Tags » Education System

Student Stress: more than just studying

Student stress is something that is discussed all the time, on every campus, and permeates our culture. Exam stress is inevitable, but the focus of the concern has shifted to the constant underlying stress that students experience all semester that leads to serious consequences. 413 more words

Law School

Failure of Indian Education System

I am presently my bachelors degree in Christ University Bangalore.  I had felt that there are some loop holes in the education system of our country. 357 more words

India

Phyllis C. Cedola

Title: Secretary, Attendance Officer (Retired)
Company: South Orange Middle School
Location: South Orange, NJ United States
Honored Member 67 more words

Education

New Jersey Teacher Who Was Late For Work 111 Times Keeps Job

NEW BRUNSWICK, N.J. (AP) — A New Jersey elementary school teacher has been allowed to keep his job even though he was late for work 111 times over a two-year period. 110 more words

National News

Urdu Blog: CAP is not in a Favour of Students

                             .مرکزی داخلہ پالیسی – طلبہ و طالبات مشکل میں

تعلیم حاصل کرنا ہر مرد اور عورت کا حق ہے چاہے وہ امیر ہو یا غریب مسلمان ہو یا غیر مسلم تعلیم کے حصول کے لیے کسی سرٹیفیکٹ کی ضرورت نہیں البتہ ہمارے یہاں طبقاتی فرق ضرور ہے۔ کسی بھی معاشرے کے سنورنے اور ترقی کے پوشیدہ راز اور معاشروں کے عروج و زوال میں جو کلیدی حیثیت رکھتی ہے وہ ہے تعلیم۔ پاکستان کے گورنمنٹ اسکول کالجز و دیگر تعلیمی اداروں کی حالت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ، زیادہ تر سرکاری تعلیمی ادارے بنیادی سہولت سے محروم ہیں۔ مگر پاکستان کا ایک شہر ایسا بھی ہے جہاں بنیادی سہولت دینا تو دور ان سے انکی مرضی کے مطابق کسی کالج میں تعلیم حاصل کرنے کا حق بھی چھینا جارہاہے۔ پاکستان کا ساتواں اور سندھ کا دوسرا بڑا شہر حیدرآباد جو کہ پاکستان کی آزادی کے 68سال بعد بھی یونیورسٹی سے محروم ہے اس کے ساتھ امتیازی سلوک برتا جارہا ہے۔ رواں سال فرسٹ آئر میں داخلے کے خواہش مند طلبائ کے لیے وزارت تعلیم کی جانب سے حیدرآباد میں مرکزی داخلہ پالیسی کو متعارف کروایا گیا ہے جس سے حیدرآباد کے طلبہ و طالبات کو مشکلات کا سامنا ہے جس سے والدین میں بھی بے چینی پاءجاتی ہے۔

وزارت تعلیم سندھ کی جانب سے حیدرآباد کے لیے خاموشی سے متعارف کروائی جانےوالی مرکزی داخلہ پالیسی کے مطابق داخلہ فارم سندھ ایجوکیشن کی ویب سائٹ سے بھی پرنٹ کیا جاسکتا ہے اور تمام کالجزمیں بھی دستیاب ہے۔ پہلے طلبہ باآسانی خود کسی بھی کالج میں تعلیم کے حصول کے لیے فرسٹ آِئر میں داخلہ حاصل کرلیتے تھے مگر اس سال 2015 اگست میں نءمرکزی داخلہ پالیسی متعارف کروانے کے بعد داخلے کا سارا اختیار ڈائریکٹر کالجز کے ہاتھ میں دیا گیا ہے اور جس سے کالج میں موجود اسٹاف ایک پیغام رسانی کے حد تک محدود ہوکر رہ گیا ہے اور حیدرآباد میں نءداخلہ پالیسی کے بعد طلبا کے مستقبل کا فیصلہ بھی ڈائریکٹر کالجز کے سپرد کردیا گیا ہے اب ایک طالب علم فیصلہ نہیں کریگا کہ اسے کہاں پڑھنا ہے بلکہ یہ حق بھی ڈائریکٹر کالجز کے پاس ہوگا وہ جسے مرضی جہاں چاہے کسی بھی کالج میں داخلہ دے ،طلبا صرف فارم میں موجود اپنی ترجیحات دے سکتے ہیں کہ وہ کس کالج اور گروپ میں تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں باقی سارے اختیارات اور تمام حق صرف ڈائریکٹر کالجز کو حاصل ہیں جو ہماری تعلیمی پالیسی پر سوالیہ نشان ہے ملک کے معمار طلبائ کو سہولیات دینے کے بجاے ازیت میں مبتلا کیا جارہا ہے۔ حیدرآباد کی مرکزی داخلہ پالیسی کے بعد پرائیویٹ کالجز کی عید ہوتی دکھای دے رہی ہے ، حیدرآباد میں کیے جانے والے کیپ پالیسی کا تجربہ ابھی پروسیس کے مراحل میں ہے ایڈمشن پالیسی شروع ہوے ابھی دو ، تین ہفتے ہی گزرے تھے کہ گورنمنٹ کالجز میں ایڈمشن کلوسڈ ہونے کی بازگشت سنای دینے لگی اور اب تک حیدرآباد کی کیپ پالیسی آغاز ہوے دو،تین ہفتے بعد تک ڈائریکٹر کالجز کی جانب سے لسٹ آویزاں نہیں کی جاسکی کہ جنھوں نے اب تک فارم جمع کرواے ہیں انکا داخلہ ہوا یا نہیں۔

 حیدرآباد اور سندھ کے دیگر اضلاع میں متعارف کروائی جانے والی مرکزی داخلہ کی پالیسی کی ناکامی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس پالیسی کی وجہ سے طلبہ و طالبات میں گورنمنٹ کالجز میں داخلے کے رجحان میں واضح کمی نظر آرہی ہے،حیدرآباد کےچند گورنمنٹ کالجز میں رواں سال داخلے کی اعداد وشمار کچھ اس طرح سے ہیں، گورنمنٹ ڈگری کالج کوھسار لطیف آباد میں جہاں ہر سال فرسٹ ائر میں 300سے زائد اسٹوڈینٹس داخلہ لیتے تھے اس بار اس کی تعداد میں واضح کمی دکھائی دے رہی ہے اور داخلہ کے لیے فارم جمع کروانے کی آخری تاریخ تک صرف 200فارم ہی جمع ہوسکے ہیں، گورنمنٹ ڈگری کالج لطیف آباد نمبر 11میں صورتحال گزشتہ سال کے لک بھگ ایک جیسی ہے ، گورنمینٹ غزالی کالج لطیف آباد میں جہاں پچھلے سال 100سے زائد فرسٹ ائر کے طلبہ ایڈمشن لیتے تھے آج وہاں طلبہ کی تعداد 50رہ گئی ہے اور ٹھیک یہ ہی حالات حیدرآباد کے دیگر گورنمنٹ کالجز کے ہیں بشمول گرلز کالجز، حیدرآباد و دیگر سندھ کے اضلاع میں کیپ پالیسی سے طلبہ کے ایڈمشن اور سیکیورٹی کے حوالے سے والدین اور اساتذہ میں تحفظات جنم لے رہے ہیں جنھیں ایڈریس کرنا ضروری ہے۔ رواں سال پچھلے سال کی نسبت طلبہ کی گورنمنٹ کالجزمیں داخلے کا تناسب 50 فیصد ہوگیا ہے مطلب پچھلے سال کی نسبت رواں سال 50 فیصد طلبہ میں پرائیویٹ انسٹیٹیوٹ اور کالجز میں داخلے کا رجحان پیدا ہوتا دکھائی دے رہا ہے جو ہماری ناقص تعلیمی پالیسی کا نتیجہ ہے۔۔ .
 ارباب اختیار کو چاہیے کہ ان حیدرآباد کے طلبا کے مسائل حل نہیں کرسکتے تو تعلیمی درسگاہوں تک رسائی کے لیے مزید دشواریاں پیدا نہ کریں ۔ اگست ختم ہونے کو ہے مگر حیدرآباد کی نِءتعلیمی پالیسی کی وجہ سے اب تک حیدرآباد میں فرسٹ آئر کے تعلیمی سال کا آغاز نہ ہوسکا ہے۔ کیپ پالیسی کی دشواریوں سے بچنے کے لیے طلبا کو مجبور کیا جارہا ہے کہ وہ پرائیویٹ اداروں یا انسٹیٹیوٹ کی جانب رخ کریں ۔ سندھ میں دوہرے تعلیمی معیار سے تفریق پیدا کی جارہی ہے  نوجونواں کا تعلیمی استحصال بند ہونا چاہیے اور اس طلبا دشمن کیپ پالیسی کو ختم کرکے پرانی داخلہ پالیسی ریسٹور کی جاے تاکہ طلبا باآسانی کسی بھی کالج میں داخلہ حاصل کرسکیں۔ حیدرآباد یونیورسٹی نہ ہونے کی وجہ سے پہلے ہی تعلیمی مسائل سے دوچار ہے اس کے لیے تعلیمی اداروں کے دروازے مزید تنگ نہ کیے جائیں ۔ لہٰذا وقت کا تقاضا ہے کہ اس کیپ پالیسی کو واپس لیا جائے اور پرانی ایڈمشن پالیسی بحال کی جاے۔
حکومت سندھ کو چاہیے کہ وہ سندھ سے دوہرے تعلیم نظام کو ختم کرکے یکساں نظام لے کرآے اور پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 25-A پر عمل کرکے 5 سے 16 سال تک کے بچوں کو مفت میعاری تعلیم کی فراہمی یقینی بناے جو ہر پاکستانی کا حق ہے۔ حیدرآباد کے طلبہ طالبات کے ساتھ ہونے والی نہ انصافیوں کے خلاف سب کو آواز اٹھانی چاہیے جس میں میڈیا کا کردار بھی بہت اہمیت کا حامل ہے۔حیدرآباد کی کیپ پالیسی درحقیقت طلبائ کے حقوق غضب کرنے کے مترادف ہے۔ میڈیا سے منسلک و دیگر صحافی حضرات کی بھی بنیادی زمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل پر آواز اٹھائیں اور عام آدمی کی آواز بنیں۔

Generation Nonsense: Over-Entertained, Under-Educated, and Distracted

By Kip Louder

It is easy to statistically measure the effects of bad nutritional consumption, knowing one out of three children in the U.S. are considered overweight or obese. 941 more words

Corruption

'Well, colour me happy!'

‘it is important to remember that a child’s art is a reflection of himself. A child cannot, nor should he be expected to draw or paint like someone else.’ Creative & mental Growth. 387 more words