لاہور (شوبز ڈیسک) سوشل میڈیا سے شہرت حاصل کرنے والی ماڈل قندیل بلوچ اور بابائے انسانیت عبدالستار ایدھی دونوں ہی اس دنیا میں نہیں رہے لیکن ان دونوں سے متعلق ایک ایسا حیرت انگیز انکشاف منظرعام پر آیا ہے جس کے بارے میں جان کر آپ کے دل میں عبدالستار ایدھی کی عزت اور محبت میں بے پناہ اضافہ ہو جائے گا۔ذرائع کے مطابق قندیل بلوچ صرف 12 سال کی تھیں جب وہ حادثاتی طور پر ڈیرہ غازی خان جانے کی جائے ملتان جا پہنچیں۔ اور پھر ہوتے ہوتے وہ عبدالستار ایدھی تک پہنچ گئیں جنہوں نے انہیں واپس گھر پہنچایا تھا۔ قندیل بلوچ یہ جانے بغیر ہی ویگن میں سوار ہو گئیں کہ یہ ڈی جی خان جا رہی ہے یا ملتان کا سفر کرے گی۔ وہ بس بیٹھ گئیں اور ویگن چلتی رہی جو بعد ازاں انہیں ایدھی ہوم لے گئی۔ یہ عبدالستار ایدھی ہی تھے جو اسے واپس گھر چھوڑ کر گئے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ انہیں قندیل کے گھر پہنچنے میں دیر ہو گئی جس کے باعث وہ ایک رات ان کے گھر بھی رکے تھے۔ عبدالستار ایدھی اور قندیل بلوچ سے متعلق یہ انکشاف منظرعام پر آنے سے تمام پاکستانی ہی حیرت میں مبتلا ہیں۔
واضح رہے کہ قندیل بلوچ نے سوشل میڈیا سے شہرت حاصل کی تھی تاہم 16 جولائی 2016ءوہ ملتان میں واقع اپنے گھر میں مردہ پائی گئیں۔ انہیں ان کے بھائی نے غیرت کے نام پر قتل کر دیا تھا جو انہیں متعدد مرتبہ ماڈل کے طور پر کام کرنے سے باز رہنے اور انٹرنیٹ سے بیہودہ تصاویر اور ویڈیوز ہٹانے کی دھمکیاں دے چکا تھا۔