Tags » Computers And Internet

A Solid Programming Intro (for Beginners)

Microsoft Virtual Academy: Introduction to Programming with Python (#8360)

A

re you new to the world of programming?  I keep telling people it’s really quite simple and if one applies themselves, it’s something everyone can get into if they’re really that interested.  491 more words

Computers And Internet

DNS oddities in Windows 10

We’ve been having a lot of issues recently with Windows 10 devices not updating DNS properly when DHCP servers are set to do the dynamic updating on behalf of the client. 147 more words

Computers And Internet

Google Drive и OneDrive - удалил ругательный пост...

Похоже там проблема не в самих программах, а именно в установщике и конфигурации.

Очень не любит установщик когда ему параметры по-умолчанию изменяют. Например установить его в D:\GoogleDrive – у него крышу сносит…

Переустановил с параметрами по-умолчанию, отключил синхронизацию всего, оставил только синхронизацию одной папки “Work” – оно вроде заработало. Немного “со скрипом”, но хоть так…

Computers And Internet

“Be wary of quotes on the Internet.”

– Abraham Lincoln

Humor

خودی اور نشر کی توحید

ؤمن کی خودی میں انقلاب آتا ہے تو وہ نہ صرف بے پناہ قوتِ عمل کا مالک بن جاتا ہے بلکہ اس قوتِ عمل کے اظہار کے لئے میدانِ کار بھی تلاش کرتا ہے اور اس کا میدانِ کار باطل کا استیصال اور حکم حق کا اجرا ہوتا ہے۔ جس کی ابتداء کلمہ توحید کی اشاعت اور خدا کی محبت کی دعوت سے ہوتی ہے۔ کیونکہ اپنے محبوب کی طرح وہ بھی چاہتا ہے کہ نوعِ انسانی منزلِ کمال کو پہنچے۔ اس کا مقصد حیات وہی ہوتا ہے جو اس کے محبوب کا مقصد ہے۔ لہٰذا جب تک اس کائنات میں خدا کا مقصد پورا نہیں ہوتا اس وقت تک اس کے عاشق کا مقصد بھی پورا نہیں ہوتا اور خدا کا مقصد نوعِ بشر کی تکمیل ہے جو خدا کے قول کن سے ہو رہی ہے۔ خدا کی محبت میں خدا کے مقصد کی محبت بھی شامل ہے لہٰذا مومن خدا کے قول کن کا ممد و معاون بنتا ہے اور خدا کے بندوں کو خدا کی محبت کی طرف بلاتا ہے اور اپنی دعوت کو مؤثر اور کامیاب کرنے کے لئے اپنے عمل کی قوتوں کو جو خدا کی محبت سے مزید قوت پاکر درجۂ کمال کو پہنچ چکی ہوتی ہیں‘ہر ممکن طریق سے کام میں لاتا ہے اور ایسا کرنا اس کی اپنی آرزوئے حسن کی تشفی کے لئے ضروری ہوتا ہے۔ چونکہ وہ خدا کی مرضی کے مطابق پہلے خود بدل جاتا ہے اس لئے وہ دنیا کو بھی بدل سکتا ہے اور بدلتا ہے پہلے وہ خدا کے جمال کا نقش اپنی جان میں پیدا کرتا ہے اور اس کے بعد اس نقش جمال کو دنیا میں عام کر دیتا ہے۔

خدا کے دو مختلف قسم کے عاشق
ایک خدا کا عاشق وہ ہے جو خدا کی محبت سے سرشار ہو کر ’اللہ ہو‘ کا ایک نعرہ لگاتا ہے لیکن پھر خاموش ہو کر دنیا سے کنارہ کش ہو جاتا ہے اور اپنی خاموش گوشہ نشین محبت کو اپنی نجات کے لئے کافی سمجھتا ہے۔ وہ عبادت اور ریاضت تو کرتا ہے لیکن خدا کی محبت سے قوت پاکر باطل سے ٹکر نہیں لیتا اور خدا کا حکم دنیا میں جاری نہیں کرتا۔ حیدر کرار (ص) کی طرح جو کی روٹی تو کھاتا ہے لیکن آپ کی طرح خیبر فتح کرنے کے لئے نہیں نکلتابلکہ ایک راہب کی طرح کسی خانقاہ کے گوشہ عزلت میں چھپ کر بیٹھ جاتا ہے اور بادشاہت سے گریز کرتا ہے۔ دوسرا عاشق خدا وہ ہے جس کے نعرۂ ’ہو‘ سے کائنات ہل جاتی ہے اور اس کی قیادت کی تمنا میں اس کے کوچہ کے گرد گھومنے لگتی ہے۔ وہ باطل سے ٹکراتا ہے تاکہ اسے ملیامیٹ کر کے دنیا میں خدا کا حکم جاری کرے۔ وہ باطل کی دنیا کو اپنا شکار سمجھتا ہے اور اسے فنا کے گھاٹ اتار دینا چاہتا ہے چونکہ وہ خدا کا وہ کام کرتا ہے جس کا انجام پانا بالقوہ کائنات کی فطرت میں ہے اور جو ہر حالت میں انجام پاکر رہے گا وہ کائنات کے ارتقا کی قوتوں کو جو کائنات کے اندر مخفی ہیں‘ اپنے ساتھ شریک کار بنا لیتا ہے؛ لہٰذا اس کی تدبیر خدا کی تقدیر سے ہم آہنگ ہو جاتی ہے اور جو کچھ وہ چاہتا ہے وہی ہو جاتا ہے۔ عصر جدید کی دنیا جس میں دہریت، مادیت اور کفر اور الحاد کا دور دورہ ہے ایسے عاشق کے لئے ایک زبردست چیلنج کا حکم رکھتی ہے۔ اسے چاہئے کہ اس چیلنج کو قبول کرے اور عصر جدید کو مشرف بتوحید کر کے دنیا کو خدا کی مرضی کے مطابق بدل دے۔ اقبال حلاج کی زبان سے جس نے ’اَنا الحق‘ کہا تھا ان حقائق کی تلقین کرتا ہے کیونکہ ’اَنا الحق‘ (میں خداہوں)کہنے کے معنی ٰیہ ہیں کہ انسان دنیا میں وہ کام کرے جو خدا کر رہا ہے اور اس طرح سے خدا کا معاون اور شریک کار بن جائے۔ لہٰذا ان حقائق کی تلقین حلاج ہی کر سکتا تھا۔ اس طریق سے اقبال نے حلاج کے قول ’اَناالحق‘ کو جسے لوگوں نے کفر قرار دیا تھا ایک نئے معنی پہنائے جو اسلام کے مطابق ہیں۔
نقش حق اوّل بجاں انداختن

باز او را در جہاں انداختن!
نقش جاں تا در جہاں گردد تمام

می شود دیدارِ حق دیدارِ عام!
اے خنک مردے کہ ازیک ہُوے او

نُہ فلک دارد طوافِ کوے او
وائے درویشے کہ ہُوے آفرید

باز لب بربست و دم در خود کشید
حکمِ حق را در جہاں جاری نکرد

نانے از جو خورد و کرّاری نکرد
خانقاہے جست و از خیبر رمید

راہبی درزید و سلطانی ندید!
نقشِ حق داری؟ جہاں نخچیرِ تست

ہم عناں تقدیر با تدبیر تست
عصر حاضر با تو می جوید ستیز
نقشِ حق بر لوحِ ایں کافر بریز!
مسلمانوں کا قومی نصب العین
کلمہ توحید کی نشر و اشاعت مسلمانوں کا فطری مقصد زندگی اور قومی نصب العین ہے۔ کائنات میں مسلمان قوم کے وجود کا دار و مدار کلمہ توحید کی نشر و اشاعت پر ہے۔ اگر وہ توحید کی نشرواشاعت نہ کرے گی تو کائنات اپنے کمال کی طرف ارتقا نہیں کرسکے گی لیکن چونکہ کائنات کا ارتقا ضرور جاری رہے گا اس کا مطلب یہ ہے کہ یا تو مسلمان قوم ضرورکلمہ توحید کی عالمگیر اشاعت کا کام کرے گی اور یا پھر رب کائنات اسے مٹاکر ایک اور قوم پیدا کرے گا جو اس کام کو انجام دے گی لیکن کلمہ توحید کی عالمگیر اشاعت اور قبولیت عالم انسانی کی تاریخ کا ایک ضروری باب ہے جو ہر حالت میں اس تاریخ کے اندر لکھا جائے گا۔ خواہ اس باب کا مرکزی کردار موجودہ مسلمان قوم ادا کرے یا اس کی جگہ لینے والی کوئی اور مسلمان قوم۔ کلمہ توحید کی عالمگیر اشاعت کائنات کے ارتقا کی ایک ضروری منزل ہے جس سے کائنات ہر حالت میں گزرے گی، خواہ اس منزل کی راہ نمائی ہم کریں یا ہمارے مٹنے کے بعد کوئی اور قوم جو ہم سے زیادہ خدا سے محبت کرتی ہو اور خدا کے دین کی نشرواشاعت کے لئے ہم سے زیادہ مستعد اور سرگرم عمل ہو۔ چنانچہ قرآن حکیم نے ایک طرف سے تو یہ ارشاد فرمایا ہے کہ مسلمان قوم دنیا کی تمام قوموں سے بہتر قوم ہے جو لوگوں کی راہ نمائی کے لئے پیدا کی گئی ہے؛ اس لئے کہ وہ سچے خدا پر ایمان رکھتے ہیں (وہ ایمان جو نیک و بد کی تمیز کا واحد معیار اور اس تمیز کو جامہ عمل پہنانے کا ایک ہی محرک ہے) اور اس بنا پر نیک کاموں کی تلقین کرتے ہیں اور برے کاموں سے منع کرتے ہیں ۔
کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ تَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ (110:03)
اور دوسری طرف سے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ اے مسلمانوں اگر تم خدا کے دین کو ترک کر دو گے تو خدا تمہاری جگہ ایک اور قوم لے آئے گا جو خدا سے محبت کریں گے اور جن سے خدا محبت کرے گا جو مومنوں کے ساتھ نرمی سے اور کافروں کے ساتھ سختی سے پیش آئیں گے وہ لوگوں کی ملامت سے بے پرواہ ہو کر خدا کے دین کو پھیلانے کے لئے جہاد کریں گے۔
ٰٓیاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَنْ یَّرْتَدَّ مِنْکُمْ عَنْ دِیْنِہٖ فَسَوْفَ یَاْتِی اللّٰہُ بِقَوْمٍ یُّحِبُّھُمْ وَ یُحِبُّوْنَہٗٓ اَذِلَّۃٍ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اَعِزَّۃٍ عَلَی الْکٰفِرِیْنَ یُجَاھِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَ لَایَخَافُوْنَ لَوْمَۃَ لَآءِمٍ (54:05)
پھر اس وعید کے ساتھ قرآن حکیم کا یہ وعدہ بھی ہے کہ خدا نے اپنے رسول کو توحید کے صحیح اور سچے نظریہ حیات کے ساتھ بھیجا ہی اس لئے ہے کہ وہ تمام باطل نظریات پر غالب آئے اور اگر اس بات میں کوئی شخص شبہ کرے تو اسے یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اس کی صداقت کی گواہی خود خدا دے رہا اور خدا کی گواہی ہر گواہی سے کفایت کرتی ہے کیونکہ اس سے زیادہ سچا اور کوئی نہیں۔
ھُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدٰی وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ وَ کَفٰی بِاللّٰہ شَھِیْدٍا (28:48)
گویا مسلمان اگر توحید کی نشرواشاعت کے لئے کام کریں تو خود خدا کا وعدہ ہے کہ وہ اس مہم میں ناکام نہیں رہیں گے ۔یہی وجہ کہ اقبال بڑے زور سے کہتا ہے کہ اگر مسلمان درحقیقت مسلمان ہے تو جب تک پوری دنیا سے کلمہ توحید کی آواز بلند نہ ہولے اسے چین سے نہیں بیٹھنا چاہیے
؂ تا نہ خیزد بانگ حق از عالمے
گر مسلمانی نیا سائی دمے
ارتقا کی منزل مقصود
کائنات کے ارتقا کا رخ عقیدہ توحید کی عالمگیر قبولیت کی طرف ہے جو ہوکر رہے گی۔ مسلمان اس ارتقا کا ذریعہ بننے والا ہے اور وہ اس بات سے پوری طرح آگاہ بھی ہے۔ گویا توحید کے نغمے کائنات کے اندر سوئے ہوئے پڑے ہیں۔ کائنات ایک ساز ہے جو کسی زخمہ ور کا منتظر ہے اور وہ زخمہ ور مسلمان ہے۔ مسلمان اپنے ایمان کی وجہ سے کائنات کے خفیہ نغموں کو یعنی ارتقائے کائنات کی ممکنات کو خوب جانتا ہے اور قرآن کے علم کی وجہ سے ان کا علم اس کے خون میں رواں ہے۔ اسے چاہیے کہ کائنات کے ساز کے تاروں کی اپنی مضراب سے چھیڑدے پھر دیکھے کہ اس سے کتنے حسین نغمے بلند ہوتے ہیں۔ یہ ساز اسی کے لیے بنایا گیا ہے اگر وہ اسے کام میں نہ لائے تو بیکار ہے یعنی وہ اقوام عالم کا رہنما بنایا گیا ہے اس کے بغیر انسانیت اپنی منزل مقصود کو نہیں پاسکتی مسلمان قوم کی زندگی کا دار ومدار اس بات پر ہے کہ وہ خدا (اللہ اکبر یا تکبیر) پر ایمان رکھتی ہے اس ایمان کے تقاضوں میں ایک بنیادی تقاضا عقیدہ توحید کی حفاظت اور اشاعت بھی ہے۔ لہٰذا یہ تقاضا اس کی زندگی کا فطری مقصود ہے جسے وہ ترک کرے تو زندہ نہیں رہ سکتی۔ مسلمان قوم چہرہ ہستی کی رونق اور قرآن کی آیت کریمہ لِتَکُوْنُوْا شُہَدَآءَ عَلَی النَّاسِ کے مطابق اقوام عالم کی راہنما ہے۔
نغمہ ہایش خفتہ در ساز وجود

جویدت اے زخمہ ور ساز وجود
صد نوا داری چو خون در تن رواں

خیزد مضرابے بتارِ او رساں
زانکہ در تکبیر راز بود تست

حفظ و نشر لا الٰہ مقصود تست
تا نہ خیزد بانگ حق از عالمے

گر مسلمانی نیا سائی دمے
آب و تاب چہرہ ایام تو

درجہان شاہد علی الاقوام تو
مسلمان ساز کائنات کا مضراب ہے
قرآن حکیم میں ہے
وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَاکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِتَکُوْنُوْا شُہَدَآءَ عَلَی النَّاسِ وَ تَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَہِیْدًا
’’اور اسی طرح سے ہم نے تم کو تاریخ عالم کے وسط میں آنے والی امت بنایا ہے تاکہ تم لوگوں کے سامنے خدا کی ہدایت کے پہنچنے کی گواہی دو اور رسول تمہارے سامنے خدا کی ہدایت کے آنے کی گواہی دے‘‘
مراد یہ ہے کہ جس طرح سے رسول پر یہ فرض عائد کیا گیا تھا کہ وہ خدا کی ہدایت تم تک پہنچائے اسی طرح تم پر یہ فرض عائد کیا گیا ہے کہ تم خدا کی ہدایت لوگوں تک پہنچاؤ اور تمہیں ایک ایسی امت بنایا گیا ہے جو نوع انسانی کی تاریخ کے وسط میں آئی ہے تاکہ تم اس فرض کو بطریق احسن ادا کرسکو۔ کیونکہ ایک طرف سے تو تم پہلے انبیاء کی امتوں میں سے جو قدیم زمانہ کی امتیں ہیں سب سے آخر پر ہو جس کی وجہ سے جو تعلیم تمھیں دی گئی ہے وہ مکمل ہے اور تا قیامت نوعِ انسانی کی راہ نمائی کے سرچشمہ کے طور پر قائم رہنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور دوسری طرف سے تم اپنی اسی مکمل تعلیم کی وجہ سے آئندہ زمانہ کی نسل انسانی کے راہ نما ہو جو تمہاری راہ نمائی کو قبول کرکے اپنے حسن و کمال کی انتہا کو پہنچے گی۔ گویا تم عہد قدیم اور عصرجدید کے درمیان ایک واسطہ یا اتصال کی کڑی ہو۔ کائنات رنگ و بو کوئی راز نہیں یہ اس لیے وجود میں آئی ہے کہ نوع انسانی جو حاصل کائنات ہے‘ اپنے حسن کی حالت کمال کو پہنچے حسن نوع انسانی کی فطرت میں مضمر ہے اور بالقوہ اس کے اندر موجود ہے اور نوع انسانی کے اپنے ہی ایک ترقی یافتہ عنصر کی راہ نمائی سے جسے مسلمان قوم کہاجاتا ہے بالفعل اور آشکار ہوگا۔ یہ کائنات گویا ایک ساز ہے جو اس بات کا منتظر ہے کہ اس کا ماہر زخمہ ور آئے اور اپنے مضراب سے اس کے تاروں کو چھیڑے اور ان دلکش اور دلنواز نغموں کو بلند کرے جو اس کے اندر پوشیدہ ہیں اور وہ ماہر زخمہ ور مسلمان ہے۔
؂ جہان رنگ و بو پیدا تو مے گوئی کہ راز است ایں
یکے خود را بتارش زن کہ تو مضراب و ساز است ایں
عقیدہ توحید کی دلکشی اور فطرت انسانی کے ساتھ اور تمام علمی اور سائنسی حقائق کے ساتھ اس کی مطابقت اور ہم آہنگی مسلمان کے پاس ایک زبردست قوت تسخیر ہے جس سے وہ پوری دنیا کو بے تیغ و تفنگ اور پرامن طریق سے فتح کرسکتا ہے۔
؂ ہفت کشور جس سے ہو تسخیر بے تیغ و تفنگ
تو اگر سمجھے تو تیرے پاس وہ سامان بھی ہے
عقیدہ توحید کی دل کشی کا دار و مدار
لیکن عقیدہ توحید کی ساری دلکشی کا دار و مدار اس حقیقت پر ہے کہ خدا نہ صرف انسان کی آرزوئے حسن کا واحد مقصود اور مطلوب ہے بلکہ خدا کی صفات کا حسن مظاہر قدرت میں آشکار ہے اور ہم مظاہر قدرت میں اس حسن کا مشاہدہ کرکے خدا کو جان سکتے ہیں اور خدا کے ساتھ اپنی محبت کو فروغ دے سکتے ہیں۔ لہٰذا اگر ہم مظاہر قدرت کے مشاہدہ سے حاصل ہونے والے علم سے (جسے آج کل سائنسی حقائق کا نام دیا جاتا ہے) خدا کے عقیدہ کو الگ کرلیں تو خدا کے عقیدہ کی جاذبیت اور دل کشی باقی نہیں رہتی اور وہ تسخیر قلوب کے ذریعہ کے طور پر پوری طرح سے مؤثر نہیں رہتا اور اس کی نشرو اشاعت جلد کامیاب نہیں ہوتی۔ یہی سبب ہے کہ قرآن حکیم نے خدا کے عقیدہ کو مظاہر قدرت کے مشاہدہ اور مطالعہ کے ذریعہ سے سمجھنے پر زور دیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ عقیدہ توحید کی نشر واشاعت کے ضمن میں اقبال ہمیں بتاتا ہے کہ اگر عقیدہ توحید (عشق) کو سائنس (زیرکی) کے ساتھ جوڑ دیا جائے تو پھراس کی کشش دنیا کے اندر ایک انقلاب پیدا کردیتی ہے اور ہمیں مشورہ دیتا ہے کہ اُٹھیں اور عقیدہ توحید اور سائنس کو آپس میں ملاکر اسلام کے حق میں ایک عالمگیر ذہنی انقلاب پیدا کریں۔ ؂
عشق چوں با زیرکی ہمبر شود

نقشبند عالم دیگر شود
خیز و نقش عالم دیگر بنہ

عشق را با زیرکی آمیز دہ
مستقبل کا طریق کار
اقبال کے اس مشورہ کو جامہ عمل پہنانے کے لیے ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی یونی ورسٹیوں کے لیے سائنسی علوم کی نصابی کتابوں کو دوبارہ اس طرح سے لکھیں کہ خدا کا عقیدہ ان علوم کا مدار و محور بن جائے۔ اگر آج ہم اپنے فطری مقصد حیات کو جس پر ہماری زندگی کا دارومدار ہے یعنی کلمہ توحید کی نشر و اشاعت کو اپنا قومی نصب العین بنالیں تو ہم نہ صرف اندرونی طور پر پوری طرح سے متحد اور منظم ہوسکتے ہیں بلکہ کلمہ توحید کی موثر نشرواشاعت کی غرض سے عقیدہ توحید کو سائنس کے ساتھ ملا کر ہم تسخیر قلوب اور فتح بلاد کی ایک ایسی قوت پیدا کرسکتے ہیں جس کے سامنے ایٹمی ہتھیاروں کی قوت بھی بیکار نظر آئے گی اس کی وجہ یہ ہے کہ اس صورت میں طبیعیات‘ حیاتیات اور نفسیات کے تمام حقائق عقیدہ توحید کی علمی اور عقلی تائید کے لئے مہیا ہوجاتے ہیں جس سے عقیدہ توحید ایک یقین پر مجبور کرنے والی حقیقت بن جاتا ہے۔ ایک قوم کسی مقصد حیات کے ماتحت ہی متحد ہوسکتی ہے جس قوم کا کوئی مقصد نہ ہو یا جس قوم کا مقصد حیات ایسا ہو کہ اس کی سمجھ میں نہ آسکتا ہو اور اس میں محبت کی گرمی اور عمل کا جوش پیدا نہ کرسکتا ہو تو وہ قوم متحد نہیں ہوسکتی۔ توحید کی نشرواشاعت ایک ایسا مقصد ہے جو ہمارے لہو کو گرما سکتا ہے۔ جب تک ہم اس سے غافل رہیں گے ہم دنیا میں اپنا رول ادا نہیں کرسکیں گے اور دنیا میں اول درجہ کی قوم شمار نہیں ہوسکیں گے۔ اقبال نے اس بات پر بڑا زور دیا ہے کہ مسلمان توحید کی نشرو اشاعت کو اپنا قومی نصب العین بنائیں تاکہ وہ ان کے اتحاد اور ان کی زندگی دونوں کا ضامن ہو۔
چوں زربط مدعائے بستہ شد

زندگانی مطلع برجستہ شد
مدعا راز بقائے زندگی

جمع سیماب بقائے زندگی
یہ دور اپنے براہیم کا منتظر ہے
لیکن عقیدہ توحید کی نشرواشاعت ہمیشہ تحریر و تقریر کے پرامن طریق سے جاری نہیں رہتی بلکہ اس کے دوران میں زود یا بدیر ایسے مواقع پیش آتے ہیں جب باطل کی تشدد پسند قوتیں مومن کے راستہ میں رکاوٹیں پیدا کرتی ہیں۔ ایسی حالت میں مومن کے لئے ضری ہوتا ہے کہ ان تشدد کی رکاوٹوں کو تشدد ہی سے دور کرے اور وہ اس ہمت آزما صورت حال کے لیے پہلے سے تیار ہوتا ہے۔ لہٰذا جب یہ صور ت حال پیش آتی ہے تو وہ اپنی پوری قوت سے باطل کی رکاوٹوں کا مقابلہ کرکے ان کو نیست و نابود کردیتا ہے۔ لااِلٰہ اِلا اللہ ایک علمی نظریہ ہی نہیں بلکہ باطل کے لیے دعوت مبارزت بھی ہے اس کا مطلب صرف یہ نہیں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ خدا یک ہے بلکہ یہ بھی ہے کہ میں خدا سے اس بات کا عہد کرتا ہوں کہ جہاں تک میرے بس میں ہے میں معبودانِ باطل کو جو اس دنیا میں عالم انسانی کی بہترین ترقی اور خوشحالی اور اگلی دنیا میں ان کی بہترین راحت اور مسرت پیدا کرنے والے میرے اور میرے محبوب کے مشترک مقصد حیات کے راستہ میں حائل ہیں‘ ملیامیٹ کرکے رہوں گا اور دنیا سے ایک ہی سچے خدا کو منوا کے رہوں گا۔ تاکہ بحیثیت ایک مسلمان کے خدا اور انسان کی طرف سے جو فرائض مجھ پر عائد ہوتے ہیں ان سے سبک دوش ہوجاؤں۔
؂ تا نہ خیزد بانگ حق از عالمے
گر مسلمانی نیا سائی دمے
اس لیے لا اِلٰہ کہنا کوئی آسان سا کام نہیں بلکہ یہ کہنے کے بعد جان جوکھوں میں ڈالنا پڑتا ہے۔ یہ ایک ایسا عہد ہے جسے نبھانے کی مشکلات ایک انسان کو لرزہ براندام کردیتی ہیں۔ یہ خدا کو جان دینے کا عہد ہے۔
؂ چوں می گویم مسلمانم بلرزم
کہ دانم مشکلات لا اِلٰہ را
مومن کے عقیدہ توحید کے اندر یہ اقرار پوشیدہ ہے کہ جہاں تک اس کا بس چلے گا وہ معبودانِ باطل کو ملیامیٹ کرکے ایک ہی معبودِ برحق کی عبادت اور اطاعت کو دنیا میں باقی رکھے گا اور مومن کی بے پناہ قوت عمل جو خودی کے نقط�ۂ کمال پر اسے حاصل ہوتی ہے اس اقرار پر عمل کا کام اس کے لیے آسان کرتی ہے۔ لااِلٰہ الا اللہ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ مومن اس دنیا کو ایک بتکدہ سمجھے اور اپنے آپ کو ابراہیم خلیل اللہ کی طرح کا بت شکن اور اس بات کے لیے تیار رہے کہ وہ خلیل اللہ ہی کی طرح کسی وقت آگ میں ڈالا جائے گا۔
؂ صنم کدہ جہاں اور مرد حق ہے خلیل
یہ نکتہ وہ ہے کہ پوشیدہ لا اِلٰہ میں ہے
افسوس ہے کہ ابھی تک بت پرستی کے اس دور کا ابراہیم پیدا نہیں ہوا جو اس دنیا کو ایک صنم کدہ سمجھے اور اس کے بتوں کو توڑ کر فنا کردے۔
؂ یہ دور اپنے ابراہیم کی تلاش میں ہے
صنم کدہ ہے جہاں لا اِلٰہ اِلا اللہ
بے شک توحید کا مطلب خدا کو ایک ماننا ہے لیکن خدا کو ایک ماننے میں خدا کو ایک منوانا بھی شامل ہے خدا کو ایک ماننے سے خودی اپنی محبت اور قوت کے کمال پر پہنچتی ہے۔ جب ایسا ہوتا ہے تو پھر اس کی محبت اور قوت کا مصرف سوائے اس کے اور کچھ نہیں ہوتا کہ وہ اس طلسم رنگ و بو کو جسے کائنات کہتے ہیں اور جو خدا دشمنی اور بت پرستی کے ساتھ ہم معنی ہوگیا ہے توڑ کر خدا کو ایک منوائے۔ توحید کا مطلب یہی تھا لیکن افسوس کہ ہم مسلمانوں نے اسے اس طرح سے نہیں سمجھا ۔
؂ خودی سے اس طلسم رنگ و بو کو توڑ سکتے ہیں
یہی توحید تھی جس کو نہ تو سمجھا نہ میں سمجھا

Computers And Internet

Why you (sometimes) should use WordPress instead of Facebook

I wrote this to a friend who posted something very worthwhile on Facebook, encouraging him to think about writing on a more permanent, less fettered platform. 168 more words

Media Insanity

Don’t transfer iTunes purchases made on an iPhone to a third device before syncing to master

Assume you have iTunes “master” library on your Mac, and that you usually sync it to your iPhone. I’ve seen a sync also copies songs purchased on the phone to the Mac. 147 more words

Computers And Internet