Tags » Friends

I Am Who?

Before I start my rumblings, let me tell you about myself. I know, I know, there is the ‘about me’ menu up there but they’re just vague details. 593 more words

Myself

ناسور

سالوں بعد جب مجھے اپنے دوست سلیم سے ملنے کا اتفاق ہوا تو دن بھر خوب گھومے پھرے۔ سلیم کے ساتھ اس کا ایک دوست بھی تھا جس کا نام شبیر تھا۔ میں اور سلیم ہم عمر تھے۔ ہماری زندگی کی دوسری دھائی کے آخر میں ہندوستان کا بھٹوارا ہو گیا تھا۔ سلیم لوگ پاکستان چلے گئے لیکن ہم لوگ اسی جگہ پر رہ گئے تھے اور وہ جگہ بٹوارے میں بھارتی پنجاب کے حصے میں آئی۔

آج جب زندگی کی پانچویں دھائی میں ہم لوگ مل رہے ہیں تو میں کنسٹرکشن سپلائر کے طور پر شارجہ کی ایک فرم میں کام کرتا ہوں اور سلیم کا ادھر شارجہ میں اپنا فور سٹار ہوٹل ہے۔ سلیم کا دوست شبیر بھی ایک بزنس ٹور پر ادھر آیا ہوا ہے اور اسی کے ہوٹل میں ٹھہرا ہوا ہے۔ یہ لوگ اچانک ادھر ایک ہوٹل کی گیلری میں مجھے مل گئے۔ میں کمپنی کی ایک سالانہ کانفرنس میں شرکت کے لیے ادھر آیا ہوا ہوں۔ کانفرنس ایک ہفتے کے دورانیے کے لیے ہے۔

ملنے کے بعد آج کانفرنس کا تیسرا دن تھا۔ موسم سردی کا تھا اور شام میں یہ لوگ ادھر میرے ہی کمرے میں بیٹھے تھے۔ خوب خوش گپیاں چل رہی تھیں۔ شبیر نے شراب کی ضرورت محسوس کی اور ہچکچاتے ہوئے اس نے سلیم کی طرف دیکھا اور کہنے لگا سلیم بھائی کوئی پانی وانی ملے گا ادھر؟ شبیر کا سوال سن کر جیسے میرے منہ پر بھی ایک الگ سی خوشی کے آثار آگئے۔ مجھے کیونکہ اس بات کا ابھی تک علم نہیں تھا کہ ان دونوں میں سے بھی کوئی ایسا شوق رکھتا ہے یا نہیں۔ کیونکہ میں جس کمپنی میں کام کرتا ہوں وہاں تو جتنے بھی پاکستانی ورکرز دیکھے وہ پانچ وقت کے نمازی اور شراب جیسی چیز کو واقعتا واحیات شے سمجھتے تھے۔ پینا تو بات ہی دور کی ہے۔ شاید یہ لوگ نماز اس لیے پڑھتے تھے کہ کام کے بعد ان کے پاس کرنے کو کچھ نہیں ہوتا تھا یا عادت نما کوئی چیز اور شراب کو تو یہ سمجھتے ہی نجس ہیں اور شاید ٹھیک سمجھتے ہیں۔ میں خوشی اور حیرت کی ملی جلی کیفیت لیے یہ سوچ رہا تھا کہ آخر یہ بندہ کون ہے کہاں سے آیا ہے اور سلیم سے کیا تقاضا کر بیٹھا ہے۔

ابھی اس خوشی و حیرت کی ملی جلی کیفیت سے نکلا نہیں تھا کہ میری نظر یک دم سلیم کے چہرے پر پڑ گئی۔ میں نے اس کے چہرے پر ناگواری پڑھ لی۔ چند لمحات کے توقف کے بعد اس کے مزاج میں عجیب سی تبدیلی آئی اور اس نے جوابا ایک لمبا لیکچر دینا شروع کر دیا۔ لیکن آخر دونوں کی ضد پر اس کا لیکچر کہاں تک کارگر ہوتا۔ آخر اس نے حفظانِ صحت وغیرہ کے لیکچر سے ہار مانی اور پتا نہیں کس کو کال کی۔ اور کچھ بئیر اور وہسکی میرے کمرے میں بھیجنے کو کہا۔ تھوڑی دیر میں ایک جوان لڑکا سا اندر آیا اور خاموشی سے یہ سامان ہمارے ٹیبل پر رکھ کر چلا گیا۔ شبیر نے تو خیر بئیر ہی پی لیکن میں نے وہسکی کے کچھ پیگ لگائے۔ اور پھر ہم رات گئے تک پتا نہیں کیا کیا خرافات بکتے رہے۔ لیکن کیونکہ جوانی سے ہمارا ایک اصوال تھا کہ ہم ایک دوسرے کے مذہب پر بات نہیں کرتے تھے سو آج بھی اِدھر اُدھر کی باتیں ہی ہوئیں الغرض ہم اپنے مشترکہ اصول پر قائم رہے۔

اس دن جب سے شبیر نے شراب کی بات کی تھی  تب ہی میری نظر سلیم کی آنکھوں پر پڑ گئی تھی۔ ابھی یہ بات ذہن سے نکلی ہی نہیں تھی کہ وہسکی کا پہلا پیگ لگا لیا تھا۔ سو میں مسلسل تھوڑی تھوڑی دیر بعد سلیم کی آنکھوں میں جھانک کر دیکھ لیتا۔ خیر جو بھی ہوا اس رات لیکن میں نے سلیم کی آنکھوں میں اپنے اور شبیر کے لیے عزت نامی کوئی چیز نہیں دیکھی۔ اس کے چہرے کے تاثرات بھی یہی کہہ رہے تھے اور تھوڑی تھوڑی دیر بعد اس کی وہ ناگواری جو کہ بعد میں بگڑ کے نفرت کی سی ہوگئی تھی وہ باتوں میں بھی عیاں ہونے لگی تھی۔ سلیم کے لیے بہرحال داد حاضر ہے کیونکہ اس نے بہت کنٹرول کیا۔ آخر وہ ہفتہ بھی گزر گیا۔ سلیم کے ساتھ میری ان دنوں کے بعد بھی ملاقات رہی۔

کھاتا اپنا ہوں، پیتا اپنا ہوں پانی وانی بھی پیوں تو اس کا نقصان نہیں کرتا لیکن اس سب کے باوجود یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ میرے ان کاموں کی وجہ سے سلیم کو یہ ابکائیاں سی کیوں آتی ہیں؟ ۔ میں نے اس کی نظروں میں اپنے لیے کبھی عزت نہیں دیکھی۔ کئی وجوہات کی بنا پر سلیم سے تو قربت مزید بڑھ نہیں سکی جن میں سے ایک وجہ اس کی یہ ابکائیاں بھی ہے۔ ہاں ایک اور تبدیلی بھی دیکھی وہ یہ کہ زمینی فاصلوں کی طرح دلوں میں بھی فاصلے پڑ گئے تھے۔ اس سب کے ساتھ ساتھ وہ دوسرے لڑکے۔۔۔کیا نام تھا اس کا۔۔۔ ہاں ہاں شبیر اس سے اپنائیت سی محسوس ہوتی ہے۔ شاید مشترکہ نفرت جو جھیلتے ہیں۔

میں ویسے تو ہم لوگوں کے اس طرح مل جانے کو معجزے سے کم نہیں سمجھتا۔ لیکن اس معجزے نے میری ڈائری میں صرف چند اوراق کا اضافہ کیا۔ حالانکہ میں بلا ناغہ ایک عمر سے ڈائری لکھ رہا ہوں اور اس معجزے کو ڈائری میں خاصہ اضافہ کرنا چاہیے تھا۔ لیکن اس نے بھی چند ایک اوراق کے اضافہ پر اکتفا کیا ہے اور اس بات کا مجھے افسوس بھی رہتا ہے۔ اب کیا لکھا ہے ان چند صفحات پر یہ تو بتانے سے قاصر ہوں لیکن اس کا مختصر خلاصہ آپ کی خدمت میں خاضر ہے۔

عجیب قحط پڑا ہے اب کے زمین پر سالا جس کو بھی قریب سے دیکھا وہ انسان نہیں نکلتا۔ بس مت پوچھو اکثر تو چتیاک کے چلتے پھرتے ڈھیر ہیں۔ ان کے اندر جھانک کے دیکھنے پر بھی بدبودار گھٹن کے سوا کچھ نہیں ملا۔ سمجھ سے بالاتر یہ بات ہے کہ یہ بوزنے زندہ کیسے ہیں۔ اپنی ہی گھٹن سے مر کیوں نہیں جاتے۔ جانے کیا وجہ ہے کہ اندر سے گلے سڑے ہیں۔ اکثر کا اندرونی تعفن ہر سانس کے ساتھ باہر آرہا ہے۔ دور اور قریب سے یکساں بدصورت۔ یقین کرو اگر ایک ہی وقت پر یہ سارے خود کو جان لیں اور اپنی حالت کو ایک بار اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں تو اجتماعی خودکشی کر لیں۔

ویسے خدا نے بھی بوزنے کو عقل کی پُڑیا تھما کر اور سوچ بچار سے نوازا اور پھر اسے انسان بنا کے خود کو بھی مشکل میں ہی ڈالا ہے۔ شاید ایسا کر کے اس نے اس کائینات کو سجانا چاہا تھا۔ لیکن اس کام کے لیے اس نے جانے کون سے گھٹیا بوزنوں کو چن لیا تھا۔ یا شاید ان کی مٹی میں بہت پہلے کوئی کمی رہ گئی تھی۔ اب ان کی پھیلائی ہوئی گندگی اسے اوپر آسمان سے ہر وقت دیکھنی پڑتی ہے۔ اور پتا نہیں وہ کم و بیش دو سو بوزنوں کی کونسی ناقص العقل جماعت تھی جو سمندر پار کر کے افریقہ سے نکلی اور انسان کے نام پر ساری دنیا میں پھیل گئی۔ اس بوزنے کے بچے کو خدا نے بڑا کیا، دو ٹانگوں پر چلنا سکھایا اور اپنی کائینات کے ماتھے پر ناسور کی صورت سجا دیا۔

HasnainShami

Dribbling Into A Video Game

Two things that I really enjoy are video games and sports (in case you haven’t noticed). So when you put those two things together you get… 522 more words

Friends

Our Forever

“All our dreams can come true, if we have the courage to pursue them.” ~Walt Disney

    

Growing up I was always told to follow my dreams and never lose sight of who I am. 478 more words

Love

House-Hunting in Izmir

21 March 2016

After almost three months of no internet, it was time to find a new apartment. We had done a little searching on Sahbinden.com, a website that is like Turkey’s version of Craigslist, and had come up with some listings that looked promising. 1,550 more words

Food

TESTE: Qual dos 4 tipos de introvertido é você? http://ift.tt/26NQuCz

Psychology

Am I "normal"?

I’ve always been different to others the same age as me. Clubbing never interested me and generally being sociable was an effort. I would rather sit and message my friends than meet up and go out, big groups have always been a no no. 112 more words

Depression