Tags » Chinese Economy

China is taking digital control of its people to unprecedented and chilling lengths | John Naughton

The Chinese governments unsettling brand-new method will see citizens rated by good deeds

Watching Donald Trump trying to deal with China is like watching a clown dancing in front of an elephant. 946 more words

Australia's central bank chief warns over China debt risk

Australia’s central bank chief has warned China’s mounting debt poses a grave economic threat, with broadening trade ties between the two countries exposing more industries to the risk. 424 more words

شی جن پنگ کا نظریہ اور چینی خواب

’چین کی ترقی‘ کے عنوان سے ڈی ڈبلیو کی اس سیریز میں عالمی افق پر چین کے ایک سپر پارو بننے کے سفر کے مختلف پہلوؤں پر نظر ڈالی جا رہی ہے۔ اس آرٹیکل میں اس ’چینی تصور‘ کا جائزہ لیا گیا ہے، جس کا تعلق صدر شی کے نظریات سے ہے۔ باقی دنیا حیرت سے اپنی آنکھیں مل رہی ہے۔ تقریباً تین دہائیوں کے دوران چین نے بہت تیزی سے اقتصادی ترقی کی اور ایک غریب ترقی پذیر ملک سے ایک بڑی صنعتی طاقت بن گیا۔ آج کل چین اپنی نظریں ’ورلڈ پاور‘ بننے پر جمائے ہوئے ہے۔

تاہم موجودہ حالات میں چین کی صنعتی ترقی اور بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے حوالے سے خوف اور ستائش کے ملے جلے جذبات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ چینی عوام اور خاص طور پر بیجنگ میں سیاسی حلقے اپنے ملک کی اس ترقی کو تاریخی غلطیوں کا ازالہ بھی قرار دیتے ہیں۔ اس سوچ کو بیجنگ کے شعبہ پروپیگنڈا نے پروان چڑھایا ہے اور اس کا تعلق صدر شی جن پنگ کے سیاسی فلسفے سے بھی ہے۔ 2012ء میں شی جن پنگ کے صدر بننے کے ساتھ ہی کمیونسٹ پارٹی اور ریاستی رہنماؤں نے چینی عوام سے ماضی کی شہنشاہیت جیسی عظمت و شان کی واپسی کا وعدہ کیا تھا۔

ذلت و رسوائی کے سو سال
1842ء میں اسلحے کے زور پر چینی بندرگاہوں کو برطانوی ’افیون‘ کے لیے کھول دیا گیا۔ اسے ’افیون کی جنگ‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ اس دوران چین کے ساتھ نام نہاد ’غیر منصفانہ معاہدے‘ کیے گئے اور اس طرح چین کو مجبور کیا گیا کہ وہ ہانگ کانگ کا نظم و نسق برطانیہ کے حوالے کر دے۔ اس ’ذلت آمیز‘ صدی کا رسمی طور پر اختتام 1949ء میں کمیونسٹ پارٹی کی جانب سے عوامی جمہوریہ چین کے قیام کے ساتھ ہوا تھا۔

2049ء گلوبل سپر پاور
چینی قوم کو دوبارہ عظیم الشان بنانے کے منصوبے 2049ء تک جاری رہیں گے اور اس طرح عوامی جمہوریہ چین اپنے قیام کی ایک سو ویں سالگرہ تک عالمی طاقت بن چکا ہو گا۔ جب بات چینی قوم کے عظیم الشان ماضی کی ہو تو شہری حقوق یا پیچیدہ آئینی مقدمے راستے کی رکاوٹ نہیں بن سکیں گے۔ ناقدین، انسانی حقوق کے کارکنوں اور ان کے وکلاء کو بھی جیل بھیجا جا سکتا ہے۔ ساتھ ہی ذرائع ابلاغ کی وہ آزادیاں بھی چھینی جا سکتی ہیں، جو انہوں نے بہت جدوجہد کے بعد حاصل کی ہیں۔ چینی تصور یا خواب کا نظریہ نہایت مبہم بھی ہے اور ساتھ ہی اس قدر جامع بھی ہے کہ اس سے کئی طرح کے پیغامات اخذ کیے جا سکتے ہیں۔

شاہراہ ریشم سے دنیا کے مرکز میں
چینی نظریے کے تحت شی جن پنگ کے متعدد منصوبے آتے ہیں اور ’ون بیلٹ، ون روڈ‘ کا منصوبہ بھی اسی کا حصہ ہے۔ اس کے تحت یورپ، افریقہ اور ایشیا میں بنیادی ڈھانچوں اور سڑکوں کے جال بچھانے کی خاطر بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ آج کے دور میں اس منصوبے کے ساتھ چین دنیا کا وہ واحد ملک ہے جو کسی عالمگیر نظریے پر کام کر رہا ہے۔ اور یہ کوئی اتفاق بھی نہیں ہے کہ ’ون بیلٹ، ون روڈ‘ منصوبے کو جدید شاہراہ ریشم بھی کہا جا سکتا ہے۔ چین سرمایہ کاری کی اپنی ماہرانہ پالیسیوں کے تحت اس اقتصادی طاقت کو سیاسی اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔ نقل و حمل کا نیا جال اور نئے اقتصادی رابطے یقینی طور پر چینی نظریے کے ترقی میں کردار ادا کریں گے۔

بشکریہ DW اردو

World

Strong China first-quarter GDP growth supported by construction, manufacturing, hi-tech

Reuters Staff April 18, 2018

BEIJING (Reuters) – China’s better-than-expected economic expansion in the first quarter was backed by a pickup in construction and industry, while a slowdown in the services and agriculture sectors dragged on growth, official data showed on Wednesday. 434 more words

How Long Until China Cranks Up the Debt Engine?

Its economy’s steady first-quarter growth masks some worrying signs

Cherry blossoms during their peak season earlier this month in east China’s Jiangsu province. While the country’s economy grew this quarter, cracks are beginning to show.  503 more words

China Fends Off Trade Trouble With 6.8% Growth -- Entire supply chains have moved to China for automakers, others

Performance suggests that trade tensions with the U.S. are having little impact on Chinese economy

Chinese factory workers assembling cars at an auto plant of Jianghuai Automobile Co. 2,057 more words