Tags » Establishment

The True Definition of Populism, and Why No Democratic or Republican Candidate Can Credibly be a Populist

It’s a simple fact: neither the Democratic nor Republican parties stand for We the People in any way, shape, or form. Both parties clearly stand for their elitist friends and financial backers who not only dictate the respective parties’ agendas, but who seek to further elitist interests in Washington at our expense, ensuring that We the People are shut out in shaping the direction of our own nation. 691 more words

"We're a 'broad church'"

Willy-nilly
Silly Labour
Laid a path
That led to farce,
So rich it made
The face palm
And the belly laugh
As vetted voters,
Left reflective, 83 more words

Politics

Elspeth’s Naughty Guide to Durham

My first self developed photo.

“Grey towers of Durham, how I love thy mixed and massive piles”

Does anyone else think of an intimate bodily dysfunction here? 2,141 more words

Heritage Travel

The Angle

“YOU would say that- you’re a commie!”
“Nah, she’s a socialist. That’s worse.”
“No gents, I am the thing you two conservatives can’t comprehend. A real capitalist.” 151 more words

Political

Labour's pitiful hysteria can be seen from Space.

Labour’s pitiful hysteria can be seen from Space. The not-Corbyn Labour leadership candidates have managed to turn a bad workman always blames his tools into a delicious, idiomatic dish of self-reflecting irony. 658 more words

Politics

Donald Trump's Money To The Establishment

Donald Trump has been giving donations as far back as he could, to scores of candidates in both parties. He claims that he is an outsider, but is that really true? 507 more words

Republicans

متحدہ کے استعیفے۔سیاست کی بساط پرسمارٹ سیاسی چال

تحریر: ماجد صدیقی

یہ بات جانتے اور سمجھتے ہوئے بھی کہ ان کی جماعت ضمنی انتخابات میں پرانی پوزیشن حاصل نہیں کرسکتی، متحدہ نے قومی اسیمبلی، سینیٹ اور صوبائی اسیمبلی سے استعفی دے دیئے ہیں۔ یہ بات طے ہے کہ موجودوہ حالات میں متحدہ کے لئے ساری کی ساری سیٹیں جیتنا بے انتہا مشکل کام ہے۔ تو پھر سوال اٹھتا ہے کہ پارٹی نے اتنا مشکل فیصلہ آخر کیا حاصل کرنے کے لئے کیا ہے۔ ظاہر ہے یہ سب احتجاج کے طور پر کیا گیاہے اور یہ باور کرانے کے لئے کیا گیا ہے کہ متحدہ کے ساتھ زیادیاں ہورہی ہیں اور ان کی جماعت کو سنگل آوٹ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اب ان تمام ایم اے ایز، ایم پی ایز اور سینٹرز کے استعیفے قومی، صوبائی اسیمبلی کے اسپیکر زاور چیئرمین سینیٹ کے پاس جائینگے، جہاں میرا خیال ہے ان استعیفوں کو قبول نہیں کیا جائیگا۔ یہ بات متحدہ بخوبی جانتی ہے کہ آنے والے دنوں میں موجود ہ سرکار اور دوسری جماعتیں ان سے استعیفے واپس لینے کا مطالبہ کرینگی۔اصل میں متحدہ ان استعیفاؤں کے ذریعے بات چیت کے عمل میں جانا چاہتی ہے اور اپنے لئے مراعات لینا چاہتی ہے۔پارٹی جانتی ہے کہ ان مشکل حالات سے نکلنے کے لئے استعیفائیں ایک راستہ بن سکتی ہیں۔

اس وقت پارٹی کے پاس نیشنل اسیمبلی کی پچیس، جبکہ صوبائی اسیمبلی کی اکاون نشستیں ہیں۔ ان کے استعفے منظور ہونے کے بعد ضمنی انتخابات کا بگل بج جائے گا اور کراچی اور حیدرآباد کی سطح پر بڑے پیمانے پر انتخابی سرگرمیاں شروع ہوجائیں گی۔ یقینن یہ ایک لارج اسکیل انتخابی عمل ہوجائیگا ۔ موجودہ حکومت نہیں چاہتی کہ دو ھزار اٹھارہ سے پہلے ملک کی کسی بھی حصے میں کہیں بھی اتنے بڑے پیمانے پر انتخابی سرگرمی ہو۔ ابھی حال ہی میں نواز شریف سرکار نے تحریک انصاف کی ڈی سیٹ والے معاملے کی گتھی سلجھائی ہے۔وہ یہ کبھی بھی نہیں چاہے گی کہ اب متحدہ کے استعفے منظور ہوجائیں اور اتنے بڑے پیمانے پر ضمنی انتخابات کرانے پڑجائیں۔ سیدھے الفاظ میں موجودہ حکومت وقت سے پہلے کوئی ایسی مثال قائم کرنے نہیں دینا چاہ رہی، جس کی ڈور پکڑ کر کوئی بھی جماعت وقت سے پہلے عام انتخابات کا مطالبہ کردے ۔متحدہ کے استعیفاؤں اور ان کی منظوری سے اچھی خاصی غیر یقیینی والی صورتحال جنم لے گی اور موجودہ حکومت یہ کبھی نہیں چاہے گی کہ کوئی بدمزگی کی کیفیت پیدا ہو اور یہ بات متحدہ بخوبی جانتی ہے۔

اسلئے آنے والے ایک دو دنوں میں متحدہ کو منانے کا عمل زور پکڑ لے گا۔ اصل میں متحدہ اس کے بدلے بارگینگ کے طور پر اپنے خلاف ہونے والے آپریشن کے حوالے سے مراعات لینا چاہتی ہے۔مراعات سے میری مراد اس سختی میں کمی ہے، جس کا اس وقت اس کو آپریشن کی صورت میں سامنا ہے۔ تاہم یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ اسٹبلشمینٹ، موجودہ حکومت کے پر و متحدہ آرگیومینٹس کو تسلیم کرتی ہے یا نہیں۔ اگر اسٹیبلشمینٹ نے موجودہ حکومت کے متحدہ کے حوالے سے نرمی برتنے کی بات نہ مانی تو ایک نئی صورتحال جنم لے گی۔ ظاہر متحدہ استعیفائیں منظور کرنے کا مطالبہ کرے گی اور اگر استعیفے منظور ہوگئے تو بھاری بھرکم انتخابی عمل شروع ہوجائیگا۔ اس دوران اگر متحدہ کے خلاف آپریشن کاعمل جاری رہا تو متحدہ اسے اپنے انتخابی عمل میں رکاوٹ سے عبار ت کرکے بائیکاٹ کا فیصلہ کرسکتی ہے، جس سے صورتحال کی سنگینی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

مگر میرا خیال ہے کہ بات ضمنی انتخاب تک نہیں جائے گی اورموجودہ حکومت متحدہ کے لئے کچھ نہ کچھ نرمی حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیگی۔ تاھم ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ متحدہ آنے والے دنوں میں اپنی استعیفاوٗں والی بارگینگ چپ کو استعمال کرکے کس طرح اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب ہوتی ہے۔ آپ کی رائے.

Pakistan