امیر خسرو

کافر عثقم، مسلمانی مرا در کار نیست

ہر رگ من تلوار گشتہ، حاجت زنار نیست

ابوالحسن یمین الدولہ امیر خسرو دہلوی، اردو غزل، دوہا، قوالی کے موجد، شادی بیاہ اور بچوں کی کہہ مکرنیوں اور گیتوں کے خالق ، 6 اکتوبر 1253 کو پٹیالہ میں پیدا ہوئے اور 11 نومبر 1325 کو دیلی میں انتقال کیا۔ وہ ہندی، فارسی اور اردو کے معروف شاعرہیں اردو شاعری کا آغاز کیا اس کے علاوہ ماہر موسیقی بھی تھے۔ ان کے والد منگولوں کے حملوں کے وقت ہندوستان آئے اور یہیں پٹیالہ (آگرہ) میں امیر خسرو کی پیدائش ہوئی۔ آپ نے ستار پر تیسرا تار چڑھایا اور علم موسیقی کی مشرقی طرز کو ایجاد کیا۔ راگنی ’’ایمن کلیان‘‘ جو شام کے وقت گائی جاتی ہے، آپ ہی کی ایجاد ہے۔ امیر خسرو معروف ولی اللہ حضرت نظام الدین اولیا کے مرید رہے۔

چھاپ تلک سب چھین نی رے موسے نیناں ملائی کے

نیناں ملائی کی، نینوں میں آئی کی، نیناں ملائی کے

خسرو نظام کے بل بل جائیو، بل بل جائیو، بل بل جائیو

موہے سہاگن کی نی رے موسے نیناں ملائی کے

حضرت امیر خسرو دہلوی نے اردو زبان کا پہلا شعر بھی کہا:

زحال مسکیں، مکن تغافل، درائے نیناں، بنائے بتیاں

کہ تابِ ہجراں، ندارم اے جاں، کہ لیہو کاہے لگائے چھتیاں

آپ کی تصانیف میں ’’خزانہ المفتوح‘‘، ’’خالق باری‘‘ (بچوں کے لئے)، لیلیٰ مجنوں، شیریں خسرو، خمسہ نظامی، قصہ چہار درویش و دیگر 300 سے زائد بہت مشہور ہیں۔