ بڑے بھائی نےکمبل بھگو رکھا تھا۔شدید سردی میں ایک ہی رات بغیر کمبل کےگزار کر  چھوٹے بھائی نے کمبل کا بھی آدھا حصہ بڑے بھائی کو دینے میں عافیت جانی اور زور سے نعرہ لگایا

“بڑے بھائی ٹھیک کہتے تھے”

اتفاق میں برکت ہے۔

نوٹ : یہ تحریر غیر سیاسی ہے،اسے قطعی طور پرعمران خان صاحب کی پے در پے وعدہ خلافیوں اور طاہر القادری صاحب کے دھرنا ختم کرنے سے نہ جوڑا جائے۔

IK

IMRAN KHAN on 30 of November 2014 (AZADI MARCH)

The Azadi March (Urdu: آزادی مارچ‎; lit. Freedom march), formerly named Tsunami march, is a public protest march in Pakistan organised by the Pakistan Tehreek-e-Insaf party against Prime Minister Nawaz Sharif, over claims of governmental manipulations in the 2013 general election. 463 more words

Pakistan