دی انڈی پینڈنٹ کی رپورٹ کے مطابق رسل کی اہلیہ وینڈی کینسر کے باعث 50 سال کی عمر میں وفات پا گئیں۔ ڈربی شہر سے تعلق رکھنے والے رسل نے اپنی اہلیہ کی وفات کے بعد کسی کو خبر نہیں کی اور اس کی لاش کو اپنے بیڈ روم میں رکھ دیا۔ اس نے اپنی عجیب و غریب حرکت کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ” اہلیہ کی موت کے بعد میں نے اسے غسل دیا اور خوبصورت پھولوں والا لباس پہنایا۔ پہلی رات میں اس کے پاس بیٹھ کر سسکیاں بھرتا رہا۔ شائد میں مسلسل 10 گھنٹے اس کے پاس بیٹھا رہا۔ پھر مجھے نیند آگئی اور اگلی صبح میں جاگا تو مجھے اس بات پر کوئی پریشانی نہیں تھی کہ میرے ساتھ کمرے میں ایک لاش موجود تھی۔ مجھے اس بات پر خوشی اور اطمینان تھا کہ وینڈی اب بھی میرے پاس تھی۔“

چھ دن بعد اس نے اپنی مردہ بیوی کی لاش کو گاڑی میں رکھا اور قبرستان پہنچ گیا۔ بیوی کی تدفین کے بعدرسل نے دی انڈی پینڈنٹ کو دیئے گئے انٹرویو میں بتایا ”مجھے معلوم ہے کہ اکثر لوگوں کو یہ بات بہت عجیب لگے گی لیکن میں چاہوں گا کہ سب ہی ایسا کریں۔ میں یہ بتانا چاہوں گا کہ وہ بہت ہی خوبصورت لگ رہی تھی اور میرے لیے اس سے بڑی خوشی کی بات کیا ہو سکتی تھی کہ وہ موت کے بعد بھی چھ دن تک میرے ساتھ رہی ۔ میں نے اس کے جسم کو براہ راست دھوپ سے بچانے کیلئے پردے آگے کر دیئے تھے۔ ان تمام دنوں کے دوران اس کے جسم سے ناہی کوئی بدبو آئی اور نہ ہی اس میں گلنے سڑنے کا عمل ہوا۔

بس اس کا چہرہ کچھ ڈھلک گیا تھا اور منہ قدرے کھل گیا تھا۔ مجھے تو لگتا ہے ان 6 دنوں کے دورن اس کے ناخن بھی بڑھ گئے تھے ، لیکن شائد ایسا جلد کے کھینچ جانے کی وجہ سے نظر آتا ہو۔ مجھے یوں لگتا تھا جیسے وہ مسکرا رہی ہو اور یہ بات میرے لیے بڑی خوشی کا باعث تھی۔ اگر اس کے مرنے کے فوراً بعد اسے کسی سردخانے یا قبرستان پہنچا دیا جاتا تو اس کی موت کا دکھ بہت گہرا ہوتا۔ مجھے معلوم تھا کہ وہ مر چکی تھی لیکن 6 دن تک اپنے پاس رکھنے کے بعد اسے خود سے جداکرنا آسان ہو گیا تھا۔ ہمیں سکول کے زمانے میں محبت ہوئی تھی ،جب ہم دونوں کی عمر 12 تھی۔ اتنی طویل رفاقت کے بعد میں اسے اچانک کیسے جانے دیتا۔“