Tags » Afghan Girl

Beauty in War-Torn Hearts

Above you see two images. The image on the left is the original Afghan Girl image, and the image on the right is my manipulated version of the… 283 more words

National Geographic Find #2

The Afghan Girl

If you read my last post, you will know that I found a pile of old National Geographic magazines over the holidays. Included in this collection was the edition from June 1985. 344 more words


Windows to the Soul

Written by:

Carly Firth for Writing About Images

Behind the Haunting Gaze

In December 1984, Steve McCurry was visiting a refugee camp on the Afghan-Pakistan border. 508 more words

Afghan Girl

The Afghan girl

Afghan girl she was called
Not so in appearance
For she had the eyes of a 
Leopard, the only one there
For Afghanistan has no leopards. 25 more words

Project 5-3: Being and its semblance #2

For the second part of this project we are asked to find some examples of Lacan’s version of the gaze and make notes explain how they fit in with Lacan’s ideas. 561 more words


غیر ملکی خاتون کے ساتھ لاہور جیل حراست کے دوران پولیس نے کیا کام کر دیا؟ انوکھا کارنامہ

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) پنجاب پولیس کے اہلکار کی زیرحراست غیر ملکی لڑکی کو ورغلا کر شادی کرنے کے معاملہ پرسینئر جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں کوٹ لکھپت جیل کے سپرنٹنڈنٹ کی رپورٹ نے جیل اہلکاروں کی ملی بھگت کا پول کھول دیا جبکہ رپورٹ میں پنجاب پولیس کے اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی ہے ۔تفصیلات کے مطابق ضلع کچہری کے سینئر جوڈیشل مجسٹریٹ ظفر فرید ہاشمی کو کوٹ لکھپت جیل سپرنٹنڈنٹ کو بھجوائی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جوڈیشل گارد پولیس لائنز قلعہ گجر سنگھ کے جیل وین ڈرائیور شہزاد نے فارنر ایکٹ کے تحت گرفتارافغانی لڑکی فرشتہ بی بی کو ورغلا کر شادی کی جبکہ ملزمہ فرشتہ بی بی کو داتا دربار پولیس نے دربار سے گرفتار کیاگیا تھا، رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ عدالت نے ملزمہ کو فارنر ایکٹ کے تحت درج مقدمہ میں 3جون کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا رکھا تھا لیکن جوڈیشل گارد جیل ون کے ڈرائیور شہزاد نے ملزمہ کو 10جولائی کو جیل سے پیشی کے لئے لاتے ہوئے لیڈی کانسٹیبل پروین اور شمائلہ سراج کے ذریعے ورغلاتے ہوئے نکاح کرنے کی آفر کی اور لیڈی کانسٹیبل نے ملزمہ فرشتہ بی بی کو ملک سے ڈی پورٹ کئے جانے سے ڈرایا اور قانونی تحفظ ملنے اور مقدمہ سے بری ہونے کی لالچ دی، رپورٹ میں محکمہ پولیس کے ڈرائیور کے کردار کو مشکوک قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ڈرائیور پہلے بھی حراستی ملزموں کو موبائل فون پر باتیں کروانے کی سہولیات فراہم کرتا رہا ہے.رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عدالتوں کی جانب سے جیل بھجوائے گئے ملزم عدالتوں کی امانت ہوتے ہیں اور جیل اور پولیس حکام کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کا خیال رکھیں لیکن جیل وین کے ڈرائیور اور کانسٹیبلوں کی لاپرواہی پر محکمانہ کارروائی کی سفارش کر دی گئی ہےجبکہ جوڈیشل مجسٹریٹ ظفر فرید ہاشمی نے افغانی لڑکی فرشتہ بی بی جان کو جرم ثابت ہونے پرگزشتہ روز 3ماہ قید اور 10ہزار جرمانے کی سزا سنا دی ہے، عدالت نے ملزمہ کی سزا پوری ہونے سے بعد فرشتہ بی بی کو افغانستان ڈی پورٹ کرنے کابھی حکم دیا ہے۔


Whilst I'm in photo mode. Two of my favourite portraits of all time.

This one’s by Steve McCurry and uses colour so amazingly.

The Afghan Girl’s eyes!  Wow.

And this one I saw in the flesh at Elton John’s Exhibition.   12 more words