Tags » Establishment

No Right to Free Speech in Public Job Interview

Dustin Buxton applied to the Radiation Therapy Program at a Baltimore-area community college. The 65-credit program grants an Associate of Applied Science, and graduates are poised to become radiation therapists for health-care providers, working with x-rays, MRIs, etc. 272 more words

Free Speech

Big Ben's off as well

Ding dong bell
Britain’s gone to hell
Who sent it there?
MPs who care
More about Big Ben
Than its maintenance men.
Who’ll get her out? 37 more words

Politics

Reader tells terrible tragedy and horrific extent of child sexual abuse

The SKWAWKBOX has covered the shocking news that a serving Chief Constable has been accused of – and interviewed under caution about – alleged involvement in the sexual abuse of children (CSA). 945 more words

Child-abuse revelations: Establishment backlash begins

The SKWAWKBOX published earlier this week two articles relating to the terrible scandal of child abuse in the UK and the sham of the government’s inquiry. 337 more words

لاہور مارچ اور میاں صاحب کا ایجنڈا۔

نوید نسیم

جب سے سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کا اسلام آباد کے پنجاب ہاؤس سے لاہور کی طرف سفر شروع ہوا ہے۔ تب سے ہر چینل پر بیٹھا میزبان اور تجزیہ کار ایک ایسے سوال کا جواب تلاش کررہے ہیں۔ جس کا جواب وہ جانتے ہیں۔ مگر صرف اس لئے پوچھتے ہیں کیونکہ کچھ تو پوچھنا اور بولنا ہے۔

یہ سوال انتہائی سادہ اور سیدھا ہے۔

سوال: نواز شریف کے لاہور مارچ کے کیا مقاصد ہیں؟۔

اس انتہائی معصومانہ سوال کے جواب میں پاکستان مسلم لیگ نواز کے اراکین اسمبلی تو انتہائی معصومی سے جواب دیتے ہیں کہ سابق وزیراعظم اپنے گھر جارہے ہیں۔ اس میں مسئلہ کیا ہے؟۔

پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان پیپلز پارٹی والے سابق وزیراعظم کے مارچ اور ریلی میں شرکت کرنے والوں کو دیکھ کر کچھ کر تو نہیں سکتے۔ لیکن اپنی بے بسی کو چھپاتے ہوئے سوال اٹھا دیتے ہیں کہ سابق وزیراعظم کس حیثیت میں یہ ریلی نکال رہے ہیں؟۔ پنجاب اور بلوچستان کے علاوہ وفاق میں نواز لیگ کی حکومت ہے۔ قومی اسمبلی میں اکثریت نواز لیگ کی ہے تو پھر اس ریلی کا مقصد؟۔

بنیادی طور پر سابق وزیراعظم کی یہ ریلی سپریم کورٹ سے نااہل ہونے کے بعد سیاست میں زندہ رہنے کی ایک کوشیش ہے اور چونکہ سپریم کورٹ اقامہ رکھنے اور دبئی کی ایک کمپنی میں نوکری کرنے کی وجہ سے نواز شریف کو نااہل قرار دے چکی ہے۔ تو اب نواز شریف کوئی سرکاری عہدہ رکھنے کے قابل تو رہے نہیں۔ لہزا سابق وزیراعظم اپنی ڈوبتی کشتی کو اس ریلی کے زریعے سہارا دینے کی کوششوں میں ہیں۔ جسمیں وہ کامیاب دکھائی دے رہے ہیں۔

سپریم کورٹ کی طرف سےسابق وزیراعظم کو نااہل کرنے کے علاوہ وزیراعظم اور ان کے خاندان کے افراد کے خلاف نیب میں کیسز چلانے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔ نواز شریف اس ریلی کے زریعے سپریم کورٹ کی طرف سے نیب ریفرنسز کی پیروی کیلئے مقررکردہ جسٹس اعجازالحسن اور سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ جس نے نواز شریف کو نااہل قرار دیا تھا۔ اس ریلی کے زریعے احساس دلانا چاہتے ہیں کہ دیکھو، تم نے بے شک مجھے نااہل کردیا۔ لیکن تمھارے فیصلے کے باوجود عوام میرے ساتھ ہے۔

اس کے علاوہ اس ریلی کے زریعے سابق وزیراعظم نیب اورجج جسٹس اعجازالحسن کو سمجھانا چاہتے ہیں کہ سپریم کورٹ نے تو مجھے اور میرے خاندان کو کرپٹ قرار نہیں دیا (جوکہ وہ دے سکتے تھے)۔ اب جب کہ کیسز نیب میں چلنے ہیں تو اس بات کا دھیان رکھنا کہ اسلام آباد سے لاہور آنے تک کے ریلی میں جو لوگ میرے ساتھ ریلی میں تھے۔ وہ میری ایک کال پر کہیں بھی حملہ کرسکتےہیں اور نیب اور جسٹس اعجازالحسن کو یقیناً یاد ہی ہوگا کہ جب مرحوم چیف جسٹس سجاد علی شاہ چیف جسٹس سپریم کورٹ تھے۔ تو نواز لیگ کے شیروں کے حملے کے سامنے پسپا ہوگئے تھے اور کوئی ادارہ بھی سپریم کورٹ اور چیف جسٹس کے بچاؤ کیلئے نہیں آیا تھا۔

سابق وزیراعظم نواز شریف کی اس ریلی کا مقصد دیگر حکومتی اداروں جیسے کہ فوج کو بھی یہ پیغام دینا ہوسکتا ہے کہ آئین کے مطابق تمام اداروں کی یہ زمہ داری ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عمل درآمد کروائیں اور پاکستانی حالات میں کسی بھی گھمبیر صورتحال کے موقع پر سب کی نظریں فوج کی طرف جاتی ہیں۔ اس ریلی کے زریعے نواز شریف فوج کو بھی اپنی سٹریٹ پاور دکھاتے ہوئے پیغام دینا چاہتے ہیں کہ یہ نا سمجھنا کہ سپریم کورٹ نے مجھے نااہل قرار دیدیا ہے تو میں بے آسرا ہوگیا ہوں۔

پینامہ لیکس کیس کا فیصلہ آنے کے بعد نااہل وزیراعظم متعدد بار یہ کہہ چکے ہیں کہ سپریم کورٹ نے فیصلہ سنانے سے پہلے ہی طے کرلیا ہوا تھا کہ وزیراعظم کو نااہل قرار دینا ہے اور اس کیلئے سپریم کورٹ نے ایک ایسے جرم میں نااہل قرار دیا۔ جوکہ انتہائی چھوٹی نوعیت کا ہے۔

سابق وزیراعظم کے بیانات اور اسلام آباد سے لاہور تک کی ریلی ثابت کرتی ہے کہ سابق وزیراعظم نااہل ہونے کے بعد اداروں کے ساتھ confrontation mode میں ہیں۔ جس کی وجہ سے ایسے اشتعال انگیز بیانات دے رہے ہیں اور اسلام آباد سے لاہور ایک ایسی ریلی کی شکل میں جارہے ہیں۔ جس کا ناتو کوئی مطالبہ ہے اور نا کوئی مقصد۔

نواز شریف کو چاہیئے کہ وہ تین بار وزیراعظم رہنے کے بعد بس کردیں اور سپریم کورٹ کے فیصلے کو برداشت کریں اور جمہوریت کو پٹری سے اترنے سے بچانے کیلئے اداروں کا احترام کریں۔ کیونکہ ابھی صرف نواز شریف نااہل ہوئے ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ نواز نہین۔

Fake News

I find this term, strange. For time immemorial, people in power have always strived for propaganda and promotional material to portray themselves into the best position. 150 more words