Tags » Aghanistan

Operation Phoenix 2.0

I’ve been fighting a cold this week, but still been able to chronicle items I deemed of importance on Facebook.  I’ve also spent my evenings convalescing by having a tremendous amount of fun reacting to outrageous events on Twitter. 842 more words

Military Disasters

Who are the Haqqanis?

ISLAMABAD: The rescue of an abducted US-Canadian family in Pakistan last week has spotlighted their captors the Haqqani Network, former CIA assets now considered one of the most dangerous factions fighting US-led Nato forces in Afghanistan. 457 more words

Australia

افغان امن عمل کامیاب بنانا کابل ، اسلام آباداور بیجنگ کی ذمہ داری

تحریر:۔۔ابو رجا حیدر۔۔
پاکستان نے افغان جنگ کے جلد خاتمے اور خطے میں امن کی بحالی پر بات چیت کےلئے چار فریقی تعاون گروپ (کیو سی جی) کا اجلاس 16 اکتوبر کو عمان کے دار الحکومت مسقط میں طلب کر لیاہے۔افغانستان میں امن و استحکام کو بحال کرنے کےلئے پاکستان، امریکہ ، چین اور افغا نستان پر مشتمل چار فریقی گروپ کا پہلا اجلاس گزشتہ برس جنوری میں منعقد کیا گیا تھا تاہم اب تک اس کے 5 اجلاس منعقد ہو چکے ہیں، آخر ی مرتبہ گروپ کا اجلاس ملکہ کوہسار مری میں مئی 2016 میں منعقد ہوا۔افغان امن عمل کی دوبارہ بحالی کیلئے کوششوں سے متعلق وفاقی وزیر خارجہ خواجہ آصف نے حالیہ دورہ امریکہ میں بھی میڈیا سے گفتگو میں عندیہ دیتے ہوئے کہا تھا پاکستان مسقط میں منعقدہ اجلاس میں اپنا کلید ی کردار ادا کرے گا اور افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش بھی کی جائے گی، تاہم انہوں نے افغان طالبان پر پاکستان کے اثرورسوخ کو ایک گمان قرار دیتے ہوئے کہا تھا اسوقت طالبان پراسلام آباد سے زیادہ ماسکو کا اثر ہے۔چار ملکی تعاون گروپ کے ذریعے امن عمل ابتداءسے ہی تنازعات کا شکار رہا جس میں طالبان نے مذکورہ گروپ کے اجلاس میں افغان حکومت جیسی حیثیت ملنے تک شرکت کرنے سے انکار کردیا تھا تاہم جب انہیں اجلاس میں شرکت کرنے کےلئے قائل کیا گیا تو کابل اور اسلام آباد کے تعلقات کی صورتحال کشیدہ ہوگئی۔ابتدائی چار اجلاسوں کے دوران افغان امن عمل کےلئے کام کرنے میں کچھ پیش رفت نظر آئی ، گروپ میں چین کی شمولیت حوصلہ افزا تھی کیونکہ پاکستان اور افغانستان دونوں نے ہی اپنی تلخی بھلاتے ہوئے چین کو خوش آمدید کہا، پاکستان کو افغانستان میں بھارت کی بڑھتی ہوئی مداخلت پر اپنے خدشات کا جواب ملنے کی امید نظر آنے لگی تودوسری جانب افغان حکومت کو بھی یہ امیدہو چلی کہ پاکستان اور چین کے دیرینہ تعلقات کابل اور اسلام آباد کے تعلقات کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہونگے اسی طرح عالمی برادری کی جانب سے بھی اس چار فریقی گروپ کے درمیان افغان امن عمل کے حوالے سے کی جانےوالی بات چیت کو خوش آمدید کہا گیا کیونکہ یہ چاروں ممالک ہی افغانستان میں امن بحال کرنے کے عمل میں مو¿ثر کردار ادا کرسکتے ہیں۔تاہم گروپ کے پانچویں سیشن کے دوران افغان حکام کی جانب سے یہ خبر لیک کی گئی کہ طالبان سربراہ ملا عمر13ءمیں کراچی میں انتقال کر چکے ہیں لیکن پاکستان اس خبر کو اس لیے چھپا رہا ہے کیونکہ اسے طالبان پر سے اپنے اثرو رسوخ کے خاتمے کا ڈر ہے،اس خبر کے سامنے آنے کے بعد افغان امن عمل کا سلسلہ متاثر ہوا اور گروپ ممبران نے مشاورت کےلئے واپس اپنے اپنے ملک جانے کا فیصلہ کیا ، 21 مئی 2016 کو امریکی ڈرون اسٹرائیک کے نتیجے میں طالبان لیڈر ملا منصور کی ہلاکت کے بعد امن عمل مزید متاثر ہوگیا اور بات چیت کا عمل التوا کا شکار ہوگیا۔اس واقعے کے بعد سے پاکستان نے چار ملکی تعاون گروپ کو دوبارہ فعال کرنے کی کوششیں کیں لیکن کوئی بھی ملک دوبارہ مذاکرات کی میز پر آنے کےلئے تیار نہیں تھا۔اپنے تحفظات کے باوجود کیو سی جی گروپ کے تمام رکن ممالک افغانستان میں امن بحال کرنے کے خواہاں ہیں تاہم امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ تمام ممالک مسقط میں ہونےوالے اس اجلاس میں شرکت کریں گے۔
امریکہ پاکستان کو دباو میں رکھنے کےلئے مسلسل یہ بے بنیاد الزام لگا رہاہے کہ اس نے دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کررکھی ہیں مگر اس حوالے سے امریکہ کا اپنا کردار کیاہے،خود اس کے قابل اعتماددوست سابق افغان صدر حامد کرزئی نے سرعام اس کابھانڈہ پھوڑ دیا ہے اور یہ انکشاف کرکے دنیا کو ششدر کردیا کہ عالمی دہشت گرد تنظیم داعش سے امریکہ کے مستقل رابطے ہیں۔وہ خود اسے افغانستان لایا ہے، ا سے اسلحہ فراہم کررہا ہے اوراس کے جنگجو افغانستان میں امریکی فوجی اڈے بھی استعما ل کررہے ہیں،شناخت چھپانے کےلئے امریکی فوجی اڈو ں سے غیرفوجی رنگ کے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے داعش کی مدد کی جارہی ہے ۔ سابق افغان صدر نے جوافغان مہاجر کے طور پر کئی سال کو ئٹہ میں مہمان نوازی کے لطف اٹھانے کے باوجود پاکستان کےخلاف اب تک زہر اگلتے رہے ہیںپہلی بار افغان مسئلے پرپاکستان کے مثبت کر د ار کی تعریف کی اوردہشت گردی کےخلاف جنگ میں افغان امریکہ اورنیٹو فورسز کی ناکامی کے اسباب سے پردہ اٹھاتے ہوئے امریکہ کو اس کا ذمہ دار قراردیا ہے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا امریکی حکومت کوہمارے سوالات کا جو اب دینا ہوگا کہ امریکی فوج اورخفیہ ایجنسیوں کی کڑی نگرانی کے باوجود داعش کیسے افغانستان پہنچی؟پہلے افغانستان میں طالبان اور ا لقا عد ہ کے جنگجو زیادہ تھے،اب داعش کے سب سے زیادہ ہیں۔داعش کواسلحہ کی فراہمی کی خبریں خودافغان حکومت میں موجود لوگ بھی دے ر ہے ہیں۔ملک بھر میں اس بات کاچرچا ہے کہ داعش امریکی امداد سے چل رہی ہے۔امریکی صدر ٹرمپ نے جس نئی افغان پالیسی کااعلان کرتے ہوئے پاکستان پرالزامات کی بوچھاڑکردی تھی،حامد کرزئی اسے افغانستان میں امن کی بجائے خونریزی کی پالیسی قرار دے چکے ہیں،اس حقیقت سے پوری دنیا واقف ہے کہ اسلحہ تیار کرنےوالی بڑی طاقتیں،خصوصاً امریکہ اپنا اسلحہ بیچنے کےلئے بین الاقوامی تنازعات نہ صر ف حل نہیں ہونے دیتیں بلکہ انہیں ہوا بھی دیتی ہیں۔افغانستان میں امریکہ جہاں داعش کواسلحہ فراہم کررہاہے وہاں اس نے افغان حکو مت کوبھی جدید بلیک ہاک ہیلی کاپٹر فرہم کردیئے ہیں اوراگلے چار سال تک ان کی فراہمی جاری رکھنے کا معاہدہ کیاہے۔ گویاافغان جنگ کم از کم مزید چارسال تک ختم نہیں ہوگی،جموں وکشمیر کے عوام کو حق خودارادیت دلانے کیلئے سلامتی کونسل نے70سال پہلے جوقرارداد یں منظو رکیں۔اس کامحرک امریکہ بھی تھا اس نے شروع میں پاکستان کا ساتھ دیا مگر بھارت کو بھی اسلحہ بیچتا رہا تاکہ یہ دونوں پڑوسی ملک آپس میں لڑتے رہیں حالانکہ امریکہ چاہتا تو بھارت پردباو ڈال کر یہ مسئلہ ہمیشہ کےلئے حل کراسکتا تھا۔آج جب بھارتی افواج مقبوضہ کشمیرکے مسلما نو ں کاقتل عام کررہی ہیں تو امریکہ نے بھارت کو روکنے کی بجائے اسے جدید ترین جنگی ہتھیاروں کی فراہمی تیز کردی ہے،زمینی حقائق گواہ ہیں کہ امریکہ افغانستان کا اس خطے میں اپنے فوجی اڈے کے طور پر استعمال جاری رکھنا چاہتاہے اسلئے افغان مسئلہ کے حل کےلئے سنجیدہ ہی نہیں۔ان دنوں ایک طرف طالبان سے مذاکرات کی باتیں ہورہی ہیں تو دوسری طرف انہیں ملیا میٹ کرنے کےلئے افغانستان میں فوجی قو ت بڑھانے کے اعلانات کئے جارہے ہیں ، اسکا ماضی گواہ ہے ، بھی جب افغان مسئلہ پرمذاکرات شروع ہوئے تو اسے ناکام بنانے کیلئے ایسے ہتھکنڈے استعمال کئے گئے کہ واشنگٹن خود کو پاک صاف رہا مگر پاکستان اور افغانستان کے مابین تعلقات کشیدہ کر دیئے ،امریکی وزرائے خارجہ و دفاع اسی ماہ پاکستان آرہے ہیں اورکہا جارہاہے وہ یہاں صدر ٹرمپ کاسخت پیغام پہنچائیں گے۔پیغام جیسا بھی ہوگا قوم اس کاویسا ہی جواب دے گی تاہم عالمی امن خطے کے مفاد اورافغانستان میں استحکام کاتقاضا ہے امریکہ دوغلی پالیسی ترک کرکے حقیقی امن کےلئے سپرپاور کے طور پر اپنا کردار ادا کرے۔اس مقصد کیلئے اسے پاکستان کے کردار کو اہمیت دینا ہوگی اور بھارت کو افغانستان سے دور ر کھنا ہوگا۔ یہ تو وہ حقیقت ہے جسے دنیا تسلیم کرتی ہے مگر اسے عملی جامہ پہنانے کیلئے امریکہ کے سامنے ڈٹ جانے کی اس میں صلاحیت نہیں کیونکہ مفادات کی جنگ میں عالمی طاقتوں کا ایک دوسرے پر کہیں نہ کہیں انحصار ہے ،مشرق وسطیٰ کی صورتحال ہو یا خلیجی ممالک کا احوال، شمالی ، جنوبی کوریا تنازعہ ہو یا دیگر مسائل کہاں کس ملک کے کس ملک کےساتھ کیا مفاد ہیں روز روشن کی طرح عیاں ہیں ۔ایسے میں کیو سی جی کا آئندہ چند روز میں ہونے والا اجلاس جنوبی ایشیاءکیلئے انتہائی اہم ہے اور اسے کامیاب بنانے کی ذمہ داری چین ، پاکستان اور افغانستان کی ہے ، امریکہ کا کردار اور مفادات تو بالکل واضح ہیں اس لئے خطے کے امن کیلئے اس پر انحصار کرنا سانپ سے نہ ڈسے جانے کی توقع کے مترادف ہوگا، وطن عزیز کی قیادت نے ٹرمپ کی جنوبی ایشیا ءکیلئے اپنی نئی پالیسی کے بعد جو اسٹینڈ لیا ہے وہ باعث اطمینان ہے ، خطے کے اہم ممالک چین ، ترکی ، ایران اور روس نے جس طرح ارض پا ک کے موقف کی تائید و حمایت کی ہے وہ بھی حوصلہ افزاءہے ،جس سے فائدہ اٹھاکر افغانستان کے مسئلے کا پرامن حل ممکن اور ارض پاک کی سلامتی و استحکام کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

Analysis

Is it Worth it?: The Kite Runner

Today readers, we will be reviewing The Kite Runner by Khaled Hosseini.  The Kite Runner is a novel that painted a shocking, all too real, picture of pre and post-war Afghanistan. 711 more words

US Taxpayer Pays for Construction and Destruction

The story that follows, from teleSur, is indicative of the plots that are hatched by state forces around the globe. The US created the Mujahedeen in Afghanistan to counter the socialist government there at that time. 103 more words

Geo-political

NATO casualties And OSCE shelling in Ukraine

Afshin Rattansi on NATO casualties and the OSCE mission based in Eastern Ukraine allegedly shelled by the NATO-backed government of Ukraine. (Afghanistan…. CIA trained, Saudi Arabia funded Al Qaeda? 27 more words

News Roundups

China Watch : While America Freaks Out, Asia Quietly Goes Crazy

This week, China has its hands full dealing with dangerous and rapidly evolving security situations in South Asia, Xinjiang, North Korea, and the South China Sea.

News Roundups