Tags » Corruption » Page 2

My Letter to the USSF and FIFA

I usually use this blog for randomly discussing technology, but today, I want to get the word out on my feelings towards the atrocities from FIFA.   817 more words

Technology

Klyuev - The next test of political will

Despite the Rada, almost 4 months ago, voting to lift MPs and judges immunity by a constitutional majority, that immunity (and impunity) currently remains in force.   729 more words

Politics

The ‘guardians’ have betrayed the nation’s trust

May 31, 2015

MY COMMENT: There is a Malay saying that describes most aptly what is happening in Malaysia today under the Najib administration. It  goes like this: Harapkan Pagar, Pagar Makan Padi ( literally it means in English, depend on the gatekeeper, the gatekeeper steals the rice). 1,549 more words

Politics

جرم بولتا ہے

Originally published in Pak Tea House on 30 May 2015.

جرم بولتا ہے اوراس کی آواز چاہے کتنی خفیف کیوں نہ ہو، اگر قانون اندھا ہونے کے ساتھ ساتھ بہرہ نہیں ہے تو یہ آواز سن لیتا ہے. جرم اپنی لمبی ٹانگوں سے کتنی ہی قلانچیں کیوں نا بھر رہا ہو قانون کے لمبے ہاتھ اس تک پہنچ کر ہی رہتے ہیں……. اگر وہ پہنچنا چاہیں.سارا کھیل نیت ، ارادے اور اس پر بروقت عمل کرنے کا ہے.فی زمانہ جس معاشرے میں ہم ره رہے ہیں وہاں بجلی سے لے کر پانی اور نیک نیتی سے لے کر غیرت تک ہر چیز کی کمی ہے اگر کوئی چیز فروانی میسرہے تو وہ ہے لا قانونیت اور جرم.چھوٹے سے لے کر بڑے جرم تک میں اگر کوئی چیز مشترک ہے تو وہ ہےاس کا نشان چھوڑ جانا. لہذا جرم تک قانون کا پہنچنا مجرم کی چالاکی سے زیادہ قانون کی ذہانت کا امتحاں ہوتا ہے.لیکن یہ تمام باتیں ان معاشروں کے لئے ہے جہاں قانون نام کی چڑیا کا وجود ہوتا ہے، ہمارے ہاں تو قانون بھی جنگل کا ہے اور قانون کے رکھوالے بھی وہی کے رہائشی.
حال ہی میں ایگزٹ کمپنی کے معاملے پر قانون نافذ کرنے والوں کی پھرتیاں دیکھ کر پہلے تو یقین ہی نہیں آیا کے ہم پاکستان میں ہیں یا کسی یورپی ملک میں.جعلی ڈگریوں کے معاملے پر جس قدر سبکی پاکستان کی ہوئی ہے وہ تاریخ میں ایک مثال ہے.وہ تو بھلا ہو اس ملک بدر امریکی صحافی کا جس نے اس کہانی پر سے پردہ اٹھا کر اس مکروہ دھندے میں ملوث تمام لوگو ں کو برہنہ کر دیا. اس صحافی نے اپنی ملک بدری کا بدلہ چکایا اور خوب چکایا.
اگر تمام تر سازشی مفروضوں سے قطع نظر ہو کر حقیقت پسندی سے جعلی ڈگریوں کے معاملے پر غور کیا جائے تو ہمیں اپنی اخلاقی اقدار اور فرض شناسی ایک مکروہ وجود کی طرح سامنےکھڑی نظر آنی چاہئے.ایک ایسا ملک جہاں جعلی دوائیوں، جعلی اسکولوں، جعلی اشیا خورد و نوش اور جعلی رہنماؤں کی بھر مار ہو وہاں پر جعلی ڈگریوں کا اتنا منظم طریقے سے تیار ہونا اور بکنا کوئی اچنبھے کی بات نہیں.جعلی ڈگریوں کے معاملے میں ہمارے لئے ایک نہیں کئی سبق پنہا ہیں.
سب سے پہلے تو یہ کہ منہ زبانی آپ خواہ کتنا ہی پارسائی کا دعوی کیوں نہ کریں لیکن بہر کیف محتاط رہنا چاہئے خاص طور پر اس وقت جب آپ میڈیا سے وابستہ ہوں اور لاکھوں لوگ آپ کی بات سنتے ہوں.جب غیر معمولی نوازشات کی بارش ہو رہی ہو تو عقلمندی کبوتر کی طرح آنکھ بند کر لینے میں نہیں بلکہ دل و دماغ حاضر رکھنے میں ہے.یہ دلچسپ روایت بھی اس معاملے کے توسط سے دیکھنے میں آئی کے ایک طرف لوگوں نے اخلاقیات کے نام پرمشکلات کے شکار ٹی وی چینل سے علیحدگی اختیار کی اور دوسری جانب اخلاقیات کے ہی نام پر کچھ لوگو ں نےوہاں پر ٹھہرنا زیادہ مناسب سمجھا اور تیسری طرف کچھ حضرا ت نے اس وقت میں اسی ٹی وی چینل کو ببانگ دھل اپنانے میں ہی اپنی اعلی ااخلاقی روایات کی پاس داری سمجھا.
اس سارے معاملے میں دوسرا سبق ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لئے ہے.اگر یہ تمام مستعدی اور پھرتی اپنے وقت پر دکھائی جاتی تو یقیناً اس میں ادارے کی بھی عزت ہوتی اور ملک بھی بدنامی سے بچ جاتا.ابّ چاہے ایف بی آئی کے ساتھ مل کر تحقیق کریں یا پھر انٹر پول کے ساتھ سچ تو یہ ہے کے ایف آئی اے کو اتنے بڑے پیمانے پر ہونے والے فراڈ کا وقت پر پتا نہ چلنا بھی غفلت کے زمرے میں ہی آتا ہے.
تیسرا سبق ہم عوام الناس کے لئے ہے . یقیناً پیسے کی چکا چوند آنکھوں کوخیرہ کرنے کا سبب بنتی ہے لیکن جس طرح ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی اسی طرح ہر بڑی آمدنی ضروری نہیں کے حلال یا جائز ذریعے سے آ رہی ہو.خواہ اپنی نوکری کامعاملہ ہو یا بچوں کے روز گار کا صرف تنخواہ کو نوکری حاصل کرنے کا معیار بنانا عقلمندی نہیں.
اس سارے معاملے میں ایک سوال جو ابھر کر سامنے آتا ہے وہ یہ ہے کہ جعلی ڈگریوں کو دینے والے تو جیل کے اندر ہیں لیکن کیا یہ حقیقت نہیں کے کئی جعلی ڈگریاں لینے والے طاقت کے ایوانوں کے اندر ہیں.
جرم کتنی ہی مہارت سے کیوں نہ کیا جائے ایک نہ ایک دن اس کو آشکار ہونا ہی پڑتا ہے اور پھر کوئی ارب پتی کاروباری ہو یا کروڑ پتی ماڈل،
اس کا جرم یک لخت بولتا چلا جاتا ہے اور بڑے لوگوں کے رچائے اس سارے کھیل میں نقصان ان لوگوں کا ہوتا ہے جو اپنی آنکھوں میں خواب سجاے ایک ایسے راستے پر چل نکلتے ہیں جہاں دولت کی شہنائیوں میں ضمیر کی آواز سننےکا دل ہی نہیں چاہتا.پھر اچانک جب چار دن کی چاندنی ختم ہو کراندھیری رات شروع ہوتی تو کچھ سجھائی نہیں دیتا.
ایسے میں صرف جرم بولتا ہے اور باقی سب سنتے ہے کچھ حیرت سے اور کچھ پچھتاوے سے.

تعارف : موصوف اچھے بھلے کمپیوٹر انجنیئر تھے پھر یکدم جانے کیا سوجھی کے لکھنا شروع کر دیا اور وہ بھی اردو میں . اب کوئی اور پڑھے یا نہ پڑھے یہ خود اپنی تحریریں بڑے شوق سے پڑھتے ہیں اور ان کا فرمانا ہے پڑھتا جا- شرماتا جا. رابطہ کرنا ہو یا نہ کرنا ہو ای میل یہی ہے:

Urdu

Who Will Watch the Charities? by David Callahan NYTimes.com

LAST week federal authorities disclosed that four cancer charities had bilked tens of millions of dollars from donors. Questions continue to surface about the lack of transparency at the Clinton Foundation. 113 more words

US News

Sports = Politics As Usual

The structure of sports mirrors the structure of politics. Let’s face it, the world of sports is riddled in controversy and ill repute! Bad conduct has always been a presence among athletes, but never before have we seen such behavior from sport officials. 360 more words

Sports

How Much Influence does Big Pharma have on Vaccine Safety Research?

by Waking Times

Video – Here’s an interesting discussion about the conflict of interest surrounding supposedly ‘independent’ sources that back the US government’s assertion that… 71 more words

Visions