Tags » World

Case Solution for Chabros International Group: A World of Wood

Complete Case details are given below :

Case Name :      Chabros International Group: A World of Wood

Authors :           Paul W. Beamish, Bassam Farah

Source :             Ivey Publishing… 247 more words

Case

پیٹرول بحران کیسے اور کیوں ہوا؟.....

حالیہ پیٹرول بحران نے اچھی طرح واضح کر دیا ہے کہ یہ حکومت کس طرح کام کرتی ہے، یا نہیں کرتی۔ وفاقی وزرا نے اس معاملے پر کئی بے فائدہ اور متضاد رپورٹس پیش کی ہیں لیکن ان سب میں ایک بات مشترک ہے، اور وہ یہ کہ جنوری کے اوائل میں جنم لینے والی پیٹرولیم کی طلب نہ صرف بے مثال تھی، بلکہ خلافِ توقع بھی تھی، اور بحران اسی کی وجہ سے پیدا ہوا۔ وزیرِ اعظم کی جانب سے قائم کردہ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نے فوراً اور نہایت آسانی سے حقیقی مجرم کو ڈھونڈ نکالا ہے، اور یہ اوگرا ہے، جو تیل اور گیس کا سرکاری ریگولیٹر ہے۔

ایسا کیوں ہے کہ اتنی بنیادی ضرورت کی چیز، جو پوری دنیا میں بہتات کے ساتھ کم قیمت پر دستیاب ہے، کا بحران پیدا ہوا؟

اسٹاک صورتحال: قواعد و ضوابط کے تحت کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کا اجلاس وزیرِ خزانہ کی زیرِ صدارت ہر 15 دن میں ہوتا ہے۔ اجلاس کے ایجنڈے کے آئٹم نمبر 1 اور 2 فکس ہوتے ہیں۔ آئٹم نمبر 1 تمام اہم فیصلوں پر عملدرآمد کا جائزہ لینا ہے۔ آئٹم نمبر 2 مشیرِ خزانہ کی پریزنٹیشن ہوتی ہے جس میں تمام اقتصادی اشاریوں کا جائزہ لینا ہوتا ہے، جبکہ ملک میں تمام اہم اشیا کے اسٹاک کی صورتحال کے بارے میں ای سی سی کو آگاہ کیا جاتا ہے۔ ضروری اشیا جیسے کہ پیٹرولیم مصنوعات، گندم، چینی، اور کھاد وغیرہ کی کمی پیدا ہونے پر اسٹاک کو بھرنے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔

اس لیے اگر وزرا توجہ دے رہے ہوتے، تو پیٹرولیم کے اسٹاک میں ہوتی ہوئی کمی بہت پہلے پتہ لگ سکتی تھی۔

طلب میں اضافہ: شاید پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی سے ان کی مانگ میں اضافہ ہوا جس سے اچانک اور غیر متوقع طور پر پیٹرولیم کا اسٹاک ختم ہونے کی حد تک پہنچ گیا؟ یہ وجہ بھی اتنی مضبوط نہیں۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں جولائی سے ہی گر رہی تھیں، جبکہ حکومت نے تیل کی قیمتوں میں پہلی کمی نومبر میں کی اور دوسری دسمبر میں۔ اس کے علاوہ حکومت نے خود سردیوں میں پنجاب کے سی این جی اسٹیشن دو ماہ کے لیے بند کرنے کا (درست) فیصلہ کیا تھا۔ بہتر پلاننگ ہوتی تو دو اور دو چار کی طرح یہ دیکھا جاسکتا تھا کہ اس سب سے طلب میں اضافہ ضرور ہوگا۔

پی ایس او کا کردار: شاید غلطی پی ایس او کی ہے جو اس حکومت کی جانب سے مقرر کردہ مینیجمنٹ کے تحت اس طرح نہیں چل پا رہا جیسے چلنا چاہیے۔ وزیرِ پیٹرولیم نے کہا کہ ایک کھرب کی کمپنی کے لیے 220 ارب واجب الادا روپے مینیج کرنا کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے۔ حیرت تو اس بات کی ہے کہ کیا وزیرِ پیٹرولیم اپنے ذاتی بزنس، یعنی ایک انتہائی کامیاب ایئرلائن کو بھی ایسی ہی لاپرواہی کے ساتھ چلاتے ہیں؟

پی ایس او 2008 سے توانائی کے شعبے میں بڑھتے ہوئے سرکلر ڈیٹ کے نشانے پر ہے۔ توانائی کے شعبے میں واجب الادا رقم 200 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے، اور پی ایس او اکتوبر 2014 سے اب تک 26 دفعہ اپنے لیٹرز آف کریڈٹ پر ڈیفالٹ کر چکا ہے، اور بار بار حکومت کو حالات سے آگاہ کرتا رہا ہے۔ اب پی ایس او اس حالت میں بینکس سے مزید رقم ادھار نہیں لے سکتا تھا، اور نتیجتاً پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد بھی نہیں ہوئی پائی۔

کیا وزرائے پیٹرولیم، پانی و بجلی، اور خزانہ اس معاملے پر توجہ دے رہے تھے؟

وزارتِ خزانہ کا کردار: اب ہم بحران میں وزارتِ خزانہ اور فنانشل مینیجمنٹ کے کردار پر پہنچ چکے ہیں۔ پچھلے کئی سالوں سے وزارتِ خزانہ ڈوبتے سرکاری محکموں کو آخری امید کے طور پر مالی امداد فراہم کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار رہی ہے۔ وزارت واضح طور پر ایک مشکل پوزیشن میں ہے۔ آئی ایم ایف کے پروگرام کے زیرِ تحت یہ شدید مالی حدود و قیود میں جکڑی ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ یہ پی آئی اے اور اسٹیل ملز جیسے ریاستی اداروں پر 2008 سے مالیاتی ڈسپلن نافذ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

لیکن اقتصادی اصلاحات لانے میں مرکزی کردار رکھنے کے باعث ایسا نہیں ہو سکتا کہ یہ دو متضاد کام ایک ساتھ کر سکے: ایک، یہ اصلاحات نافذ کرنے میں پیچھے رہنا برداشت نہیں کر سکتی، خاص طور پر توانائی کے شعبے اور دیگر سرکاری اداروں کے کیس میں۔ اور دوسرا: اسی وقت توانائی کے شعبے، یا پی آئی اے، یا اسٹیل ملز کے فنڈز روکنا اور انہیں تباہی کے دہانے پر لے آنا۔

یہ بات خاص طور پر توانائی کے شعبے کے لیے درست ہے۔ ایندھن کی امپورٹ کے لیے پی ایس او کی ہفتہ وار ضرورت 9 سے 10 ارب روبے کے درمیان ہے۔ جب بینکوں سے اسے پیسہ نہیں ملا، تو اس کے پاس وزارتِ خزانہ کے پاس جانے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں بچتا۔ اگر وزارِت خزانہ توانائی کے شعبے میں فنڈز ڈالتی ہے، یا پی ایس او کو مزید قرضہ لینے کے لیے مہینوں میں کبھی گارنٹی دیتی ہے، تو سپلائی چین واضح طور پر متاثر ہو گی، اور ایسا ہی ہوا۔ (آئی پی پیز کی جانب واجب الادا رقوم کی ادائیگی کے لیے تاخیر سے فنڈز جاری کرنے کی یہی حکمتِ عملی 2013 میں ٹیکنیکل ڈیفالٹ کی وجہ بنی تھی)۔

یہ مسئلہ سرمائے کی خراب مینیجمنٹ کو بھی واضح کر دیتا ہے۔ نہ صرف یہ ہوا کہ حکام وزارتِ خزانہ کے تاخیر سے اٹھائے جانے والے اقدامات کے سنگین نتائج کو سمجھنے میں ناکام رہے، بلکہ مالی وسائل کو فوری ضرورت کے شعبوں میں استعمال کرنے کے بجائے ووٹ حاصل کرنے کے لیے چمک دھمک والے ڈویلپمنٹ پراجیکٹس کو ترجیح دی گئی۔

اور آخر میں، اس سب نے مسلم لیگ ن کے حکومت مینیج کرنے کے اسٹائل میں موجود شدید خامیوں کو کھول کر رکھ دیا ہے۔ کچھ اشخاص کے گرد گھومتی فیصلہ سازی، طاقت کے کئی مراکز، اور رابطے کی کمی (کم از کم اس مسئلے پر) وہ مسائل ہیں جو تجزیہ کاروں نے اٹھائے ہیں۔ میں اس میں ترجیحات سیٹ کرنے میں ناکامی بھی شامل کروں گا۔

جب بحران سامنے آ رہا تھا، اس وقت ہمارے وزیرِ اعظم سعودی عرب کے ایک نجی دورے پر تھے۔ اس کے علاوہ وزیرِ خزانہ جاپان میں ین قرضہ اور نئے سرمایہ کار ڈھونڈ رہے تھے۔ اور ملک میں پاکستان کی سیلز کے لحاظ سے دوسری بڑی کمپنی ڈیفالٹ کر رہی تھی، جبکہ پچھلے کچھ سالوں میں ملک کی سب سے بڑی بیرونی سرمایہ کاری کی کمپنی تویرقی اسٹیل ملز نے شٹ ڈاؤن نوٹس جاری کر دیا تھا کیونکہ ای سی سی (جس کی سربراہی وزیرِ خزانہ کرتے ہیں) کئی مہینوں سے فیصلہ لینے میں ناکام ہوچکی ہے۔ کیا ای سی سی کے چیئرمین کو اپنے سامنے موجود دو اہم اور غیر حل شدہ مسائل کو حل نہیں کرنا چاہیے تھا جو کہ دنیا کو پاکستان کی جانب متوجہ کر رہے تھے؟

اگر توانائی کے شعبے میں بھرپور اصلاحات نہیں لائی جاتیں اور اقتصادی مینیجمنٹ کو بہتر نہیں بنایا جاتا تو مشکل ہے کہ یہ حالیہ بحران آخری بحران ہو۔

ثاقب شیرانی

لکھاری سابق حکومتی مشیر ہیں اور اس وقت مائیکرواکنامک کنسلٹنسی کے سربراہ ہیں۔

یہ مضمون ڈان اخبار میں 23 جنوری 2015 کو شائع ہوا۔

Pakistan

A poem from the future

Editor’s note: This poem kicks off a new “Question Worth Asking” series: “How weird will the future be?” First up: a piece from poet and TED Fellow  1,362 more words

Questions Worth Asking

بابا کوئی کہانی سنا دیں.....وسعت اللہ خان

پرسوں رات میرے سات سالہ بیٹے رافع نے زبردستی کمبل میں گھستے ہوئے کہا بابا آپ نے بہت دنوں سے کوئی کہانی نہیں سنائی کوئی اچھی سی کہانی سنائیں۔ میں نے کہا اس وقت مجھے کوئی اچھی تو کیا بری کہانی بھی یاد نہیں آ رہی۔ تم ہی بتاؤ کیا سناؤں۔ اس نے کہا یہ بتائیں کہ جب آپ میری طرح سات سال کے تھے تو پاکستان کیسا تھا۔

میری آنکھیں چمک اٹھیں۔ جب میں سات سال کا تھا تو پاکستان صرف دیکھنے ہی میں نہیں محسوس کرنے میں بھی تمہاری طرح کا کیوٹ سا گول مٹول سا تھا۔ یہاں کوئی بھی گورا، کالا، بھورا، چپٹا غیر ملکی بلا جھجک کراچی ائیرپورٹ پر اون ارائیول ویزے کا ٹھپہ لگوا کر سائیکل پر سوار اندرونِ سندھ سے پنجاب اور صوبہ سرحد اور پھر قبائلی علاقوں سے ہوتا ہوا یا تو جلال آباد کی طرف نکل جاتا یا پھر واہگہ عبور کر لیتا یا سیدھا شاہراہِ قراقرم پر چڑھتا چلا جاتا۔

راستے میں کہیں بھی رک جاتا، کہیں بھی راہ لیتا، کچھ بھی کھا پی لیتا۔ کوئی مسئلہ ہی نہیں تھا۔ کسی کو ان اجنبیوں کی زبان نہیں آتی تھی مگر سب مسکرا کے، اشاروں سے اور ٹوٹے پھوٹے جملوں سے ایک دوسرے کو سمجھ سمجھا لیتے تھے۔

یہی حال پاکستانی شہریوں کا بھی تھا۔ لو جی کار کی ڈگی میں سامان ڈالا یا ویگن کی چھت پر بستر بند لادا اور دو دن جشنِ کابل میں شریک ہو کر پھر لاہور آ گئے۔ یا چار دوستوں نے اچانک پروگرام بنایا اور فوکسی پکڑ کے براستہ ایران، ترکی یورپ کی سیر پر روانہ ہو گئے اور موسمِ گرما کے دو ماہ گزار کے واپس اسی راستے سے کراچی آ گئے۔ یا طیارے میں بیٹھ کے ہیتھرو ائیرپورٹ پر اتر گئے اور امیگریشن کاؤنٹر پر ٹھپہ لگ گیا۔

ٹرام اور بس میں سوار ہونے کے لیے لائن بنانا پڑتی تھی۔ بس کنڈیکٹر کی خاکی وردی اور پی کیپ ہوتی تھی اور وہ پیسے لے کر ہر ایک کو ٹکٹ اور بقایا پیسے بھی دیتا تھا۔ ٹرین کی سیٹوں اور برتھوں پر فرانس کا بنا ریگزین منڈھا ہوتا تھا۔ ہر بڑے ریلوے اسٹیشن پر پیتل کی موٹی سی چادر والا ٹھنڈے پانی کا ایک بہت بڑا کولنگ پلانٹ چلتا رہتا اور مسافر بھاگم بھاگ اپنے کولر اور تھرمس بھر لیتے تھے۔

کراچی ایشیا کا سب سے مصروف ائیرپورٹ اور گیٹ وے ٹو ایشیا کہلاتا تھا۔ یہاں روزانہ بیالیس غیرملکی کمپنیوں کے جہاز آتے تھے مگر پی آئی اے ایشیا کی سب سے اچھی ائیرلائن سمجھی جاتی تھی۔

بجلی تب ہی جاتی تھی جب بارش یا طوفان سے کھمبے کی تاریں ٹوٹ جائیں۔ اس زمانے میں محلے میں شائد کسی ایک گھر میں ٹیلی فون ہوا کرتا تھا مگر بارش تھمتے ہی واپڈا کی گاڑیاں خود ہی نکل پڑتیں اور ٹوٹی ہوئی تاریں جوڑتی چلی جاتیں۔ بلدیہ کی گاڑیاں گلیوں اور سڑکوں پر جمع بارش کا پانی بڑے بڑے پائپوں سے ٹینکروں میں بھر کے لے جاتیں تا کہ سڑک گلنے اور ٹوٹنے سے پہلے ہی خشک ہو جائے۔ ہر ہفتے دو ہفتے بعد گلی کی نالیاں صاف ہوتیں اور ان پر چونا ڈالا جاتا اور ڈی ڈی ٹی کا چھڑکاؤ بھی ہوتا۔ پکی سڑکوں کی ہر پندرہ دن بعد دھلائی ہوتی۔ ایک ماشکی پانی ڈالتا جاتا اور جھاڑو والا دھوتا جاتا۔ گلیوں میں بھی گرمیوں کے موسم میں دھول بٹھانے کے لیے ہر ہفتے ایک بار سرکاری ماشکی چھڑکاؤ کرتا تھا اور ہر تیسرے مہینے بلدیہ کی بند گاڑیاں آتیں اور آوارہ کتے پکڑ کے لے جاتیں اور سال میں دو دفعہ مچھر مارنے کا اسپرے بھی ہر گھر میں حکومت کی طرف سے مفت ہوتا تھا۔

ہر سال اسکولوں میں میونسپل کمیٹی کی ٹیمیں آتیں اور سب بچوں کو بیماریوں سے بچاؤ کے مفت ٹیکے لگائے جاتے اور دانتوں کا معائنہ بھی ہوتا۔ ان دنوں سب ہی بچے پیلے سرکاری اسکولوں میں پڑھتے تھے یا کچھ بچے عیسائی مشنری اسکولوں میں بھی پڑھتے اور اس بات پر خوامخواہ اکڑتے بھی تھے۔ مگر امیروں اور غریبوں کے بچے ایک ہی رنگ کا یونیفارم پہنتے اور پیدل یا سائیکل اسکول آتے جاتے۔ ٹیچر سبق یاد نہ کرنے یا ہوم ورک نہ کرنے یا گالیاں دینے والے بچوں کی چھڑی سے پٹائی کرتے اور جب ہم اپنے امی ابو سے شکایت کرتے تو وہ بھی الٹا ہمیں ہی ڈانٹتے کہ تم نے ضرور کوئی غلط حرکت کی ہو گی، اچھا ہوا ماسٹر صاحب نے تمہاری پٹائی کی۔ اور معلوم ہے سال میں اسکول کی میری فیس کتنی جاتی تھی؟ تیرہ روپے چار آنے۔ جس میں سوا تین روپے لائبریری چارجز بھی شامل ہوتے تھے۔

اور شائد تمہیں یقین نہ آئے۔ سرکاری اسپتالوں میں علاج کروانے یا ایڈمٹ ہونے کے لیے چار آنے کی پرچی بنتی تھی۔ دوائیں اسپتال کی کھڑکی سے مفت ملتی تھیں۔

جب تمہاری دادی ہم میں سے کسی کو سبزی لینے کے لیے بازار بھیجتیں تو سبزی والا ہری مرچیں، دھنئیا اور پودینا مفت میں ہی دے دیتا۔ لوگ کہتے تھے کہ ہم لوگ بہت غریب ہیں۔ مگر بچوں کو کوئی نہیں بتاتا تھا کہ غریب کسے کہتے ہیں۔ پڑوس کے سب گھروں کی طرح ہمارے ہاں بھی روزانہ دال سبزی پکتی تھی اور ہفتے میں ایک دن گائے یا بکرے کا گوشت بھی پکتا تھا۔ ہر بچے کو سونے سے پہلے دودھ کا ایک گلاس ضرور پینا پڑتا ورنہ اماں کا تھپڑ کھانا پڑتا۔

تمہارے دادا روزانہ شام کو دفتر سے واپسی پر کوئی نہ کوئی پھل ضرور خرید کے لاتے۔ اور ہم جس محلے میں رہتے تھے وہاں کے سب گھروں میں ابا لوگ ایسے ہی تھے۔ کوئی کلرک، کوئی چپراسی، کوئی دکاندار، مگر شام کو بچوں کے لیے ہر کوئی کچھ نہ کچھ کھانے پینے کی چیز ضرور لاتا۔ پھر بھی ہر کوئی کہتا بھائی غریب ضرور ہیں مگر خدا کا بہت شکر ہے؟ ہم بچوں کو یہ بات بھی پلے نہیں پڑتی تھی کہ غریب ہیں اور خدا کا شکر بھی ہے کا کیا مطلب ہوتا ہے؟

ہم چاروں بہن بھائیوں کو اپنی چھوٹی خالہ بہت اچھی لگتی تھیں۔ وہ اپنے دو بچوں کے ساتھ ہر سال گرمیوں کی چھٹیوں میں ہمارے گھر آ کر رہتی تھیں۔ آتی تو وہ ایک ہفتے کے لیے تھیں مگر امی، ابا، ہم سب بچے انھیں زبردستی روک لیتے اور چھٹیاں ختم ہونے سے پہلے جانے نہیں دیتے تھے۔ اس زمانے میں کوئی بچہ نہیں کہتا تھا کہ میں دو گھنٹے کے لیے اپنے ماموں یا چچا کے ہاں جا رہا ہوں یا ڈے اسپینڈ کرنے جا رہا ہوں۔ ہمارے تصور میں بھی نہیں تھا کہ کوئی کسی رشتے دار کے پاس صرف ایک دو گھنٹے کے لیے بھی جا سکتا ہے۔ ہم تو بس یہ جانتے تھے کہ ہم اتنے دنوں کے لیے فلاں کے ہاں جا رہے ہیں اور وہ اتنے دنوں کے لیے ہمارے ہاں آ کے رہیں گے۔

اور تمہیں شائد یقین نہ آئے ہم لوگ اسکول سے واپس آ کر کھانا کھاتے ہی پھر باہر دوڑ جاتے۔ ماں باپ کو پرواہ ہی نہیں تھی کہ بچے کہاں کھیل رہے ہیں اور کس آنٹی کے گھر میں ہیں۔ سب گھروں کے بچے سب گھروں کے بچے تھے۔ بھوک لگی تو جس کے ہاں کھیل رہے ہیں اسی کے ہاں کھانا کھا لیا یا کھیلتے کھیلتے وہیں سو بھی گئے۔ ہاں مغرب کے بعد سوال ہی نہیں تھا کہ کوئی بچہ بغیر بتائے گھر سے باہر رہے۔ ورنہ کان کھینچے جانا یا ڈانٹ پڑنا لازمی تھا۔

اور جناب اگر کسی کے ہاں اچانک سے مہمان آ گئے تو کوئی مسئلہ ہی نہیں تھا۔ فوراً بچے کو ہمسائے کے گھر دوڑا دیا جاتا جاؤ آپا نصیبن سے ایک برتن آٹا لے آؤ۔ کہنا پرسوں واپس کر دیں گے۔ جاؤ نظام کی امی سے کہنا دو پیاز اور کچھ مرچیں اور مٹھی بھر ماش کی دال دے دیں۔ شام کو واپس کر دیں گے۔ پورے محلے کا سسٹم بس ایسے ہی چلتا۔

اور جناب ہر گلی میں ایک سرکاری نلکا ہوتا تھا اور پانی کی چار ٹونٹیاں۔ صبح شام دو وقت باقاعدگی سے پانی آتا۔ اسی پانی سے کپڑے بھی دھلتے اور یہی پینے کے لیے گھڑوں اور صراحیوں میں رکھا جاتا۔ سب لوگ سرکاری نل کا پانی بے دھڑک پیتے۔ مجال ہے کوئی بیمار ہو جائے یا پیٹ خراب ہو جائے۔

اور محلے میں ایک مولوی صاحب بھی تھے احمد دین صاحب۔ سب لوگ ان کی بہت عزت کرتے اور ہر طرح سے خیال رکھتے۔ وہ سب بچوں کو مفت سپارہ پڑھاتے اور مسجد میں پنج وقتہ نماز بھی۔ سوائے اللہ رسول اور ایک دوسرے کا خیال رکھنے سے اللہ میاں خوش ہوتا ہے جیسی باتوں کے ان کے منہ سے کوئی دوسری بات ہی نہیں نکلتی تھی۔ ہم جب میٹرک میں آئے تب پتہ چلا کہ برابر والا افتخار شیعہ ہے اور پچھلی گلی والے احمد لوگ قادیانی ہیں اور سڑک پار کٹیا میں اکیلا رہنے والا لطیف چاچا کرسچن ہے اور کمیٹی میں صفائی کا کام کرتا ہے۔ مگر یہ سب معلومات ہمیں پہلی بار ان مولوی صاحب نے دیں جنہوں نے مولوی احمد دین صاحب کے انتقال کے بعد مسجد میں امامت کروانی شروع کی۔۔۔ اور رافع پتہ ہے جب میں سات سال کا تھا تو۔۔۔۔۔۔

میں نے اچانک دیکھا کہ رافع کہانی سنتے سنتے جانے کب سو گیا۔ میں نے اسے کمبل اڑھا دیا اور خود دوسری مسہری پر لیٹ گیا۔ کل رات وہ پھر میرے پاس آن کے لیٹ گیا اور فرمائش کی بابا کہانی سنائیں۔ میں نے کہا تم تو کہانی سنتے سنتے سو جاتے ہو اب نہیں سناؤں گا۔۔۔کہنے لگا بابا آج میں بالکل نہیں سوؤں گا۔ لیکن آپ بھی پرامز کریں کہ سچی والی کہانی سنائیں گے۔ کل جیسی گپیں نہیں سنائیں گے۔۔۔۔

وسعت اللہ خان

“بشکریہ روزنامہ “ایکسپریس

Pakistan

“If you go out and make some
good things happen,
you will fill the world with hope,
you will fill yourself with hope.”
President Barack Obama

African American Quotes

“If you go out and make some
good things happen,
you will fill the world with hope,
you will fill yourself with hope.”
President Barack Obama

Action

Guns, Money and Cell Phones

The link between the bloodshed and coltan is causing alarm among high-tech manufacturers. Slowly they are beginning to grapple with the possibility that their products may contain the tainted fruits of civil war. 93 more words

Examination