Tags » Facebook Addiction

کیا فیس بک نے لوگوں کو سماج سے الگ کر دیا ہے ؟

دنیا بھر کے لوگوں کی سب سے زیادہ پسندیدہ سوشل ویب سائٹ فیس بک کے سابق نائب صدر نے پچھتاوے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں افسوس ہے کہ انہوں نے ایک ایسی ویب سائٹ کے لیے مدد فراہم کی، جس نے لوگوں کو سماج سے الگ کر دیا۔ فیس بک کے نائب صدر چماتھ پلیہپیتیا نے اعتراف کیا کہ انہوں نے سوشل ویب سائٹ کے صارفین کی تعداد بڑھانے کے لیے ایسے ٹولز بنائے، جن سے زیادہ سے زیادہ لوگ ویب سائٹ کو استعمال کرنے لگے اور سماج سے بے خبر ہوتے گئے۔ اسٹین فورڈ گریجوئیٹ اسکول آف بزنس میں ایک سیمینار کے دوران گفتگو کرتے ہوئے چماتھ پلیہپیتیا نے فیس بک کے لیے مدد فراہم کرنے پر پچھتاوے کا اظہار کرتے ہوئے اسے اپنی سب سے ہولناک غلطی بھی قرار دیا۔ چماتھ پلیہپیتیا نے کہا کہ ان کا خیال ہے کہ انہوں نے فیس بک صارفین کی تعداد بڑھانے کے لیے ایسے ٹولز ایجاد کیے، جن سے لوگ مصنوعی ہونے سمیت اپنے سماج سے بے خبر ہو گئے۔

سابق نائب صدر نے تسلیم کیا کہ انہوں نے عام عوام کی بہتری، کسی کے ساتھ تعاون اور غلط معلومات کو پھیلنے سے روکنے سے متعلق کوئی کام نہیں کیا۔
ان کے مطابق یہ کہنا غلط ہے کہ روس کی جانب سے دیے گئے اشتہارات کی وجہ سےامریکی انتخابات کے نتائج میں فرق پڑا، بلکہ سوشل سائٹ کا سسٹم ہی ایسا ہے۔ فیس بک کے سابق نائب صدر کا کہنا تھا کہ نہ صرف لوگوں اور ان کے دوستوں بلکہ انہیں بھی سوشل ویب سائٹ استعمال کرتے ہوئے کئی سماجی مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ چماتھ پلیہپیتیا نے مثال دی کہ انہوں نے گزشتہ 7 سال میں صرف 2 پوسٹیں ہی کیں۔

انہوں نے لوگوں کو مشورہ دیا کہ اچھا ہو گا کہ دنیا بھر کے لوگ فیس بک سے چھٹکارہ حاصل کریں۔ خیال رہے کہ چماتھ پلیہپیتیا نے 2007 میں فیس بک کو جوائن کیا تھا، سوشل میڈیا سائٹ کے صارفین میں اضافہ کرنا ان کی بنیادی ذمہ داری تھی۔ انہوں نے 2007 سے 2011 تک فیس بک کے ساتھ کام کیا۔ چماتھ پلیہپیتیا کا بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب کہ 2 ہفتے قبل ہی فیس بک کے سابق صدرسین پارکر نے بھی اعتراف کیا تھا کہ اس ویب سائٹ کے لیے ایسے خاص ذرائع کو اپنایا گیا ہے جو لوگوں کو اپنی ذاتی زندگیاں اس پر نچھاور کرنے کے لیے تیار کرتے ہیں اورانہیں اس کا علم بھی نہیں ہوتا۔

سین پارکر نے 30 نومبر کو اپنے انٹرویو میں مزید کہا تھا کہ سماجی رابطے کی یہ ویب سائٹ دنیا کو دیوانہ بنا رہی ہے اور اسے ممکنہ طور پر لوگوں کی زندگیاں تباہ کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ خیال رہے کہ فیس بک سے متعلق متعدد ایسی تحقیقات بھی سامنے آ چکی ہیں، جن میں ماہرین کی جانب سے بتایا گیا کہ سوشل سائٹ مایوسی اور ڈپریشن کا باعث بنتی ہے۔ امریکا کی ہیوسٹن یونیورسٹی کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ فیس بک کا بہت زیادہ استعمال صارفین کے اندر مایوسی کے جذبات کو بڑھا دیتا ہے کیونکہ وہ اپنے دوستوں کی اچھی پوسٹس پر حسد محسوس کرنے لگتے ہیں۔ امریکا کی مسوری یونیورسٹی کی ایک اور تحقیق کے مطابق فیس بک کا بہت زیادہ استعمال لوگوں کے اندر حسد کا جذبہ پیدا کرنے کا سبب بن سکتا ہے جو تبدیل ہوکر مایوسی میں بدل جاتا ہے۔ لیکن ان تمام باتوں کے باوجود فیس بک صارفین کی تعداد میں اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے۔

World

Facebook Reactivated... Temporarily

I was blissfully enjoying a six month hiatus from Facebook and loving every minute of my detachment from social media. Except for one thing: I sorely missed the support and guidance from a group for mothers of special needs children, support I was not receiving from any other source. 204 more words

Facebook Addicition

Facebook AI to Begin Assessing User Suicide Risk: But Wont Address User Addiction

In an effort to “enhance user security”, the social media giant Facebook will begin using AI to peruse through user content and judge whether users exhibit signs of potential suicide. 340 more words

Surveillance

President Obama's Farewell Address on Social Media's Threat to Democracy

GARCIN: …So this is hell. I’d never have believed it. You remember all we were told about the torture-chambers, the fire and brimstone, the “burning marl.” Old wives’ tales! 684 more words

Artist News

@andreworlowski: Sean Parker: I helped destroy humanity with Facebook Sorry isn't enough, Sean

The billionaire and former Facebook president Sean Parker now says he regrets helping turn the social network into a global phenomenon. The site grew by “exploiting a vulnerability in human psychology” with its greed for attention and the careful reward system it created to keep users addicted.

99 more words
Artist News

فیس بک کی اصل حقیقت سامنے آ گئی ؟

فیس بک کے پہلے صدر نے انکشاف کیا ہے کہ سماجی رابطے کی یہ ویب سائٹ دنیا کو دیوانہ بنا رہی ہے اور اسے ممکنہ طور پر لوگوں کی زندگیاں تباہ کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ سین پارکر فیس بک کے پہلے صدر تھے اور انہوں نے اس سائٹ کو بنانے میں مارک زکربرگ کی مدد کی تھی تاہم وہ یہ حقیقت جان کر دہشت زدہ ہو گئے تھے کہ یہ سوشل میڈیا نیٹ ورک لوگوں کو اپنے اندر مگن رکھنے کے لیے کس طرح کے حربوں کو استعمال کر رہا ہے اور معاشرے کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ انہوں نے ایک انٹرویو کے دوران انکشاف کیا کہ اس ویب سائٹ کے لیے ایسے خاص ذرائع کو اپنایا گیا ہے جو لوگوں کو اپنی ذاتی زندگیاں اس پر نچھاور کرنے کے لیے تیار کرتے ہیں اور انہیں اس کا علم بھی نہیں ہوتا۔

ان کا کہنا تھا کہ کچھ لوگوں نے ہو سکتا ہے کہ اس ویب سائٹ کے سامنے مزاحمت بھی کی ہو مگر اس کے خصوصی طریقے لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول رکھتے ہیں اور ان کے قیام کو یقینی بناتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا ‘ میں ذاتی زندگی کے تعلقات کو اہمیت دیتا ہوں، میں موجود لمحے کو اہمیت دیتا ہوں اور لوگوں کی قربت میرے لیے اہمیت رکھتی ہے’۔ انہوں نے مزید کہا کہ فیس بک کے نتیجے میں بتدریج سب کچھ بدل رہا ہے، یہ معاشرے سے لوگوں کے تعلق کو بدل دے گی اور لوگوں کے ذہن کے کام کرنے کا طریقہ بھی تبدیل ہو جائے گا۔ ان کے بقول ‘ صرف خدا ہی جانتا ہے کہ اس وقت ہمارے بچوں کے دماغوں میں کیا چل رہا ہے’۔

انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ فیس بک لوگوں کو سائٹ کے استعمال کے لیے متعدد فیچرز کو استعمال کرتی ہے جو لوگ روزانہ استعمال کرتے ہیں، ان فیچرز کو تیار کرنے کا مقصد ہی لوگوں کو ایپ کے اندر خوش اور پرجوش رکھنا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جب فیس بک کی تیاری ہو رہی تھی تو اس بات کا خیال رکھا گیا تھا کہ لوگوں کے وقت اور شعوری توجہ کو ہر ممکن حد تک اس کے استعمال کے لیے استعمال کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ فیس بک کا اثر یہ ہے کہ لوگ جتنا وقت اس پر گزاریں گے، اتنا ہی وہ خود کو سماجی طور پر لوگوں سے جڑا ہوا محسوس کریں گے، جس کے نتیجے میں زیادہ وقت یہاں گزاریں گے اور زیادہ سے زیادہ پوسٹس کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اب ٹیکنالوجی کی صنعت کو خیرباد کہہ چکے ہیں اور کینسر کے علاج کے لیے ایک گروپ تشکیل دے کر کام کر رہے ہیں۔

World

@GarettSloane: SEAN PARKER SAYS FACEBOOK WAS DESIGNED TO BE ADDICTIVE

Sean Parker investor: ‘God only knows what Facebook is doing to our children’s brains' https://t.co/WEzOZAkOjx Don't ask God, Facebook knows

— Editor Baker (@MusicTechPolicy) November 10, 2017…

125 more words
Artist News