Tags » Civil Government

فوجی عدالتیں اور اے پی سی کی قراردادیں

پاکستان میں جاگیردار وڈیروں سرمایہ دار صنعتکاروں اور موروثی سیاست کے ہاتھوں یرغمال جمہوریت بالکل ناکام ہوچکی ہے جس کی جتنی مذمت کی جا ے کم ہے . پاکستان میں صوبائی حکومت ہو یا وفاقی دونوں عوام کے حقوق غضب کرنے میں مصروف ہیں . گزشتہ 10 سال سے پاکستان دہشتگردی کے جال میں جکڑا ہوا ہے جس سے نجات دلانا شائد ان جاگیردار وڈیروں اور سرمایہ داروں کے بس کی بات نہیں ہے. گزشتہ سال کے آخری ماہ میں 16 دسمبر 2014 کو پشاور میں اسکول کے بچوں کی شہادت کے بعد جس طرح پوری قوم نے اتحاد کا مظاہرہ کیا اور سیاسی و عسکری قیادت سرجوڑ کر بیٹھے کچھ وقت کے لیے ایسا محسوس ہوا کہ سیاستدان کے اندر قوم کا درد محسوس کرنے اور عوام کی حفاظت کا جذبہ بیدار ہوگیا ہے . سال 2014 کے آخری ماہ دسمبر میں.وزیراعظم پاکستان نواز شریف صاحب کی زیرصدارت 24-12-2014 کو پارلیمانی جماعتوں کا اجلاس ہوا جس میں تمام سیاسی جماعتوں و پاکستان کی عسکری قیادت نے بھی شرکت کی اس اجلاس میں تمام جماعتوں کی سفارشوں پر غور کیا گیا اور 15 سے زائد سفارشات پراتفاق را ے پایا گیا

آل پارٹیز کانفرنس میں منظور ہونے والی چند قراردادیں

پارلیمانی جماعتوں کے اجلاس میں فوجی عدالتوں کواسپیڈی ٹرائل کورٹس کا نام دیا گیا

دہشت گردوں کی مالی معاونت روکی جاے گی
دہشت گردوں کے ٹرائل کے لیے وقت مقرر کیا جاے گا
فوری انصاف کے لیے مقدمات کا فیصلہ کم سے کم وقت میں ہوگا
کالعدم تنظیموں کو دوبارہ فعل نہیں ہونے دیا جاے گا
فاٹا میں انتظامی و ترقیاتی اصلاحات کی جائیں گی
خصوصی عدالتوں کے قیام کے لیے آئین و قانون میں ترامیم کی جاےگی
خصوصی عدالتوں کی مدت 2 سال ہوگی
ملک میں مسلح جتھے بنانے کی اجازت نہیں ہوگی
دہشت گردوں کے مواصلاتی رابطوں کے نظام کو ختم کرنا ہوگا

غیر معمولی حالات میں غیر معمولی فیصلے کرنا ہونگے.
فوجی افسران پر مشتمل خصوصی کورٹس قائم کی جائنگی

سوا ے فوجی عدالتوں کے قیام کے کسی بھی قرارداد پر عمل درآمد نہ ہوسکا. آج بھی کالعدم تنظیموں کو کھلی چھوٹ ہے اور آج بھی انکی فنڈنگ بھی جاری ہے سانحہ پشاور اسکول کے بعد حکمرانوں نے اسکولز کو سیکورٹی کے باعث بند کردیا تھا حکومتی موقف تھا کہ سیکورٹی کے انتظامات کے بعد اسکولز دوبارہ کھول دیے جاے گے.پھر یوں ہی ہوا حکومتی کھوکھلی سیکورٹی کے بعد اسکولز دوبارہ کھلے سانحہ پشاور اسکول اٹیک کا متاثرہ آرمی پبلک اسکول بھی دوبارہ علم کے دیپ جلانا شروع ہوگیا اور وہاں کے بچوں کے ساتھ پوری قوم کے طلباوطالبات کا جذبہ جوش اور علم حاصل کرنے کی لگن دیکھ کر ملک معماروں کو سلام پیش کرنے کو دل چاہتا ہے. مگر ہمارے حکمرانوں کو اب بھی ہوش نہ آیا سانحہ پشاور کے بعد بھی کوئی عملی سیکیورٹی پلان نظر نہیں آیا. آل پارٹیز کانفرنس کے دو ماہ بعد رواں سال 2015 میں بھی سیکورٹی کے کوئی خاص انتظامات نہ کیے جاسکے آج بھی لوگ خوف کے عالم میں زندگی گزاررہے ہیں گزشتہ ہفتے شکارپور میں امام بارگاہ پر دہشتگردوں نے بدترین حملہ کیا جس میں 35 سے زائد افراد شہید و ءزخمی ہوے اس کے باوجود بے حس حکمران اپنی بے حسی پر قائم ہیں ا ور صوبائی اور وفاقی حکومت اپنی ناکامی قبول کرنے سے قاصر ہیں
ابھی سانحہ شکارپور میں دہشتگردوں کے ہاتھوں امام بارگاہ پر وزیراعلی سندھ قائم علی شاہ اپنی سب اچھا ہے کا راگ لاپ کر ہی چکے تھے کہ اس کے چند روز بعد دہشتگردوں نے کراچی کے نجی اسکول کے گیٹ پرکریکر حملہ کرکے کراچی میں تعلیمی اداروں کی سیکورٹی کی قلعی کھول دی جس سے صاف ظاہر ہوتاہے حکمرانوں نے عوام کو دہشتگردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ رکھا ہے
کراچی کا امن و امان پچھلے 6 سالوں سے بدتر سے بدتر ہوتا جارہا ہے . کراچی میں پچھلے کءسالوں سے ماورائے عدالت قتل عام جاری ہے جس کا کوئی جواب یا پھر جواز سمجھ نہیں آتا جیسے کراچی میں جنگل کا قانون ہے  وہاں متحدہ قومی موومینٹ اپنے کارکنان کو صبر کی تلقین کرتی ہے یا پھر اپنے کارکنان کے ماورائے عدالت قتل کے خلاف یوم سوگ مناتی ہے اور پھر معاملہ اللہ کی عدالت میں چلا جاتاہے کراچی میں ماورائے عدالت قتل عام ہورہے ہیں اس میں کوئی شک نہیں ¾ مگر یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ ماورائے ِ عدالت قتل میں ملوث اہلکاروں کو معطل یا قرارواقعی سزا کیوں نہیں دی ئ؟ سندھ حکومت پاکستان پیپلزپارٹی اپنے پرانے طرز سیاست پر عمل پیرا ہے جس کا نتیجہ بھی ماضی کی طرح مارشل لا نظر آرہا ہے آئین کے ٹھیکیدار اپنی نام نہاد جمہوریت میں کھلے عام آئین کے آرٹیکل ۹ اور ۱ ۰ کی خلاف ورزی کررہے ہیں .
اس ٹوٹی پھوٹی جمہوریت کے حکمرانوں نے دہشتگردوں کے خلاف عملی اقدام تو نہ کیا مگر تعلیمی اداروں میں اساتذہ کو ہاتھ میں قلم کی جگہ ہتھیار اٹھانے پر مجبور کردیا ہے کیونکہ جب حکمران عوام کو تحفظ نہیں دے سکتے تو انھیں اپنی حفاظت خود کرنا ہوگی. ایسی جمہوریت سےبہتر آمریت ہے جس میں قوم کو محفوظ معاشرہ تو میسر ہوتا ہے پاکستان پیپلزپارٹی ، پاکستان تحریک انصاف و دیگر کی صوبائی حکومتیں ہوں یا پھر پاکستان مسلم لیگ ن کی وفاقی حکومت تمام جمہوری چیمپیئن عوام کو ریلیف اور تحفظ دینے میں ناکام ہوچکے ہیں
 پہلے حکمرانوں نے دہشتگردوں کے خلاف آپریشن میں تاخیر کرکے دہشتگردوں کو منظم ہونے کا وقت دیا اور اب دہشت گردوں کو سزا اور کیفرکردار تک پہچانے میں تاخیری کے حربے استعمال کیے جارہے ہیں فوجی عدالتیں پورے پاکستان میں قائم تو کردیں مگر اب تک کوئی ایک کیس بھی فوجی عدالتوں میں ریفر نہ کیا جاسکا .وہ ہی ہوا جس کا مجھے اور پورے پاکستان کی عوام کو امید تھی اور پھر ماضی کی روایت کو برقرار رکھتے ہو? اس بار بھی حکمرانوں نے آل پارٹیز کانفرنس کو ہوا میں اڑا دیا. پاکستان کی عوام کو حکومت اور جمہوریت سے کوئی امید نہیں ہے پوری قوم اپنے بچوں کے مستقبل اور تحفظ کے لیے پریشان ہیں جس کا واحد حل صرف مارشل لا ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ افواج پاکستان ملک کی سرحدی معاملات کے ساتھ ساتھ ملک کے اندرونی معاملات بھی ہاتھ میں لے لے اور پورے پاکستان میں مارشل لا لگادیا جاے

You shouldn't sign your name to an agreement that evil men may kill one of your children, not even to save the others

I just sent the following to my representative:

Subject: Don’t abandon the rape and incest babies
Dear Representative Carson,

Please do not support the H.R. 36: Pain-Capable Unborn Child Protection Act as it is – it withholds protection for babies conceived through no fault of their own through rape and incest.

261 more words
Love Your Neighbor

Dispensation of Civil Government

Dispensation of Civil Government 

 

Introduction

 

The economy of Civil Government or Governments instituted among men granted by the supreme sovereignty of God governs this Dispensation. Also the subtitles of this economy is God granting the protagonist Noah the champion of our faith the right to eat meat from the animals that were saved on the ark. 550 more words

God

Meeting at C-POWER Thurs

Nov. 13th at 7pm at Cagney’s Kitchen, 1200 Central St, Wilkesboro, NC. The guest is Jake MacAulay from the Institute on the Constitution discussing the American view on gov’t, Common Core, maintaining lawful government, and the biblical purpose of civil government. Arrive at 6pm for dinner.

TEA Party

John Locke and His Second Treatise on Civil Government

The influential English philosopher John Locke (1632 – 1704) was an anti-absolutist. This meant that he was against an absolutist monarchy, unlike the rest of Europe. 619 more words

School Essays

Relational Economics

It has been known in times past that trust is key in the sphere of economics. Trust also happens to be key in relationships in general. 749 more words

Opinions

American Christian Education

When Education is expanded upon, it is deals with much more then simply the transformation of facts – it is delivering a belief system, and one that will reach out to as far as the nation’s civil government. 14,904 more words

Essay's