Tags » Ghazal

اگرچہ خوف کے عالم میں خواب ختم ہوا

اگرچہ خوف کے عالم میں خواب ختم ہوا

لگا کہ روح پہ طاری عذاب ختم ہوا

یہ ملنا اور بچھڑنا ہے پانیوں کی طرح

کہ ایک لہر اٹھی نقش آب ختم ہوا

کسی کو پڑھ لیا ایک ہی نشست میں ہم نے

کوئی ضخیم تھا اور باب باب ختم ہوا

اگرچہ مرگ وفا ایک سانحہ  تھا مگر

میں خوش ہوا کہ چلو یہ سراب ختم ہوا

مہک کے ساتھ ہی رنگت بھی اڑ گئی خالد

بچھڑ کے شاخ سے خود بھی گلاب ختم ہوا

(خالد شریف)

Poetry

Ghazal - The most beautiful thing!!

I was just listening to one of my favourite Ghazals and thought of sharing its meaning with the rest of the world. I know there are millions of people who love music and are experts in various genres of it.. 424 more words

Aaj bazaar mein pa-ba joulaan chalo lyrics by faiz ahmad faiz.

Aaj bazaar mein pa-ba joulaan chalo

Chasm-e-nam, jaan-e-shoreedaan qaafi nahin
Tohmat-e-ishq poshidaa qaafi nahin
Aaj bazaar mein pa-ba joulaan chalo

Dast afhsaan chalo, mast-o-raqsaan chalo… 58 more words

Ghazal.

کوئی حسرت بھی نہیں، کوئی تمنا بھی نہیں

کوئی حسرت بھی نہیں، کوئی تمنا بھی نہیں

دل وہ آنسو جو کسی آنکھ سے چھلکا بھی نہیں

روٹھ کر بیٹھ گئی ہمت دشوار پسند

راہ میں اب کوئی جلتا ہوا صحرا بھی نہیں

آگے کچھ لوگ ہمیں دیکھ کے ہنس دیتے تھے

اب یہ عالم ہے کہ کوئی دیکھنے والا بھی نہیں

درد وہ آگ کہ بجھتی نہیں جلتی بھی نہیں

یاد وہ زخم کہ بھرتا نہیں، رستا بھی نہیں

بادباں کھول کے بیٹھے ہیں سفینوں والے

پار اترنے کے لئے ہلکا سا جھونکا بھی نہیں

(احمد راہی)

Poetry

آنکھ برسی ہے ترے نام پہ ساون کی طرح

آنکھ برسی ہے ترے نام پہ ساون کی طرح

جسم سلگا ہے تری یاد میں ایندھن کی طرح

لوریاں دی ہیں کسی قرب کی خواہش نے مجھے

کچھ جوانی کے بھی دن گزرے ہیں بچپن کی طرح

اس بلندی سے مجھے تونے نوازا کیوں تھا

گر کے ٹوٹ گیا کانچ کے برتن کی طرح

مجھ سے ملتے ہوئے یہ بات تو سوچی ہوتی

میں ترے دل میں سما جاؤں گا دھڑکن کی طرح

منتظر ہے کسی مخصوص سی آہٹ کے لئے

زندگی بیٹھی ہے دہلیز پہ برہن کی طرح

(مرتضیٰ برلاس)

Poetry

تضاد جذبات میں یہ نازک مقام آیا تو کیا کروگے

تضاد جذبات میں یہ نازک مقام آیا تو کیا کروگے

میں رورہا ہوں تو ہنس رہے ہو، میں مسکرایا تو کیا کروگے

مجھے تو اس درجہ وقت رخصت سکوں کی تلقین کررہے ہو

مگر کچھ اپنے لئے بھی سوچا، میں یاد آیا تو کیا کروگے

کچھ اپنے دل پر بھی زخم کھاؤ، مرے لہو کی بہار کب تک

مجھے سہارا بنانے والو، میں لڑکھڑایا تو کیا کروگے

اتر تو سکتے ہو یار لیکن مآل پر بھی نگاہ کرلو

خدا نہ کردہ سکون ساحل نہ راس آیا تو کیا کروگے

ابھی تو تنقید ہورہی ہے مرے مذاق جنوں پہ لیکن

تمہاری زلفوں کی برہمی کا سوال آیا تو کیا کروگے

ابھی تو دامن چھڑا رہے ہو، بگڑ کے قابل سے جارہے ہو

مگر کبھی دل کی دھڑکنوں میں شریک پایا تو کیا کروگے

(قابل اجمیری)

Poetry

جی رہا ہوں اس اعتماد کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔ زندگی کو مری ضرورت ہے

تم نہ مانو مگر حقیقت ہے

عشق انسان کی ضرورت ہے

جی رہا ہوں اس اعتماد کے ساتھ

زندگی کو مری ضرورت ہے

حسن ہی حسن جلوے ہی جلوے

صرف احساس کی ضرورت ہے

اس کے وعدے پہ ناز تھے کیا کیا

اب در و بام سے ندامت ہے

اس کی محفل میں بیٹھ کر دیکھو

زندگی کتنی خوبصورت ہے

راستہ کٹ ہی جائے گا قابل

شوق منزل اگر سلامت ہے

(قابل اجمیری)

Poetry