Tags » Ghazal

Ghazal: Bump It

See?
She won’t even give me one day off!

21 May 2015 – Ghazal

Always there’s a line to hump it,
passersby queue up to jump it! 77 more words

Poetry

Ghazal: Garden

okay, I’m STILL off shift until next week, its just this damned Muse won’t let me be…

21 May 2015 – Ghazal

The moon resides in gardens. 79 more words

Poetry

جانِ بہاراں رشکِ چمن غنچہ دہن، سیمیں بدن

جانِ بہاراں

رشکِ چمن

غنچہ دہن، سیمیں بدن

اے جانِ من!

جانِ بہاراں

جنت کی حوریں تجھ پہ فدا

رفتار جیسے موجِ صبا

رنگین ادا توبہ شکن

اے جانِ من!

جانِ بہاراں

شمعِ فروزاں آنکھیں تری

ہر اک نظر میں جادوگری

زلفیں تری مشکِ ختن

اے جانِ من!

جانِ بہاراں

اے ناز پرور، ناز آفریں

لاکھوں حسیں ہیں، تجھ سا نہیں

خندہ جبیں، شیریں سخن

اے جانِ من!

جانِ بہاراں

(تنویر نقوی)

Poetry

#Angels #Weep

Children’s bodies piled as sacks of grain, when angels weep!
Infanticide committed through the reign, when angels weep!

Innocent children treated less than trash, when angels weep! 140 more words

#poetry

Skin

There is a lot hidden, under your skin.
Memories travel unbidden, under your skin.

What countries lie unmapped, unexplored, in wait,
Their languages in riddles, under your skin. 68 more words

Poetry

زندگی کی راہوں میں رنج و غم کے میلے ہیں

زندگی کی راہوں میں رنج و غم کے میلے ہیں

بھیڑ ہے قیامت کی پھر بھی ہم اکیلے ہیں

گیسوؤں کے سائے میں ایک شب گزاری تھی

آج تک جدائی کی دھوپ میں اکیلے ہیں

سازشیں زمانے کی کام کرگئیں آخر

آپ ہیں اُدھر تنہا، ہم اِدھر اکیلے ہیں

کون کس کا ساتھی ہے، ہم تو غم کی منزل ہیں

پہلے بھی اکیلے تھے، آج بھی اکیلے ہیں

اب تو اپنا سایہ بھی کھوگیا اندھیروں میں

آپ سے بچھڑ کے ہم کس قدر اکیلے ہیں

(صبا افغانی)

Poetry

یہ دعا ہے آتشِ عشق میں تو بھی میری طرح جلا کرے

یہ دعا ہے آتشِ عشق میں تو بھی میری طرح جلا کرے

نہ نصیب ہو تجھے ہنسنا، تیرے دل میں درد اٹھا کرے

زلفیں کھولے اور چشم تر، تیرے لب پہ نالۂ سوزگر

تو میری تلاش میں دربدر لئے دل کو اپنے پھرا کرے

تو بھی چوٹ کھائے او بے وفا، آئے دل دکھانے کا پھر مزا

کرے آہ و زاریاں درد، مجھے بے وفا تو کہا کرے

رہے نامراد رقیب تو، نہ خدا دکھائے تجھے خوشیاں

نہ نصیب شربت دل ہو، سدا زہرِ غم تو پیا کرے

تجھے مرض ہو تو ایسا ہو، جو دنیا میں لاعلاج ہو

تیری موت تیرا شباب ہو، تو تڑپ تڑپ کے جیا کرے

تیرے سامنے تیرا گھر جلے، تیرا بس چلے نہ بجھا سکے

تیرے منہ سے نکلے یہی دعا کہ نہ گھر کسی کا جلا کرے

تجھے میرے ہی سے خلش رہے، تجھے میری ہی تپش رہے

جیسے تو نے میرا جلایا دل، ویسے تیرا بھی دل جلا کرے

جو کسی کے دل کو دکھائے گا، وہ ضرر ضرور اٹھائے گا

وہ سزا زمانے سے پائے گا، جو کسی سے مل کر دغا کرے

تیرا شوق مجھ سے ہو پیکرانہ، تیری آرزوئیں بھی ہوں جوان

مگر عین عہدِ بہار میں، لٹے باغ تیرا خدا کرے

خدا کرے آئے وہ بھی دن، تجھے چین آئے نہ مجھ بن

تو گلے ملے، میں پرے ہٹوں، میری منتیں تو کیا کرے

(جگر مراد آبادی)

Poetry