زیارت سے متعلق ضعیف روایت

 ایک روایت کی تحقیق

“من زار قبری ،وجبت لہ شفاعتی”
ترجمہ : “جس نے میں قبر کی زیارت کی اس پر میری شفاعت واجب ہوگئی” ۔
-
تخریج:
(مجمع الزوائد ٤:٢ ،
تلخیص الحبیر٢:٢٦٧،
نیل الاوطار ٥: ١٧،
کشف الخفاء ٢:٣٢٨،
دارقطنی السنن ٢:٢٧٨ ،
حکیم ترمذی توادر الاصول ٢:٦٧،
دولابی کتاب الکنی والاسماء ٢:٦٤،
بیہقی شعب الایمان ٤:٤٩٠،
سبکی شفاء السقام فی زیارت خیرالانام ٣) 

روایت کی تحقیق
……………………..
(١)امام بیہقی رحمہ اللہ نے نے اس روایت کو نقل کرکے اس کے ایک راوی عبداللہ بن عمری کو منکر کہا ہے یعنی یہ روایت ان کے نزدیک صحیح نہیں ہے۔
(شعب الایمان ٤:٣٩٠)

(٢) امام دار قطنی رحمہ اللہ نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور اس کے ایک روای موسی بن ھلال کے بارے میں فرماتے ہیں کہ وہ مجہول ہے۔( میزان اعتدال جلد ٤ص٢٠٧)

یہ اقوال ان کے ہیں جنہوں نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور اس کے بعد دیگر کتب کے حوالوں پر بھی نظر ڈالتے ہیں:

(١) مجمع الزوائد میں امام ہیثمی رحمہ اللہ نے اس روایت کو ضعیف کہا ہے۔( مجمع الزوائد جلد ٣کتاب الحج رقم ٥٨٤١ ) 

(٢) امام عجلونی رحمہ اللہ نے اسے کشفا الخفاء میں نقل کیا ہے اور کشف الخفاء میں نقل ہونے کا مطلب ہی یہی ہے کہ یہ روایت ضعیف ہےکیونکہ امام عجلونی رحمہ اللہ نے اپنی کتا ب میں ان روایات کو جمع کیا ہے جو عوام الناس کی زبانوں پرمشہور ہیں مگر ان کا شریعت سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ (دیکھئے مقدمہ کشف الخفاء) 

(٣) امام نووی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ اس کی سند بہت ضعیف ہے ۔(کما فی دفاع عن الحدیث النبویۖص ١٠٦)

(٤) امام سیوطی رحمہ اللہ نے نقل فرمایا ہے کہ امام ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس روایت کی تمام اسناد ضعیف ہیں (الدررالمنتثرة فی الاحادیث المشتھرة ص١٩)اس کتاب میں امام سیوطی رحمہ اللہ نے ضعیف اور موضوع احادیث کو جمع کیا ہے ۔

(٥) ابن القطان رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس روایت میں موسی بن ھلال مجہول ہے۔(لسان المیزان جلد ٧ص١٣٩) 

(٦)ابن حاتم رحمہ اللہ فرماتے ہیں موسی بن ھلال مجہول ہے ۔(لسان میزان جلد ٧ص١٣٩)

(٧)العقیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ” لا یصح فی ھذا الباب شی” اس باب میں کوئی بھی (روایت) صحیح نہیں ہے ۔(تلخیص الحبیر جلد ٢ص٢٦٧) 

(٨)امام النسائی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس روایت میں عبداللہ بن عمر العمری ہے اور وہ ضعیف الحدیث ہے ۔ (تھذیب الکمال جلد ١٥ ص ٣٣١۔٣٣٠)

(٩)ابن المدینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں عبداللہ بن عمر العمر ی ضعیف ہے۔ (حوالہ ایضاََ) 

(١٠) عصر حاضر کے محدث علامہ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ نے بھی اس روایت کو موضوع کہا ہے۔( ضعیف الجامع الصغیر رقم ٥٦٠٧)

(١١)حافظ ابن حجررحمہ اللہ نے اس روایت کے تمام طرق اپنی کتاب تلخیص الحبیر میں جمع کر کے فرمایا ہے کہ : طرق ھذا الحدیث کلہا ضعیفة(تلخیص الحبیر جلد ٢ص ٢٦٧) اس روایت کے تمام طرق ضعیف ہیں ۔” 

اس ضعیف روایت سے امت کو آگاہ کریں.