Tags » Corruption In Pakistan

Two years after Pakistan unveiled its strategy for fighting terrorism, the results are mixed.

By Zeeshan Salahuddin

The National Action Plan (NAP) was created on December 25, 2014, in reaction to… 1,752 more words

Politics

انصاف کا جنازہ ہے دھوم سے نکلے : چالیس ارب کی خوردبرد، دو ارب میں چھوڑنے کا فیصلہ

پاکستان میں انسداد بدعنوانی کے قومی ادارے قومی احتساب بیورو (نیب) نے اپنے اس فیصلے کا دفاع کیا ہے جس کے تحت بلوچستان کے سابق سیکرٹری خزانہ مشتاق احمد ریئسانی کو دو ارب روپے کی رقم جمع کروانے پر چھوڑ دیا جائے گا۔ قومی احتساب بیورو نے مشتاق رئیسانی کی پلی بارگین کی درخواست بدھ کو منظور کر لی تھی۔ ترجمان نیب کے مطابق مشتاق رئیسانی کی 2 ارب روپے کی پلی بارگین کی درخواست منظور کی گئی ہے۔ وہ آئندہ دس سال تک کسی سرکاری ملازمت کے لیے نااہل ہوں گے اور کسی بینک سے قرضہ بھی نہیں لے سکیں گے۔ قومی احتساب بیورو کے اعدادوشمار کے مطابق 31 جنوری 2016 تک نیب میں زیر تفتیش مقدمات کی تعداد 328 ہے اور 607 شکایات پر انکوائری جاری ہے۔

مشتاق رئیسانی کی نیب میں پلی بارگین پر مختلف حلقوں کی جانب سے اسے مجرم کے ساتھ رعایت کے طور پر دیکھا جا رہا تھا۔ اس فیصلے کے مخالفین کا کہنا تھا کہ جب مجرم پر چالیس ارب کی خوردبرد کا الزام ہے تو محض دو ارب روپے ادا کر کے رہائی حاصل کرنا مناسب نہیں۔ انٹیلیجنس بیورو کے سابق سربراہ مسعود شریف خٹک نے ایک ٹویٹ میں نیب کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مطلب ہے کرپشن کو ہاں کہنا۔ ’پلی بارگین کا مطلب ہے کہ نیب کرپٹ شخص کو کہہ رہا ہے چلو مل کر پنپیں۔‘

لیکن ایک نجی ٹی وی چینل کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے نیب کے ترجمان نوازش علی نے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس سے خزانے کو آج تک پلی بارگین کی تاریخ میں سب سے بڑی رقم یعنی دو ارب روپے حاصل ہوں گے۔ تاہم انہوں نے اس فیصلے پر تنقید کو بےجا قرار دیا۔ انھوں نے البتہ 40 ارب روپے کی بدعنوانی کے الزام پر کچھ نہیں کہا ہے۔ ان کا اصرار تھا کہ نیب متحرک ہے اور بدعنوانی کے خاتمے کے لیے کوششیں کر رہی ہے۔ سیکرٹری خزانہ بلوچستان مشتاق رئیسانی پر ڈیڑھ ارب روپے کرپشن کا الزام تھا جس کے بعد نیب نے ان کے گھر پر چھاپہ مارکر 75 کروڑ روپے سے زائد نقد رقم برآمد کی تھی۔ اس کے علاوہ ان کی کراچی میں بھی کروڑوں روپے مالیت کی جائیداد کا انکشاف ہوا تھا۔ نیب نے مشتاق رئیسانی کی گرفتاری کے بعد مشیر خزانہ بلوچستان خالد لانگو کو بھی گرفتار کیا تھا۔

بشکریہ بی بی سی اردو

Pakistan

پاکستان میں تین برسوں میں 280 ارب کے قرضے معاف

پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کو بتایا گیا ہے کہ گذشتہ تین سالوں میں 280 ارب سے زائد کے قرضے معاف کیے گئے۔ یہ بات وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی جانب سے سینیٹ میں پیش کیے گئے دستاویزات میں کہی گئی ہے۔ سینیٹر اعظم سواتی کی جانب سے پوچھے گئے سوال کے تحریری جواب میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ 30 سالوں میں سینکڑوں نجی کمپنیوں نے بینکوں سے قرضے معاف کرائے ہیں۔

تحریری جواب کے مطابق گذشتہ تین سالوں میں 280 ارب روپے کے قرضے معاف ہوئے۔ وزیر خزانہ نے سوال کے جواب میں کہا ہے کہ اس وقت دو قوانین موجود ہیں جن کے تحت مالیاتی ادارے قرضے کی جلد وصولی کے لیے بینکنگ کورٹس میں مقدمہ دائر کر سکتے ہیں۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ قرضے کی جلد وصولی کے لیے سٹیٹ بینک نے تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کے بعد ان قوانین میں ترمیم تجویز کی ہے۔ یہ ترامیم قومی اسمبلی نے منظور کر لی ہیں جبکہ اب یہ ترامیم سینیٹ میں منظوری کے لیے بھیجی گئی ہیں۔ تحریری جواب میں کہا گیا ہے کہ یہ ان کمپنیوں کی فہرست ہے جنھوں نے گذشتہ 30 سالوں میں پانچ کروڑ سے زیادہ کے قرضے معاف کرائے ہیں۔ تحریری جواب میں وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ گذشتہ 30 سالوں میں 400 سے زیادہ کمپنیوں نے اپنے قرضے معاف کرائے ہیں۔

لیکن گذشتہ تین سالوں میں 280 ارب روپے سے زیادہ کے قرضے معاف کیے گئے اور ان میں سے سب سے زیادہ قرضے 2015 میں معاف کیے گئے۔ تحریری جواب کے مطابق 2013 میں چھ ارب روپے، 2014 میں 4.4 ارب اور 2015 میں 270 ارب روپے کے قرضے معاف کیے گئے۔ وفاقی حکومت کے تحریری جواب کے مطابق گذشتہ 30 سالوں میں ایک ہزار سے زائد کمپنیوں نے بینکوں سے لیےگئے قرضے معاف کرائے۔ جن بینکوں کے قرضے معاف کرائے گئے ان میں نیشنل بینک آف پاکستان نے 129 کمپنیوں کے قرضے معاف کیے، حبیب بینک لمیٹڈ نے 239 اور یونائیٹڈ بینک نے 179 کمپنیوں کے قرضے معاف کیے۔

رضا ہمدانی

بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

Pakistan