آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے گزشتہ روز خیبر ایجنسی کی دورہ کے دوران فوجی افسران و جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایسے پرامن پاکستان کی طرف بڑھ رہے ہیں جہاں کوئی قانون سے بالاتر نہیں ہو گا۔ اللہ کرے ایسا ہی ہو لیکن ابھی تک کے جو آثار ہیں اُن سے ایسا دیکھائی نہیں دیتا۔ اگر ایسا ہوتا تو آئین پاکستان سے دوبار غداری کے مرتکب جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف آج بھی سینہ تان کر ڈکٹیٹر شب کی حمایت نہ کر رہے ہوتے۔ اگر ہمیں قانون کی حکمرانی کی طرف بڑھنا ہے تو پھر یہ ثابت کرنا پڑے گا کہ جنرل مشرف قانون سے بالاتر نہیں۔ حالیہ سالوں میں حکومت کی کوشش اور عدالتی مقدمہ کے باوجود جنرل مشرف کے ٹرائل کو نہ صرف ناممکن بنایا گیا بلکہ جنرل مشرف کو کمر کے درد کے بہانے ملک سے باہر بھگا بھی دیا گیا۔

جب مشرف کا ٹرائل شروع ہوا اور انہیں اسپیشل کورٹ کے سامنے پیش ہونے کا حکم ملا تو وہ بیماری کا بہانہ بنا کر راولپنڈی کے فوجی ہسپتال میں جا لیٹے۔ اُس دوران یہ اشارہ ملتے رہے کہ فوج جنرل مشرف کے ٹرائل کے حق میں نہیں۔ آئین سے غداری کے مقدمہ کے علاوہ جنرل مشرف پر اور کئی سنگین الزامات عائد ہیں لیکن عدلیہ اُنہیں واپس لانے کے لیے انٹر پول کی مدد حاصل کرنے کا حکم صادر کر رہی ہے اور نہ ہی حکومت کی اتنی ہمت ہے کہ وہ یہ اقدام خود اٹھا کر مشرف کو عدالت کے کٹھرے میں کھڑا کر کے ثابت کرے کہ قانون کے سامنے سب برابر ہیں۔

حال ہی میں سپریم کورٹ کے ایک کمزور اور متنازعہ فیصلہ کے نتیجہ میں نا اہل کیے جانےوالے سابق وزیر اعظم نواز شریف ابھی تک اس حیرانگی کا اظہار کر رہے ہیں کہ انہیں اپنے بیٹے کی کمپنی سے تنخواہ نہ لینے کے باوجود اُس تنخواہ کو اپنے ٹیکس ریٹرن میں نہ دکھانے پر نااہل قرار دیتے ہوئے وزارت عظمیٰ کے عہدے سے فارغ کر دیا گیا۔ نواز شریف نے مشرف کا نام لیے بغیر سوال اٹھایا کہ کیا کوئی عدالت یہاں ڈکٹیٹر کو بھی سزا دے گی؟؟ بلاشبہ پاکستان میں قانون کی حکمرانی کا اگر کوئی اصل ٹیسٹ کیس ہے تو وہ جنرل مشرف کا ٹرائل ہے۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ موجودہ آرمی چیف ایک ایسے پاکستان کا خواب دیکھ رہے ہیں جہاں قانون سے بالاتر کوئی نہ ہو۔

لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ اس خواب کو پورا کرنے کے لیے حکومت، عدالت، فوج، پارلیمنٹ، سیاسی جماعتیں سب اس بات کا تہیہ کریں کہ قانون کی حکمرانی کے اصول کی پاسداری کے لیے وہ کسی فرد چاہے وہ سیاستدان ہو، جنرل یا جج کو نہ تو بچانے کی کوشش کریں گے اور نہ ہی ایسے کسی فرد کے لیے خصوصی سلوک کا مطالبہ کیا جائے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سیاستدانوں نے اداروں کو بنانے کی طرف توجہ نہ دی، احتساب کا قابل اعتبار اور آزاد اور خودمختار نظام بھی قائم نہ کیا لیکن پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ سیاستدانوں کو پکڑنا، انہیں ہتھکڑیاں لگانا، جیلوں میں ڈالنا، وزرائے اعظم کو پھانسی پر چڑھانا، انہیں جلا وطن کرنا، وزارت عظمیٰ سے نکلانا کبھی بھی مسئلہ نہیں رہا۔

ہاں آئین سے غداری کرنے والے جرنیلوں سے کبھی سوال تک نہ پوچھا گیا، قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے اور کرپشن کرنے والے جرنیلوں سے ہمیشہ خاص معاملہ کیا گیا۔ جرنیلوں کی طرح ججوں کا بھی یہاں احتساب کرنے کا کوئی رواج نہیں چاہیے وہ آئین کی غداری کو جائز قرار دے دیں ، کرپشن کریں یا اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کریں۔ گزشتہ چار دہائیوں کے دوران اعلیٰ عدلیہ سے تعلق رکھنے والے کسی ایک جج کو بھی سزا نہیں دی گئی۔ کئی ماہ قبل سپریم کورٹ نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کی طرف سے کی گئی تعیناتیوں کوخلاف قانون قرار دیا لیکن اس کے باوجود ابھی تک وہ اپنے عہدے پر قائم ہیں۔

انصاف کا تقاضہ یہ ہے کہ قانون کی خلاف ورزی، کرپشن یا اختیارات کے ناجائز استعمال کرنے پر سب کو ایک ہی اصول کے تحت دیکھا جائے۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ سیاستدان ، سول سرکاری افسر یا کسی دوسرے کو تو کرپشن پر جیل میں ڈال دیا جائے لیکن اگر کوئی جنرل یا جج کرپشن کرے تو پہلے تو اُن کے خلاف کچھ ہو گا نہیں لیکن اگر ایکشن لیا بھی جائے گا تو اُن کی سزا صرف ریٹائرمنٹ ہو گی۔ قانون کی حکمرانی کے لیے ضروری ہے کہ جرم اور خلاف ورزی کو دیکھا جائے نہ کہ جرم یا خلاف ورزی کرنے والے کو۔ اگر قانون کی عملداری میں امتیاز برتا جائے گا، احتساب کا مقصد کسی خاص فرد ، گروہ یا مخالف کو نشانہ بنانا ہو گا تو پھر پاکستان آگے کی طرف نہیں بلکہ پیچھے کا ہی سفر کرتا رہے گا۔

انصار عباسی