Tags » Punjab

ہاتھی دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور.....

دنیا کے بیشتر ممالک میں حکومت کے زیر انتظام کارپوریشنوں اور سرکاری و نیم سرکاری اداروں میں کلیدی عہدوں پر تعیناتیوں کیلئے آزاد اورخود مختار کمیشن تشکیل دیئے گئے ہیں تاکہ شفاف طریقہ ٔ کار اختیار کر کے موزوں ترین افراد کا انتخاب کیا جاسکے ۔ برطانیہ،آسٹریلیا اورکینیڈاسمیت ترقی یافتہ ممالک میں تو یہ رجحان ہے ہی مگر ہمسایہ ملک بھارت میں بھی اسی نوعیت کا کمیشن تشکیل دیا گیا ہے جس کی سفارشات کی روشنی میں اہم سرکاری عہدوں پر تعیناتیاں کی جاتی ہیں۔ مگر ہمارے ہاں جب بھی ریوڑیاں بانٹتے ہیں تو تقسیم کا عمل اپنوں سے شروع ہو کر اپنوں پر ہی ختم ہوتا ہے۔ سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے اپنے ایک دوست عدنان خواجہ کو او جی ڈی سی ایل کا چیئرمین لگا دیا جس پر بہت شور ہوا تو سپریم کورٹ نے اس تعیناتی کو کالعدم قرار دے دیا۔پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں جب اعلیٰ عدلیہ کی جانب سے میرٹ کے برعکس تقرریوں پر اعتراض کیا جا رہا تھا تو مسلم لیگ (ن) کے رہنماء خواجہ آصف آگے بڑھےاور انہوں نے سپریم کورٹ میں ایک در خواست دائر کی جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ چونکہ بیشتر ممالک میں اہم عہدوں پر تعیناتیوں کیلئے افراد کا انتخاب آزاد اور خود مختار کمیشن کرتا ہے لہٰذا حکومت کو پابند کیا جائے کہ سرکاری اداروں کے سربراہوں کا تقرر کرنے کیلئے یہی طریقہ اختیار کرے۔ چیف جسٹس افتخار چوہدری کی سربراہی میں ایک تین رُکنی بنچ نے اس موقف کو درست تسلیم کرتے ہوئے حکم جاری کردیا کہ تمام سرکاری کارپوریشنوں اور خود مختار اداروں کے سربراہوں کے تقرر کیلئے ایک بااختیار کمیشن بنایا جائے۔

اس دوران اسمبلیوں کی مدت ختم ہو گئی ،عام انتخابات ہوئے اور مسلم لیگ (ن) برسر اقتدار آ گئی۔ نواز شریف نے آغاز میں ہی جو تقرریاں کیں ،انہیں سپریم کورٹ نے کالعدم قرار دے دیا۔اس صورتحال میں پیپلز پارٹی کی طرح واویلا کرنےاور اعلیٰ عدالتوں کی صریحاً حکم عدولی کے بجائے وہ پالیسی اختیار کی جس سے سانپ بھی مرجائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں چار ماہ کی تاخیر کے بعد ایک تین رُکنی کمیشن تشکیل دیا گیا اور پوری کوشش کی گئی کہ یہ کمیشن ان اہم عہدوں کیلئے موزوں افراد کاانتخاب کرنے میں ناکام رہے۔ وفاقی ٹیکس محتسب چوہدری عبد الرئوف کی سربراہی میں تشکیل دیئے گئے اس کمیشن میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین شمس قاسم لاکھا اور ڈاکٹر اعجاز نبی شامل تھے۔ حکومت کی بدنیتی کا پہلا واضح ثبوت تو یہ ہے کہ ان افراد کو ایک اضافی ذمہ داری سونپ دی گئی جنہیں سر کھ جانے کی فرصت نہیں ہوتی۔ اگر نیت صاف ہوتی تو جز وقتی افراد کے بجائے کل وقتی افراد کا انتخاب کیا جاتا۔طے یہ پایا کہ اسٹیبلشمنٹ ڈویثرن کی جانب سے اس کمیشن کو سیکریٹریٹ سمیت تمام سہولتیں فراہم کی جائیں گی لیکن سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ ندیم آصف نے اس کمیشن کو درخور اعتناء نہ سمجھا۔ کمیشن کا دائرہ کار بہت محدود اور اختیارات نہ ہونے کے برابر تھے۔ انہیں کسی عہدے کیلئے اشتہار جاری کرنے کا اختیار تھا نہ درخواستیں طلب کرنے کی اجازت۔ متعلقہ محکمے وزارتوں کے توسط سے اشتہارات جاری کرتے اور موصول ہونے والی تمام درخواستیں ہیومین ریسورس کنسلٹنٹ فرم کے حوالے کر دی جاتیں۔ طرفہ تماشہ یہ کہ کمیشن کی تشکیل بعد میں ہوئی مگر کنسلٹنٹ کی خدمات پہلے حاصل کر لی گئیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ جن 58اہم عہدوں پر تعیناتیاں کرنی تھیں ان میں سے بیشتر کے اشتہارات پہلے ہی شائع ہوچکے تھے۔ اشتہارات میں قابلیت و اہلیت اور تجربے سے متعلق دی گئی شرائط نہایت بے معنی تھیں، مثال کے طور پر مینیجنگ ڈائریکٹر اور چیئرمین کے لئے ایک ہی معیار رکھا گیا۔ پھر من پسند افراد کو نوازنے کے لئے اہلیت و قابلیت کے پیمانے تبدیل بھی ہوتے رہے مثال کے طور پر 9,10اکتوبر 2013ء کو چیئرمین/ایم ڈی پی ٹی وی کے لئے اشتہار جاری ہوا تو ماس کمیونیکیشن یا جرنلزم کی ڈگری کے حامل افراد سے درخواستیں طلب کی گئیں مگر چند دن بعد ایک ترمیمی اشتہار کے ذریعے ایم ایس سی انجینئرنگ ،ایم بی اے اور ایم پی اے والوں کو بھی اہل قرار دے دیا گیا۔ چوہدری عبد الرئوف کی سربراہی میں تشکیل دیئے گئے کمیشن کے پاس صرف یہ اختیار تھا کہ وہ شارٹ لسٹ کئے گئے امیدواروں کا انٹرویو کرے اور اپنی سفارشات وزیراعظم کو بھجوائے۔ اس پیچیدہ طریقہ کار کے باوجود ابتدائی تین اجلاسوں میں کمیشن نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اٹھارٹی کے چیئرمین،ممبر ٹیکنیکل اور ممبر فنانس،ایم ڈی پی ٹی وی اور چیئرمین پاکستان اسٹیل مل کا انتخاب کر لیا۔ مگر اس کے بعد حکومت کی مداخلت اور سفارشات کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ جب اس کمیشن نے چہیتوں کو نوازنے کے عمل میں شریک ہونے سے انکار کردیا تو سوچے سمجھے طریقے کے تحت اس کمیشن کے پر کاٹ کر اسے عضو معطل بنا دیا گیا۔

جب سپریم کورٹ نے از خود نوٹس لیا اور حکومت سے پوچھا کہ ایک سال گزرنے کے باوجود ان پبلک سیکٹر آرگنائزیشنوں کے سربراہوں کا تقرر کیوں نہیں کیا گیا تو اٹارنی جنرل کے ذریعے بتایا گیا کہ عدالتی فیصلے کی روشنی میں کمیشن تو بنادیا گیا ہے لیکن اگر اس فیصلے پر نظر ثانی نہ کی گئی تو آئندہ کئی برس ان اداروں کے سربراہان کا تقرر نہیں کیا جا سکے گا۔

گویا سابقہ دور حکومت میں خواجہ آصف کی پٹیشن پر سپریم کورٹ کے جس فیصلے کو مسلم لیگ (ن) نے اپنی فتح قرار دیا تھا ،اپنی حکومت آنے پر اسی فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی گئی۔سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں ایک تین رکنی بنچ نے نظر ثانی اپیل کی سماعت کرتے ہوئے محولہ فیصلے کو چند روز قبل کالعدم قرار دے دیا اور حکومت کو پرانے طریقہ ء کار کے مطابق تقرریاں کرنے کی اجازت دے دی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جسٹس اعجاز چوہدری اور جسٹس گلزار جنہوں نے حالیہ چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں کمیشن بنانے کے فیصلے کو کالعدم قراردیا، انہی جج صاحبان نے ہی خواجہ آصف کی پٹیشن پر 2013ء میں فیصلہ دیا تھا۔ فرق صرف یہ تھا کہ تب افتخار چوہدری چیف جسٹس کی حیثیت سے بنچ کے سربراہ تھے اور اب جسٹس ناصر الملک۔ بہر حال مجھے امید ہے کہ حکومت کے زیر انتظام وہ 55ادارے جو گزشتہ ڈیڑھ برس سے سربراہان کے بغیر چل رہے تھے، ان میں من پسند تعیناتیوں کی سمریاں پہلے سے ہی تیار ہوں گی اور وزیر اعظم بلا خوف و خطر ان پر دستخط کرسکیں گے۔تاہم یہ صورتحال عمران خان سمیت ان تمام اپوزیشن رہنمائوں کیلئے نوشتہء دیوار ہے جو آج بلند بانگ دعوے کر رہے ہیں ۔کہیں ایسا نہ ہو کہ کل جب وہ برسراقتدار آئیں،آٹے دال کا بھائو معلوم ہو تو ان کی ترجیحات بدل جائیں اور وہ اپنے ہی فیصلوں پرنظر ثانی کراتے پھریں۔ سچ کہا ہے کسی نے، سیاست میں کوئی بات حرف آخر نہیں ہوتی یا پھریوں کہہ لیں کہ سچ مچ ہاتھی کے دانت کھانے کے اور ہوتے ہیں دکھانے کے اور۔

محمد بلال غوری

بہ شکریہ روزنامہ جنگ

Pakistan

Piti Daroli - Official Website of Pind Daroli, Patiala

Village Daroli (Darouli) is a small village situated at Samana-Patiala (20 km away from Patiala & 14 km away from Samana). The village is also known as… 55 more words

#Piti

Syria - Save the Children

Syria: The Weeping Child of Our Conscience

Pakistan

اُس کھیت کے ہر خوشۂ گندم کو جلا دو....اوریا مقبول جان

عالمِ بالا میں آج اقبال کس قدر سکھ کا سانس لے رہے ہوں گے کہ وہ2014ء میں پاکستان میں موجود نہیں تھے۔ ورنہ ان کی اس نظم پر ان پر امنِ عامہ خراب کرنے، لوگوں کو جلاؤ گھیراؤ پر اکسانے اور منتخب جمہوری حکومت کے خلاف سازش کرنے کے الزامات کے تحت دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج ہو چکا ہوتا۔

وزراء پریس کانفرنسیں کر تے۔ تجزیہ نگار اور اینکرپرسن رات گئے ٹیلی ویژن اسکرینوں پر بیٹھے تبصرے کرتے، اس ملک میں جو غم و غصہ ہے، نفرت ہے، حکومت کے خلاف جو ہنگامے ہیں اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ علامہ اقبال نے یہ نظم لکھ کر لوگوں کو اکسایا ہے۔ ایف ائی آر میں یہ اشعار تو خاص طور پر درج کیے جاتے ۔

اٹھو! میری دنیا کے غریبوں کو جگا دو

کاخِ امراء کے در و دیوار ہلا دو

جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روزی

اس کھیت کے ہر خوشۂ گندم کو جلا دو

دنیا بھر کا مزا حمتی ادب اسی غم و غصے سے بھرا ہوا ہے اور یہ وہ ادب ہے جو دنیا بھر میں تبدیلی اور انقلاب کا راستہ متعین کرتا ہے۔ دنیا کا ہر شعلہ بیان مقرر اسی لہجے میں گفتگو کرتا ہے جو لہجہ لوگوں کے دلوں کی آواز ہوتا ہے۔ اگر لوگوں کی زندگی عیش و آرام اور سکون و اطمینان سے گزر رہی ہو تو انھیں دھیمے لہجے اور ہنس مکھ باتیں کرنے والے پسند آتے ہیں۔ لیکن اگر لوگوں کے دلوں میں اپنی محرومیوں کی وجہ سے نفرتوں کے طوفان ابل رہے ہوں تو پھر وہی مقر ر زیادہ مقبول ہوتا ہے ۔

جس کا لہجہ تلخ اور زورِ بیان شعلے اگل رہا ہو۔ وہی تقریر اور شاعری عوامی پذیرائی حاصل کرتی ہے جو لوگوں کے جذبات کی عکاس ہو۔ صاحبانِ اقتدار ایسے شاعر اور ایسے مقرر سے خوفزدہ ہوتے ہیں اور اسی کو اپنی بادشاہت کے لیے خطرہ تصور کرتے ہیں، جس کے لہجے کی گونج لوگوں کو اپنی آواز محسوس ہو اور جو ان کی نفرتوں کو اپنے شعروں اور تقریر کے لہجے میں سمو دے۔ میر تقی میر سے لے کر آج کے دور تک شاعری کے محاسن اور شعری تنوع کے لحاظ سے اگر اُردو شاعری کی تاریخ مرتب کی جائے تو نقاّد اور شعری ذوق رکھنے والے حبیب جالب کا ذکر تک نہیں کرتے، لیکن جالب کی پذیرائی کا یہ عالم ہے کہ وہ عام انسانوں کا مقبول ترین شاعر ہے۔ جب وہ اپنی خوبصورت آواز میں یہ اشعار پڑھتا تو لوگ جھوم اٹھتے۔

کھیت وڈیروں سے لے لو۔ ملیں لیٹروں سے لے لو

ملک اندھیروں سے لے لو۔ رہے نہ کوئی عالی جاہ

پاکستان کا مطلب کیا۔ لا الہٰ الا اللہ

جالب تو خود ایک سیاسی جدوجہد کا نقیب بھی تھا۔ ایوب خان کے خلاف مادرِ ملت کا پرچم بردار ’’ایسے دستور کو، صبح بے نور کو، میں نہیں مانتا، میں نے جانتا‘‘ گاتا ہوا۔ ذولفقار علی بھٹو کی جمہوری آمریت کے تشدد کے خلاف ’’لاڑکانے چلو، ورنہ تھانے چلو‘‘ پڑھتا ہوا، اور ضیاء الحق کے مارشل لاء کے سامنے ’’ظلمت کو ضیاء کیا کہنا‘‘ لہک لہک کر گاتا ہوا۔ اس کے دور میں کئی شاعر ادیب زندہ تھے اور خوبصورت شاعری بھی کرتے تھے، لیکن جیل کی سلاخیں اور پولیس کی لاٹھیاں صرف اور صرف حبیب جالب کا مقدر بنیں۔ اس لیے کہ حکمران طبقوں کو خوب اندازہ ہوتا ہے کہ کون سی آواز ان کے لیے خطرہ ہے۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ کی1970ء کی کسان کانفرنس میں عبدالحمید بھاشانی کی صدارت میں جب فیض احمد فیض نے یہ اشعار پڑھے تو حکومت کے ایوانوں میں ہنگامہ صرف انھی اشعار پر برپا ہوا۔ حکمرانوں کا غصہ کسی دوسرے مقرر کی تقریر پر

نہ نکلا بلکہ فیض احمد فیض مطعون ٹھہرے

ہر اک اوللامر کو صدا دو۔ کہ اپنی فردِ عمل سنبھالے

اٹھے گا جب جامِ سرفروشاں۔ پڑیں گے دار و رسن کے لالے

کوئی نہیں ہو گا کہ جو بچالے، جزا سزا سب یہیں پہ ہو گی

یہیں سے اٹھے گا شورِ محشر، یہیں پہ روزِ حساب ہو گا

اور پھر اس شعر نے تو وہاں آگ لگا دی۔ لوگوں کے دلوں میں یہ شعر ایسا سمایا کہ اس کے بعد آنے والے سالوں میں لوگوں کے دلوں کی دھڑکن بنا رہا۔

اے خاکِ نشینوں اٹھ بیٹھو، وہ وقت قریب آ پہنچا ہے

جب تخت گرائے جائیں گے، جب تاج اچھالے جائیں گے

سارے حکمران ایک کمزور سے شاعر یا ایک عام سے مقرر سے اس قدر خوفزدہ کیوں ہوتے ہیں؟ کیا ایک چھوٹے سے گھر میں رہنے والا، بے سر و سامان شاعر لاکھوں لوگوں کو آگ لگانے، جلانے، گھیراؤ کرنے پر مجبور کر سکتا ہے؟ کیا ایک شعلہ بیان مقرر لوگوں کو کسی ہنگامہ آرائی پر اُکسا سکتا ہے؟ یہ ہے وہ بنیادی سوال جو آج تک کسی صاحبِ اقتدار کی عقل میں نہیں آیا۔ لوگوں کو اگر کسی اسپتال سے فائدہ پہنچتا ہو، بیماروں کو وہاں سے شفا میسر ہو تو وہ اسے آگ نہیں لگائیں گے، بلکہ آگ لگانے والوں کو بھی روکیں گے۔ جس تھانے، کچہری اور سرکاری دفتر سے لوگ روز دھتکار ے جاتے ہوں، انھیں دھکے اور ٹھڈے پڑتے ہوں۔

جہاں ٹاؤٹ اور رشوت خور ان کی جیبوں سے جمع پونجی تک نکال لیتے ہوں۔ تو ایسے میں ان لوگوں کے دلوں میں ایک ہی خواہش آگ بن کر کھول رہی ہوتی ہے کہ کوئی اس دفتر کو آگ لگا دے جہاں روز میرے جیسے عام آدمی کی تذلیل ہوتی ہے۔ اس کی نفرت جب کسی شاعر کی زبان میں ڈھلتی ہے یا کسی مقرر کے لہجے میں گونجتی ہے تو پھر اس جیسے ہزاروں بلکہ لاکھوں بھوکے، ننگے اور اس ظالمانہ نظام تلے کچلے ہوئے لوگ ایک ایسا ہجوم بن جاتے ہیں۔

ایسا ہجوم جس نے تاریخ میں ایسے ایسے طوفان اٹھائے ہیں کہ لکھتے ہوئے قلم کانپ اٹھتا ہے۔ کیا صرف روسو اور والٹیئر کی تحریروں نے وہاں لاکھوں لوگوں کے گلے کٹوائے تھے؟ ہرگزنہیں! بلکہ حقیقت یہ ہے کہ غربت و افلاس اور بے روزگاری نے لوگوں کے ہاتھ میں وہ تیز دھار چھرے پکڑا دیے تھے جن کو چلانے والے ہاتھ غصے اور نفرت سے ابل رہے تھے۔ شاعر اور ادیب لوگ تو بس ان جذبوں کی زبان بن جایا کرتے ہیں اور حکمرانوں کو صرف انھی کی زبانیں خاموش کرنے سے غرض ہوتی ہے۔ وہ یہی تصور کر لیتے ہیں کہ اگر یہ زبان خاموش ہو گئی تو سب جگہ چین ہو جائے گا۔

گزشتہ دنوں فیروز پور روڈ لاہور کی ٹریڈ ایسوسی ایشن کے ایک اخباری اشتہا ر نے مجھے چونکا دیا۔ شیخ رشید کے’’ نکلو، مرو، مارو، جلاؤ گھیراؤ‘‘ کے الفاظ کے جواب میں چھپا تھا، پاکستان کے تاجر، صنعت کار، پاکستان کے دشمنوں کے خلاف سیہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہوں گے‘‘ کاش یہ سب عالیٰ دماغ لوگ تاریخ پڑھ لیتے یا پھر وقت کی نبض ہی دیکھ لیتے۔ کیا کبھی تاریخ میں ستائے ہوئے عوام کے سامنے ستانے والوں کا اتحاد بھی کامیاب ہوا ہے۔ لوگوں کے ہجوم کے سامنے یہ سب خس و خاشاک کی طرح بہہ جاتے ہیں۔ دنیا بھر میں تاجر، صنعت کا ر یا سرمایہ دار طبقات ہمیشہ ریاست کی طاقت اور پالتو غنڈوں کے ذریعے اپنی لوٹ مار سے بنائی ہوئی دولت کا تحفظ کرتے رہے ہیں۔

لوگ اس اسپتال، اسکول، سرکاری دفتر، مل اور کارخانے کی حفاظت کرتے ہیں جو ان کے دکھوں کا مداوا ہو، جہاں ان کی عزتِ نفس مجروح نہ ہو اور جو انھیں زندگی کی سہولیات مہیا کرتا ہو۔ ماہرینِ عمرانیات کہتے ہیں کہ ریاست سے محبت اس کے روّیے سے پیدا ہوتی ہے۔ تین اہم کام ہیں جو ریاست کرے تو اس سے محبت پیدا ہوتی ہے۔

بیروز گار ہوں تو روز گار فراہم کرے، ظلم ہو تو انصاف فراہم کرے اور بیمار ہوں تو علاج کروائے ۔ لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ آپ بے روز گار ہوں اور اگر گھر والے مدد کو موجود نہ ہوں تو آپ خودکشی کر سکتے ہیں، آپ کا رشتے دار قتل ہو جائے تو تھانے میں الٹا آپ پر کیس بن جا تا ہے، چار بھائی ہوں تو بدلہ لے لیں گے، آپ بیمار ہوں تو گھر والوں کے پاس علاج کے پیسے ہیں تو ٹھیک ورنہ آپ اپنے پیاروں کی لاش اسپتال سے لائیں گے۔

ایسے میں لوگوں کی محبتیں ریاست کے بجائے گھر کی جانب منتقل ہو جاتی ہیں۔ کیونکہ مصیبت میں آپ کے کام گھر آتا ہے حکومت نہیں۔ ایسے میں لوگ مین ہول کا ڈھکن، اسٹریٹ لائٹ کا لیمپ یا دفتر کی اسٹیشنری چرا کر گھر لاتے ہیں کہ کل اس گھر نے ہی تو ان کا ساتھ دینا ہے دوسری جانب حکومت و ریاست کا ہر ادارہ لوگوں کی نفرت، غصے اور ہیجان کا نشانہ بن جاتا ہے۔

اوریا مقبول جان

Pakistan