Tags » Punjab

سلامتی کونسل کیلئے بھارتی خواب اور اوباما کی حمایت؟....

’’ہم تو ابھی تک دہشت گردی ،داخلی انتشار ، معیشت اور قومی بقاء کے بحرانوں سے نکلنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں کہ ہمارے اتحادی ملک امریکہ کے ڈیمو کریٹ صدر اوباما نے ہمارے پڑوسی اور تاریخی مخالف بھارت کے ساتھ تعلقات کو یکسرنئی قربت اور نئی سمت دینے کا اعلان کرتے ہوئے سول نیوکلیئر تعاون، جدید ہتھیاروں کی بھارت میں مشترکہ مینو فیکچرنگ ،امریکی سرمایہ کاری اور دونوں ممالک کی تجارت میں کئی گنا اضافہ کے سلسلے میں معاہدوں ،اقدامات اور اعلانات کا ذکر کیا ہے۔

اسکے ساتھ ساتھ بھارت کو ایک عالمی امیج اور بالا دستی کا تاثر دینے کیلئے صدر اوباما نے اقوام متحدہ کی 15 رکنی سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت کیلئے امریکی حمایت کا وعدہ بھی دہرایا ہے۔ جی ہاں وہی بھارت جو سالہا سال تک امریکہ کا مخالف ،غیر جانبدار ممالک کا قائد اور روس کا حامی رہا ہے اور تمام عالمی فورموں بشمول اقوام متحدہ میں امریکی تجاویز اور موقف کیخلاف کھل کر ووٹ دیتا رہا ہے جو امریکہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو تعصب تشدد اور مذہبی منافرت پھیلانے کی وجہ سے امریکہ کا ویزا دینے سے انکاری رہا ہے۔

آج وہی امریکہ اور بھارت بغل گیر ہو کر اس صدی کے نئے عالمی اتحادی بننے کا اعلان کر رہے ہیں، مگر عالمی امن اور استحکام کے مقصد کیلئے قائم ہونیوالے بھارت اور امریکہ کے اس ’’فطری اتحاد‘‘ کے بارے میں متعدد سوالات جواب اور توجہ طلب ہیں، آخر بھارت میں امریکی تعاون و اشتراک سے بنائے جانیوالے جدید ہتھیار اور ڈرون کہاں اور کس کیخلاف استعمال ہوں گے؟ کیا مشرق وسطی کے بحران زدہ ممالک میں بھی بھارت کو رول دیا جا رہا ہے اور مشرق وسطیٰ کے ممالک میں عدم استحکام ،تیل اور قدرتی وسائل کی سیاست میں بھی بھارت امریکہ کے اتحادی کا رول ادا کریگا؟ بھارت نے تو سول نیوکلیئر تعاون کیلئے مطلوبہ شرائط بھی پوری نہیں کیں، مگر امریکہ نے پھر بھی سول نیوکلیئر تعاون کے معاہدے پر اپنا موقف بدلتے ہوئے دستخط کیوں کر دیئے؟

اس طرح انٹلیکچول پراپرٹی کے تحفظ کیلئے بھی قوانین میں تبدیلی کا وعدہ بھارت نے پورا نہیں کیا مگر امریکہ ان پہلوئوں کو نظر انداز کر کے صدر اوباما بھارت کو یہ مراعات کیوں فراہم کر رہا ہے؟ ڈیمو کریٹ امریکی صدر اوباما اپنی صدارت کے بقیہ دو سال کے عرصے میں بھارت، امریکہ تعاون کے کتنے مقاصد حاصل کر سکیں گے؟ کیا صدر اوباما کے اس مشن کو پورا کرنے میں ری پبلکن اکثریت کی حامل امریکی کانگریس کتنا تعاون کرے گی اور مطلوبہ منظوری دے گی؟ امریکی صدارت کیلئے ڈیموکریٹ اور ری پبلکن پارٹیوں کی انتخابی سیاست اور مخالفت کے اثرات کیا ہونگے؟ کیا صدر اوباما کے بعد نیا امریکی صدر بھی اس امریکی پالیسی کو جاری رکھے گا؟ بہرحال یہ صورتحال پاکستان اور مشرق و سطیٰ اور خلیجی ممالک کیلئے تشویش اور فوری توجہ کے لائق ہے۔

جبکہ بھارت کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت کیلئے امریکی حمایت کا اعلان بھی عالمی برادری اور اقوام متحدہ کیلئے متعدد سوالات کو جنم دیتا ہے کیونکہ بھارت کو سلامتی کونسل کی مستقل نشست دینے کیلئے نہ صرف اقوام متحدہ کے منشور اور ڈھانچہ میں تبدیلی کرنا ہو گی جو کئی وجوہات کی بناء پر ممکن نظر نہیں آتا۔

اقوام متحدہ کے منشور اور قواعد و ضوابط میں نہ تو سلامتی کونسل کی رکنیت کی تعداد میں توسیع کی کوئی گنجائش ہے بلکہ مستقل اراکین سلامتی کونسل کی تعداد پانچ مقرر ہے اور اقوام متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 23 میں جن پانچ ممالک کے نام ہیں ان میں بھارت کا نام شامل نہیں ہے۔ لہٰذا اقوام متحدہ کے قواعد و ضوابط میں ترمیم اور تبدیلی کیلئے اقوام متحدہ کے موجودہ 193 رکن،ممالک پر مشتمل جنرل اسمبلی اتفاق رائے سے فیصلہ کرے گا ۔عالمی طاقت امریکہ کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ’’ایک ملک۔ایک ووٹ‘‘ کے اصول کے تحت صرف ایک ووٹ حاصل ہو گا

یہ فیصلہ 193 ممالک متفقہ طور پر کام کرینگے اور یہ اسلئے قابل عمل نہیں کیونکہ اقوام متحدہ کے ضوابط میں تبدیلی و ترمیم کیلئے 193 ممالک کا اتفاق رائے ممکن نظر نہیں آتا۔

سلامتی کونسل کی توسیع کے ایشو پر اقوام متحدہ میں پہلے بھی سفارت کاری، توسیع کے مختلف فارمولے اور علاقائی حقائق زیر بحث رہے ہیں، ہمارے ذہین سابق سفیر منیر اکرم کی ٹیم میں موجودہ سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری اور دیگر سفارتی افسران کی ٹیم نےاقوام متحدہ کے ایوانوں میں اپنی محنت اور ذہانت سے اس توسیع کی مہم کا راستہ روک کر اپنے ہم خیال اور ہم موقف ممالک سے داد تحسین حاصل کی تھی، اس دور میں یہ حقیقت بھی اجاگر ہو کر سامنے آئی کہ سلامتی کونسل کی توسیع کی صورت میں علاقائی تضادات اور توقعات اور خواہشات کچھ یوں ہیں کہ بھارت کے مقابلے میں ایشیا سے جاپان،یورپ میں جرمنی کے مقابلے میں اٹلی ، افریقہ میں جنوبی افریقہ کے مقابلے میں نائیجریا اور لاطینی امریکہ میں برازیل کے مقابلے میں میکسیکو سلامتی کونسل کی نئی نشستوں پر امیدوار اور دعویدار ہوں گے۔جس سے علاقائی رقابتیں پیدا ہوں گی، پاکستانی سفارت کاروں نے اس صورتحال کا نوٹس لیکر سفارت کاری کے ذریعے اس توسیع کو کامیابی سے روک دیا۔

آج بھی یہ علاقائی حقائق بدستور موجود ہیں۔ بھارت کو سلامتی کونسل کی مستقل نشست دینے کی صورت میں معاشی عالمی طاقت جاپان پر کیا گزرے گی؟ کیا چین اپنے خلاف امریکی تعاون سے آگے بڑھتے ہوئے ہمسایہ بھارت کو مستقل رکن کے طور پر ’’ویٹو پاور‘‘ کو شیئر کرنا برداشت کر لے گا ؟

کیا سلامتی کونسل کے موجودہ مستقل پانچ رکنی یعنی امریکہ، برطانیہ، فرانس، روس اور چین جو اپنے ’’ویٹو پاور‘‘ کے باعث سلامتی کونسل کے فیصلے اور قراردادوں کو منظور ہونے سے روک کر مسترد کر سکتے ہیں وہ یہ منفرد عالمی اختیار بھارت اور دیگر ممالک کے ساتھ شیئر کر کے اپنی اس قوت کو تحلیل یا کم کرنے کو تیار ہیں ؟

بھارت کشمیر میں رائے شماری اور کشمیریوں کو حقوق دینے کے بارے میں سلامتی کونسل کا فیصلہ اور قرارداد تسلیم کر چکا ہے مگر اس قرارداد پر عمل کرنے سے انکار اور خلاف ورزی کا مرتکب ہے اور کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتا ہے۔ ماضی کا ریکارڈ گواہ ہے کہ امریکہ نے بھی کشمیر پر اس قرارداد کی حمایت میں ووٹ دیا تھا مگر وقت کی تبدیلیوں اور ہمارے حکمرانوں کی کیساتھ ساتھ امریکہ اور دنیا نے قرار داد کی موجودگی میں اپنا رویہ اور موقف بدل لیا۔ مگر ایک حقیقت اور ایک اصول آج بھی یہ ہے کہ کیا سلامتی کونسل کی قرارداد کو تسلیم کر کے اسکی خلاف ورزی کرنے والا بھارت دنیا کے دوسرے ممالک کو سیکورٹی کونسل کی منظور کی جانیوالی قراردادوں پر عمل کرنے کا درس کیسے دے سکتا ہے۔ وہ سلامتی کونسل کی مستقل نشست پر بیٹھ کر اس عمل کا حصہ کیسے بن سکتا ہے ؟ پاکستان اس مسئلہ کو عالمی فورم میں اٹھا کر عالمی برادری کو آزمائش میں ڈال سکتا ہے.

اگر سلامتی کونسل میں توسیع اور مستقل رکنیت میں اضافہ کا باب کھولا گیا تو پھر نئی مستقل نشست کیلئے معیار اہلیت کیا ہوگا ؟ برطانیہ اور فرانس دوسری جنگ عظیم کے خاتمے پر اس دور کے ماحول اور زمینی حقائق کی بنیاد پر سیکورٹی کونسل کے لئے مستقل رکن تھے آج یہ دونوں ممالک امن و سلامتی اور جنگ کے معاملات پر وہ قوت و اختیار اور صلاحیت نہیں رکھتے ۔سوویت یونین بھی ٹوٹ کر اب مختلف ممالک میں تقسیم ہو کر روس رہ گیا ہے۔ کیا امریکہ بھارت کی خاطر یہ پنڈورا باکس کھولنے کو تیار ہے؟

اگر یہ تلخ حقیقت مان بھی لی جائے کہ عالمی طاقت کے امریکہ بھارت کے لئے ترجیح اور طاقت اور اثر کے ذریعے سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت کیلئے راہ ہموار کرے گا اور کسی معیار اہلیت کے بغیر بھی حمایت کرے گا تو یہ مسئلہ صرف جنوبی ایشیا میں پاکستان اور بھارت کا دو طرفہ معاملہ نہیں بلکہ دنیا کی دیگر علاقائی طاقتوں کا بھی علاقائی اور عالمی مسئلہ ہو گا ؟ اس کرسی پر بیٹھ کر اگر بھارت پاکستان کے ساتھ برصغیر کی تقسیم کا قرض چکانے کا خواب دیکھ سکتا ہے تو ہر بر اعظم اور ہر علاقے میں یہ کیفیت یہ ماحول یہ ایسی علاقائی طاقتیں موجود ہیں جو سلامتی کونسل کی مستقل نشست کی خواہشمند ہیں۔ لہٰذا سلامتی کونسل کی مستقل نشست بھارت کو دلانے کی امریکی حمایت کے باوجود بھارت کی راہ میں ابھی بہت سی مشکلات، مسائل اور مراحل باقی ہیں۔

عظیم ایم میاں

“بہ شکریہ روزنامہ “جنگ

Pakistan

Criteria Angels Look In Startup Selection Procedure

If you are a startup then chances are you would definitely think of approaching angel investors like Singapore Innovation League asking for financial and managerial help. 209 more words

Clone

Lala Lajpat Rai

Oct 30, 1928, past his 60’s, with an imposing personality, he stood on the stage at Lahore, and roared in a defiant voice.

“Every blow on our bodies this afternoon is like a nail driven into the coffin of British imperialism.”

2,093 more words
Indian History

پرویز مشرف کا دعویٰ اور زمینی حقائق....


سابق صدر اور آرمی چیف پرویز مشرف کا مستقبل کیا ہے؟ اس بارے میں اَن گنت قیاس کئے جا سکتے ہیں، مگر انہوں نے حال ہی میں ایک چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے بڑی دلیری کے ساتھ یہ کہہ دیا ہے کہ حکومت کو پتہ ہونا چاہئے کہ میری فوج میں کیا اہمیت ہے، اس لئے مجھے معمولی آدمی نہ سمجھا جائے۔ کیا عجیب صورت حال ہے کہ ایک طرف پرویز مشرف سیاست دان بن کر اپنی جماعت چلا رہے ہیں اور دوسری طرف وہ فوج کی چھتری تلے بھی رہنا چاہتے ہیں۔

Pakistan

فضائل جہالت....وسعت اللہ خان

یہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی ان پڑھ شخص جاہل بھی ہو۔جاہل ہونے کے لیے تعلیم یافتہ ہونا ضروری ہے۔عمرو ابن ِہشام قریش میں ابو الحکم ( دانش کا باپ ) کے لقب سے جانا جاتا تھا۔مگر اسی ابوالحکم نے اپنی کور چشمی کے سبب دربارِ رسول سے ابو جہل کا لقب پایا۔ایسا ہٹیلا کہ مرتے مرتے بھی کہہ مرا کہ میرا سر گردن سمیت کاٹنا تاکہ دیگر سروں کے درمیان ممتاز رہے۔ ان پڑھ لاعلم ہوتا ہے مگر حصولِ علم سے لاعلمی کا مداوا کرلیتا ہے۔

جاہل باعلم ہوتا ہے مگر اس کا باعلم ہونا اس سمیت کسی کے کام نہیں آتا۔ان پڑھ جانتا ہے کہ وہ کچھ نہیں جانتا۔جاہل سمجھتا ہے کہ وہ سب جانتا ہے۔علم حلم پیدا کرتا ہے۔جہل غرورِ علم پیدا کرتا ہے۔جاہل بصارت کو بصیرت سمجھتا ہے اور عالم بصیرت کو بصارت بنا دیتا ہے۔ ان پڑھ اکبرِ اعظم ہوسکتا ہے مگر جاہل ترقی کرکے جاہلِ اعظم ہوجاتا ہے۔ان پڑھ اگر پڑھ لکھ جائے تو امکان ہے کہ وہ دوسروں کو بھی اس راہ پر لگادے۔لیکن جاہل کو پیر رکھنے کی بھی جگہ مل جائے تو وہ علم کی ہری بھری کھیتی اجاڑنے کے لیے بہت ہے۔ اور اگر کسی قوم کے شعبہِ تعلیم پر ہی اہلِ جہالت کا قبضہ ہوجائے تو پھر ایسی قوم کو کسی اندرونی و بیرونی دشمن کی ضرورت ہی نہیں۔سپاہِ جہلت ہی کام تمام کرنے کے لیے کافی ہے۔

ہم میں سے اکثر لوگ طالبان کو کوستے رہتے ہیں کہ وہ تعلیم کے خلاف ہیں اور اتنے اسکول تباہ کردیے۔مگر انھوں نے پاکستان کے لگ بھگ تین لاکھ تعلیمی اداروں میں سے زیادہ سے زیادہ کتنے تباہ کیے ہوں گے ؟ پانچ سو ، ہزار ، ڈیڑھ ہزار بس ؟ ہم میں سے بہت سے یہ راگ بھی الاپتے ہیں کہ دینی مدارس انتہاپسندی کی نرسریاں ہیں۔مگر تقریباً پندرہ ہزار میں کتنے ایسے مدارس ہوں گے ؟ پانچ سو ، ہزار ، دو ہزار بس ؟ ہم میں سے متعدد واویلا کرتے ہیں کہ اس ملک کی تعلیم کو غیر حاضر ، نااہل ، سفارشی اور بھوت اساتذہ کی دیمک لگ گئی ہے جو گھروں پر بیٹھے تنخواہیں وصول کرتے ہیں۔لیکن سولہ لاکھ اساتذہ میں ایسے کتنے ہوں گے ؟ چالیس ہزار ، اسی ہزار ، ایک لاکھ بس ؟ ہم شور مچاتے ہیں کہ اسکولوں کی عمارات خالی پڑی ہیں۔ان میں جنات بستے ہیں، مویشی بندھتے ہیں ، بااثر لوگوں کے کارندے تین پتی کھیلتے ہیں ، ان میں مہمان خانے بنے ہوئے ہیں۔مگر لگ بھگ سوا دو لاکھ پرائمری و مڈل اسکول کی عمارات میں سے ایسی کتنی ہوں گی جن کا ایسا غیر تعلیمی استعمال ہو رہا ہوگا ؟ پانچ سو ، ہزار ، پانچ ہزار بس؟

تو کیا تعلیم انھی اسباب کے سبب تباہ حال ہے یا پھر یہ زبوں حال تصویر عام آدمی کو دھوکا دینے کے لیے تخلیق کی گئی ہے ؟ آج بھی پانچ سے سولہ برس تک کے بچوں بچیوں کو لازمی اور مفت تعلیم دینا ریاست کی آئینی ذمے داری ہے۔آج بھی شعبہِ تعلیم میں سرکاری اسکولوں کا تناسب بہتر فیصد ہے۔آج بھی چھیاسٹھ فیصد طلبا سرکاری اداروں میں اور صرف چونتیس فیصد پرائیویٹ اداروں میں پڑھ رہے ہیں۔تو کیا یہ سب خودکار ہے ؟

چلیے مان لیا کہ حکومت کی ترجیحات میں تعلیم سب سے نیچے ہے۔یہ بھی درست کہ سرکاری اسپتالوں اور سرکاری اسکولوں کا حال یکساں ہے۔یہ بھی تسلیم کہ اکثر سرکاری اسکولوں میں فرنیچر ، صحت و صفائی کی بنیادی سہولتوں اور چار دیواری کی کمی ہے۔یہ بھی بجا کہ بہت سے اسکولوں میں تربیت یافتہ اساتذہ کی قلت ہے۔مگر جن اسکولوں میں یہ سب مسائل نہیں کیا وہاں واقعی پرائمری و مڈل بچوں بچیوں کو چھ گھنٹے روزانہ تعلیم مل رہی ہے ؟ کیا واقعی ان اسکولوں میں مفت کتابیں بانٹنے سے معیارِ تعلیم میں کوئی فرق پڑا ہے ؟

اور کبھی ہم نے اس پر بھی غور کیا ہے کہ اب سے چالیس برس پہلے تک جب پرائیویٹ سیکٹر کا وجود نہ ہونے کے برابر تھا اور سرکاری اسکول بھی آج کے مقابلے میں خاصے کم اور دور دور واقع تھے تب معیارِ تعلیم کی زبوں حالی پر بکثرت سوالات کیوں نہیں اٹھتے تھے۔تب انھی اسکولوں کے بچے زندگی کے ہر شعبے میں بلا ججھک کیوں کامیاب سمجھے جاتے تھے اور آج جب قریہ قریہ اسکول پھیلے ہوئے ہیں۔محکمہ تعلیم روزگار کی فراہمی کے اعتبار سے سب سے بڑا سرکاری سیکٹر ہے اور بنیادی خواندگی بڑھانے کے لیے ملکی و بین الاقوامی این جی اوز بھی ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہیں تو پھر ایسا کیوں ہے کہ پیلے اسکول کا ملک گیر نظام دیمک زدہ ہوچکا ہے اور ہوتا ہی چلا جارہا ہے ؟

وجہ یہ ہے کہ زیادہ تر ٹیچر نہ صرف کوالیفائیڈ تھے بلکہ کسی مجبوری میں نہیں بالرضا اس شعبے میں آتے تھے۔ انھیں اچھی طرح معلوم تھا کہ یہ کوئی منفعت بخش ملازمت نہیں پھر بھی وہ قناعت پسند تھے۔اسکولوں کی انسپکشن کا نظام ابھی اتنا کرپٹ نہیں ہوا تھا۔استاد ڈنڈے کا استعمال مارنے سے زیادہ ڈسپلن قائم رکھنے کے لیے کرتا تھا۔( جب سے ڈنڈے کا استعمال ممنوع ہوا تب سے شاگرد کے بجائے استاد ڈرنے لگا ہے)۔

والدین کو استاد پر اندھا اعتماد تھا کہ وہ ان کے بچوں کو سوائے تعلیمی استعداد کے کسی اور معیار پر نہیں جانچے گا اور سب طلبا و طالبات اس کی نظروں میں برابر ہوں گے۔اسی لیے کسی باپ کو اپنا بچہ داخل کراتے ہوئے یہ کہنے میں قطعاً ہچکچاہٹ نہیں تھی کہ ’’ گوشت آپ کا ہڈیاں ہماری ’’۔

مگر یہ تب کی بات ہے جب تعلیم کو مالی منافع اور خسارے کے ترازو میں تولنے کا رواج نہیں ہوا تھا۔جب محکمہ تعلیم سیاسی چہیتوں کی چراگاہ نہیں بنا تھا کہ جس میں ہر گائے بھینس بکری کو چرنے کا پرمٹ مل جائے۔تقرری و تبادلے و ترقی کا رشتہ رشوت و خوشامد سے بہت زیادہ استوار نہیں ہوا تھا۔ استاد کو اسکول کے بعد جزوقتی نوکریاں کرکے گھر چلانے کی حاجت و مجبوری درپیش نہیں تھی۔ٹیوشن رضاکارانہ تھی ، گلا کاٹ سفاک صنعت نہیں بنی تھی۔استاد کی ذمے داری صرف اور صرف تعلیم دینے تک تسلیم کی جاتی تھی۔زیادہ سے زیادہ اسے الیکشن ڈیوٹی، امتحانی پرچوں کی جانچ اور امتحانی مراکز کی نگرانی کا اضافی کام سونپا جاتا تھا اور اس کا بھی اس زمانے کے حساب سے معقول معاوضہ ملتا تھا۔

ایسا نہیں تھا کہ استاد سے یہ توقع بھی رکھی جائے کہ تمام کلاسیں بھی لے اور پھر اسکول کی چھٹی کے بعد پولیو کے قطرے بھی پلائے ، مردم شماری اور خانہ شماری کے لیے بھی ایک ایک دروازہ کھٹکھٹائے ، ووٹروں کے اندراج کے لیے بھی در در جائے ، سیلابی نقصانات کے تخمینے کے کام میں بھی جھونک دیا جائے ، اسکول سے باہر رہ جانے والے بچوں کا سروے بھی کرتا پھرے ، سیاسی جلسوں میں بھی لازمی شرکت کا پابند ہو ، ضلعی انتظامیہ کے کنٹرول روم میں بیٹھ کر ایمرجنسی فون نمبروں پر جواب دینے کی بیگار بھی کرے، اپنے سے اوپر والوں کی مسلسل خوشامد اور چاپلوسی کو بھی اس کے فرائض کا حصہ سمجھ لیا جائے۔

اوپر سے آنے والے ہر زبانی حکم کو بھی تحریری جانے اور اضافی خدمات کے معاوضے کے لیے مہینوں کبھی کسی افسر کے سامنے بتیسیاں نکالے توکبھی کسی کلرک کی تلاش میں جوتیاں چٹخاتا پھرے۔اور پھر اس سے یہ توقع بھی ہو کہ اس کے شاگردوں کا تعلیمی نتیجہ بھی اچھا اور پہلے سے بہتر ہو۔کیا ایسا کبھی ہوا ہے۔کیا ایسا کبھی ہوتا ہے ؟ مگر یہ پورا نظام چلانے والے ابو جہلوں کو اس سے کیا ؟ یہ نہ ان کا مسئلہ ہے اور نہ ہی ان کے بچوں کے مستقبل کا مسئلہ۔

انھیں آخر کیوں یہ سادہ سی بات سمجھ میں آئے کہ اگر ایک نیا اسکول بنانے کے بجائے پہلے سے موجود ایک اسکول کو ڈبل شفٹ پر چلایا جائے تو ایک ہی عمارت دو اسکولوں کے برابر کام کرے گی۔

اگر یہ سامنے کی بات بھی راکٹ سائنس ہے تو پھر اس کا اردو ترجمہ یہ ہے کہ صرف ایک حکم سے ایک ہی دن میں تین لاکھ تعلیمی ادارے چھ لاکھ اداروں میں تبدیل ہوسکتے ہیں۔اس کا یہ مطلب ہے کہ ایک استاد چھ گھنٹے کے بجائے بارہ گھنٹے کی دو شفٹوں میں پڑھائے تو اس کا مالی مسئلہ فوراً حل ہوسکتا ہے۔اس کا یہ مطلب ہے کہ اگر ایک ہی اسکول میں ایک شفٹ لڑکیوں کے لیے اور دوسری شفٹ لڑکوں کے لیے ہو تو لڑکوں اور لڑکیوں کے الگ الگ اسکول بنانے پر اربوں روپے بچائے جاسکتے ہیں۔

اس کا یہ مطلب ہے کہ اسکول سے باہر پانچ برس کی عمر تک کے جو اکیاون لاکھ بچے ہر سال لور لور پھر رہے ہیں ان کی بھی انھی اسکولوں میں کھپت ہوسکتی ہے، ایک بھی اضافی عمارت اٹھائے بغیر۔۔۔

لیکن اگر ہر کام سیدھا سیدھا سوچا جائے تو پھر جہالت کی دیمک ساز تعلیمی فیکٹری کیونکر چلے گی ؟ اب آپ کو کچھ کچھ اندازہ ہوا کہ دہشت گرد کس کارخانے میں کیسے تیار ہوتے ہیں۔۔۔۔۔

یہ توہم کا کارخانہ ہے

یاں وہی ہے جو اعتبار کیا میر

وسعت اللہ خان

“بہ شکریہ روذنامہ “ایکسپریس

Pakistan

Níos Conallaí ná na Conallaigh

Irish language TV documentary telling the story of the Mehan family, from the Punjab in Northern India but now totally hibernicised and very much part of life in Co. 226 more words

Donegal