Tags » Good Manners

“Goodness is about character –
integrity, honesty, kindness,
generosity, moral courage, and the like.
More than anything else,
it is about how we treat other people.”

~ Dennis Prager,

Quotes

A True Thank You Note

I love my Southern roots. Everything about them. The food, the hospitality, the magnolia trees, the drawl. All of it. But most especially, the gracious way of living. 681 more words

Life

A classic mess / Un desastre clásico

A park near Oakville, Ontario, Canada (1998). (English text follows below). Casi todas las familias contemporáneas tienen una de estas fotos en la que el muchacho disfruta, sin inhibiciones, de una torta o unos espaguetis. 191 more words

Photography

Resume Mistakes to Avoid

You’ve spent a lot of time on your resume, right? And you’re really proud of it, right?

Then, you surely want to avoid these six careless errors cited by career coach Don Goodman for Careerealism… 70 more words

Tips

حسن اخلاق


اعلیٰ انسانی اخلاق کیا ہیں اور زندگی میں ان کی اہمیت کیا ہے، اس مسئلے پر مختلف علمائے عمرانیات اور دوسرے اہلِ فکر نے بہت کچھ لکھا اور کہا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ زندگی کے بنیادی مسائل میں سے ہے۔ اخلاق کی حیثیت اور اہمیت کو مختصر ترین لفظوں میں یوں بیان کیا جا سکتا ہے کہ اخلاق دراصل زندگی کے طریقے، سلیقے اور قرینے کا نام ہے، اور اس طریقے کا تعین اور اس سلیقے اور قرینے کا حصول ہی دراصل اخلاقیات کا حقیقی موضوع ہے۔ اخلاق دراصل زندگی کے طریقے، سلیقے اور قرینے کا نام ہے اور اسی کی تعلیم و تربیت در حقیقت دین حقیقی کا مقصود ہے، یعنی انسان کو اس کے مقصدِ حیات سے آگاہ کر کے اس کے تقاضوں سے روشناس کرانا، اور ان کی تکمیل کے قابل بنانا۔ چنانچہ ہمارے نزدیک حقیقی اخلاق وہی ہیں جن کی تعلیم و ہدایت ہمیں دین کے واسطے سے حاصل ہوئی ہے۔ ہمیں زندگی کا وہی سلیقہ اور قرینہ مطلوب ہے جو خدا نے اپنے رسول ﷺ کے ذریعے سے ہمیں سکھایا ہے۔ نبی ﷺ نے اپنی بعثت کا مقصد بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ

بُعِثْتُ لِاُتَمِّمَ مَکَارِمَ الْاَخْلَاق۔ یعنی ’’میں مکارمِ اخلاق کی تکمیل کے لئے مبعوث کیا گیا ہوں۔‘‘

دوسری روایت میں حُسْنَ الْاَخْلَاق کے الفاظ آئے ہیں۔

حضرت انسؓ کا بیان ہے کہ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَحْسَنَ النَّاسِ خُلْقًا رسول اللہ ﷺ تمام انسانوں سے اعلیٰ اخلاق رکھتے تھے۔ متفق علیہ

حضور ﷺ کے اخلاقِ حسنہ کے بارے میں قرآن مجید کی شہادت یہ ہے کہ

اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ۔
بے شک آپ اخلاق کے بلند ترین مرتبہ پر فائز ہیں۔

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا گیا کہ وہ کیا چیز ہے جو کثرت سے لوگوں کے جنت میں داخلے کا ذریعہ بنے گی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: تَقوَی اللّٰہِ وَحُسْنُ الْخُلْقِ یعنی خدا خوفی اور حسن خلق۔ پھر عرض کیا گیا کہ وہ کیا چیز ہے جو لوگوں کو کثرت سے جہنم میں لے جانے کا سبب بنے گی۔ فرمایا: اَلْفَمُ وَالْفَرْجُ یعنی منہ اور شرمگاہ.ترمذی

حضرت ابو ہریرہؓ ہی نے حضور کا یہ ارشاد نقل فرمایا ہے کہ

اَکْمَلُ الْمُؤْمِنِیْنَ اِیْمَانًا اَحْسَنُھُمْ خُلُقًا.ترمذی

یعنی ’’مومنوں میں سے زیادہ کامل ایمان والے وہ ہیں جو ان میں سے اخلاق کے اعتبار سے زیادہ بہتر ہیں۔‘‘
مندرجہ بالا ارشادات سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اخلاق کی پاکیزگی اور کردار کیا اچھائی دراصل ایمان کی پختگی اور خدا خوفی کا ثمر ہے اور دراصل دونوں ایک دوسرے کو مستلزم ہیں۔ ایمان کے بغیر اخلاق پاکیزگی کا اور کردار کی اچھائی کے بغیر خدا ترسی اور خدا خوفی کا تصور بے معنی ہے۔ اسی حسنِ خلق کی بدولت مومن کو اطمینانِ قلب کی عظیم نعمت حاصل ہوتی ہے، اور اس کا یہی اطمینانِ قلب اس کو سیرت و کردار کی وہ عظمت عطا کرتا ہے کہ اس کے بعد نفس کی کوئی ترغیب ، شیطان کی کوئی تحریک، دنیا کی کوئی تحریص اور اقتدارِ باطل کی کوئی تخویف اس کو راہِ راست سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔

اخلاق کی اہمیت وفضیلت ارشادات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں۔۔۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ارشادات عالیہ میں بڑے دل نشیں اور مؤثر اسلوب میں اخلاق حسنہ کو اپنانے کی تلقین کی ہے چند احادیث ملاحظہ ہوں۔۔۔

اکمل المؤمنین ایمانا احسنھم خلقا
کامل مومن وہ ہے جس کے اخلاق اچھے ہوں۔۔۔(ابوداؤد ٤٦٨٦، ترمذی ١١٦٢)۔۔۔

ان المؤمن لیدرک بحسن خلقہ درجہ الصائم القائم۔
مومن اپنے حسن اخلاق سے دن میں روزہ رکھنے والے اور رات میں عبادت کرنے والے کا درجہ پالیتا ہے۔(ابوداؤد ٤٧٩٨)۔۔۔

ایک حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن اخلاق کے حامل شخص کی ان الفاظ میں تعریف وتحسین کی ہے۔۔۔
ان من خیارکم احسنکم اخلاقا۔

تم میں بہترین وہ ہے جس کے اخلاق اچھے ہیں (بخاری ٣٥٥٩)۔۔۔

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں حسن اخلاق کو اختیار کرنے کی تلقین فرمائی ہے۔۔۔ وہیں معاملات کو بخوبی انجام دینے پر زور دیا، اچھی صفات سے متصف ہونے کی تاکید کی ہے اور بدخلقی کی مذمت کی ہے اس کے بھیانک اور مہلک نتائج سے خبردار کیا ہے اور بدخلق شخص سے اپنی بیزاری اور ناراضگی کا اظہار فرمایا ہے

معاشراتی زندگی میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ اور مقام ومرتبہ اس حیثیت سے بھی بہت بلند اور ممتاز ہے کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ کا ہر گوشہ اور پہلو مزین، روشن اور تابناک ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ کہا سب سے پہلے خود اس پر عمل کرکے دکھایا۔۔۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جو قول تھا وہی عمل بھی تھا۔۔۔ آپ کی عملی زندگی کے واقعات کے لئے تو تفصیل درکار ہے چند واقعات پیش کرتا ہوں۔۔۔

کفار مکہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین پر ظلم وستم کا کوئی حربہ ایسا نہ تھا جسے نہ آزمایا ہو یہاں تک کے وہ اپنے گھربار اور وطن چھوڑنے پر مجبور ہوگئے تھے جب مکہ فتح ہوا تو اسلام کے یہ بدترین دشمن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تھے وہ مکمل طور پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رحم وکرم پر تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کے منتظر تھے آپ نے پوچھا۔۔۔
تمہیں معلوم ہے کے میں تمہارے ساتھ کیا سلوک کرنے والا ہوں؟؟؟۔۔۔ انہوں نے جواب دیا آپ ہمارے شریف بھائی اور شریف برادر زادے ہیں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔۔۔ آج کے دن تم سے کوئی مواخذہ نہیں جاؤ تم سب آزاد ہو (سیرہ النبی لابن ہشام الجزء ٤ صفحہ ٣٢)۔۔۔

اس بےمثل عفو عام کا نتیجہ یہ ہوا کے تمام اہل مکہ حلقہ بگوش مسلمان ہوگئے اور ایک سال کا عرصہ بھی نہ گذرنے پایا تھا کے پورا مکہ اسلام میں داخل ہوگیا تھا۔۔۔

بیان کی گئی تفصیل سے یہ بخوبی واضح ہوجاتا ہے کے اسلام میں حسن اخلاق کو کتنی اہمیت دی گئی ہے اور اللہ کے رسول کا اسوہ اس معاملے میں کیا رہنمائی کرتا ہے لیکن یہ ایک افسوس ناک حقیقت ہے کے اُمت مسلمہ کا رویہ اسلامی تعلیمات اور اسوہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بالکل مطابقت نہیں رکھتا ان کی اکثریت اخلاق وکردار سے عاری ہے معاملے کی صفائی اور شفافیت، دوسروں کے ساتھ اچھا برتاؤ اعلٰی اخلاق وکردار کا مظاہرہ اور دیگر اخلاق فاضلہ جو کبھی ان کی پہچان ہوا کرتے تھے اب عنقا ہوچکے ہیں اور تمام اخلاقی برائیاں جو دیگر اقوام میں پائی جاتی ہیں وہ اُن میں درآئی ہیں جب تک وہ اپنے اخلاق و کردار کو نہیں سنواریں گے اور ان کی زندگیاں اسلام کی تعلیمات کا عملی نمونہ نہیں پیش کریں گی اس وقت تک اشاعت اسلام کی راہ کی روکاوٹ دور نہیں ہوگی۔۔۔
واللہ اعلم

اُم محمد

Urdu Articles