Tags » Arabian Sea

A Visit to Kōḻikōḍ

Ever heard anybody go on a weekend leisure trip from Bangalore to Kozhikode? At least I never did. If you’re someone like me, ‘God’s Own Country’, Kerala, means a Munnar, a Kovalam, a Varkala, an Alleppey, and the like. 1,052 more words

Travel

The Daymaniyat Islands: diving the Gulf of Oman

The Daymaniyat islands nature reserve is located about 18km off the coast of Barka (some kilometers west of Muscat), it is made up of nine islands covering about 100 hectares and is home to a wealth of sea life that’s – unparalleled to what I have seen before. 841 more words

Arabian Sea

Azheekkal

Azheekkal is a little known – unspoilt seashore near the Amritananda Ashram, Kollam.

Tourist Attractions

Pulwama aftermath: Indian Navy deployed nuclear submarines, aircraft carrier amid heightened tensions with Pakistan

New Delhi: In a major step, the Indian Navy on Sunday said it had deployed its frontline warships, including nuclear submarines and aircraft carrier INS Vikramaditya, near the Pakistan waters in the Arabian Sea, which had forced the Pakistan Navy to remain close to its coastline during India-Pakistan tensions. 328 more words

Headlines

جزیرہ استولا : پاکستان کا سب سے بڑا جزیرہ

پاکستان کا سب سے بڑا جزیرہ استولا بلوچستان کے ضلع پسنی میں واقع ہے۔ ساحل سمندر سے اس کا فاصلہ 25 کلومیٹر ہے۔ یہ پاکستان کا سب سے بڑا جزیرہ ہے۔ اس کی لمبائی 6.7 کلومیٹر اور زیادہ سے زیادہ چوڑائی 2.3 کلومیٹر ہے۔ حیاتیاتی تنوع کو برقرار رکھنے کی خاطر کیے گئے بین الاقوامی معاہدوں کی روشنی میں پاکستان نے 2017ء میں اسے محفوظ سمندری علاقہ قرار دیا۔ تاریخ میں اس جزیرے کا اولین ذکر یونانی تاریخ دان، فلسفی اور فوجی کمانڈر اریان کے ہاں نیرکوس کے حوالے سے ملتا ہے جو سکندرِاعظم کی فوج میں جنگی کشتیوں کا قائد تھا۔ 325 ق م میں سکندرِاعظم کی فوج بحیرہ عرب اور خلیج فارس کے ساحلی علاقوں میں محوِ سفر تھی۔ نیرکوس کی کشتیوں کے ملاحوں کو اس جزیرے کے بارے میں عجیب و غریب واقعات بتائے گئے تھے۔

اس جزیرے میں چھوٹی پہاڑیوں کے سات سلسلے ہیں جس کی وجہ سے مقامی بلوچی زبان میں اس جزیرے کو ہفت تلار یعنی سات پہاڑیاں کہا جاتا ہے۔ اس جزیرے کے پاس مختلف طرح کی سمندری حیات پائی جاتی ہے۔ معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار سبز کچھوے یہاں پائے جاتے ہیں۔ یہاں سانپ کی ایک قسم بھی پائی جاتی ہے۔ بہت سے سمندری پرندوں کی افزائش میں یہ جزیرہ معاون ہے۔ یہاں زیادہ تر گھاس اور جھاڑیاں ہیں اور کوئی درخت موجود نہیں۔ حکومت پاکستان نے یہاں 1982ء میں روشنی کا مینار تعمیر کیا تھا تاکہ آنے جانے والی کشتیوں اور بحری جہازوں کو رہنمائی مل سکے۔

ستمبر اور مئی میں یہاں ملاح جھینگے اور کستورا مچھلی پکڑنے کے لیے آتے ہیں۔ جون سے اگست تک یہاں ماہی گیری نہیں ہوتی اور سمندری لہریں بھی اونچی رہتی ہیں۔ اس لیے یہ غیر آباد ہو جاتا ہے۔ یہاں ایک مسجد بھی ہے۔ ایک قدیم مندرکے آثار بھی ملتے ہیں۔ یہاں سیاح آتے ہیں تاہم انہیں اپنی ضرورت کا سامان ساتھ لانا ہوتا ہے۔ لوگ یہاں مچھلیاں پکڑنے اور غوطہ خوری کرنے بھی آتے ہیں۔ سیاحوں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ جزیرے کے ماحول کا خیال رکھیں۔

محمد شاہد

Pakistan

Our Gokarna Trip

It was 2016, we were discussing about a beach holiday, when I first heard about Gokarna. Somehow that plan didn’t mature and we ended up going somewhere else. 964 more words

Travel