اسلام آباد مجوزہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کے تحت سفید دھن کرنے والوں سے 2 سے 5 فیصد ٹیکس وصول کرنے کی تجویز ہے، کالا دھن سفید کرنے والوں پر اینٹی منی لانڈرنگ ایف آئی اے ایکٹ اور 9 قوانین کا اطلاق نہ کئے جانے کا امکان ہے البتہ انسداد منشیات ایکٹ اور انسداد دہشت گردی قانون سے استثنیٰ نہیں ملے گا۔ مخبر کا نام صیغہ راز میں رکھنے کااصولی فیصلہ کیا جا رہا ہے۔ 2016 میں موجودہ حکومت کے دور میں ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کا ٹریڈرز کیلئے اعلان کیا اور ان کو ایک سے ڈیڑھ فیصد ٹیکس کے ساتھ  سالانہ آمدن ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی سہولت دی تاکہ زیادہ سے زیادہ ٹریڈرز اپنے غیر قانونی مال کو ڈاکومینٹڈ کر سکیں۔

نئی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کا اعلان سپیشل قانون بنا کر یا انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 میں ترمیم کر کے کئے جانے کا امکان ہے سپیشل قانون کے ذریعے ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کے اعلان کیلئے قومی اسمبلی اور سینٹ سے اس مسودہ قانون کی منظوری درکار ہو گی۔ آئین قانون کے تحت دوسرے قوانین سے امیونٹی منی بل کے ذریعے نہیں دی جا سکتی۔ ٹیکس ایمنسٹی سکیم کا قانون جلدی لانے کیلئے صدارتی آرڈیننس جاری ہونے کا امکان ہے۔ ایمنسٹی اسکیم اشخاص اور کمپنیوں کیلئے ہو گی۔ اسکیم کے تحت کالا دھن تین ماہ کے اندر اندر ظاہر کیا جا سکے گا ملک سے باہر پوشیدہ آمدنی اور اثاثہ جات بنک اکائونٹس ظاہر کئے جا سکیں گے۔

ایک ماہ کے اندر کالا دھن ظاہر کرنیوالے سے نصف فیصد اس کے بعد آنے والے مہینوں میں اضافی نصف فیصد ٹیکس دینا ہو گا۔ ملک سے باہر لیکوئیڈ اثاثہ جات ظاہر کرنے پر 5 فیصد ٹیکس دینا ہو گا۔ دوسرے بیرون ملک اثاثہ جات 4 فیصد ٹیکس ادا کر کے ڈیکلیئر کئے جا سکیں گے۔ ڈالر اکائونٹ میں رکھے گئے لیکوئیڈ اثاثہ جات پر 3 فیصد شرح سے بیرون ملک سے لیکوئیڈ اثاثہ جات وطن لانے اور ان کو ان کیش کرنیوالے کو 2 فیصد شرح سے ٹیکس جمع کرانا ہو گا۔