Tags » Ghazal

روٹھا تو شہرِ خواب کو غارت بھی کرگیا

روٹھا تو شہرِ خواب کو غارت بھی کرگیا

پھر مسکرا کے تازہ شرارت بھی کرگیا

شاید اسے عزیز تھیں آنکھیں میری بہت

وہ میرے نام اپنی بصارت بھی کرگیا

منہ زور آندھیوں کی ہتھیلی پہ اک چراغ

پیدا میرے لہو میں حرارت بھی کرگیا

بوسیدہ بادبان کا ٹکڑا ہوا کے ساتھ

طوفاں میں کشتیوں کی سفارش بھی کرگیا

دل کا نگر اجاڑنے والا ہنر شناس

تعمیر حوصلوں کی عمارت بھی کرگیا

سب اہلِ شہر جس پہ اٹھاتے تھے انگلیاں

وہ شہر بھر کو وجہ زیارت بھی کرگیا

محسن یہ دل کہ اس سے بچھڑتا نہ تھا کبھی

آج اس کو بھولنے کی جسارت بھی کرگیا

(محسن نقوی)

Poetry

Chalo koi baat nahin...

Kehtey ho hogi phir mulakaat

Abhi milney ke haalaat nahin

Karni thi tumse ek baat

Per chalo koi baat nahin…

Khafaa ho tum sham se… 40 more words

Poetry

The Ghazal Page Revamped: with 2 Ghazals of Mine + Many More!!

The Ghazal Page, the place to find top-notch poems in the ghazal form, both traditional and experimental, is now live with a brand new issue… 129 more words

Poetry

محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے

محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے

تیری محفل میں لیکن ہم نہ ہوں گے

میں اکثر سوچتا ہوں پھول کب تک

شریک گریۂ شبنم نہ ہوں گے

ذرا دیر آشنا چشم کرم ہے

ستم ہی عشق میں پیہم نہ ہوں گے

دلوں کی الجھنیں بڑھتی رہیں گی

گر کچھ مشورے باہم نہ ہوں گے

زمانے بھر کے غم یا اک تیرا غم

یہ غم ہوگا تو کتنے غم نہ ہوں گے

ہمارے دل میں سیل گریہ ہوگا

اگر بادیدۂ پرنم نہ ہوں گے

اگر تو اتفاقاً مل بھی جائے

تری فرقت کے صدمے کم نہ ہوں گے

حفیظ ان سے میں جتنا بدگماں ہوں

وہ مجھ سے اس قدر برہم نہ ہوں گے

(حفیظ ہوشیار پوری)

Poetry

Addictions...

I have spent my life dealing with addictions. I have been addicted to vices, to people, to places, to events and the repetition thereof. I must confess that I have enjoyed my addictions to the point of excess and personal detriment. 323 more words

Ghazal

Free Water #7 - That's The Stuff

Is it proper etiquette among homo sapiens to admit to “gushing?” Well, proper or no, I am admitting it now. One of my favorite regular poetry readings this month had me gushing with adulation and awe at the obvious erudition in attendance at… 187 more words

Literary Readings

لو آج ہم نے توڑ دیا رشتۂ امید

تنگ آچکے ہیں کشمکش زندگی سے ہم

ٹھکرا نہ دیں جہاں کو کہیں بے دلی سے ہم

مایوسی مآل محبت نہ پوچھئے

اپنوں سے پیش آئے ہیں بیگانگی سے ہم

لو آج ہم نے توڑ دیا رشتۂ امید

لو اب کبھی گلہ نہ کریں گے کسی سے ہم

ابھریں گے ایک بار ابھی دل کے ولولے

گو دب گئے ہیں بارِ غم زندگی سے ہم

گر زندگی میں مل گئے پھر اتفاق سے

پوچھیں گے اپنا حال تری بے بسی سے ہم

اللہ رے قریب مشیت کہ آج تک

دنیا کے ظلم سہتے رہے خامشی سے ہم

(ساحر لدھیانوی)

Poetry