میرے محترم بھائیو! میں یہ چاہتا ہوں کہ اس موقع پر یہ گزارش کروں کہ میڈیا پر کام کرتے ہوئے ہمیں اپنے جماعتی مزاج کو سب سے پہلے ذہن میں رکھنا چاہیے ، اپنے اخلاقی معاملات کو بہت ہی بہتر کرنا چاہیے۔ اور اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ اپنے جماعتی مزاج کو بھی سمجھیں اور اخلاقی معیار کوبہت بلند رکھیں تو اس کی پہلی بات یہ ہے کہ ہمیں اپنی نمازوں کی بہت زیادہ پابندی کرنی چاہیے۔، اذکارکا مسلسل اہتمام کرتے رہنا چاہیے۔قرآن مجید کی تلاوت کے ساتھ دل لگانا چاہیے ،خاص طور پر تہجد اور اشراق کی طرف متوجہ رہنا چاہیے۔تو یہ وہ چیزیں ہیں جن کے ذریعے آپ میڈیا میں اپنے مؤثر کام کو جاری رکھ سکتے ہیں۔


میڈیا ایک دو دھاری تلوار ہے۔بجائے اس کے کہ اس کا کوئی اثر ہم پر ہو ، ہم اسے مؤثر انداز میں استعمال کرنا چاہتے ہیں ۔ اوران شا ء اللہ اس کےذریعے دعوت وجہاد کا پیغام لوگوں تک پہنچانا چاہتے ہیں۔تو اس کام کے لیے جو بھائی بھی اس میں کام کر رہے ہیں۔انہیں اپنے کردار کو بہت ہی پختہ رکھنا چاہیے۔اور خاص طور پر شریعت میں جن چیزوں کو ممنوع قرار دے دیا گیا ہے،ان کی بہت سختی سی پابندی کرنی چاہیے۔اور جو ناگزیر ہیں ، صرف اتنی حد تک ہم ان چیزوں میں آگے بڑھیں ۔

تو یہ میں خصوصی طور پر یہ عرض کرنا چاہتاہوں کہ الحمداللہ ہمارا ایک منہج ہے کہ کتاب وسنت کی بنیاد پر دعوت و جہاد کے مشن کو اختیار کرنا ،اور ایک اتحاد کی فضا کو قائم کرنا۔ تو دعوت دلیل سے ہوتی ہے، اخلاق سے ہوتی ہے۔ جب خاص طور پر ہر شخص کے سامنے نصیحت کا انداز اختیا ر کریں گے، اور ہر شخص کو یہ باور کروادیں گے کہ ہم خیر خواہی رکھتے ہیں، ہم سیاسی مخالفت پر کام کرنے والے لوگ نہیں ہیں۔ ہم مذہبی گروہ بندی کو تسلیم کرنے والے لوگ نہیں ہیں۔ہم تو خالص اسلام کی دعوت پھیلاکر دنیا کو اس کے طابع کرنا چاہیے۔ توالحمداللہ اتنا بڑا مشن لے کر آپ چلیں گے تو اس کے لیے آپکو بہت بلند معیار بھی رکھناپڑے گا۔ اور اس کے ساتھ لوگوں میں اچھاتاثر بنانے کی کوشش کرنی پڑے گی۔

اس کے ساتھ میری گزارش یہ ہے کہ اپنے کام کو زیادہ سے زیادہ منظم کیا جائے اور اپنے وقت کو صحیح استعمال کیا جائے اور پھر باہمی مشاورت کا بہت زیادہ اہتمام کیا جائے۔اسلام میں مشاورت کے لیے قرآن میں واضح احکام ہیں کہ امرھم شوری بینھم مسلمانوں کے لیے جو اجتماعی امور ہیں ان میں مشاورت کا اہتمام بہت ضروری ہے۔تو اللہ کے فضل وکرم سے آپ اچھی ٹیم بن گئے ہیں الحمداللہ۔ اور مشاورت کے ساتھ اپنے امور کو طے کرتے ہوئے آگے بڑھنا چاہیے۔ تو ان شاء اللہ اس سے یہ ہو گا کہ ہم غلطیوں سے بچیں گے اور زیادہ سے زیادہ اصلاح کا عمل جاری رکھ سکیں گے۔۔

مجھے یقین ہے کیونکہ ہمارا مقصد دعوت ہے۔ ہم دنیا میں کوئی اور مقصد لے کر نہیں چل رہے۔ دعوت انبیا ء کا مشن ہے۔ اور پھر آخری نبی محمد ﷺ دعوت کے ساتھ جہاد کے عمل کے ساتھ اسلام کو غالب کیا تھا تو ہم نے اپنے نبی ﷺ کے اسوہ حسنہ اور طریقوں کو لے کر آگے بڑھنا ہے۔میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کی اللہ تعالی آپ تمام احباب کو اس سلسلے میں زیادہ سے زیادہ محنت کی توفیق عطا فرمائے ، رہنمائی فرمائے ۔ آپکے کاموں میں بہت زیادہ برکت دے اور اس کو نتیجہ خیز بنائے تاکہ ہم اس مؤثر ترین ہتھیار کو دعوت کے لیے استعمال کر سکیں۔