Tags » Balochistan

Next RAW Chief AK Dhasmana is a Balochistan expert, ISI woried

NEW DELHI Special director of Research and Analysis Wing (RAW) AK Dhasmana is likely to be appointed as the next chief of the country’s external intelligence agency. 93 more words

National

Why Baloch leader Bugti may not get asylum in India

New Delhi, Dec 3: Whether or not Baloch leader Brahamdagh Bugti will get asylum in India or not is a decision that would be taken after the winter session of Parliament. 29 more words

Vicky Nanjappa

رہنمائی نرم کرسی کا نام نہیں!!; تحریر: وارث بلوچ

ہمارا آئے روز واسطہ غراتے ہوئے بڑے فیکٹریوں کی مشینوں سے پڑتا ہے، بلٹ سے تیز رفتار ریل گاڑیوں، اور مہنوں کا سفر گھنٹوں اور گھنٹوں کا سفر منٹوں میں طے کرنے والے ھوائی جہازوں سے پڑتا ہے، چاند پر کمندیں ڈالنے والی جدید ترین ٹیکنالوجی وغیرہ وغیرہ ان سب کا ایجاد ایک تصور و سوچ تھا، پھر انسانوں نے اس ڈئزائن کی شروعات بھی کسی پیپر (صفحہ) پر لکھ کر کی ہے۔ پوری مشین کو ایک ساتھ نہ بنایا گیا نہ یہ ممکن تھا، ہر پرزے کا وجود ایک الگ سوچ کا منبہ ہے۔ ایک ایک فارمولے اور طریقہ کار پر دہائیاں لگی ہیں اور بے شمار وسائل ۔
ایک مشین میں سینکڑوں بلکہ ہزاروں پرزے کارفر ماہوتے ہیں۔، پے در پے تجربات کے بعد ایک کارآمد پرزہ تیار ہوتا گیا۔ آج پوری دنیا کے معیشت کا پہیہ ان چھوٹے چھوٹے پرزوں کی ملاپ سے بننے والی مشینوں کی کامیابی اور ناکامی پر انحصار کرتی ہے۔ مشین کا ایک پرزہ بھی اگر جواب دے دے تو پورا مشین یعنی ملک کی معیشت چلنا بند کردیتا ہے۔
طب، فزکس اور ریاضی کے میدان میں واقعی سانسنداروں اورانجینیروں کو کئی موڑپہ ناکامی اور مایوسی کاسامنا کرنا پڑا ہوگا ان مسائل میں وسائل کی کمی،مشاہدات و تجربات کا ناکام ہونا، لوگوں کی طرف سے تنقید، حوصلہ شکنی جیسے عناصر آڑتے آتے ہونگے لیکن انہوں نے ان سب نا مسائب حالات کا مقابلہ کیا اور آج ہم جو مشینری استعمال کررہے ہیں یہ ان کی انتھک محنت، مصمم ارادے اور کاوشوں کا نتیجہ ہے۔
اسی طرح تحاریک میں بھی ایسی ہی نشیب و فراض آتے رہتے ہیں، یہاں قومی رہنمابھی سائندانوں اور ماہرین کی طرح اپنی قوم کی اسی طرح ذہنی تربیت اور حالات کو اپنے حق میں تبدیل کرنے اور قوم و ملک کی بھلائی کے لئے اپنی تجربات کو بروئے لاتے ہیں۔ جب ایک قوم اپنے رہنما کے پشت پر کھڑے ہوکر ان کی طاقت بنتی ہے تو دوسری طرف دشمن بھی انتہائی شدت اور بے رحمی سے اس قوم کو کچلنے پر اتر آتی ہے کیونکہ وہ سمجھتی ہے کہ اگر اس محقوم اور غلام قوم کو توانا اور طاقتور بننے دیا گیا تو یہ ان (طاقتور) کی اپنی مصنوعی قیام کے جواز کو جڑ سے ختم کر سکتی ہے۔
جس طرح ایک سائنسدان تجربات اور اپنی کام کے دوران ہمت نہیں ہارتا اور کامیابی انکی قدمیں چومتی ہیں اسی طرح قومی رہنماوں کا کردار بھی ایسی خصوصیات کا متقاضی ہے۔
سوچیئے ! جب آپ کا واسطہ ایک غیر مہذب، غیرت نام کی چیز سے نابلد، عالمی جنگی اصولوں و بین القوامی قوانین سے روگردانی کرنے والا اور آپ سے وسائل و ہتھیار کے اعتبار سے برتری رکھنے والا دشمن سے پڑ جائے توآپ کو کتنی محنت، برداشت اور قومی یکجہتی کی ضرورت ہوگی؟
بلوچ تحریک بھی دوسرے تحاریک کی طرح اس وقت انگنت مسائل سے نبرد آزما رہی ہے، بلوچوں کا آزادی کے لئے لڑی جانے والی یہ پانچواں کوشش ہے جو تاریخ میں طویل ترین جدوجہد کہلائی جاتی ہے۔ ماضی کے جتنے بھی کوششیں تھیں اس میں ہم (بلوچ) ناکام ہوئے، کیوں ناکام ہوئے اس کی ایک لمبی فہرست ہے لیکن ان سب میں مشترک ہماری اپنی اندرونی بے اتفاقی، ایک منظم اور اصولوں کے تابع قومی تنظیم کا غیر موثر ہونا تھا۔ اب اس تنظیم کو غیر موثر کیوں بنایا گیا کس نے بنایا اس سوال کا جواب ڈھونڈنا انہتائی آسان ہے لیکن ذمہ داروں کا تعین اس وقت ہوسکے گا جب قومی اتفاق رائے سے ایک قومی ادارہ اور قانون کہ جس کا سب بلوچ مرد و زن سر و بچشم احترام و تقلید کرے۔
حالیہ بلوچ تحریک آزادی نے اپنی شروعات کی دھائی میں جتنی برق رفتاری سے کامیابی کی طرف مسافت شروع کی بلا شبہ اس نے دنیا کو یہ باور دلانے میں کامیابی حاصل کی کہ بلوچ ایک قومی فوج کے ذریعے آزادی کی دہلیز کی طرف کامیابی سے رواں دواں ہیں۔ بلوچ اپنی آزاد مملکت کے قیام کے بعد اسے چلانے کی بھی سکتے، قوت، اور خصوصیات رکھتے ہیں۔
اب جب آپ کی تحریک اتنی تیزی سے اور کامیابی سے اپنی منزل کی جانب رواں ہو تو کیا دشمن اسے کھلا چھوٹ دے سکتی ہے؟ آپ کسی شاہرہ پر روڈ بلاک کرکے اپنے گلی اور محلے کے لئے نلکا نالی، کچی سڑک پکی کرنے کا مطالبہ، محلے کے نکاسی آب کی صورتحال بہتر بنانے، یا پھر زمین کی آباد کاری کے لئے چند بلڈوزر کے گھنٹے یا پھر بجلی و گیس کی بحالی کے مطالبات تو کر ہی نہیں رہے۔ آپ اپنی مقبوضہ سرزمین کی آزادی کی بات کررہے ہیں، اس آزاد مملکت کی بحالی کی بات کررہے ہیں جسے بزور طاقت آپ سے چھینا گیا تھا۔
آزادی کے خیمے میں موجود تمام بلوچ قوم اس وقت ایک ٹیم کی حیثیت رکھتے ہیں، دشمن کی ایک ایک گولی پر ان کا بحثیت بلوچ نام درج ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہم بحثیت بلوچ دشمن کا مقابلہ کرنے کی بجائے ٹولیوں میں بٹ کر ایک غنڈہ، درندہ صفت ریاست جس نے محض ہفتوں میں تیس لاکھ بنگالیوں کو حشرات کی طرح مسل ڈالا، جس نے روس جیسے عالمی طاقت کو کرائے کا قاتل بن کر شکست دی، جو اب عالمی طاقتور ملک امریکہ کو بھی اپنی دہشت گردانہ عزائم کے تحت نشانہ بنارہی ہے جو افغانستان کی معصوم افغان بچوں، عورتوں اور رہنماوں کو اسلام اور جہاد کے ڈھکوسلے نعروں سے لقمہ اجل بنارہی ہے وہ ناتواں اور منتشر بلوچ کو کس بے دردی اور تیزی سے قبرستان کا حوالے کرنے کا تیہہ کرچکی ہے کیا اس کا ہمیں حقیقی ادراک ہے؟
جن بلوچ سیاسی و عسکری پارٹیوں یا رہنماوں سے غلطیاں یا کوتاہیاں ہوئی ہیں یہ غلطیاں بظاہر تو ان پارٹیوں اور افراد سے ہوئیں لیکن در حقیقیت ان غلط پالیسیوں کا خمیازہ پوری بلوچ تحریک کو بھگتنے پڑ رہے ہیں۔ ایک پارٹی اگر کوئی غلطی کرتی ہے اس کی نشاندہی ہر بلوچ فرزند کا فرض بنتا ہے لیکن ہمیں یہ بھی خیال رکھنا ہوگا کہ یہاں کوئی جج اور جیوری نہیں ہے غلطیوں کی نشاندہی غلطیوں کو سدھارنے کے لئے کی جانی چاہیے۔ ایک کارواں کے ہمسفروں میں سے اگر کوئی بیمار ہوکر، یا تھک کر گرتی ہے تو اسے سہارا دینی چاہیے، اگر کوئی ہمسفر ساتھی دشمن کی لالچ، خوف اور بہکاوے میں آکر ذہنی طور پر کمزوری کا مظاہرہ کرے تو ان کی ذہن سازی کرنی چاہیے اور انہیں اور بھی پختہ بنانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔
بلوچ سیاسی و عسکری پارٹیوں کو اس وقت اپنی پوری طاقت اپنے عوام کو آگاہی دینے میں صرف کرنی چاہیے کیونکہ اگر عوام مضبوطی سے آپ کے ساتھ جڑے گی تو دشمن کا کوئی بھی حربہ کامیاب نہیں ہوپائے گا۔ عوام سمندر ہے اور آپ مچلی۔ اگر آپ سمندر سے دور ہونگے تو آپ کا زندہ رہنما ناممکن ہوجاتا ہے۔
سوشل میڈیا میں موجود نوجوانوں اور بزرگوں سے صرف ایک ہی التماس ہے کہ اگر کسی بھی مسئلے پر بحث و مباحثہ ہورہا ہو، تو اس بحث کو کسی ہار جیت کے پیرائے میں نہ تولیں بلکہ اسے صرف سمجھنے اور سمجھانے کی حد تک رکھیں، اگر آپ کے پاس اپنی دلائل کو صحیح ثابت کرنے کئے نا قابل تردید ثبوت بھی موجود ہیں تو اسے اپنی غرور، طنز، سبک الفاظ کے استعمال کا بھینٹ نہ چھڑائیں۔
بلوچ قوم کو اجتماعی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک ایسا قومی ادارہ تشکیل دینا پڑےگا جس میں سب کی نمائندگی ہو اور وہ کسی پارٹی، گروہی اور شخصی اثر و رسوخ سے بالاتر ہو جو بلوچ تحریک میں ہونے والی غلطیوں کی نشاندہی غیر جانبدارای سے کرسکے اورجو ایک شفیق باپ کی طرح، مہربان ماں کی طرح، بڑے بھائی کی طرح، قابل استاد کی طرح، ایک انصاف پسند جج کی طرح اور جن کا مقصد و نصب العین صرف اور صرف بلوچ قومی تحریک کی کامیابی، غلطیوں کی نشاندہی اور اسے درست کرنا ہو۔
جس طرح ایک مشین کے الگ الگ پرزہ جات کی تیاری پر دہائیاں اور صدیاں لگیں اسی طرح تحاریک سے جڑے ادارے بھی مشین کے پرزوں جیسا ہوتے ہیں، جب تک وہ ٹھیک سے کام نہیں کرتے تحریک یا ملک کا تصور حقیقیت میں نہیں ڈھل سکتی۔ اور جب تک پرزہ جات کا آپس میں ملاپ نہ ہو اور آپس میں ہم آہنگی نہ ہو تب تک ایک مشین نہیں بن سکتی۔ اور جب تک ایک مشین وجود میں نہین آتی اس وقت تک ایک ملک اور ان کی میعشت معزوروں کی طرح لنگڑاتی رہیگی لہذا اسی طرح بلوچ تحریک میں بھی اداروں کی اشد ضرورت ہے، بلوچ سیاسی اور عسکری پارٹیوں کو اپنی ذاتی، گروہی مفادات کو ترک کرکے صرف اس مشین کیطرح کام کرنا ہوگا جس کی پچان پرزوں کی وجہ سے نہیں بلکہ اجتماعی طور پر ایک مشین کے نام سے ہو تب جاکر بلوچ تحریک کا پہیہ صحیح سمت میں اور صحیح رفتار میں منزل کی طرف بڑھ پائے گی وگرنہ ہم اس خراب مشین کے اندر ناکارہ پرزوں کی طرح صرف شور مچاتے رہیٰں گے کام اور نتیجہ صفر۔

Balochistan

Baloch Sardars- a reality check!

It is very unfortunate that people of Balochistan and resources are being exploited by their own Baloch sardars. The insurgency in Balochistan had been a problem and a big hurdle in progress and development of this province. 370 more words

Exploitation of Balochs...

Balochistan is gold mine for Pakistan as this province is rich in natural resources and by area it is largest province of Pakistan. But it is very unfortunate that people of Balochistan and resources are being exploited by their own Baloch sardars. 347 more words

The New Face of Balochistan (Pakistan)

You people might be wondering about the title but let me assure you, this is going to be the reality very soon Insha Allah. The factors I would be listing below which are going to shape Balochistan as the new face of Pakistan. 302 more words