Tags » Election 2008

مسلم لیگ (ن) کی بقاءنوازشریف کی واپسی سے مشروط

(تحریر:۔۔ابو رجاءحیدر)
احتساب عدالت نے ایون فیلڈ اپارٹمنٹس ریفرنس میں سابق وزیراعظم نوازشریف ،ان کی صاحبزادی مریم نواز اور ان کے شوہرکیپٹن (ر) محمدصفدر کو باالترتیب 10،7اورایک سال قید و جرمانے کی سزا سنا نے سمیت تینوں کو 10،10سال کےلئے عوامی عہدوں کےلئے نااہل قرار د ینے کےساتھ ایون فیلڈ اپارٹمنٹس بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم دیا ہے ، نوازشریف کے پاس دادرسی و مزاحمت کے قانونی اور سیاسی ہر دو راستے موجود ہیں جن پر وہ بیک وقت سفر سکتے ہیں کیونکہ قانون کے تحت نوازشریف ،مریم نواز اور محمد صفدر 10روز کے اندر فیصلے کےخلاف اسلام آ با د ہائیکورٹ میں اپیل دائر کرنے کا حق رکھتے ہیں جسکا صدر مسلم لیگ ن شہباز شریف اعلان کر چکے ہیں جبکہ وکلاءنے بھی نوازشریف کو ہر حا ل میں اپیل دائر کرنے کا مشورہ دیا ہے جسے انہوں نے قبول بھی کرلیا ہے ، تاہم ان کے سرنڈر کے بعد ہی اپیل کو قابل سماعت گردانا جاسکتا ہے۔بعض قانونی ماہرین کے مطابق 174صفحات پر مشتمل احتساب عدالت کے فیصلے میں نوازشریف اور ان کے شریک ملزموں کےخلاف قومی خزانے کی لوٹ مار اور کرپشن کے ذریعے مال بنانے کے الزام کے تحت سزا نہیں دی گئی بلکہ نیب آرڈیننس کے سیکشن 9(اے) 5 ا و ر 12کے تحت آمدنی سے زیادہ اثاثے رکھنے اور زیرکفالت افراد کے نام پر جائیدادیں بنانے کے الزام میں سزا دی گئی ہے اوریہ درست ہے کہ نوازشریف اور شریک ملزموں کو نیب آرڈیننس کے سیکشن 9(اے)4کے تحت سزا نہیں سنائی گئی ،اس سیکشن میں کہا گیا ہے اگر بددیانتی ،غیر قانونی ذرائع اور کرپشن سے ملزم نے یا اس کے خاندان یا زیر کفالت افراد نے اثاثے بنائے ہوں تووہ اس قانون کے تحت مجرم اورسزا کے مستحق ہوں گے تاہم انہیں جو سزا دی گئی ہے وہ نیب آرڈیننس کے تحت ہی دی گئی ہے ۔آمدنی سے زیادہ اثاثے رکھنا بھی کرپشن کے زمرہ میں آتا ہے تاہم حاکم علی زرداری کیس میں اعلیٰ عدالتیں قراردے چکی ہیں آمدنی سے زیادہ اثاثے بنانے کے الزام کو ثابت کرنے کےلئے کر پشن کو ثابت کرنا استغاثہ کی ذمہ داری ہے ۔نوازشریف کے وکیل کے دلائل میں بنیادی نکتہ ہی یہ تھا استغاثہ اسے کرپشن کا کیس ثابت نہیں کر سکا۔نواز شریف کے وکلاءکے بقول ملزم کےلئے اثاثوں کا قانونی جوازپیش کرنا اسی صورت میں لازم ہوگاجب استغاثہ اپنا کیس ثابت کرچکا ہو۔احتساب عدالت نے اس موقف سے اتفاق نہیں کیا تاہم ملزموں کے پاس اپیل میں یہ نکتہ اٹھانے کا موقع موجود ہے ۔
جہاں تک ایون فیلڈ اپارٹمنٹس بحق سرکار ضبط کرنے کے عدالتی حکم کا تعلق ہے یہ ایک قانونی تقاضہ تھا جسے پورا کیا گیا ،عملی طور پر اپارٹمنٹس کی ضبطی کے حکم پر عمل درآمد جوئے شیر لانے کے مترادف ہے ،پاکستان اور برطانیہ کے درمیان ایسا کوئی معاہدہ نہیں جس کے تحت دونوں مما لک ایک دوسرے کی عدالتوں کے فیصلوں پر عملدرآمد کروانے کے پابند ہوں ، اس لئے پاکستانی سرکار کو اپارٹمنٹس کی ضبطی کے عدالتی حکم پر عملدرآمد کےلئے برطانوی عدالت سے رجوع کرنا پڑے گا، مگرایسے مقدمات جن میں سیاستدان ملوث ہوں ان میں برطانیہ سمیت یورپی مما لک کی عدالتیں عدم تعاون کا رجحان رکھتی ہیں ۔علاوہ ازیں شریف فیملی کی طرف سے احتساب عدالت کے اس حکم کو غیر موثر بنانے کےلئے برطانیہ میں یہ موقف بھی اختیار کیا جاسکتا ہے کہ ابھی ان کے پاس پاکستان میں ہائیکورٹ اور پھر سپریم کورٹ میں اپیل کا حق موجود ہے ۔اسلئے برطانوی عدالتیں یا سرکار کسی قسم کی کوئی کارروائی عمل میں نہ لائے ۔
الیکشن سے قبل نواز شریف کو سزا کیوں سنائی گئی؟یہ ایک ایسا سوال ہے جس کے دو جواب ہیں اول مسلم لیگ (ن) کو درپردہ سیاسی تقویت دینا ، دوئم نواز شریف مخالف قوتوں (بلے اور جیپ )کو عام انتخابات میں کھل کھیلنے کا موقع فراہم کرنا ۔ احتسا ب عدالت میں گزشتہ روز فیصلہ سنانے کا اعصاب شکن اور سنسنی خیز کھیل 8گھنٹے سے زائد دورانیہ پر محیط رہا ۔ نہ صرف ملک بھر بلکہ دنیا میں جہاں جہاں پاکستانی بستے ہیں اس سارے وقت میں اعصابی تناﺅ کا شکار رہے۔ عمومی طور پرفیصلہ لوگوں کی توقعات کے زیادہ منافی نہیں تھا ۔ مسلم لیگ(ن) کے مخالف توہر صورت یہی توقع کر رہے تھے نواز شریف، مریم نواز کو سزا ہو گی جبکہ ن لیگی قیادت، کارکن اور حامی بھی کسی ا چھے کی امیدرکھے ہوئے نہ تھے ، نواز شریف کا” مجھے کیوں نکالا “کا نعرے کا جادو ویسے ہی سر چڑھ کر بول رہا تھا ، انتخابات میں مطلوبہ نتائج کےلئے سیاسی بنیادوں پر بے رحم احتساب و سیاسی وفادا ر یوں کے تبادلوں کے ریلوں کے باوجود( ن) لیگ کا ووٹر مستحکم نظر آرہا تھا جبکہ تمام انتخابی جائزے بھی چیخ چیخ کر ایسی صورتحال کی عکاسی کر رہے تھے تو سیاسی انجینئرنگ اور طبع آزمائیوں کی گراس روٹ لیول پر ناکامی کا منطقی انجام یہی تھا الیکشن سے قبل نواز شریف اور مریم نواز کو سزا سنا دی جائے کہ اس بنا پر ”مجھے کیوں نکالا “کے بعد”مجھے کیوں سزا سنائی گئی“؟ کا ایک نعرہ (ن) لیگ کی انتخا بی مہم کو مہمیز کرنے میں ممدو معاون ثابت ہو۔اب سب کی نظریں اس بات پر لگی ہوئی ہیں نواز شریف 25جولائی سے قبل وطن واپس آتے ہیں یا نہیں۔ آئندہ ملک کی سیاسی بساط نواز شریف کے اس ضمن میں فیصلہ کی روشنی میں ہی بچھے گی ،اگرچہ نواز شریف نے لندن سے پریس کانفرنس میں اپنی واپسی کواہلیہ بیگم کلثوم نواز کے ہوش میں آنے سے مشروط کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
فیصلے کے بعد نواز شریف کے سیاسی مخالفین کے گھروں میں گھی کے چراغ جل رہے ہیں اور ان کی خوشی چھپائے نہیں چھپتی، کیونکہ وہ یہ سمجھتے ہیں انہیں بیٹھے بٹھائے ایک ایسا موقع میسر آگیا ہے جسے وہ اپنی انتخابی کامیابی کےلئے استعمال کرسکتے ہیں، لیکن یہ فیصلہ دو دھاری تلوار بھی ثابت ہوسکتا ہے۔ زیادہ امکان تو اس بات کا ہے نواز شریف کا ووٹر اس فیصلے کے بعد زیادہ جوش و جذبے کےساتھ ان کا ساتھ دینے کےلئے اٹھ کھڑا ہو۔ یہ فیصلہ اگر تین چار ماہ پہلے آتا تو شاید اس کے اثرات مختلف ہوتے، لیکن 25 جولائی سے ڈیڑھ ہفتہ پہلے آنےوالا یہ فیصلہ کئی لحاظ سے مسلم لیگ (ن) کےلئے فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے اینٹی نواز شریف قوتوں کی پہلی ترجیحی خواہش یہی لگتی ہے وہ سابق صدر جنرل(ر) مشرف کی طرح واپس نہ آئیں اور مکمل سیاست سے ازخود بے دخل ہو جا ئیں ۔ اسی طرح بعض تجزیہ نگاروں کو نواز شریف کے اس اعلان پر اعتبار نہیں آیا کہ وہ واپس آرہے ہیں، کیونکہ انہوں نے بڑے یقین کےساتھ کہہ دیا ہے کہ نواز شریف نے اپنے کارکنوں اور ووٹروں کو حوصلہ دینے کےلئے واپس آنے کا لالی پاپ دےد یا ہے۔ حالانکہ ان کا واپسی کا ارادہ نہیں ، وہ گرفتاری سے ڈرتے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔ لیکن نواز شریف کے اعلان سے جہاں مسلم لیگی کارکنوں کے حوصلے بلند ہوئے ہیں، وہیں فیصلے سے خوش ہونےوالے تحریک انصاف کے کارکنوں کو یک گو نہ مایوسی بھی ہوئی ہے کہ اگر نواز شریف نے چند دن کے اندر اندر واپس آکر انتخابی حلقوں کا ایک طوفانی دورہ بھی کرلیا تو ان کے ووٹروں کے حوصلے بھی بڑھ جائیں گے اور امیدواروں کی انتخابی میں نئی جان بھی پڑ جائے گی۔ بعض اہم امیدواروں کی نااہلی کی وجہ سے کارکنوں میں جو مایوسی پائی جاتی تھی، نواز شریف کے اعلان سے اس کے بادل چھٹ جائیں گے۔ قوی امکان یہی ہے نواز شریف واپس آکر ملک میں ایک نئی سیاسی جدو جہد کی بنیاد رکھیں گے۔ اگرچہ مسلم لیگ(ن) کےخلاف کارروائیوں کے نتیجہ میں ملک میں جاری انتخابی مہم گہناچکی ہے، جوش و جذبہ مفقود اور بے یقینی کے سائے نمایاں ہیںلیکن نواز شریف کی وطن واپسی پورے انتخابی ماحول کو بدل، سیاسی مستقبل کیلئے ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہو سکتی ہے۔بصورت دیگر بقول شخصے(بلے اور جیپ ) کی عام انتخابات میں جیت یقینی نظر آتی ہے ۔

Analysis

From the Desk of James Nichols: Of Borders and Birthers

James David Nichols is an assistant professor of history at City University of New York, Queensborough Community College. His new book, The Limits of Liberty: Mobility and the Making of the Eastern U.S.-Mexico Border… 1,079 more words

Guest Blogs

Little Known Black History Fact: Barack Obama's Nomination

President Barack Obama’s historic run as the commander-in-chief didn’t officially begin until his election in November 2008, but his journey began months earlier. Ten years ago, Obama won the Democratic Party’s nomination for president, the first Black person to win such a bid from a major U.S. 301 more words

App Feed