Tags » Bad Governance

BVTA condemns actions of BCC police in injuring a vending minor and victimisation of the mother in Bulawayo Issued by

Bulawayo Vendors and Traders Association (BVTA)

BVTA strongly condemns actions and the heavy handedness of the Bulawayo Municipal Police that led to a 15 year old minor suffering a broken arm during their violent raids on vendors whose only crime was selling eggs to raise funds for schools fees on Friday 19 August 2016 and subsequent seemingly counter accusation of the mother for assaulting a female municipal two weeks after. 366 more words

کارگردگی کے دعوے اور میرے شہر کے کھنڈرات

تحریر: سرفراز خان
الیکشن کا وقت قریب آتے ہی سیاستدان بلند وبانگ دعوو¿ں اور وعدوں کے ساتھ اپنے اپنے حلقہ انتخاب کا رخ کرتے ہیں نئے حیلے بہانوں سے مسائل میں گھرے عوام کو نئی امیدیں اور بڑے بڑے خواب دکھاتے ہیں کہ اس بار ووٹ دے کر کامیاب کریں توہم آپ کی ہر محرومی کو ختم کر دیں گے۔روزگار کے مواقع ہوں گئے، بجلی دستیاب ہو گی، صحت کی سہولتیں میسر ہوں گی وغیرہ وغیرہ۔ مگر منتخب ہونے کے بعدلوگوں کی انکھیں انہیں دیکھنے کو ترس جاتی ہیں۔ غریب بیچارہ کیا جانے حکمرانی اور حکمرانوں کے پروٹوکول کے مزے اسے تو اپنے گھرکے اخراجات پورے کرنے کی فکر ہوتی ہے۔وہ سب بھول کر پھرسے اپنی زندگی میں محو ہو جاتا ہے۔ اور ہر بار بہتری کی امید میں ان سیاستدانوں کے جھوٹے وعدوں کے چنگل میں آ جاتا ہے۔مگر اس بار توحکمرانوں نے ووٹ مانگنے کا انداز ہی بدل ڈالا ہے۔ وہ جلسے جلوسوں میں تعمیر وترقی کے سارے ریکارڈ توڑنے کے دعوے کر رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ نلوں میں پانی کے بجائے دودھ آ رہا ہے، اندھروں کو روشنیوں میں بدل دیا ہے، دنیا علاج کے لیے کشمیر کا رخ کرتی ہے، تعلیم کا میعار آکسفورڈ کے مقابلے میں آ گیا ہے گویا کشمیر دنیا کے لیے ایک ماڈ ل اسٹیٹ بن گیا ہے۔ اور اسی کاردگردگی کی بنیاد پر ووٹ کے طلب گار ہیں۔
اسی ماڈ ل اسٹیٹ میں ایک شہر راولاکوٹ بھی ہے جو عدم توجہی سے کھنڈرات میں تبدل ہو چکا ہے۔ کارگردگی کے دعوے کرنے والوں کو راولاکوٹ اور اس کے گردونواع کے علاقے کھنڈرات کا منظر پیش کرتے نظرکیوں نہیں آتے۔ شہر کی مرکزی شاہراہ جو راولاکوٹ کو تڑارکھل، ہجیرہ، عباس پور، علی سوجل، تولی پیر اور دوسرے کئی علاقوں سے ملاتی ہے گزشتہ کئی سالوں سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور کسی خشک نالے کا منظرر پیش کر رہی ہے۔ منٹوں کا سفر گھنٹوں میں بڑی مشکل سے طے ہوتا یے۔ سیاحوں کی توجہ کے مرکزی مقامات بنجوسہ اور تولی پیر پہنچنے کے لیے بھی یہی سڑک ااستعمال ہوتی ہے مگر سترہ سالوں سے اس کی مرمت کا کام بھی نہیں ہو سکا۔ یہ بدحالی تو مرکزی سڑک کی ہے اگر رابطہ اور علاقائی سڑکوں کی بات کی جائے تو پچھلے کئی بجٹوں میں مختص ہونے والی رقم کسی منظورنظر کی جیب میں تو ہو سکتی ہے مگر کہیں عوامی مفاد کے لیے استعمال ہوتی نظر نہیں آئی۔
2005میں آنے والے زلزلے میں راولاکوٹ بھی ان بدقسمت شہروں میں تھاجو اس کا شکار ہوے تھے۔ مظفرآباد اور باغ کے مقابلے میں یہاں کم نقصانات ہوے تھے مگر دس سال گزرنے کے باوجود، اعلٰی کاردگردگی کے دعوے کرنے والی حکومت زلزلے کے نشانات کو مٹا نا سکی۔ شہر اور گردونواع میں تباہ ہونے والی سرکاری عمارتیں خاص طور پر سکول ابھی تک مکمل نا ہو سکے۔
شہر میں کوئی نئے قابل ذکر ترقیاتی منصوبے شروع نا ہو سکے۔ تمام تر وعدوں اور چک متحدہ محاز کی ڈیڑھ سال کی بھوک ہرتال کے باوجود ڈسٹرکٹ ہسپتال کا کام ابھی تک جوں کا توں پڑا ہے۔ میڈیکل کالج میں کلاسز تو شروع ہو گئی مگر اس کی عمارت نا بن سکی اور اساتذہ کو تنخوائیں نہیں دی جارہی جس سے طلبہ کی پڑہائی متاثر ہو رہی ہے۔
ریاست کے قیام سے ہی راولاکوٹ کی بڑی اہمیت رہی ہے اور حکومت کی باگ دوڑ بیشتر پونچھ سے منتخب نمایئدوں کے پاس ہی رہی ہے۔ ان حکمرانوں میں سے ایک خوش قسمت موجودہ صدر ریاست جناب حاجی یعقوب بھی ہیں جو یہاں (حلقہ ۳) سے متعددبار منتخب ہونے کے بعد پہلے وزیر پھر وزیراعظم اور اب ریاست کے سربراہ ہیں جبکہ ان کی بیٹی ضمنی انتخاب میں جیتنے کے بعد وزیر ہے اور ٹکنوکریٹ کا قرعہ بھی راوالاکوٹ سے ہی تعلق رکھنے والے جیا لے سردار عابد حسین عابد کے نام نکلا وہ بھی وزیر ہیں جبکہ کئی مشیر بھی عوامی نمایئندگی کا دعوی کرتے ہیں۔ شہر کی بھرپور نمایئندگی ہونے کے باوجوکاردگردگی مایوس کن ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی آذاد کشمیر نے بھی پی پی پی کی وفاق اورسندھ میں قائم روایت کو برقرار رکھتے ہوئے عوام دشمن پالیسیوں سے اپنی بنیادیں خودہی ہلا کر رکھ دی ہیں اور اب یہاں کے عوام کے ساتھ ساتھ برسوں سے اپنی زندگیاں پی پی پی کے لیے واقف کرنے اور قربانیاں دینے والے جیالے بھی من پسند اور مفاد پرست لوگوں کو نوازنے پر نالاں ہیں جس سے آئیندہ انتخابات میں موجودہ صدر ریاست کو اپنے ٹولے سمیت شکست کا سامنا کرنا پڑھ سکتا ہے۔

Press Release 15.12.2015

Press Release 15.12.2015

Zonqor: Government bulldozes ahead

Front Harsien ODZ expressed its opposition to Government’s manoeuvres for sale of public land to Jordanian Sadeen Group. 187 more words

Press Releases

Water must be at centre of economic planning

THE country’s water predicament is a symptom of a much deeper crisis that goes well beyond the effects of the El Nino phenomenon and can be attended to only through a fundamental shift in economic governance. 148 more words

South Africa