Tags » Facebook Addiction

4 Things That Happened When I Deactivated Facebook

I haven’t updated my blog for nearly two months now and I feel truly sorry about that.

Firstly, I attempted to take the Blogchatter Challenge of blogging everyday for the month of April and then I realized with my own projects this might not be feasible. 770 more words

Writing

سوشل میڈیا کا نشہ کیسے دور کریں ؟

اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ لوگ اپنے فون اور کمپیوٹر کی سکرین کی طرف بار بار اور بہت زیادہ دیکھتے ہیں۔ دراصل ایک تحقیق کے مطابق امریکا میں اوسطاً ایک بالغ ہفتے میں ساڑھے پانچ گھنٹے سوشل میڈیا پر گزارتا ہے۔ اس کا مطلب ہے سال میں 12 دن۔ اگر آپ کو اس امر سے حیرت نہیں ہوتی تو جان لیجیے کہ آپ سمیت بہت سے لوگ سوشل میڈیا کے نشے کا شکار ہیں۔ لائیک، کومنٹ اور ری ٹویٹ کی صورت جو میں سکون آپ پاتے ہیں وہ آپ کے دماغ کو فیس بک، ٹویٹر اور انسٹاگرام کی طرف کھینچتا ہے۔

اگر آپ اس نشے کے بارے میں اپنا امتحان لینا چاہتے ہیں تو اپنے آپ سے پوچھیے: کیا سوشل میڈیا آپ کو آپ کے سب سے ضروری کام سے روکتا ہے، کیا یہ صلاحیتوں کے اظہار کی راہ میں رکاوٹ ڈال رہا ہے؟ اگر اس کا جواب ہاں میں ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ سوشل میڈیا کے مرض نے آپ کو شکست دے رکھی ہے۔ کسی بری عادت کا حل یہ ہے کہ اسے اچھی عادت سے بدل دیا جائے۔ ذیل میں وہ اقدامات تجویز کیے گئے ہیں جو سوشل میڈیا کے نشے میں گرفتار کسی فرد کو چھٹکارہ دلانے میں مفید ثابت ہوں گے۔ ۱۔ ’’کیوں‘‘ کی تلاش : خود سے سوال کیجیے: آپ آخر انسٹاگرام اور فیس بک کھولتے کیوں ہیں؟ کیا اس کا جواب ہے، ’’کوئی وجہ نہیں، میں بس انسٹاگرام کی فیڈ کو سکرول کرنا پسند کرتا ہوں‘‘؟

اگر ایسا ہے تو اپنے محرک پر گہرائی سے غور کیجیے۔ یہ دیکھیے کہ کیا یہ آپ کے کام کو بور کر دیتا ہے، آپ اس کے لیے ذہنی دباؤ محسوس کرتے ہیں یا اس کے باعث خود کو بیرونی دنیا سے کٹا ہوا محسوس کرتے ہیں؟ پہلا قدم آپ کی اس ضرورت کو پہچاننا ہے جو آپ کو سکرین کی طرف دیکھنے کے لیے مجبور کرتی ہے۔ ۲۔ دوری: دوسرا قدم اٹھاتے ہوئے تین چار طریقے اپنانے پڑیں گے جو سوشل میڈیا سے دوری میں معاون ہوں گے۔ ان میں سوشل میڈیا ایپس کو ڈیلیٹ کرنا، کمپیوٹر پر نیوز فیڈ بُلاکر استعمال کرنا، اپنے بیڈروم سے فون اور کمپیوٹر کو دور رکھنا شامل ہے۔

یاد رکھیے سوشل میڈیا کونشہ بنانے کے لیے دنیا کے بہترین دماغوں میں سے چند نے خوب محنت کر رکھی ہے۔ اس سے چھٹکارے کا فیصلہ کرنا اور پھر قدم اٹھانا آسان نہیں۔ اس کے لیے خاصی ہمت کی ضرورت ہے تاکہ اپنے حقیقی کاموں کی طرف متوجہ ہوا جا سکے۔ ۳۔ متبادل : تیسرا قدم یہ ہے کہ سوشل میڈیا کو چیک کرنے کی روٹین کو ایک نئی روٹین سے بدل دیں۔ ایسا کرتے ہوئے آپ کو خیال آتا ہے کہ اب تو ’’میں بور ہونے لگا ہوں‘‘ یا ’’میرا ذہن بار بار وہی کچھ کرنے کو چاہ رہا ہے۔‘‘ لیکن آپ اس طرح کے احساسات کو کسی مثبت اور پیداواری کام میں بدل سکتے ہیں۔

مثال کے طور پر فیصلہ کریں کہ جب میں کام کے دوران بور ہوں گا تو چند قدم چل لوں گا، یا جب میں ذہنی دباؤ میں مبتلا ہوں گا تو تین منٹ کے لیے گہرے سانس لوں گا۔ اگر آپ اپنے دماغ کو ایسے کاموں کی جانب راغب کر لیں گے تو سوشل میڈیا کی طلب کم ہو جائے گی۔ ۴۔ احتساب : چوتھا قدم نئی عادتوں کو بار بار دہرانا ہے۔ یہی وہ مقام ہوتا ہے جب لوگ ہار جاتے ہیں کیونکہ اس کے لیے خاصے ہمت و حوصلے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر آپ نظم و ضبط کو خود ہی کرنے کی بجائے اسے کسی دوسرے کے حوالے کر دیں تو بہتر ہے۔

دوسرا آپ کو زیادہ اچھا کنٹرول کر سکتا ہے۔ کسی دوست کی خدمات حاصل کریں یا کوئی کوچ رکھیں جو آپ کا احتساب کرے کہ آپ نے جو فیصلے کیے تھے ان پر عمل کر رہے ہیں یا نہیں۔ یعنی آپ سوشل میڈیا سے دوری کی جانب گامزن ہیں یا نہیں۔ اس کا ایک فوری حل احتساب کرنے والی ایپ کا استعمال ہے۔ ایک معروف کمپنی نے ’’اکاؤنٹی بیلٹی ایپ‘‘ بنائی ہے۔ اسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ۵۔ انعام: پانچواں قدم یہ ہے کہ اپنے دماغ کو انعام دے کر خوش کریں۔ جب آپ اپنی نئی عادات پر اچھی طرح عمل کر رہے ہوں تو اسے اس کا صلہ ملنا چاہیے۔ نئی عادات کو اپنانا تشدد سہنے کی طرح نہیں ہونا چاہیے۔

نئی عادات کو مضبوط بنانے کے لیے، چھوٹی چھوٹی کامیابیوں پر خود کو صلہ دیں۔ مثال کے طور پر اگر آپ ایک گھنٹے سے سوشل میڈیا سے دور ہیں، تو دس منٹ کے لیے بطور انعام وہ کچھ کریں جو آپ کو پسند ہے اور جسے کرنے سے آپ کو خوشی ہوتی ہے۔ اگر آپ پورا دن سوشل میڈیا سے دور رہتے ہیں تو آپ شام کا ایک گھنٹہ اپنی مرضی سے گزاریں۔ اپنی ذات پر دیگر کئی نوازشیں کی جا سکتی ہیں۔ نئی عادات اپنا کر آپ پراگندہ خیالی کی زنجیروں اور وقت کے زیاں سے نکل آئیں گے۔

تلخیص و ترجمہ: رضوان عطا

World

فیس بک : معاشرے کے لیے سہولت یا مصیبت

اکٹھے رہنا انسان کی ضرورت ہے اور وہ ایک دوسرے کو جاننا پسند کرتے ہیں۔ اس خواہش کی تکمیل کے لیے تاریخ انسانی میں نت نئے طریقے وضع ہوئے اور ایجادات ہوتی رہیں۔ جسمانی اشارے کافی نہیں تھے، زبانیں اسی لیے انسانوں کا طرۂ امتیاز بنیں۔ تاہم اپنے اعضا سے انسان چند گز کے فاصلے تک ہی گفتگو کر سکتا ہے۔ انسانی آواز کی طرح اس کی بصارت بھی محدود ہے۔ نصف کلومیٹر کے فاصلے سے انسانی آنکھ چہرہ نہیں پہچان پاتی۔ ابتدا میں اس محدودیت کا حل سیاحوں اور مسافروں سے حل احوال لینے سے نکالا گیا۔ تحریر کی ایجاد کے بعد خط و کتابت اور تار نے اسے تیز کیا۔ ٹیلی فون نے فاصلوں کو مزید سمیٹ دیا۔ ایک عام ٹیلی فون پر صرف آواز آیا کرتی ہے۔ انٹرنیٹ نے تحریر، تصویر، ویڈیو ہر ذریعے سے رابطے کو ممکن کر دیا۔

ایک اپلی کیشن جسے اس بارے میں امتیاز حاصل کیا وہ فیس بک ہے۔ چودہ سال قبل مارک زکر برگ نے ہاورڈ یونیورسٹی کے ساتھیوں سے مل کر فیس بک کو ویب سائٹ پر لائے۔ ایک اندازے کے مطابق اب فیس بک کے اثاثے 84 ارب ڈالر ہیں، 25 ہزار سے زائد افراد اس میں کام کرتے ہیں، یہ دنیا کی تیسری سب سے زیادہ استعمال ہونے والی ویب سائٹ ہے اور ایک ارب سے زائد صارفین اسے موبائل فون پر روزانہ استعمال کرتے ہیں۔ یہ اعداد وشمار حیران کن ہیں جو فیس بک کی تیز رفتار وسعت اور اس میں پائی جانے والی دلچسپی کا پتا دیتے ہیں۔ آخر اس میں ایسا کیا ہے کہ لوگ اس کی جانب کھنچے چلے جا رہے ہیں۔ ایک دوسرے کو جاننے کے ساتھ ساتھ انسان نت نئی دنیائیں دریافت کرنا چاہتا ہے۔

فیس بک ایک ایسی دنیا ہے جس میں سفر نہیں کرنا پڑتا اور مختلف دنیاؤں کی ’’سیر ‘‘ ہو جاتی ہے۔ دنیا بھر سے ہر رنگ، نسل، نظریات، ملک اور مذہب کے پروفائل تک رسائی ہو سکتی ہے۔ آپ پسندیدہ گروپس میں شامل ہو سکتے ہیں، رائے دے سکتے ہیں اور تبصرہ بھی کر سکتے ہیں۔ تصاویر اور ویڈیوزدیکھی جا سکتی ہیں اور پوسٹ کی جا سکتی ہیں۔ صارفین کی بڑی تعداد کے ہوتے دلچسپ تحاریر پڑھنے اور تصاویر اور ویڈیوز کو دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ یہ فوری اور نت نئی معلومات کا اہم ذریعہ بن چکی ہے۔ فیس بک کے ذریعے آپ اپنے دوستوں سے رابطہ کر سکتے ہیں اور انہیں تلاش کر سکتے ہیں۔ یوں بہت سے بچھڑے ہوئے دوست آپس میں مل جاتے ہیں۔

روایتی میڈیا سے اوجھل بہت سی خبریں یہاں مل جاتی ہیں۔ ٹرینڈ بن جائیں تو حکام کو ہلا دیتی ہیں۔ لیکن ایک دوسرا پہلو بھی ہے۔ عمومی تجربہ بتاتا ہے کہ فیس بک کے صارف کسی گورکھ دھندے کی طرح اس میں پھنستے چلے جاتے ہیں۔ کسی ایک کی پروفائل کو دیکھ کر دوسرے پر جانا ، ایک کے بعد دوسرا تبصرہ پڑھنا، اور جب احساس ہوتا ہے تو بہت وقت ضائع ہو چکا ہوتا ہے، تجسس کی تسکین پھر بھی نہیں ہوئی ہوتی۔ تحقیقات سے پتا چلتا ہے کہ سوشل میڈیا بشمول فیس بک کی نشے جیسی لت بھی لگ سکتی ہے۔ صارف بار باراپنے اکاؤنٹ سے رجوع کرتا ہے اوراسے کھولے بغیر رہ نہیں پاتا۔ اسے دوسروں کے تبصروں اور ’’لائیکس‘‘ کا انتظار رہتا ہے۔ تب اس سے انسانی رشتے متاثر ہونے لگتے ہیں۔

خاندان کے افراد اور دوست ملتے ہیں مگر نظریں موبائل پر جمی ہوتی ہیں۔ انسانوں کی اس نوع کی اجنبیت ایک انوکھا مظہر ہے جس کی ابتدا شاید تھیٹر اور بعدازاں سینما سے ہوئی۔ سینما میں ایک جگہ پر موجود انسانوں کی بڑی تعداد ایک دوسرے کی بجائے ایک سے تین گھنٹے تک واحد مردہ سکرین ہی کو دیکھتی ہے وگرنہ چار انسانوں کے ملنے کے بعد باہمی گفتگو اورحال احوال کو فطری سمجھا جاتا ہے۔ اب ہوا یہ ہے کہ سوشل میڈیا کے سبب سکرینیں کسی عمارت میں نصب نہیں بلکہ ہر ہاتھ میں ہیں۔ یوں انسان جہاں ایک دوسرے کے قریب ہوا ہے وہیں وہ دور اور بیگانہ بھی ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خاندان میں کسی ایک کو دوسرے سے شکایت ہوتی ہے۔ بچوں کو ماں باپ یا ماں باپ کو نوعمروں سے، میاں بیوی میں سے کسی ایک کو دوسرے سے۔ بوڑھوں کو اپنی اولاد سے۔

وہ شکایات کرتے نظر آتے ہیں کہ انہیں وقت نہیں دیا جا رہا۔ متعدد صارفین کی نیند پوری نہیں ہوتی اور ان کا کام متاثر ہوتا ہے۔ فیس بک اکاؤنٹ بنانے کے لیے عمر کی ایک حد ہے اور یہ بلاوجہ نہیں۔ اس پر بہت سا ایسا مواد ہوتا ہے جو بچوں کے لیے موزوں نہیں۔ لیکن ملک میں بچوں کی ایک بڑی تعداد نے اکاؤنٹ بنا رکھے ہیں، یہاں تک کہ بہت سے والدین بھی اسے برا تصور نہیں کرتے۔ اس سے بچوں کی رسائی ایسے مواد ہو تک جاتی ہے جو نفسیاتی طور پر انہیں نقصان پہنچا سکتا ہے نیز ایسے افراد ان سے رابطہ کر سکتے ہیں جو انہیں نقصان پہنچائیں۔ فیس بک پرصارفین کی جانب سے بہت سی ایسی معلومات بھی فراہم کر دی جاتی ہیں جن کی نوعیت نجی ہوتی ہے۔

پرائیویسی سیٹنگ نہ ہونے، غلطی ہونے یا اکاؤنٹ ہیک ہونے کی صورت میں ان تک رسائی آسان ہو جاتی ہے اور پھر بلیک میل کرنے کی کوششیں ہوتی ہیں۔ ایسے کئی واقعات منظر عام پر آ چکے ہیں۔ فیس بک پر معلومات کا ارتکاز ہو چکا ہے یعنی ایک ہی کمپنی کے ہاتھ میں اربوں صارفین کا ڈیٹا ہے۔ فراہم کردہ معلومات کو بڑے پیمانے پر حاصل کر کے انہیں کاروباری اور سیاسی مفادات کے لیے بلا اجازت اور غیر اخلاقی طور پر استعمال کرنے کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ جعلی اور خفیہ اکاؤنٹس کے ذریعے رائے عامہ بدلنے اور ترغیب دینے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔ گزشتہ امریکی صدارتی انتخابات میں کی جانے والی ایسی کوششیں ابھی تک خبروں اور تجزیوں کی زینت ہیں۔ لہٰذا اس کا استعمال مفید تو ہے مگر احتیاط کا متقاضی ہے۔ اسے استعمال کرتے ہوئے اس کے فوائد کو حاصل کیا جاسکتا ہے لیکن ایسا کرتے ہوئے اس کے نقصانات پر نظر رکھنا اور ان سے بچنا بھی ضروری ہے۔

رضوان عطا

World

My Facebook addiction is finally waning

I never thought I would say this, but I think I am finally weaning off my Facebook addiction. And I’m really happy about it.

I’m not scrolling for hours at work when I’m bored or mindlessly sharing unimportant details about my day. 794 more words

Spotify Is Deeply Integrated With Facebook: How Safe is Your Streaming Data? — The Trichordist

Spotify is stalking you (advertising campaign image by Spotify) The public has woken up to the fact that Facebook is a spying and privacy violating machine.

44 more words
Artist News

Art and science of Happiness when it comes to dealing with Mobile Addiction

This answer more or less applies to all forms of addictions related to mobile, internet, Facebook, Instagram, Quora, online gaming or in short any form of technology-related addiction. 860 more words

Addiction

Why I Deleted My Facebook (And Instagram, And Twitter, and Pinterest)

Facebook is a wonderful tool! I know many people who use it well, but I’ve been learning I’m not one of those people!

Facebook (and many other social media) takes up too much of me, and its benefits don’t counteract what it consumes. 420 more words

Writer Life