Tags » Azad Kashmir

Turning AJK into Silicon Valley

PRESIDENT of Azad Jammu and Kashmir Sardar Masood Khan has said that Azad Kashmir can be turned into Silicon Valley and IT hub, which would supplement and augment Pakistan’s burgeoning IT market. 277 more words

میں محض 20 سال کی تھی جب ان کے ابّا پاکستان سے آئے اور لائن آف کنٹرول پر میرے ابّا سے ملے۔ پھر وہ ہمارے گھر آئے اور اپنے بیٹے کے لیے میرا ہاتھ مانگ لیا،اب میری ایک بیٹی انڈین ہے اور ایک پاکستانی،ایک کشمیری خاتون کی داستان حیات..

وحیدہ قریشی ان خواتین میں سے ایک ہیں جن کا تعلق انڈیا کے زیر کشمیر سے ہے لیکن ان کی شادی پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں ہوئی ہے۔

ان کے مطابق انھیں والدین کی یاد تو ستاتی ہے لیکن فوج کی چیك پوسٹیں، ہڑتالیں، کرفیو، سکولوں کی بندش وغیر جو کپواڑہ میں ایک عام بات تھی، وہ سب پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں نہیں اور وہ آزاد محسوس کرتی ہیں۔اس وقت میں محض 20 سال کی تھی جب ان کے ابّا پاکستان سے آئے اور لائن آف کنٹرول پر میرے ابّا سے ملے۔ پھر وہ ہمارے گھر آئے اور اپنے بیٹے کے لیے میرا ہاتھ مانگ لیا۔میرے شوہر کے والد رشتے میں میرے دادا لگتے ہیں تو ایک طرح سے یہ شادی آپس کی رشتے داری میں ہی ہو رہی تھی۔اگرچہ اس سے پہلے ہمارے خاندان میں کسی نے پاکستان کی طرف والے کشمیر میں شادی نہیں کی تھی۔ میں وہاں کبھی نہیں گئی تھی۔

ابّا گئے تھے اور بتاتے تھے کہ وہاں ان کے دور کے کتنے ہی رشتہ دار رہتے ہیں۔وحیدہ کے مطابق فوج کی چیك پوسٹس،ہڑتالیں،کرفیو،سکولوں کی بندش وغیر جو کپواڑہ میں ایک عام بات تھی وہ سب پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں نہیں ہےابّا نے جو فیصلہ کر دیا اس پر سوال اٹھانے کا مجھے کوئی حق نہیں تھا۔ سب کچھ بہت اچانک ہی ہو گیا۔ میں نہ تو اپنے ہونے والے شوہر سے کبھی ملی تھی اور نہ ہی بات کی تھی۔جب یہ سب ہوا تو مجھے اندازہ بھی نہیں تھا کہ انڈيا کے کشمیر آنا جانا اتنا مشکل ہوگا۔میں انڈیا کی شہری ہوں اور ویزے کی بنیاد پر مظفر آباد میں رہنے لگی۔یہاں اقدار مختلف ہیں اور اسلامی طور طریقوں پر یہاں زیادہ شدت سے عمل کیا جاتا ہے۔یہ مجھے بہت اچھا لگتا ہے جیسے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے کپواڑہ میں، جہاں میں رہتی تھی، اکثر خواتین برقع نہیں اوڑھتي تھیں تاہم یہاں یہ تقریباً ضروری ہے۔زبان، کھانے پینے، رسم و روایات میں کافی فرق ہے لیکن اب عادت پڑ گئی ہے۔ سب کچھ اچھا لگنے لگا ہے۔ابتدا میں ماں باپ کے بغیر گھبراہٹ ہوتی تھی اور گھر کی بہت یاد آتی تھی۔ کپواڑہ میں ہمارا خاندان بہت پھیلا ہوا ہے اور سبھی گھر نزدیک بنے ہوئے ہیں گویا کہ پورا محلہ ہی ہمارا ہے۔وہاں میری بہت سی سہیلیاں ہیں۔ لیکن یہاں پر خواتین کے لیے گھر کے اندر ہی رہنے کا رواج ہے۔شادی سے پہلے میں سکول ترک کر کے اسلامی مدرسے میں پڑھنے لگی تھی۔ پانچ برس تک ریاست مہاراشٹر کے مالیگاؤں کے ایک مدرسے میں اپنی تعلیم مکمل کی پھر ایک مدرسے میں پڑھانا بھی شروع کر دیا تھا۔یہاں آئی تو فیملی میں لگ گئی اور سب چھوٹ گیا۔ شاید آگے چل کر پھر سے درس و تدریس کا سلسلہ شروع کر سکوں۔شادی کے تقریبا نو ماہ بعد انڈیا واپس جانے کا موقع ملا تو میں امید سے تھی۔میری پہلی بیٹی وہیں پیدا ہوئی۔ وہ انڈیا کی شہری ہے۔ دوسری بیٹی یہاں مظفر آباد میں ہوئی۔ وہ پاکستان کی شہری ہے۔ یہی ان کی تقدیر ہے۔ جیسے میری تقدیر میں یہاں بسنا ہے۔۔فوج کی چیك پوسٹس، ہڑتالیں، کرفیو، سکولوں کی بندش وغیر وغیرہ جو کپواڑہ میں ایک عام بات تھی، وہ سب یہاں نہیں ہے لیکن ماں باپ سے ملنے کے لیے ویزے اور آنے جانے کی مشکلات بہت ہیں۔بار بار یہی محسوس ہوتا ہے کہ راستے آسان ہو جاتے تو بچھڑے لوگ مل جاتے۔کبھی سوچتی ہوں کہ ماں باپ بھی یہیں آ کر بس جائیں تو دکھ یا تکلیف میں ان کا ساتھ ہو۔

اچھا لگتا ہے کہ یہاں سب اپنی ہی قوم کے لوگ ہیں۔ یہاں آزادی بھی بہت ہے۔ گھر سے باہر نکلنے میں ڈر نہیں لگتا ہے

News

Headache for Indian agencies: Phone of Abu-Dujana sent to US for cracking as all Indian techies failed 


SRINAGAR: The security grid that had recovered the iPhone7 that is believed to have been prized possession Of abu-Dujana is yet to crack it, the Hindu newspaper reported. 262 more words

Pakistan Army lodges protest with UNMOGIP against Indian ceasefire violations

Pakistan Army on Wednesday lodged a protest before military observers from United Nations against ‘unprovoked’ Indian aggression and firing on civilians from across the Line of Control (LoC). 133 more words

شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے پاکستان میں چالیس تعلیمی منصوبوں کیلئے تیس ملین ریال دینے کا اعلان کر دیا..

سعودی فرمانروا خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے پاکستان میں 40 تعلیمی منصوبوں کے قیام کی منظوری دی ہے۔ خادم حرمین شریفین امدادی مہم پاکستان کے ریجنل ڈائریکٹر خالد عثمانی نے سعودی خبررساں ایجنسی سے گفتگو میں کہا کہ سلمان بن عبدالعزیز انسانیت کی فلاح و بہبود کے لئے مختلف ممالک میں مقیم مستحق اور ضرورت مند لوگوں کی امداد میں ہمیشہ پیش پیش رہتے ہیں۔ اس ضمن میں شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے پاکستان کے مختلف علاقوں میں قدرتی آفات سے متاثر ہونے والوں کی امداد اور داد رسی کے لئے مختلف منصوبوں کا اعلان کیا ہے جس میں سرفہرست 40 تعلیمی منصوبوں کا قیام ہے اس ضمن میں امدادی مہم کی سربراہی شاہ محمد بن نائف کریں گے۔انہوں نے مزید تفصیلات میں کہا کہ تعلیمی منصوبے پنجاب اور آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں شروع کئے جائیں گے جن میں سکولوں اور تعلیمی سنٹرز کا قیام ہے۔ ان منصوبوں پر 30 ملین سعودی ریال لاگت آئے گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ گزشتہ برسوں میں آزاد کشمیر اور پنجاب کے مختلف علاقوں میں قدرتی آفات سے ہونے والی تباہی کے نتیجے میں کئی تعلیمی ادارے تباہ ہوگئے تھے جس کا اثر طلب پر پڑرہا ہے۔ان منصوبوں کے قیام سے مستحق طلبا کو تعلیم کے لئے بہتر ماحول ملے گا۔ شاہ سلمان امدادی منصوبوں کے تحت سکولوں کی تعمیر اور ان میں ضروری اشیاءجن میں فرنیچر اور تختہ سیاہ کی فراہمی بین الاقوامی معیار کے مطابق کی جائے گی۔ تاکہ طلبا کو بہتر انداز میں تعلیمی سہولتیں میسر آسکیں۔ درسگاہوں میں کمپیوٹر لیب، لیبارٹریز اور لائبریریاں بھی قائم کی جائیں گی۔ ڈاکٹر عثمان نے مزید بتایا کہ پرائمری، سکینڈری اور ثانوی تعلیمی ادارے قائم کئے جائیں گے۔ ان کے علاوہ ٹیکنیکل کالجز بھی اس مہم کا حصہ ہیں۔

Azad Kashmir

This is our Kashmir.
Free from claims, free from polity.

Serene and Lucid,
No stones, no pellets,
No flags, no bullets.

Here, Ishwar and Allah… 17 more words

Azad Kashmir