Tags » Azadi

Azadi, Χανιά: Μικροφωνική και συγκέντρωση αλληλεγγύης [24 και 25/01]

Δεν μας φοβίζουν οι διώξεις σας

Στις 14/10/2010 πέφτει νεκρός 19χρονος μαθητής ύστερα από καταδίωξη μπάτσων στα Χανιά. Κάποιες μέρες αργότερα, κι ενώ η ΕΛ.ΑΣ. επιχειρούσε να κουκουλώσει το περιστατικό, διοργανώνεται αντικρατική/αντικατασταλτική πορεία. Μέσα στο φορτισμένο κλίμα των ημερών και μετά από μικροσυγκρούσεις, οι μπάτσοι επιτίθενται στο σώμα της πορείας και συλλαμβάνουν δύο διαδηλωτές που πρωτόδικα τους κατηγορούν για διάφορα αδικήματα και εν τέλει τους καταδικάζουν σε 12 και 16 μήνες αντίστοιχα με αναστολή.

Στα πλαίσια όλης αυτής της βιομηχανίας πολιτικών διώξεων που λαμβάνει χώρα στην πόλη, εμείς έχουμε να δηλώσουμε πως δεν τρομοκρατούμαστε από κανέναν κρατικό μηχανισμό καταστολής.

Το κίνημα είναι εδώ και θα συνεχίσει να αγωνίζεται με τα μέσα του.

Μπάτσοι Ρουφιάνοι Δικαστές κάτω τα ξερά σας απ´ τους αγωνιστές
Στις γέννες τις ψευτιάς απαντάμε με πείσμα και αλληλεγγύη.

Μικροφωνική αλληλεγγύης

Τρίτη 24/01
18:00 Πλατεία Αγοράς

Συγκέντρωση αλληλεγγύης

Τετάρτη 25/01
09:00 Δικαστήρια

azadi

Αντιπληροφόρηση

azadi, Χανιά: Συγκέντρωση αλληλεγγύης στα δικαστήρια [Τετάρτη 18/01, 09:00]

Στις 18/1 εκδικάζεται η αυτεπάγγελτη δίωξη που κατέθεσε η επιθεώρηση εργασίας κατά της αφεντικίνας του μεζεδοπωλείου “Κουτουρούκι” και αφορά τις ποινικές ευθύνες της, προς τους πρώην εργαζόμενους.

Αντιπληροφόρηση

آزادی

آج میں بہت خوش ہوں۔خود کو جتنا ہلکا،آزاد اور مسرورمیں آج محسوس کر رہی ہوں شاید اتنا پہلے کبھی نہیں کیا تھا۔دور آسمان پر سورج اور بادلوں کی آنکھ مچولی جاری ہے۔سورج منہ نکالتا ہے تو بادلوں کا رنگ پھیکا پڑنے لگتا ہے اور جب بادل سورج کو اپنی لپیٹ میں لیتے ہیں تو سورج اداس دِکھنے لگتا ہے۔یہ ہوا میں جوسرخ گلابوں اور کافور ہے،میری روح کر معطر کر رہا ہے۔میں اپنے کمرے میں بیٹھی ہوں۔اب سے کچھ دیر پہلے مجھے نہلا،دھلا کر نئے کپڑے پہنائے گئے ہیں۔

مجھے ساتھ لے جانے والےابھی پہنچے نہیں اس لیے میں بھی اپنے ملنے والوں میں ابھی تک گھری بیٹھی ہوں۔باہر دیگوں کی  دیگیں تیار ہو رہی ہیں اور میرا دل ہے کہ خوشی کے مارے ناچے جا رہا ہے۔مگر میری فیملی،محلہ،جاننے والے،رشتہ دار ،کولیگز۔۔۔میرے سواکوئی خوش نظر نہیں آرہابلکہ سب رو رہے ہیں،آہ بکا کر رہے ہیں اور میرے لیے دعائوں میں مشغول ہیں۔

ایک شور سا برپا ہے میرے گھر میں۔۔۔میرے جاننے والے عزیز،رشتے دار اور وہ بھی جن کو میں نے شاید زندگی میں کبھی نہ دیکھا تھا۔۔۔۔سب جما ہیں۔سب دوڑے چلے آرہے ہیں۔کچھ تو غم سے واقعی نڈھال ہیں اور کچھ کوشش کر رہے ہیں کہ میل جول کی وجہ سے تعزیت کر کے”چاول”ہی کھا لیں۔ خیر یہ طے کرنا اتنا آسان بھی نہیں ہے سو میں اپنے الفاظ واپس لیتی ہوں ۔سوکم یا زیادہ سب ہی کو افسوس ہے کہ میرا جسم ایسے کیوں بے سدھ پڑا ہوا ہے۔سب مجھے یاد کر رہے ہیں اور سب ہی میرے لئےغمگین دکھائی دیتے ہیں۔

میرے گھر میں میری اولاد،شوہر،بہن بھائی۔۔۔سب کی ہی آنکھیں نم ہیں۔اور ۔۔۔۔سب ہی میرے بے سدھ پڑے جسم پر نوحا کناں ہیں”بہت اچھی خاتون تھیں،”بڑی ہی با اخلاق،با حیا،سلجھی ہوئی اور شریف آنٹی تھیں،”میری رشتہ دار عورتوں میں سے ایک،(جنہیں شاید میں دوسری بار اپنے گھر دیکھ رہی ہوں) نے صدا بلند کی ہے۔

  میرا بیٹا،جو میرے بوڑھاپے کی وجہ سے میرے قریب تک نہ آتا تھا اب رو رو کر اپنا برا حال کیے ہوئے ہے۔میری بیٹی جو بیاہ کے میرا ساتھ چھوڑ کر دور دیس بس گئی تھی ،اس کو غشی کے دورہ طاری ہے۔اورمیرا میاں جو مجھے ساری عمر “بےپردگی ” کےطعنے دیا کرتا تھا اب سر پکڑے بیٹھا ہے۔میرے پوتے، جو میرے پاس بیٹھنے تک بھی گھبراتے تھے اب میرے واپس لوٹنے کی دعائیں کر رہے ہیں۔

میرے  سسرال والے، جنہوں نے میرا زندگی بھر جینا دو بھر کیے رکھا تھا اب مجھے سپارے بخش بخش کر شرمندہ کر رہے ہیں۔ میری موت کی رسمیں ادا کرنے میں جو پیسہ انہوں نے اپنی محلے میں “ناک رکھنے” کے لیے لگا دیا ہے،کبھی اتنا مجھے دیا ہوتا تو  شاید میں بچ ہی جاتی۔بس آج میں یہ تماشا دیکھ دیکھ حیراں ہوں  لیکن شکر کرتی ہوں کہان سب دنیاوی مطلبیرشتوں،رسموں اور جھوٹے رواجوں سے بندھن ٹوٹ گیا۔ ہاں،آج میں بہت خوش ہوں کیونکہ آج میری آزادی کا دن ہے۔ ۔

Urdu

What the mainstream media is not telling us: Kashmir villagers ready to face army bullets to help militants escape

Photo:Women protesting against killing of Muhammad Khalid Wani in Tral on April 14, 2015  

It happened again last week.

The army encircled a group of militants in a village called Arwani in South Kashmir. 648 more words

Jammu & Kashmir

Slogans written by Kamla Bhasin in Hindi/Urdu, English & Bangla for OBR 2017

Slogans written by Kamla Bhasin in Hindi/Urdu, English & Bangla for OBR 2017 – YouTube

One Billion Rising season is here again. The incredible Kamla Di has written new slogans against violence against women. 33 more words

The Feminist

Azadi and Hindurashtra

Hindutva Movement:
# Hindus not the Muslims are original inhabitants of India.
# We were enslaved by Muslims a thousand years back.
# For one thousand years we have been under foreign subjugation. 70 more words