Tags » Dera Ghazi Khan

غیور نقوی: ہمارا مستقبل تاریک نہیں روشن ہے

آج عورتوں کا عالمی دن تھا اور ساتھ ہی حضرت فاطمۃ الزھرا ،ام ابیھا کا یوم ولادت بھی۔میں نے اس سے ایک دن پہلے ہنگامی طور پہ ڈیرہ غازی خان کا سفر کیا۔اور یہ سفر میری زندگی کا یادگار ترین سفر بن گیا۔اگر میں یہ سفر نہ کرتا تو شاید میں کچھ ایسی باتیں جاننے سے قاصر رہ جاتا،جن کو نہ جاننے کا مجھے سدا ملال رہتا۔

سوشل میڈیا پہ میں نے جب پاکستان کے اندر مذہبی انتہا پسندی اور جنونیت کی سب سے بدترین اور ہلاکت آفریں شکل تکفیری فاشزم کی متاثرہ برادریوں اور گروہوں کے حق میں آواز بلند کرنا شروع کی اور اس حوالے سے قائم خاموشی کو توڑنے کی جانب قدم بڑھایا تو مجھے کئی ایسے کردار ملے جنہوں نے میری رجائیت اور امید پرستی میں بہت اضافہ کیا۔ان سب کا تذکرہ کرنے بیٹھوں تو ایک کتاب مرتب ہوجائے،

ایک نوجوان ان میں سے ایسا ہے جس نے ابتداء سے میرے موقف کو اپنے حلقہ احباب میں بہت فروغ دیا۔اور میں کافی عرصے تک اس بات سے ناواقف تھا کہ یہ نوجوان کہاں رہتا ہے؟ پھر مجھے یہ جان کر حیرانی ہوئی کہ وہ میرے پسندیدہ شاعر پابلو نرودا کے ملک چلی کے دارالحکومت سنتیاگو میں ملازمت کرتا ہے۔کمپیوٹر سائنس میں کمال مہارت رکھنے والا یہ ذہین استاد جب چار سال کا تھا تو بدقسمتی سے یہ پولیو کا شکار ہوگیا۔تیرہ بہن بھائیوں میں یہ سب سے چھوٹا تھا اور اس پولیو کے سبب اس کا نچلا دھڑ مفلوج ہوگیا اور یہ وہیل چئیر پہ آگیا۔لیکن اس نے ہمت نہ ہاری اور ڈیرہ غازی خان میں جامع محمدی ہائی اسکول سے میٹرک اور پھر چل سو چل اس نے اسلام آباد سے ایک یونیورسٹی سے کمپیوٹر سائنس کی تعلیم حاصل کی۔اس کی ذہانت اور اس کی تدریسی مہارت کی معترف اسلام آباد کی یونیورسٹی تھی تو ضرور لیکن اس نے اسے اس لیے نوکری نہ دی کہ وہ اس کے لیے کلاس کو نیچے گراؤنڈ فلور پہ رکھنے کو تیار نہ تھی۔یہ نوجوان اس بات سے مایوس تو ہوا اور پھر اس نے یہ محسوس کیا کہ پاکستان میں لوگ اس کے نچلے مفلوج دھڑ کو دیکھ کر اسے معاشرے میں فعال ہونے سے قاصر سمجھتے ہیں تو اس نے سویڈن میں مزید پڑھنے کا فیصلہ کیا۔وہاں نوکری بھی کی اور وہاں سے یہ چلی میں چلا آیا۔چلّی میں یہ اب نوکری کررہا ہے۔اور اس کا کہنا ہے کہ وہاں کوئی اسے ‘ترس اور رحم’ کی نظر سے نہیں دیکھتا اور اسے بیڈ سے بازار اور کام کی جگہ جانے اور واپس آنے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی۔

اس نوجوان سے میری سوشل میڈیا پہ آشنائی کو اتنے سال ہوچلے تھے۔اس دوران اس نے سنتیاگو میں پاکستان کی مختصر سی کمیونٹی اور پھر انڈین و مڈل ایسٹ کی ورکنگ کلاس کے لوگوں تکفیری فاشزم کے خلاف میری انڈرسٹینڈنگ اور فہم کو متعارف کرایا۔اور ان میں یہ سوچ پیدا کی کہ وہ پاکستان میں اپنے عزیز و اقارب اور دوستوں کو اس تکفیری فاشسٹ سوچ کا مقابلہ کرنے پہ تیار کریں۔

اس نوجوان نے ایک اور کام کیا۔اس نے کافی اچھی اسپینش سیکھ لی اور خاص طور پہ شمالی افریقی ممالک جہاں مسلمان بڑی تعداد میں ہیں اور وہ سعودی فنڈنگ تکفیری فاشزم کے متاثرہ بھی ہیں۔اس نے میری کچھ تحریروں کا خلاصہ اسپینش زبان میں بھی تیار کیا۔اور آنے والے وقت میں وہ میری کتاب ‘کوفہ’ اسپینش زبان میں منتقل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

یہ ساری باتیں مجھے اس سے ملاقات پہ پتا چلیں۔آج جب میں یہ سب تحریر کرنے بیٹھا ہوں تو اس کی سہرا بندی اور بارات کا وقت ہے۔اس کی چچا کی بیٹی اس سے شادی کرنے جارہی ہے۔اور دونوں بہت جلد سنتیاگو روانہ ہوجائیں گے۔

میں شام پانچ بجے 7 مارچ کو اس کے ہاں پہنچا تھا۔اس کا ایک بچپن کا دوست محمد شفیق اس کو گاڑی میں لیکر آیا اور انہوں نے مجھے لیا۔ہم دو تین جگہوں پہ بیٹھے جہاں اس نے وقفے وقفے سے مجھے اپنی کہانی سنائی۔اور اس کہانی کا کلائمکس اس کے گھر پہ ہوا۔وہ گفتگو کے دوران بار بار مجھے کہتا تھا کہ گھر چل کر وہ مجھے اپنے والد کا کمرہ دکھانا چاہتا ہے۔اور قریب ساڑھے گیارہ بجے رات اس نے اپنے بھانجے کو کہا کہ وہ مجھے اس کمرے تک لیکر جائے۔

میں جب اس کمرے میں پہنچا تو ایک دم ساکت سا ہوگیا۔اس کمرے میں چاروں طرف ریک لگے ہوئے تھے اور دیوار کی چھت کو چھوتے ریکس میں کتابیں ہی کتابیں تھیں۔ایک بڑی میز اور اس کے پیچھے کرسی اور یہ ریڈنگ روم تھا۔میں نے مصر،بیروت،تہران، ریاض،تیونس سے چھپی ہزاروں علوم شرقیہ کی عربی و فارسی کتابوں کا مجموعہ یہاں دیکھا۔عربی شعر و ادب،تاریخ اسلامی، فقہ اسلامی اور علم کلام،تفسیر و احادیث کی سب ہی معروف کتابیں یہاں موجود تھیں۔کچھ ایسی کتابیں بھی تھیں جن کے نام اور حوالے میں نے دوسری کتب میں دیکھے تھے یا پھر پی ڈی ایف فارمیٹ میرے پاس تھے۔میں نے یونہی رینڈم لی کتابوں کو کھول کر دیکھنا شروع کیا تو کوئی کتاب ایسی نہ تھی جس پہ حاشیہ اور نوٹس نہ لگے ہوں۔

ایک بات میں نے نوٹ کی اور وہ یہ تھی کہ ان ہزاروں کتابوں میں بلامبالغہ عربی اور فارسی میں کم از کم دو سو کتابیں صرف ‘حضرت فاطمۃ الزھرا’ رضی اللہ عنھا پہ تھی۔ایک کتاب کی تو دس جلدیں اور ایک کی سات جلدیں تھیں۔مجھے بعد میں پتا چلا کہ اس جوان کے والد اپنی زندگی کے دو عشروں سے ‘حضرت فاطمہ ‘ رضی اللہ عنھا پہ ایک مفصل کتاب لکھنے کی تیاری کررہے تھے اور اس دوران انھوں نے بہت زیادہ نوٹس تیار کیے تھے۔ان کی زندگی نے وفا نہ کی اور یہ کتاب ابتک نامکمل ہے۔ان کا بیٹا موسی رضا کا ارادہ ہے اس کتاب کو لکھنے کا۔

لیکن ایک المیہ یہ ہے کہ اس گھرانے میں اب کوئی عربی اور فارسی کا جاننے والا نہیں ہے۔اور اس اتنے بڑے ذخیرے کی قدر و قیمت بھی ٹھیک سے یہاں کسی کو نہیں ہے۔کیونکہ جو بیٹا عربی و فارسی سے آشنائی رکھتا ہے موسی رضا وہ کراچی رہتا ہے۔میری اس سے کچھ دیر ملاقات رہی مگر سچی بات ہے کہ وہ مجھے ‘نرے مولوی’ لگے جن کا مقصد شاید کچھ اور ہے۔

اس نوجوان کے والد نے اپنے سب بیٹوں اور بیٹیوں کو تعلیم سے آراستا کیا۔ان میں تین تو ڈاکٹرز ہیں۔ایک میکنکل انجینئر ہے۔خود ان کے والد اسلامیات کے پروفیسر تھے۔پروفیسر سید عطاء اللہ نقوی ان کا نام تھا۔

غیور نقوی میں اپنے باپ جیسا علم دوست اور درویشانہ رنگ نظر آتا ہے۔سچی بات ہے کہ اس نوجوان کی ہمت، جرآت اور محبت علم ودانش کی داستان سنکر میں ابتک سحر میں ہوں۔اور اس کے ساتھ گزارے ہوئے لمحات مجھے کافی قیمتی لگ رہے ہیں۔اور مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ میرے کہے ہوئے الفاظ اور اتنی محنت سے لکھے الفاظ رائیگاں نہیں جارہے ہیں۔

اس نوجوان کو میں نے اپنی کتاب’ساری کے نام خطوط’ دی تو اس نے مجھے اپنے والد کے کتب خانے سے ابراہیم امینی کی فارسی مں لکھی کتاب ‘ فاطمہ زھرا ۔۔بانوی نمونہ اسلام’ ، ہاشم عثمان کی کتاب ‘ ھل العلویون شیعۃ؟’ اور ڈاکٹر محمد عبدہ یمانی کی شہرہ آفاق کتاب’ علموا اولادکم محبۃ آل بیت النبی’ اور اپنے والد کی کتاب ‘امامت کا شعوری مطالعہ’ دیں۔یہ میرے لیے بیش بہا تحفہ ہے۔اور میں نے ہاشم عثمان کی کتاب پڑھنا شروع کی ہے اور لفظ لفظ پڑھتے ہوئے میں غیور حسین نقوی کا احسان مند ہورہا ہوں۔ہاشم عثمان کی یہ کتاب ‘کوفہ’ کے نظرثانی ایڈیشن میں کام آئے گی۔

غیور نقوی سے ملکر مجھے ایک بار پھر یہ یقین حاصل ہوا ہے کہ ہمارا مستقبل تاریک نہیں روشن ہے اور اندھیروں کو ہمارے نوجوان ہی شکست دیں گے۔

غیور نقوی تمہیں شادی مبارک ہو۔تمہاری کامیابی کے لیے میں دعاگو ہوں۔

Culture

قندیل بلوچ عبدالستار ایدھی کے متعلق حیرت انگیز انکشاف، ملاقات کب اور کیسے ہوئی اور پھر قندیل بلوچ کیساتھ کیا ہوا؟ تفصیلات جان کر آپ کے دل میں عبدالستار ایدھی کی عزت میں بے پناہ اضافہ ہو جائے گا

لاہور (شوبز ڈیسک) سوشل میڈیا سے شہرت حاصل کرنے والی ماڈل قندیل بلوچ اور بابائے انسانیت عبدالستار ایدھی دونوں ہی اس دنیا میں نہیں رہے لیکن ان دونوں سے متعلق ایک ایسا حیرت انگیز انکشاف منظرعام پر آیا ہے جس کے بارے میں جان کر آپ کے دل میں عبدالستار ایدھی کی عزت اور محبت میں بے پناہ اضافہ ہو جائے گا۔ذرائع کے مطابق قندیل بلوچ صرف 12 سال کی تھیں جب وہ حادثاتی طور پر ڈیرہ غازی خان جانے کی جائے ملتان جا پہنچیں۔ اور پھر ہوتے ہوتے وہ عبدالستار ایدھی تک پہنچ گئیں جنہوں نے انہیں واپس گھر پہنچایا تھا۔ قندیل بلوچ یہ جانے بغیر ہی ویگن میں سوار ہو گئیں کہ یہ ڈی جی خان جا رہی ہے یا ملتان کا سفر کرے گی۔ وہ بس بیٹھ گئیں اور ویگن چلتی رہی جو بعد ازاں انہیں ایدھی ہوم لے گئی۔ یہ عبدالستار ایدھی ہی تھے جو اسے واپس گھر چھوڑ کر گئے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ انہیں قندیل کے گھر پہنچنے میں دیر ہو گئی جس کے باعث وہ ایک رات ان کے گھر بھی رکے تھے۔ عبدالستار ایدھی اور قندیل بلوچ سے متعلق یہ انکشاف منظرعام پر آنے سے تمام پاکستانی ہی حیرت میں مبتلا ہیں۔
واضح رہے کہ قندیل بلوچ نے سوشل میڈیا سے شہرت حاصل کی تھی تاہم 16 جولائی 2016ءوہ ملتان میں واقع اپنے گھر میں مردہ پائی گئیں۔ انہیں ان کے بھائی نے غیرت کے نام پر قتل کر دیا تھا جو انہیں متعدد مرتبہ ماڈل کے طور پر کام کرنے سے باز رہنے اور انٹرنیٹ سے بیہودہ تصاویر اور ویڈیوز ہٹانے کی دھمکیاں دے چکا تھا۔

Entertainment