Tags » Imran Khan

عمران خان کی مقبولیت کیوں بڑه رہی ہے یہ ؛عوام کی محبت نہیں کچه اورهے؛ مصطفی کمال...

کراچی (ویب ڈیسک ) مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ مہاجروں نے عمران خان کی محبت میں نہیں ، ایم کیو ایم سے غصے میں پی ٹی آئی کو ووٹ دیئے ، کہتے ہیں انہوں نے وقت کے فرعونوں کو للکارا ہے۔

مصطفیٰ کمال نے بانی قائد اور سابق گورنر کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ۔ کراچی میں بزنس کمیونٹی سے خطاب میں مصطفیٰ کمال نے متحدہ کو ہدف تنقید بنایا ۔ 22 اگست کے بعد بانی ایم کیو ایم کو ساتھ لیکر چلنا مشکل ہوا تو وضاحتوں پر نوبت آگئی ۔ سربراہ پی ایس پی کا کہنا تھا کراچی تباہ و برباد ہوگیا تو پاکستان آگے نہیں چل سکتا ، ان کا کہنا تھا کہ آج ہمیں کوئی رشوت العباد نہیں کہہ سکتا ۔ مصطفیٰ کمال نے پی ٹی آئی کی کراچی میں مقبولیت کی وجہ بھی بتا دی ۔ مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا عوام کو جوڑنا لیڈروں کا کام ہے فوج یا اسٹیبلیشمنٹ یہ کام نہیں کرسکتی

جے یو آئ (ف) نے ایسا کیا کر دیا کہ عمران خان نے فرقہ واریت کو هوا دینے کا الزام لگا دیا. آپ بهی جا نئے....

اسلام آباد ، بنوں(آئی این پی) پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ جے یو آئی بنوں میں فرقہ واریت کو ہوا دے رہی ہے‘ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو متعصب اقدام کے خلاف کارروائی کرنی چاہئے۔ پیر کو پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر اپنے بیان میں کہا کہ جے یو آئی بنوں میں فرقہ واریت کو ہوا دے رہی یہ وزیراعلیٰ کے پی کے کو متعصب اقدام کے خلاف کارروائی کرنی چاہئے۔

عمران خان دوہری شخصیت کے مالک اورفائدے کیلئے اصولوں پر سمجهوتہ کرنے والے انسان ہیں.پی ٹی آئ کے سابق عُہدِ دار کا بیان....

جسٹس وجیہہ الدین نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے مسائل گھمبیر ہیں۔ پارٹی کے منشور پر عملدرآمد کرنا ہو تو لوگ بھی ایسے چاہیے ہوتے ہیں جو اس منشور سے ٹکراؤنہیں مطابقت رکھتے ہوں لیکن، ان کے بقول، مختلف پارٹیوں سے آنے والوں کی اکثریت ماضی کے آئینے میں اچھے کردار یا اچھی کارکردگی کی حامل نہیں ہے۔

جسٹس وجیہہ نے کہا کہ تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان کے بارے میں ان کا تاثر اچھا تھا جس بنیاد پر وہ پارٹی میں شامل ہوئے لیکن قریب سے دیکھنے پر معلوم ہوا ہے کہ وہ جو حاصل کرنا چاہتے ہیں اس کے لیے کبھی بھی کمپرومائز کر سکتے ہیں اور اصولوں کو بالائے طاق رکھ سکتے ہیں۔

جسٹس وجیہہ الدین تحریک انصاف کے انٹراپارٹی انتخابات میں مبینہ بدنظمی اور دھاندلیوں کی تحقیقات کر نے والے پارٹی ٹربیونل کی نگرانی کر رہے تھے مگر اس ٹریبونل کی سفارشات کے مطابق عمران خان کے قریبی ساتھیوں اور پارٹی میں شامل بڑے ناموں جہانگیر ترین، علیم خان، نادر لغاری اور وزیراعلی خیبرپختونخوا پرویز خٹک کے خلاف کارروائی نہ ہونے پر اختلافات کے بعد وہ ذرائع ابلاغ پر آ کر تنقید کرتے رہے جس کے بعد ان کو عمران خان کی جانب سے شوکاز نوٹس بھی جاری کیا گیا ۔جس پر انہوں نے جواب دینے کے بجائے پارٹی سے استعفی دے دیا۔

عمران خان اور تحریک انصاف کا موقف رہا ہے کہ اگر ان کی پارٹی میں بدعنوان لوگ ہیں تو حکومت وقت کی ذمہ داری ہے کہ ان کا احتساب کرے۔

Farida Jalal Victimized By Another Hoax

Recently Farida Jalal was falsely declared dead through a hoax on social networking site. After which she started getting calls and messages from every nook and cranny, which left the veteran actress amused and annoyed. 120 more words

Actor

عمران خان کی آف دی ریکارڈ گفتگو منظرِعام لانے والی رپورٹر کے خلاف سوشل میڈیا پر کیا گهناونا الزام لگا دیا کہ اسے اپنی جان کے لالے پڑ گے،رپورٹر نے بنی گالا میں عمران خان کے ساته ملاقات کیوں کی، جان کرآپ بهی حیران ره جائیں گے

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) نصرت جاوید اپنے کالم میں لکھتےہیں کہ عورت کے احترام کو یقینی بنانے کے غم میں گھلے ٹی وی سکرینوں پر براجمان سماج سدھارخواتین حضرات کو مگر یاد نہیں رہا کہ عفت رضوی نام کی ایک صحافی خاتون بھی ہیں۔ میں انہیں ذاتی طورپر ہرگز نہیں جانتا۔ سنا ہے سپریم کورٹ کی کارروائی کو رپورٹ کرتی ہیں۔سپریم کورٹ کے بارے میں خبریں دینے والے رپورٹروں نے اپنی ایک تنظیم بھی بنارکھی ہے۔چند روز قبل اس تنظیم نے عمران خان صاحب سے بنی گالہ میں تفصیلی گفتگو کا وقت مانگا تھا۔ نظر ریکارڈ‘‘ تھی۔اس خاتون نے مگر اپنے سمارٹ فون کے ذریعے عمران خان صاحب کی جانب سے ادا کردہ ’’پھٹیچر‘‘ اور ’’ریلوکٹے‘‘والے الفاظ ریکارڈ کرلئے۔ بعدازاں ان کلمات کو محترمہ نے ایک ٹویٹ کے ذریعے دنیا کے سامنے رکھ دیا۔دہائی مچ گئی۔عمران خان صاحب کی ان الفاظ کی وجہ سے مذمت شروع ہوئی تو وہ ہرگز معذرت خواہ نظر نہ آئے۔ انہوں نے ایمانداری کے ساتھ اپنے ادا کردہ الفاظ کے استعمال کا دفاع کیا۔سپریم کورٹ کے رپورٹروں کی تنظیم نے اس کے باوجود اپنی ساتھی خاتون کی ایک باقاعدہ پریس ریلیز کے ذریعے مذمت کرنا ضروری سمجھا۔ ہم صحافیوں کا گروہ جب کسی شخصیت سے ’’آف دی ریکارڈ‘‘ گفتگو کے لئے ملاقات کرے تو اس ملاقات میں ہوئی گفتگو کو منظرِ عام پر لانا غیر معیوب سمجھا جاتا ہے۔ سپریم کورٹ کے رپورٹروں نے اسی اصول کا اطلاق کیا۔ اپنی ہی برادری کی جانب سے ہوئی مذمت مجھ ایسے صحافیوں کے لئے کسی زمانے میں ایک کڑی سزا سمجھی جاتی تھی۔زمانہ مگر اب بدل چکا ہے۔مذمت کافی نہیں سمجھی جاتی۔ہم غلطیوں کا ارتکاب کرنے والوں کو عبرت کا نشان بنانے پر بضد ہوچکے ہیں۔عمران خان کے ادا کردہ الفاظ کو برسرِ عام لانے والی خاتون رپورٹر کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ سوشل میڈیا پر اس کی بہت بھداڑائی گئی۔اس بھد سے بھی کچھ لوگوں کی مگر تسلی نہ ہوئی۔ فیس بک پر بالآخر ایک تصویر پھیلادی گئی۔اس کے ذریعے پیغام یہ دیا گیا کہ مذکورہ خاتون نے ایک غیر مسلمامریکی سے شادی کررکھی ہے اور اس کے شوہر کا تعلق مبینہ طورپر بدبختوں کے اس گروہ سے ہے جو ’’بھینسا‘‘جیسے ناموں سے ہمارے مذہبی شعائر اور مقدس ہستیوں کو انٹرنیٹ پر تضحیک کا نشانہ بناتا رہتا ہے۔مذکورہ خاتون جس کی شادی درحقیقت ایک پاکستانی مسلمان سے ہوئی ہے اپنی جان بچانے کے خوف میں مبتلا ہو گئی۔ گزشتہ جمعرات کا پورا دن اس نے نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے صدرشکیل انجم کے دفتر میں روتے ہوئےصرف کیا۔ شکیل نے گھبرا کر اس کی مدد کے لئے صحافیوں کی یونین سے رابطہ کیا۔ افضل بٹ اس تنظیم کے اہم رہ نما ہیں۔بالآخر شکیل انجم اور افضل بٹ کی کاوشوں سے مذکورہ خاتون اپنے خاوند سمیت بنی گالہ میں عمران خان صاحب کے روبرو حاضر ہوگئی۔ عمران خان صاحب نے مسکراتے ہوئے دریادلی کے ساتھ اسے معاف کردیا۔ اس کے ساتھ ایک تصویر بھی کچھوائی۔ وہ تصویر سوشل میڈیا پر آئی تو مذکورہ خاتون کے خلافسنگین الزامات کا طوفان بھی رک گیا۔ مجھے یہ پیغام مل گیا کہ عمران خان صاحب کی ذات اور سیاست پر تنقیدی کلمات لکھنے یا بولنے سے پہلے اس حقیقت کو مدنظر رکھوں کہ موصوف کی ’’توہین‘‘ دینی شعائر اور مقدس ہستیوں کا مذاق اڑانے والے گروہ کا رکن بنادے گی۔عورتوں کے احترام کو یقینی بنانے کے غم میں مبتلا میرے سماج سدھار ساتھیوں نے مگر اس پہلو کو کمال فیاضی سے نظرانداز کرتے ہوئے اپنی پوری توجہ جاوید لطیف کا سماجی بائیکاٹ کرنے پر مبذول رکھی ہوئی ہے۔ب