Tags » Fata

فاٹا میں پولیس اور عدالتی نظام کانفاذ۔۔ ۔ محض کاغذی اقدام نہیں ہونا چاہیے

تحریر:۔۔۔ابو رجا حیدر
وفاقی حکومت نے ملک بھر میں رائج پولیس نظام کا دائرہ کار اپنے زیر انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) میں بڑھاتے ہوئے پولیس ایکٹ 1861 نافذ کر تے ہوئے وہاں لیویز نظام کو پولیس نظام سے بدلنے سمیت فاٹا کے بنیادی عدالتی نظام میں بھی تبدیلیاں کردی ہیں جس کے بعد فاٹا میں وطن عزیز کے دیگرعلاقوں کی طرز کا عدالتی نظام لاگو ہوگا ، صدر مملکت ممنون حسین نے بھی ان اہم تبدیلیوں کی منظوری دےدی ہے جس کے بعد اب فاٹا میں پنجاب، سندھ ، خیبر پختونخوا کی طرز کا پولیس اور عدالتی نظام نافذ ہوگئے ہیں ۔ فاٹا کے لیویز کے دفاتر پولیس سے تبدیل کردیے گئے ہیں اور اب لیویز کمانڈنٹ کے بجائے آئی جی پولیس سربراہ ہوں گے جبکہ نائب تحصیلدار سے کم عہدے کے شخص کو پولیس افسرتعینات نہیں کیا جا سکے گا اور نا ئب تحصیلدار کی جگہ سب انسپکٹر کا عہدہ ہوگا۔ان اہم تبدیلیوں سے متعلق نوٹیفکیشن بھی وزارت سیفران جلد جاری کرے گی۔ 12 ستمبر کو وفاقی کابینہ کے اجلاس میں فاٹا اصلاحات کے حوالے سے اہم پیشرفت ہوئی تھی جس میں حکومت نے ایف سی آر کے خاتمے کےلئے نیا بل لانے کا فیصلہ کیا تھا۔ادھر عالمی بینک نے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے (فاٹا) کے متاثرہ خاندانوں کی مدد اور علاقے میں بحالی کے کاموں کےلئے 11 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کی منظوری دےدی ہے اور اس رقم سے علاقے میں صحت سے متعلق اقدامات کیے جائیں گے جبکہ یہاں ایمرجنسی رسپانس سینٹر کا قیام بھی عمل میں لایا جائے گا۔جو کہ فاٹا کے عوام کیلئے خوش آئند تو ہے لیکن اس ضمن میں انہیں بنیادی تعلیم اور آگاہی دینا انتہائی ضروری امر ہے تاکہ پولیس اور عدالتی نظام کی وہاں کامیابی کو یقینی بنایا جا سکے ۔
گزشتہ دو سال سے فاٹا میں فوجی آپریشنز کے ذریعے دہشتگردوں اور ان کی کمین گاہوں کا خاتمہ اور حکومتی رِٹ بحال کرنے کی سعی کی جارہی تھی جس میں افواج پاکستان کو ایسی نمایاں کامیابیاں ملیں کہ امریکہ بہادر سمیت وطن عزیز کی دیگر دشمن طاقتیں حسد سے جل بھن گئیں اور طرح طرح کے اوچھے ہتھکنڈوں سے دیگر عالمی برادری کو گمراہ کرنے کی مزموم کوششیں شروع کر دیں جو تادم تحریر کسی نہ کسی بےہودہ شکل میں جاری ہیں تاہم بھلا ہو دوست اور غیرجانبدار ممالک کا کہ جو فوری طور پر پاکستان کی حمایت کیلئے میدان عمل میں آ گئے اور پاکستان دشمنوں کو منہ کی کھاناپڑی ۔
انسدادی دہشتگردی آپریشنز کے باعث قبائلی علاقوں سے بڑے پیمانے پر یہاں کے عوام نے نقل مکانی کی تاہم اب یہ علاقہ نقل مکانی کرنےوالوں کی بحالی کے لیے محفوظ ہے، مگر عوامی خدمت کی ترسیل کے اداروں کی بحالی اور ان کی ازسرِ نو تعمیر میں مزید وقت اور محنت درکار ہے۔فاٹا اصلاحاتی کمیٹی نے فاٹا کو آئندہ پانچ سال کےلئے صوبہ خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کی سفارش پیش کی تھی جس کا مقصد علاقے میں بحالی، لوگوں کی رہائش، معاشی و اقتصادی ترقی، مقامی حکومت کا قیام اور پولیس، قانونی اور عدالتی نظام میں اصلاحات لانا ہیں۔
عالمی بینک نے اگست 2015 میں فاٹا سے نقل مکانی کرنےوالے خاندانوں کےلئے 7 کروڑ 5 لاکھ روپے کی منظوری دی تھی جس سے شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان، اورکزئی ایجنسی، کرم ایجنسی اور خیبر ایجنسی کے لوگوں کو فائدہ پہنچا تھا۔جمعہ 22 ستمبر کو ورلڈ بینک کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ اضافی مالی معاونت سے عارضی طور پر نقل مکانی کرنےوالے 3 لاکھ 26 ہزار خاندانوں کی امداد ہوگی، جو اصل پراجیکٹ میں لگائے گئے اندازے سے ایک لاکھ 20 ہزار زائد ہے۔ اس امداد سے فائدہ حاصل کرنےوالے ا±ن خاندانوں کی تعداد بھی 30 ہزار ہے، جس میں 2 سال سے کم عمر بچے موجود ہیں، اس طرح اصل پراجیکٹ میں بچوں کی فلاح و بہبود کے پروگراموں سے فائدہ اٹھانے والے خاندانوں کی تعداد 64 ہزار ہوگئی ہے۔آئی ڈی اے کی اس امداد سے فاٹا کی مختلف ایجنسیوں میں موجود 15 مقامات پر ون اسٹاپ شاپ میں بچوں کی صحت کے حوالے سے مزید اقدامات کیے جائیں۔یوں تو حکومت کے اس ابتدائی بحالی پیکج میں دو کیش گرانٹس موجود ہیں جن میں ہر خاندان کو پہلی گرانٹ میں 35 ہزار روپے دیے جائیں گے جبکہ دوسری گرانٹ میں 16 ہزار روپے 4 ماہ کی اقساط میں دیے جائیں گے۔بچوں کی فلاح و بہبود کے حوالے سے گرانٹ علاقے کے تمام متاثرہ خاندانوں کو 2500 روپے ماہانہ کی بنیاد پر مہیا کی جائے گی، لیکن اس امر کو یقینی بنانا ضروری ہوگا کہ گھروں کو واپس جانےوالے قبائلی عوام بھرپور انداز میں اپنی زندگیاں ازسرِنو شروع کرسکیں۔
جیولوجیکل سیسمک سروے کے مطابق فاٹا کے مختلف علاقوں سے 20 ٹرلین مربع فٹ تک قدرتی گیس کے ذخائر حاصل کیے جاسکتے ہیں۔
اس کام کے آغاز کےلئے فاٹا ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایف ڈی اے) میں یونٹ قائم کردیا گیا ہے، وزارتِ پٹرولیم کی جانب سے مختلف کمپنیوں کو فاٹا کے 15 بلاکس میں تیل اور گیس کی تسخیر کےلئے لائسنس جاری کیے جاچکے ہیں جبکہ تیل اور گیس کی تلاش کا یہ سروے شمالی وزیرستان کے سرحدی علاقے بنوں میں مکمل جبکہ پشاور، کوہاٹ، ڈیرہ اسماعیل خان اور اورکزئی ایجنسی میں سروے کا عمل جاری ہے ،شمالی وزیرستان ایجنسی میں تیل اور گیس کی تلاش کےلئے گریوٹی سروے کا آغاز کیا جاچکا ہے۔
قبائلی علاقوں میں تیل اور گیس کے شعبے کو گیم چینجر سمجھا جاتا ہے اورسروے کی تکمیل کے بعد فاٹا کے مختلف علاقوں میں ڈرلنگ کا آغاز کردیا جائے گا۔ سرمایہ کاروں کو بھی بتایا جاچکا ہے کہ وہ 6 ماہ میں اپنی سرگرمیوں کا آغاز کردیں اور اگر ایسا نہیں ہوتا تو وفاقی وزارت کو انکے لائسنس معطل کرنے کا کہہ دیا جائے گا۔گزشتہ 9 سے 10 ماہ کے عرصے میں 4.5 بلین سرمایہ کاری کےلئے سرمایہ کاروں کی توجہ اس جانب مبذول کرائی جاچکی ہے۔ فاٹا کےلئے تیل اور گیس کمپنی کے قیام کا خیال بھی پیش کیا جاچکا ہے۔گورنر کے پی کے کی جانب سے بھی فاٹا کو پٹرولیم پالیسیوں اور قوانین میں شامل کرنے کےلئے وفاقی حکومت کو سمری روانہ کی جاچکی ہے۔اسی طرح پاک فوج کی مشہور انجینئرنگ کمپنی فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کو شمالی وزیرستان ایجنسی میں تانبے کی کانوں میں کام کا ٹھیکہ دیا جاچکا ہے۔ معاہدے کے تحت اس ذریعے حاصل ہونےوالے ریونیو کا 50 فیصد حصہ ایف ڈبلیو او ، 18 فیصد مقامی قبائل ، 10 فیصد فاٹا ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایف ڈی اے) جبکہ 22 فیصد ریونیو مقامی کارپوریٹ کو جائے گاتاکہ اسے سماجی شعبے میں خرچ کیا جاسکے۔ ایف ڈبلیو او نے اپنے معاہدے کو اپنے ذیلی ادارے ڈی ای ڈبلیو کودیا ہے جس کے تحت وہ شمالی وزیرستان کے محمد خیل علاقے میں تانبے کی کانوں میں کام کریں گے۔ علاقے میں 35 ملین ٹن تانبے کے ذخائر کا اندازہ لگایا گیا تھا جس میں سے 8 ملین ٹن کی موجودگی ثابت ہوچکی ہے۔ فاٹا میں معدنیات کی تسخیر اور تیل اور قدرتی گیس کی پیدوار سے قبائلی عوام کی ہی نہیں ملک کی تقدیر بدلی جا سکتی ہے۔
قبائلی علاقوں میں معدنیات کی بڑی مقدار موجود ہے ،باجوڑ اور فاٹا کے مختلف علاقوں میں بہترین معیار کے ماربل کے کل ذخائر کی تعداد 7 بلین ٹن کے قریب ہے۔ فاٹا سے سالانہ 2 ملین ٹن ماربل برآمد کیا جاتا ہے اور حکومت ماربل کی تلاش کے غیر روایتی طریقوں سے اس معدنی ذخیرہ کو پہنچنے والے نقصان کو ختم کرنے کیلئے بھی حکومت نے حکمت عملی مرتب کرنا شروع کر دی ہے جس کا جلد اطلاق کر دیا جائےگا اور فاٹا اور خیبر پختونخوا میں جاری مائننگ کے شعبے میں غیرروایتی تکنیک کے استعمال پر پابندی عائد کر دی جائےگی کیونکہ ماربل اور کرومائٹ کی کانوں میں بغیر تمیز کے بارود کے استعمال سے 70 سے 80 فیصد ماربل تباہ ہوجاتا ہے۔ معدنیات کا جی ڈی پی کا صرف ایک حصہ ہے اور شعبے میں درست تکنیک کے استعمال سے اسے 20 فیصد تک بڑھایا جاسکتا ہے۔ مائننگ کے شعبے میں تربیت یافتہ وکرز کی کمی ہے، حکومت کو چاہیے کہ وہ مقامی سرمایہ کاروں کو سہولیات فراہم کرے تاکہ وہ بین الاقوامی معیار کی مصنوعات تیار کرسکیں۔تاہم اس تمام تر مثبت اقدامات کے باوجود سینئر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت نے فاٹا میں پولیس اور عدالتی نظام نافذ کرنے کا فیصلہ جلد بازی میں کیا ہے،حالانکہ اس چیز پر غوروخوض کے بعد یہ کام ہونا چاہیے تھاکہ فاٹا میں کوئی پولیس اسٹیشن نہیں ، وہاں پولیس کے رہنے کی جگہ بھی بنانا ہوگی، اتنے بڑے علاقے میں ایک دم اس قسم کافیصلہ کرنا سمجھ سے بالا ترہے، اس کےلئے تیاری بہت ضروری ہے، کاغذپر اس طرح کے فیصلے کرنے سے بدنامی پھیلنے کا شبہ ہے۔

Articles

Miracle in #Miranshah — another step in the right direction

The feel-good factor is certainly there. Pakistan seems to be returning to normalcy and life, which had been so marred since the war of terror took its toll on the nation, is now getting bold enough to lift its head and do the one thing it is meant for: living. 454 more words

Cricket

MOL Pakistan Begins Gravity Survey in FATA’s Tal Block

(Islamabad, Pakistan) – MOL Pakistan has started ‘Gravity Survey’ to assess hydrocarbon deposits in Tal block of North Waziristan Agency (NWA) of Federally Administered Tribal Areas. 231 more words

Pakistan

Fata atinsă de Soare.

De mult apusese. Stele și marea Lună îi luaseră locul și stropeau lumea cu lumina lor.

În fața case mai ardea un foc, viu și vesel. 603 more words

Din Adâncuri