Tags » Punjab

بنگلہ دیش، متحدہ پاکستان کے حامی بھارت نواز حکمرانوں کے زیر عتاب....

عصر حاضر میں بنگلہ دیش کے سوا شاید ہی دنیامیں کوئی ایسا ملک ہوجہاں سیاسی مخالفین کوچن چن کر پھانسیوں پر لٹکایا جارہا ہو یا 80، 90 برس کے لئے جیلوں میں بھیجا جارہا ہو اور پھر وہاں بدترین جسمانی اور نفسیاتی تشدد کرکے موت کے گھاٹ اتارا جارہا ہو۔

ملک کے بانی شیخ مجیب الرحمٰن کی بیٹی اور وزیراعظم بیگم حسینہ واجد کو سب سے زیادہ غم وغصہ جماعت اسلامی پر ہے۔ جماعت کی پوری قیادت کوپاکستان سے علیحدگی کی جنگ71ء میں جنگی جرائم کا مرتکب قرار دیا گیا ہے۔ یہ مقدمات ایسے’’انٹرنیشنل وارکرائمز ٹریبونل ‘‘ میں چلائے جارہے ہیں جو عالمی قوانین انصاف سے متصادم ہے، مختلف غیرملکی حکومتوں اورانسانی حقوق کی تنظیموں نے اسے غیرقانونی قرار دیا ہے۔

یاد رہے کہ اس ٹریبونل کے پہلے سربراہ جسٹس محمد نظام الحق تھے ، جنھوں نے20 برس قبل( جب وہ وکیل تھے)،ایک ’عوامی عدالت‘ لگاکر جماعت اسلامی کے رہنماؤں کو سزائے موت دینے کا اعلان کیا تھا۔ٹریبونل کا سربراہ بننے پر وہ بے حد خوش تھے کہ اب وہ اپنا دیرینہ خواب پورا کرسکیں گے تاہم پھراچانک انھیں استعفیٰ دیناپڑا، بھلاکیوں؟ یہ بھی ایک دلچسپ کہانی ہے جو ممتازبین الاقوامی جریدے ’اکانومسٹ‘ نے شائع کی۔

اس کہانی نے ٹریبونل کی حقیقت اور حسینہ واجد کے منصوبے کی قلعی کھول کر رکھ دی۔ہوایوں کہ جسٹس نظام الحق نے بریسلز میں ایک بنگالی قانون دان ضیاء الدین سے بذریعہ سکائپ طویل گفتگوکی، مختلف نشستوں میں ہونے والی اس گفتگوکا مجموعی دورانیہ 17گھنٹے تھا جبکہ دونوں کے درمیان 320ای میلز بھی ہوئیں۔ یہ ساری گفتگو اور ای میلز ’اکانومسٹ‘ تک پہنچ گئیں۔

ان میں جسٹس نظام نے کہا:’’حسینہ واجد حکومت تو چاہتی ہے کہ میں جلد سے جلد فیصلہ دوں، اور اس خواہش میں یہ لوگ پاگل لگتے ہیں۔ تم ہی بتاؤ، جب استغاثہ نالائقوں پر مشتمل ہے اور ان سے صحیح طریقے سے کیس پیش نہیں ہورہا، تو اس میں مَیں کیا کروں؟ مَیں انھیں کمرہ عدالت میں ڈانٹتا ہوں، مگر ساتھ ہی پرائیویٹ چیمبر میں بلا کر کہتا ہوں، بھائی! ناراض نہ ہوں، یہ سب ڈراما ہے تاکہ غیر جانبداری کا کچھ تو بھرم باقی رہے۔ پھر انھیں یہ بتانا پڑتا ہے کہ وہ کیا کہیں۔ اب تم ہی رہنمائی دو میں کس طرح معاملے کو انجام تک پہنچاؤں‘‘۔

یہ گفتگو ثبوتوں کے ساتھ ’اکانومسٹ‘ لندن کے خصوصی نمائندے نے جریدے کو اشاعت کے لئے بھیج دی ، جریدہ نے فون کر کے جسٹس نظام سے پوچھا کہ ہمارے پاس یہ رپورٹ ہے، وہ جواب میں کہنے لگے: ’’ایسا نہیں ہوسکتا، ہم تو عدالتی معاملات اپنی بیوی کے سامنے بھی زیربحث نہیں لاتے‘‘۔ پھر’اکانومسٹ‘ نے دسمبر 2012ء کے ایک شمارے میں خلافِ معمول رسالے کے مدیر نے اپنے ادارتی نوٹ کے ساتھ ساری کہانی شائع کردی جس نے بنگلہ دیش میں تہلکہ مچادیا۔ یوں جسٹس نظام کو مستعفی ہونا اور حسینہ واجد حکومت کو سبکی کاسامناکرناپڑا تاہم اس کا بدلہ مخالفین پر ظلم وستم کا سلسلہ مزیدتیز کرکے لیا۔

بھارت نوازحکمران جماعت کادعویٰ رہا ہے کہ جنگِ1971ء میں پاکستانی فوج اور جماعت اسلامی نے مل کر 30لاکھ افراد قتل کئے تھے۔ حکومت مخالفین کاکہناہے کہ ہلاکتوں کی تعداد کئی گنا بڑھاچڑھا کر پیش کی گئی ہے۔ یہ امر خاصادلچسپ ہے کہ حسینہ واجدحکومت کو اچانک 42برس بعد ان لوگوں پر مقدمہ چلانا یادآیاجنھیں اس نے اپنے سابقہ دور حکومت میں کابینہ میں شامل کر رکھاتھا اور سب سے بڑی بات کہ جن کے بارے میں بنگلہ دیش کی علیحدگی کے بعد بنگلہ دیش کی حکومت نے پاکستان سے معاہدہ کیاتھا کہ بنگلہ دیش کے ان شہریوں پر مقدمات نہیں چلائے جائیں گے جو مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے خلاف اورمتحدہ پاکستان کے حق میں تھے۔

اقوام متحدہ نے بھی حسینہ واجدحکومت کے قائم کردہ اس وارکرائمز ٹریبونل کے بارے میں تحفظات ظاہرکئے کہ یہ بین الاقوامی قانونی معیار پر پورا نہیں اترتا۔ ملک کے اندر بھی اس ٹریبونل پر تنقید کرنے والے کہتے ہیں کہ حسینہ واجد نے ٹریبونل جماعتِ اسلامی سے نمٹنے کے لئے قائم کیاتھا۔ 2010ء میں قائم ہونے والے اس خصوصی ٹریبونل کے تمام ججز کا تعلق بنگلہ دیش ہی سے ہے جبکہ اسے ’’انٹرنیشنل وار کرائمز ٹریبونل ‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ انسانی حقوق کے بین الاقوامی اداروں نے بھی ٹریبونل کو بین الاقوامی معیار کے منافی قراردیاہے۔ جس معیارکا ٹریبونل ہے، اسی معیار کے ججز اور ویسے ہی گواہان۔ فرق صرف یہ ہے کہ سن 71ء جو نوجوان مکتی باہنی(بھارت میں عسکری تربیت پانے والا گروہ) کے افراد کے ہاتھوں بدترین تشدد کا نشانہ بنے، وہی پھانسیوں کے پھندوں میں جھول رہے ہیں۔

جماعت اسلامی کی تقریباً پوری قیادت کوسزائے موت سنائی جاچکی ہے۔ جماعت اسلامی کے چوتھے سینئر ترین رہنما عبدالقادر ملا کو پھانسی دی جاچکی ہے۔ عبدالقادرملاسے کہاگیا کہ وہ صدرمملکت سے رحم کی اپیل کرنے کا حق استعمال کریں تاہم انھوں نے ایسا کرنے سے انکارکردیا۔

انھوں نے پھانسی سے پہلے اپنی اہلیہ کے نام خط میں لکھا کہ ان(بنگلہ دیشی حکمرانوں) جیسے لادینوں نے کئی پیغمبروں کو بغیر کسی جرم کے قتل کیا،نبی کریم ﷺ کے کئی ساتھی جن میں خواتین بھی شامل تھیں،انہیں نہایت بیدردی کے ساتھ ماراگیا،ان شہادتوں کے بدلے میں اللہ تعالی نے سچائی کے راستے میں آسانی پیداکی اوراسلام کوفتح سے ہمکنار کیا، مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالی میرے معاملے میں بھی ایساہی کرے گا۔ یہ بات میں روزاول سے کہہ رہاہوں کہ ہمارے خلاف جوبھی اقدامات کئے جارہے ہیں وہ دہلی کی میزپرتیارکئے جاتے ہیں،عوامی لیگ اگر واپس ہٹنا بھی چاہے تواب ان اقدامات سے پیچھے نہیں مڑسکتی کیونکہ اس باروہ صرف دہلی کے آشیربادہی سے اقتدارمیں آئی ہے۔

انھوں نے مزید لکھاکہ کسی بھی آزاد، فطری ٹرائل اورانصاف کی توقع ایسے لوگوں سے نہیں کی جاسکتی لیکن قوم اوردنیابھرکے لوگ جانتے ہیں کہ سچ کیاہے،میری موت جبرکی اس حکومت کے خاتمے کاسبب بنے گی۔ میں نے سورہ توبہ کی آیت نمبر17سے24 کا مطالعہ کیا،آیت نمبر19میں واضح اندازمیں لکھاہے کہ اللہ کی راہ میں اپنی جان اورمال کے ساتھ جہادکرنا،خانہ کعبہ کی خدمت اورحاجیوں کوپانی پلانے سے زیادہ افضل ہے۔

اس کامطلب یہ ہے کہ اللہ کی راہ میں اس لیے لڑناکہ اسلام کا نظام قائم ہو اور ناانصافی کے خلاف لڑتے ہوئے مرناطبعی موت مرنے سے افضل ہے،اگراللہ تعالیٰ کی ذات مجھے جنت میں افضل درجہ دیناچاہتی ہے تومیں بخوشی اس موت کوگلے لگانے کیلئے تیار بیٹھا ہوں، کیونکہ جلادوں کے ہاتھوں غیرمنصفانہ موت توجنت کا پروانہ ہے۔

یہ گھاٹے کاسودانہیں ہے۔ جب نبی کریمﷺشہادت کے اعلیٰ مرتبہ کی بات کرتے

تھے تواپنی خواہش کا اظہار کرتے تھے کہ انہیں بارباریہ زندگی ملے اور بار بار اللہ کی راہ میں شہید ہوتے رہیں،وہ لوگ جو شہید ہوچکے ہیں وہ جنت کے اعلیٰ درجوں میں بیٹھ کراللہ کے حضور اس خواہش کااظہارکریں گے کہ یاخالق ومالک! ہمیں ایک بار پھر اس دنیا میں بھیج تاکہ ہم ایک بار پھر تیری راہ میں شہیدہوں،اس سچی ذات کے الفاظ سچے ہیں اوراس کی طرف سے بھیجے گئے صادق کے الفاظ بھی سچے ہیں، اگر ان پر کوئی شک ہے توہمیں اپنے ایمان اورعقیدے پرشک کرناچاہیے‘‘۔

ٹریبونل نے جماعتِ اسلامی کے ایک دوسرے رہنما مولانا ابوالکلام محمد یوسف کوبھی ان کی عدم موجودگی میں سزائے موت سنائی تھی۔ وہ پہلے شخص تھے جنہیں بنگلہ دیشی حکومت کی جانب سے تین برس قبل بنائے جانے والے انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل نے مجرم قرار دیا تھا۔ ان کا کچھ عرصہ بعد ا نتقال ہوگیا۔سابق امیر جماعت پروفیسرغلام اعظم کو 90برس قید کی سزاسنائی گئی، ان کی عمر92 سال تھی، ان کا 23 اکتوبر 2014ء کو انتقال ہوگیا، لواحقین کا کہنا ہے کہ بزرگی کی اس عمر میں بھی ان پر بدترین تشدد کیاگیا۔ بعدازاں جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے امیرمطیع الرحمن ظامی، نائب امیر محمد قمر الزمان اور دیگرمرکزی رہنماؤں دلاورحسین سعیدی،علی احسن مجاہد ،میرقاسم علی،اشرف الزماں خان اور چودھری معین الدین کوبھی سزائے موت سنائی جاچکی ہے۔

ٹریبونل نے انھیں تشدد اور قتلِ عام کے الزامات میں قصور وار ٹھہرایا تاہم یہ تمام رہنماان الزامات کو جھوٹ قراردیتے ہیں۔ محمد قمرالزمان کے بارے میں خیال ظاہرکیاجارہاہے کہ انھیں جلد ہی پھانسی دیدی جائے گی،کیونکہ انھوں نے بھی عبدالقادر ملا کی طرح صدرمملکت سے رحم کی اپیل کرنے سے انکارکردیاہے۔سوال یہ ہے کہ پھانسی پانے والے رہنما عبدالقادرملا کی یہ بات درست ہے کہ حسینہ واجد جماعت اسلامی کے خلاف یہ سب کچھ بھارت کے ایماپر کررہی ہے؟ اگرایساہے تو کیوں؟

جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے حوالے سے سابق بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ کا یہ بیان پڑھئے، جو انھوں نے بنگلہ دیش کا دورہ شروع کرنے سے پہلے30جون2011ء کو نئی دہلی میں بنگلہ دیش اور بھارت کے ایڈیٹروں سے گفتگو کرتے ہوئے دیا تھا:’’بنگلہ دیش سے ہمارے اچھے تعلقات ہیں، لیکن ہمیں اس چیز کا لحاظ رکھنا پڑے گا کہ بنگلہ دیش کی کم از کم 25 فی صد آبادی علانیہ طور پر جماعت اسلامی سے وابستہ ہے اور وہ بہت زیادہ بھارت مخالف ہے۔ اس لیے بنگلہ دیش کا سیاسی منظرنامہ کسی بھی لمحے تبدیل ہوسکتا ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ یہ عناصر جو جماعت اسلامی پر گرفت رکھتے ہیں، بنگلہ دیش میں کب کیا حالات پیدا کردیں‘‘۔

اس وقت کے بھارتی وزیراعظم کا بیان بنگلہ دیشی حکومت کے لئے پالیسی بیان کا درجہ رکھتاتھا ، اس کا مطلب اس کے علاوہ کیاہوسکتاتھا کہ ڈھاکہ حکومت جماعت اسلامی کے خلاف جو کچھ کررہی ہے، اس پر شاباش لیکن ڈومور… ڈومور… ڈومور۔ اگرمزیدلوگوں کو پھانسی کے پھندوں میں نہ لٹکایاگیاتو بنگلہ دیش سے مزیداچھے تعلقات بھی ممکن نہیں ہوں گے۔حالیہ نومبر کے دوسرے عشرے میں بھارتی حکمران بھارتیہ جنتاپارٹی کے رہنما سدارتھ ناتھ سنگھ نے کلکتہ میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ مغربی بنگال کی حکمران ممتابینرجی ریاستی انتخابات جماعت اسلامی بنگلہ دیش کی مدد سے جیت کر حکمران بنی ہیں۔ ان کے خیال میں ممتابینرجی نے بنگلہ دیش کی سرحد سے ملحقہ علاقے سے75 نشستیں حاصل کی ہیں۔

گزشتہ برس بنگلہ دیشی حکومت کے وزیر بے محکمہ سرنجیت سین گپتا نے کہا: ’’ہمیں1972ء کا اصل دستور بحال کرنا چاہیے۔ یاد رہے، اس دستور میں ایک پارٹی سسٹم اور غیرسرکاری اخبارات پر پابندی کا قانون ہے۔ جماعت اسلامی پر ہرسطح پر پابندی لگانی چاہیے اور اس کے رہنماؤں کو موت کی سزا دی جائے‘‘۔ اسی وزیر نے شیخ مجیب کے سابق ساتھی قانون دان اور بنگلہ دیش کے اوّلین وزیرخارجہ ڈاکٹر کمال حسین اور نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر محمد یونس پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہاتھا: ’’یہ لوگ جماعت اسلامی کے رہنماؤں کے لیے سزائے موت کی تائید نہ کرکے قومی جرم کا ارتکاب کررہے ہیں‘‘ (روزنامہ انڈی پنڈنٹ، ڈھاکہ، 12فروری 2013ء )۔

تاہم دوسری طرف بنگلہ دیش کے سابق وزیر بیرسٹر شاہ جہاں عمر، جو ماہر معاشیات، بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے مرکزی رہنما اور سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کے مشیر بھی رہے ہیں، کا کہناہے: ’’میں ذاتی سطح پر جماعت اسلامی کے بارے میں 1971ء کے حوالے سے کوئی اچھی رائے نہیں رکھتا۔ لیکن اس لمحے جب بنگلہ دیش میں دانشوروں اور صحافیوں کی بڑی تعداد جماعت اسلامی پر سنگ باری کر رہی ہے، میں سمجھتا ہوں کہ مجھے سچ کہنے میں بزدلی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔ بہت سے مقامات پر، بہت سے لوگوں سے ملنے کے بعد مجھے یہ کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہے کہ عوامی لیگ خود دہشت گردانہ کارروائیاں کرکے، ان جرائم کا الزام جماعت اسلامی پر دھر رہی ہے۔

مزید یہ کہ ، بے شمار تحریروں اور تصانیف کے مطالعے کے بعد، جب میں (بنگلہ دیش کے حوالے سے) بھارت کے موجودہ طرزِعمل کا جائزہ لیتا ہوں، تو مجھے صاف دکھائی دیتا ہے کہ1971ء میں (مشرقی پاکستان پر مسلط کردہ) جنگ بھارت کی مسلط کردہ تھی، اور جو فی الحقیقت بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ (RAW) کا پراجیکٹ تھا۔ اسی طرح جب میں عوامی لیگ اور ذرائع ابلاغ کو جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے خلاف نفرت انگیز پروپیگنڈا کرتے ہوئے دیکھتا ہوں، تو مجھے اس یلغار کے پسِ پردہ محرکات کو سمجھنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آتی کہ بنگلہ دیش میں فی الواقع جماعت اسلامی ہی وہ منظم قوت ہے، جو بھارت کی بڑھتی ہوئی دھونس اور مداخلت کو روکنے میں اہم کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

گویا کہ1971ء میں ہماری آزادی کے حصول کی جدوجہد کے دشمن، آج ہماری آزادی کے تحفظ کے بہترین محافظ ہیں۔ میرا کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جماعت اسلامی کی سیاسی جدوجہد کی مخالفت کرنے کے باوجود میں محسوس کرتا ہوں کہ اس پارٹی کا وجود ہماری آزادی کے تحفظ کے لیے اشد ضروری ہے۔ بھارت نے ہمارے صحافیوں، سیاست دانوں، قلم کاروں اور فوجیوں کو خرید رکھا ہے، لیکن میں واشگاف کہوں گا کہ وہ جماعت اسلامی کو خریدنے میں ناکام رہا ہے‘‘۔ یادرہے کہ شاہ جہاں عمر نے پاکستان سے علیحدگی کی جدوجہد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیاتھا، ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انھیں بنگلہ دیش کے دوسرے سب سے بڑے قومی اعزاز ’بیراتم‘ سے نوازا گیا۔

آخر میں یہ بھی پڑھ لیجئے کہ پنڈت جواہر لال نہرو کی بیٹی اندرا گاندھی اپنی مجلسوں میں کہا کرتی تھی: ’’میری زندگی کا حسین ترین لمحہ وہ تھا، جب میں نے پاکستان میں مداخلت کر کے بنگلہ دیش بنایا‘‘ اس کے بعد یہ سوال کھل جاتاہے کہ جماعت اسلامی جس نے پاکستان کے دونوں حصوں کو متحد رکھنے کی جدوجہد کی تھی، کے رہنمائوںکوپھانسیوں پر کیوں لٹکایا جارہاہے۔

عبید اللہ عابد

Pakistan

smile please :)

ਮੁੰਡਾ: ਪਿਆਰ ਦਾ ਰਿਸ਼ਤਾ ਦੋ ਇਨਸਾਨਾ ਵਿਚਕਾਰ
ਉਹੀ ਹੁੰਦਾ, ਜੋ ਸੀਮਿੰਟ ਅਤੇ ਰੇਤ ਵਿਚਕਾਰ ਪਾਣੀ ਦਾ ਹੁੰਦਾ
ਮੰਨ ਲਾ
ਮੁੰਡਾ = ਸੀਮਿੰਟ
ਕੁੜੀ = ਰੇਤ
ਪਿਆਰ = ਪਾਣੀ
ਹੁਣ ਜੇ ਸੀਮਿੰਟ ਅਤੇ ਰੇਤ ਨੂੰ ਆਪਸ ਵਿਚ ਮਿਲਾ ਦਿੱਤਾ ਜਾਵੇ
ਤਾਂ ਉਹ ਮਜਬੂਤ ਨਹੀ ਬਣੂਗਾ
ਪਰ ਜੇ ਇਸ ਵਿਚ ਪਾਣੀ ਮਿਲਾ ਦਿੱਤਾ ਜਾਵੇ ਤਾਂ ਕੋਈ
ਇਹਨਾਂ ਨੂੰ ਅਲੱਗ ਨਹੀ ਕਰ ਸਕਦਾ
.
.
ਕੁੜੀ (ਸ਼ਰਮਾ k): ਕਮੀਨਿਆ ਤੂੰ ਸ਼ਕਲ ਤੋਂ ਹੀ ਮਜਦੂਰ
ਲੱਗਦਾ ਆ

Sadda Punjab

दुनिया में सब चीज मिल जाती है,.... केवल ???

पैर की मोच
और
छोटी सोच,
हमें आगे
बढ़ने नहीं देती ।

टुटी कलम
और
औरो से जलन,
खुद का भाग्य
लिखने नहीं देती ।

काम का आलस
और
पैसो का लालच,
हमें महान
बनने नहीं देता ।

अपना मजहब उंचा
और
गैरो का ओछा,
ये सोच हमें इन्सान
बनने नहीं देती ।

दुनिया में सब चीज
मिल जाती है,….
केवल अपनी गलती
नहीं मिलती…

: बुलंदी की उडान पर हो तो ,
जरा सब्र रखो।
परिंदे बताते हैं कि ,
आसमान में ठिकाने नही होते ।।

News

تقریریں بنجر اور دعوے بانجھ ہوتے ہیں خان صاحب....

خان صاحب ہمارے ملک کی حقیقتیں ہمارے پرسپشن سے بالکل مختلف ہیں۔ آپ جانتے ہیں دنیا کے جس ملک کی آبادی 5 کروڑ ہو جائے وہ سرمایہ کاری اور کاروبار کے لیے آئیڈیل ہوجاتا ہے‘ پانچ کروڑ آبادی کے ملک میں مختلف سائز کی کم سے کم پانچ لاکھ کمپنیاں ہونی چاہئیں‘ ان کمپنیوں میں کم سے کم دو کروڑ لوگ ملازم ہونے چاہئیں اور انھیں ملک کے لیے کم سے کم 50 بلین ڈالرز کی مصنوعات سالانہ تیار کرنی چاہئیں اور مہینے میں کم سے کم ایک بلین ڈالر کمانے چاہئیں، وہ ملک تب جا کر اپنے پاؤں پر کھڑا ہو گا‘ دنیا میں آٹھ لاکھ سے زائد ملٹی نیشنل کمپنیاں ہیں‘ یہ 245 ممالک میں کاروبار کے امکانات تلاش کرتی رہتی ہیں‘ یہ ہر اس ملک میں داخل ہوتی ہیں ۔

جس کی آبادی اڑھائی کروڑ سے اوپر ہے‘ پانچ کروڑ آبادی کے ممالک ان کے لیے آئیڈیل ہوتے ہیں جب کہ ہمارے ملک کی آبادی آئیڈیل ممالک سے چار گنا زیادہ یعنی 20 کروڑ ہے‘ یہ دنیا بھر کی کمپنیوں کے لیے آئیڈیل مارکیٹ ہونے چاہیے تھے‘ آپ خود سوچئے جس ملک میں روزانہ 40 کروڑ روٹیوں کی ضرورت پڑتی ہو‘ جس ملک میں اگر فی کس ایک پاؤ گندم کو معیار بنا یا جائے تو اس ملک میں روزانہ 5 کروڑ کلو گندم استعمال ہو گی‘ ہم اگر اس کے ساتھ سبزی‘ دالیں‘ دلیئے‘ گھی‘ مصالحے‘ مرغی اور گوشت کو بھی شامل کر لیں تو ان میں سے ہر جنس روزانہ لاکھوں کلو گرام کی مقدار میں استعمال ہو گی‘ جس میں روزانہ 10 کروڑ لیٹر دودھ درکار ہو‘ جس ملک کا ہر شخص اگر سال میں صرف دو جوڑے کپڑے اور دو جوتے خریدے تو اسے سال میں 40 کروڑ جوڑے کپڑے اور 40 کروڑ جوتے چاہئیں‘ جو لوڈ شیڈنگ کا شکار بھی ہو‘ جسے مزید دس ہزار میگاواٹ بجلی چاہیے۔

جس ملک میں پبلک ٹرانسپورٹ کی سو بڑی کمپنیاں درکار ہوں اور ہر کمپنی اگر سالانہ ایک ارب ڈالر خرچ کرے تو ہماری سفری ضروریات پوری ہوں گی‘جسے موٹروے جیسی تیس بڑی شاہراہیں بھی درکار ہوں‘ جس ملک کے صرف ایک فیصد لوگوں کے پاس ذاتی سواری ہو‘ باقی ننانوے فیصد لوگ موٹر سائیکل سے ذاتی کار کا انتظار کر رہے ہوں‘ جس ملک کی 18فیصد آبادی قدرتی گیس‘پانچ کروڑ لوگ ذاتی گھر اور چالیس فیصد تعلیم‘ چالیس فیصد صاف پانی اور 20فیصد علاج کی سہولت سے محروم ہوں ‘یہ ملک غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے آئیڈیل ترین نہیں ہوگا لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہے‘ غیر ملکی کمپنیاں تو رہیں ایک طرف ملکی کمپنیاں بھی ملک سے فرار ہو رہی ہیں‘ ہمارے 80 فیصد مالدار لوگ ملک سے باہر سیٹ اپ بنا چکے ہیں‘ یہ دوبئی سے لے کر کینیڈا تک شفٹ ہو چکے ہیں‘کیوں؟ آپ کا جواب یقینا کرپشن‘ سرخ فیتہ‘ نااہل حکمران اور دہشت گردی ہو گا‘ یہ وجوہات بھی یقینا موجودہیں لیکن یہ سب مل کر دس فیصد بنتی ہیں‘ نوے فیصد وجہ مختلف ہے اور وہ وجہ آج سے چند برس قبل جنرل الیکٹرک نے تلاش کی تھی‘ یہ دنیا کی 7ویں بڑی کمپنی ہے۔

اس کا ریونیو 140بلین ڈالر سے زائدہے‘ اس نے چند برس قبل پاکستان میں سرمایہ کاری نہ ہونے کی وجوہات تلاش کرائیں‘ اس کے سامنے دو بڑی وجوہات آئیں‘ پہلی وجہ پاکستان میں اعلیٰ پائے کی مینجمنٹ موجود نہیں‘ غیر ملکی کمپنیوں کو تجربہ کار منیجر نہیں ملتے اور دو یہاں پیشہ ور اور ماہر کارکن موجود نہیں ہیں‘ آپ اگر کسی ملک میں آئی فون کا کارخانہ لگاتے ہیں تو آپ کو کم سے کم دو ہزار ورکرز اور 40 منیجرز چاہئیں لیکن آپ کو اگر ملک میں ورکر ملیں گے اور نہ ہی منیجرتو آپ کارخانہ کیسے لگائیں گے‘ ہمارے ملک میں 20 کروڑ لوگ ہیں لیکن صرف ایک کروڑ لوگ کام کرتے ہیں اور ان میں سے بھی تین چوتھائی لوگوں کے پاس مستقل کام نہیں چنانچہ ایک کروڑ لوگ 19 کروڑ لوگوں کا بوجھ کتنی دیر اٹھائیں گے؟ 20 کروڑ لوگوں میں سے صرف دس لاکھ ٹیکس دیتے ہیں‘ گویا دس لاکھ لوگ 19 کروڑ 90 لاکھ لوگوں کا بوجھ اٹھا رہے ہیں اور اس میں جوہری دفاع کے اخراجات بھی شامل ہیں۔

آپ ان دس لاکھ لوگوں کی تعداد میں کتنا اضافہ کر لیں گے؟ آپ اگر انھیں بڑھا کر ایک کروڑ بھی کر لیں آپ تب بھی ملک نہیں چلا سکیں گے‘ آپ کو ملک چلانے کے لیے کم از کم 8 کروڑ کماؤ پوت چاہئیں اور یہ بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ‘ اعلیٰ تربیت یافتہ ہونے چاہئیں اور یہ پورا ٹیکس بھی ادا کریں‘ آپ کو ان کے ساتھ ساتھ کم از کم 5 لاکھ بڑی اور درمیانے درجے کی کمپنیاں بھی چاہئیں‘ خان صاحب آپ یہ سب کچھ کہاں سے لائیں گے؟ آپ کے پاس اگر الہ دین کا چراغ بھی آ جائے آپ تب بھی یہ سب کچھ تین چار پانچ برسوں میں نہیں کر سکیں گے‘ حقیقت تو یہ ہے ہماری پوری قوم‘ہماری ساری حکومتیں صرف پانی سے بجلی پیدا کرنے پر لگ جائیں‘ سارے وسائل پن بجلی میں جھونک دیں تب بھی ہم دس برسوں میں پورے ملک کو بجلی فراہم کرنے کے قابل ہوں گے‘ یہ وہ حقیقت ہے جسے آپ کنٹینر سے خطاب کرتے وقت بھول جاتے ہیں‘ آپ پاکستانیوں کو مزید خواب بیچ کر گھر چلے جاتے ہیں۔

خان صاحب حقیقت تو یہ ہے 25 نومبر 2014ء کی رات کراچی کے ایک گھر سے 26 کمسن بچیاں برآمد ہوئیں‘ یہ بچیاں باجوڑ ایجنسی سے لائی گئی تھیں اور قرضے کی ڈیڑھ دو لاکھ روپے قسط ادا نہ ہونے پر آگے روانہ کر دی گئیں‘ یہ بچیاں کہاں سے آئیں‘ یہ کس کس گھر کی چشم و چراغ تھیں‘ والدین انھیں اپنے زخمی کلیجوں سے الگ کرنے پر کیوں مجبور ہوئے اور ان بچیوں نے دو تین چار برس بعد کس کس کی ہوس کے بستر پر ذبح ہونا تھا؟ آپ شاید یہ نہیں جانتے ہوں گے‘ خان صاحب ملک کے دس بڑے شہروں میں ایسے درجنوں گینگ موجود ہیں جو روٹی‘تعلیم اور شادی کے نام پر سوات‘ آزاد کشمیر اور قبائلی علاقوں سے نابالغ بچیاں لاتے ہیں اور بعد ازاں ان بچیوں کو ملک اور بیرون ملک ہوس کے کاروبار پر لگا دیتے ہیں لیکن وہ ریاست جو تین دن میں ان بچیوں کے والدین کی نشاندہی نہ کر سکی ہو‘ وہ یہ کاروبار کیسے روکے گی؟ خان صاحب آپ کچھ نہ کریں ۔

آپ اگر خیبر پختونخواہ میں ہر بچے کو رجسٹر کرنا شروع کردیں اور یہ قانون بنادیں صوبے کا کوئی بچہ والدین کے بغیر سفر نہیں کرے گا تو آپ کی پوری زندگی اس قانون پر عملدرآمد پر خرچ ہو جائے گی‘ یہ ریاست اگر 26 بچیوں کی حفاظت نہیں کر سکتی‘ خیر پختونخواہ اگربیس تیس لاکھ بچیوں کو نہیں پال سکتا تو پھر آپ پورا ملک کیسے کنٹرول کریں گے‘ ہیومن ٹریفکنگ دنیا کا سنگین ترین جرم ہوتا ہے لیکن یہ جرم معمولی سی توجہ سے روکا جا سکتا ہے مگر ہم اگر ملک میں یہ قانون نہیں بنا سکتے‘ ہم اگر اس پر عمل نہیں کرا سکتے تو ہم ملک کے ڈبل شاہوں اور سو سو بچوں کے قاتلوں کو پھانسی کیسے لگائیں گے؟ ہم فرقہ واریت کو مذہب قرار دینے والے لوگوں کو کیسے روکیں گے؟

خان صاحب سرگودھا میں 12 بچے انکیوبیٹر اور دیگر طبی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے مر گئے‘ تھر میں 128 بچے غذائی قلت کی وجہ سے مر چکے ہیں‘ تھر میں خشک سالی اور قحط کی وجہ سے گزشتہ پانچ برسوں سے لوگ نقل مکانی کر رہے ہیں‘ حکومت اب تک تھر پرایک ارب روپے خرچ کر چکی ہے لیکن تھر کا بحران ختم نہیں ہورہا‘ کیوں؟ کیونکہ دنیا کی کوئی ریاست 15 لاکھ لوگوں کو زندگی بھر نہیں پال سکتی‘ آپ کے صوبے میں 28 لاکھ آئی ڈی پیز چھ ماہ سے دربدر پھر رہے ہیں‘ وفاق اور صوبائی حکومت انھیں نہیں سنبھال سکی‘ آپ اگر سندھ حکومت سے توقع کریں‘ یہ پانچ برسوں سے تھر کے قحط زدہ لوگوں کو پال لے گی تو یہ آپ کی غلط فہمی ہو گی۔

آپ مٹھی میں اسپتال بنا سکتے ہیں‘ آپ وہاں جدید ترین مشین بھی لگا سکتے ہیں لیکن آپ ڈاکٹر‘ پیرا میڈیکل اسٹاف اور ان مشینوں کو چلانے والے لوگ کہاں سے لائیں گے اور آپ اگر لے بھی آئے تو آپ ان لوگوں کو مٹھی میں کتنے دن روک سکیں گے؟ یہ کراچی یا حیدر آباد بھاگ جائیں گے اور ان کے جانے کے بعد مٹھی یا تھر دوبارہ پہلی پوزیشن پر ہوگا اور تھر کے یہ 15لاکھ لوگ اگر بے ہنر رہیں گے‘ یہ کام نہیں کریں گے اور یہ ریاست کو ٹیکس ادا نہیں کریں گے تو ریاست ان کے لیے سڑکیں‘ اسکول‘ اسپتال‘ ٹرانسپورٹ اور صنعتی یونٹ کہاں سے بنائے گی۔

ہم کہتے ہیں تھرکوئلے کی دولت سے مالا مال ہے‘ یہ درست ہے لیکن کیا تھر کے لوگوں یا پاکستانی قوم میں یہ کوئلہ نکالنے کی صلاحیت موجود ہے؟ ہم لوگ تو کوئلہ نکالنے کے لیے بھی چین کے محتاج ہیں چنانچہ پھر تبدیلی کیسے آئے گی اور خان صاحب آپ 14 اگست سے اسلام آباد میں دھرنا دے کر بیٹھے ہیں‘ اس کی سیکیورٹی پر ایک ارب روپے خرچ ہو چکے ہیں‘ آپ نے بھی یقینا ساٹھ ستر کروڑ روپے خرچ کیے ہوں گے‘ یہ رقم کس کھاتے میں جائے گی؟ کیا یہ اس غریب قوم کے کندھوں پر بوجھ نہیں‘ اگر ہاں تو اس کا ذمے دار کون ہے؟

خان صاحب دنیا میں خوابوں کی کاشت آسان ترین کاروبار ہے کیونکہ اس کے لیے بیج درکار ہوتے ہیں اور نہ ہی زمین‘ پانی‘ کھاد اور کسان‘ بس آنکھیں بند کر کے لیٹ جائیں اور خوابوں کی ٹہنیوں پر ہیرے جواہرات لہلہانے لگتے ہیں مگر جب آنکھ کھلتی ہے تو خوابوں کا مسافر بدستور یخ ٹھنڈی زمین پر پڑا ہوتا ہے اوراس کے اوپر وہی بے مہر آسمان تنا ہوتا ہے اور اس کے دائیں بائیں مسائل کا سمندر بھی اسی طرح ٹھاٹھیں مار رہا ہوتا ہے‘ کاش دعوے انڈے دیتے اور تقریروں پر بالیاں اگتیں تو قومیں یہ انڈے‘ یہ بالیاں بیچ کر نئے ملک خرید لیتیں‘ تقریریں بنجر اور دعوے بانجھ ہوتے ہیں خان صاحب یہ قوموں کے مقدر نہیں بدلا کرتے‘پرانی قومیں کام کرنے سے نئی بنا کرتی ہیں اور ہم خان صاحب من حیث القوم سب کچھ کر سکتے ہیں‘ اگر نہیں کر سکتے تو بس کام نہیں کر سکتے۔

Pakistan

सत्संग से क्या लाभ होता है ?

हमारा माना हुआ जो झुठा व्यक्तित्व है, जीव का अहं है उसका पोल खुल जाता है।

जैसे प्याज की पर्तें उतारते जाओ तो भीतर से कुछ ठोस प्याज जैसा निकलेगा नहीं। केवल पर्तें ही पर्तें है।

ऐसे ही जब तक सत्संग नहीं मिलता तब तक ‘मैं’ का ठोसपना दिखता है।

सत्संग मिलते ही ‘मैं’ की पर्तें हटती हैं और अपने सच्चे स्वरूप का दीदार हो जाता है।

जीव मुक्ति का अनुभव कर लेता है।

News

Chief Security Officer & Manager Admin - Punjab Saaf Pani Company

Punjab Saaf Pani Company is seeking for highly educated, very experienced, hardworking, self motivated, determined and well disciplined individuals for the vacant positions such as (Chief Security Officer / Manager Admin). 11 more words

The soulful punjab ..

Bright and beautiful gurdwara for the faithful Sikh community, located adjacent to the grand badshahi mosque in lahore, Pakistan.

instagram.com/ibrahim.azhar

Pakistan