Tags » Imran Khan

Zardari's "aw-position"

There once was a time when Pakistan’s parliament had an opposition and an opposition leader. The prime objective of the opposition would be to criticize the government where it erred, suggest better substitute polices, measures and laws. 783 more words

Blogs

Reham and Raessani, a tale of degrees

Dear Diary,

The Pakistani social media are again buzzing with a sensational news of our nation’s sweethearts, IK and Reham Khan. Only this time, that the news is about  Reham Khan’s education (see links below). 933 more words

Imran Khan

PTI chief still supports talks with TTP!

Imran Khan has restated his stance to initiate negotiations with Tehreek-e-Taliban Pakistan(TTP).

While speaking to Media after meeting members of Army Public School (APS) Shuhada Forum, Imran Khan said that if the USA can negotiate with the Afghan Taliban, then Afghanistan and Pakistan should also negotiate with TTP. 61 more words

National

Sham politics in Pakistan

This poor nation danced for 126 days ,as their beloved lunatic khan spent 140 million rs to entertain them.Ladies and Gentlemen is this justified by any means? 87 more words

Politics

عمران خان کی شخصیت کا ایک انتہائی مثبت اور ایک انتہائی منفی پہلو

تحریر: ماجد صدیقی

 

جناب عمران خان کی شخصیت کے دو پہلو بڑے اہم ہیں۔ ایک تو مثبت نوعیت کاہے کہ ان پر کسی قسم کی مالی کرپشن کے ارتکاب کا کوئی الزام ابھی تک عائد نہیں ہوسکا۔ پاکستان جیسے ملک میں ، جہاں خواص اور اثر رسوخ رکھنے والوں کو تو چھوڑیں ، اب تو عام آدمی بھی کسی نہ کسی نوعیت کی مالی جرم میں مبتلا نظرآتا ہے، وہاں اس طرح کی خصوصیت رکھنے والے انسان کو ایسے ہی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ ان کی اس خصوصیت کی وجہ سے وہ آج ملک کے عوام کی نظر میں ممتاز مقام رکھتے ہیں، خاص طو ر پر نوجوانوں کی نگاہ میں تو وہ ان حالات میں پاکستان کے لئے رحمت کا فرشتہ ہیں مگرخانصاحب کے نقاد کہتے ہیں کہ چونکہ وہ ابھی تک کسی مسند پر نہیں بیٹھے ، اس لئے فی الحال کسی حتمی رائے سے گریز کیا جانا چاہئے۔ ان کا اس سلسلے میں مزیدکہنا ہے کہ عمران کا اصل امتحان تو تب ہوگا جب وہ کسی اہم کرسی پر براجمان ہونگیں اور پھر آخری رائے ان کے اقدامات اور عمل دیکھ کرہی قائم کی جانی چاہیے۔ 

 

عمران خان اپنے کرکٹ کیریئر کے دوران بھی کسی مالی جرم میں مبتلا نہیں رہے۔ ہاں ان پر اس دوران کچھ دوسری نوعیت کے الزامات ضرور عائدکئے گئے، جیسے کہ وہ ٹیم سلیکشن کے دوران اپنی پسند نا پسند مسلط کرتے تھے اور کئی بار میرٹ سے منہ موڑ کر اپنی منوانے پر تلے رہتے تھے اور نہ ماننے کی شکل میں ٹیم سے علحدہ ہونے کی دھمکیاں دیتے رہتے تھے۔ ظاہر ہے سلیکشن کمیٹی ان کی علحدگی افورڈ نہیں کرسکتی تھی، اسلئے ان کی ہر بات ماننا مجبور ی ہوتی تھی۔ کچھ لوگوں کا خیا ل ہے کہ وہ ٹیم میں پنجاب یا پھرپٹھا ن اوریجن سے تعلق رکھنے والے لڑکوں کو زیادہ اہمیت دیتے تھے ، اور ینگ ٹیلینٹ ہنٹ کے لئے اپنے صوبے سے اکثر باہر ہی نہیں جاتے تھے۔ اسلئے ٹیم میں اکثریت پنجاب سے تعلق رکھنے والے کھلاڑیوں کی رہی یا پٹھان لڑکوں کی۔ ان پر ایک الزا م یہ بھی ہے کہ وہ ٹیم میں اکثر اپنی لابی بناکر چلتے تھے اور ان کی لابی میں اکثر لڑکے پنجاب سے تعلق رکھنے والے ہی ہوتے تھے۔ ان پر کرکٹ کے پس منظر میں دبے الفاظ میں پنجاب یا پٹھان پرستی کا الزام بھی عائد کیا جاتا رہاہے۔ ان پر سندھی اور بلوچ لڑکوں کو کرکٹ سے خارج کرنے کا سنگین الزام بھی بارہا لگایا جاتا رہا ہے۔تاہم ان تمام الزامات کے باوجود ان کے پورے کیریئر میں کسی بھی جانب سے مالی کرپشن کا کوئی بھی الزام نہ ان کے ساتھ کھیلنے والوں نے کبھی لگا یا اور نہ ہی اس کے مخالفین نے۔سو یہ میری نظر میں پاکستان کے مخصوص حالات میں ان کی شخصیت کا انتہائی مثبت پہلو ہے۔(خانصاحب کی سیاسی تنظیم پی ٹی آئی پر بھی اس طرح کا ایک الزا م عائد ہوتا ہے کہ وہ اپنی جماعت میں بھی پنجاب اور کے پی سے تعلق رکھنے والے افراد کو آگے رکھتے ہیں۔ ان کی تنظیم کے اہم ارکان میں کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک آدھ رہنما کو چھوڑ کر اکثریت پنجاب یا پھر کے پی سے تعلق رکھنے والوں کی ہے، ان کی سیاسی تنظیم میں بھی سندھی اور بلوچ بیک سیٹس پر بیٹھے نظر آتے ہیں، اب یہ سب کچھ غیر ارادی طور پر ہے یا اس کے پیچھے کوئی سوچ کارفرما ہے، اس کا جواب تو پی ٹی آئی کو

کسی فورم پر دیکر اس سے جان چھڑانی چاہیے)۔

عمران خان کی شخصیت کا دوسرا اہم پہلو منفی نوعیت کا ہے۔ جب سے انہوں نے سیاست شروع کی ہے ، یہ دیکھا گیا ہے کہ وہ اپنے آرگیومینٹ کو مینٹین نہیں کرتے ، بلکہ اکثر اوقات وہ اپنے کہے سے پھرنے میں دیر نہیں لگاتے۔ اس کی تازہ ترین مثال تو پینتیس پنکچرز والا وہ بیان ہے۔ جس بات پر انہوں نے ڈھول پیٹ پیٹ کر پھاڑ دیئے تھے لیکن اسے اچانک ایک دن سیاسی بیان کہتے ہوئے فرما یا گیا کہ نہ تو پینتیس پنکچرز والی بات درست ہے اور نہ ہی اس سے منسلک ٹیپ والا ذکر۔ ہوا کچھ یوں کہ ان کے وکیل جناب شریف الدین پیرزادہ صاحب جب الزامات لیکر عدالت پہنچے تو ججز نے ان سے پینتیس پنکچرزاو ر اس سے منسلک ٹیپ کے بارے میں پوچھا۔ پیرزادہ صاحب نے پارٹی سے جب الزامات کے ثبوت مانگے، تاکہ وہ عدالت میں انہیں پیش کرسکیں،تب پتہ چلا کہ جناب ا ن الزامات کا نہ سر تھا نہ پیر۔ تب بڑے میاں ان پر پھٹ پڑے اور انہیں قانونی اور سیاسی طور پر ان الزامات سے علحدہ ہونے کا مشورہ دیا۔ میڈیا پر چلنے والی چہ میگوئیوں نے آخر کار بات کا بھانڈہ پھوڑا اور پی ٹی آئی کی شرمندہ قیادت ابھی تک اسے جسٹیفائی کرتے اور جان چھڑاتے ہوئے نظر آتی ہے۔

اب ایک اور تازہ بات ملاحظہ فرمائیے۔ گذشتہ ہفتے جیو کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں جناب عمران خان کا خصوصی انٹرویو نشر ہوا۔ اس انٹرویو کے آخر میں حامد میر نے ان سے پوچھا کہ جس اسیمبلی کو وہ گذشتہ نو ماہ میں جعلی، نقلی اور دھاندلی زدہ کہتے رہے ،کیا وہ خود اور ان کے ایم این ایز وہاں سے اس دورانیے کی تنخواہ وصول کرینگے، جس کے جواب میں عمران خان صاحب ایک لمحہ خاموش رہے اور پھر کہنے لگے کہ انہیں اور ان کے پارٹی کے ایم این ایز کو اصولی طور پر یہ تنخواہ نہیں لینی چاہئے۔ حامد میر نے اپنی مخصوص مسکراہٹ کے ساتھ سوال کو بڑے معنیٰ خیز انداز میں دہرایا مگر خانصاحب نے اس بار بھی کوئی واضح جواب نہ دیا۔جس پر حامد میر نے اپنے سوال کو تیسری بار تیر کی طرح پھینکا اور لہجے سے صاف واضح تھا کہ وہ اس بار جواب لئے بغیر جان چھوڑنے والے نہیں۔ لہجے کی سختی کو دیکھتے ہوئے خانصاحب نے اب کی بار اپنے پہلے جواب سے ہٹتے ہوئے جواب دیا کہ اگر انہوں نے یہ تنخواہ وصول کی بھی تو وہ شوکت خانم کو عطیہ کے طور پر دے دی جائے گی۔ جس پر حامد میر نے فاتحانہ انداز والے قہقہے کے ساتھ عمران خان سے ہاتھ ملاتے ہوئے پروگرام کے اختتام کا اعلان کیا۔آنے والے دنوں میں اخبار میں یہ خبر پڑہنے کو ملی کہ تحریک انصاف کے ایم این ایز نے اپنی تنخواہیں وصول کرلیں ہیں۔ ظاہر ہے عمران خان کے مطابق وہ تنخواہیں شوکت خانم ٹرسٹ کو عطیے کو طور پر دینا تھیں۔ مگر شاید ایسا نہ ہوسکا اوراب یہ خبر سننے میں آئی ہے کہ عمران خان نے اپنے تمام میمبران کو اسیمبلی میں غیر حاضر رہنے والے مہینوں کی تنخواہ واپس کرنے کا حکم جاری کردیا ہے۔ ویری گڈ مگر اتنی چھوٹی سی بات پر اتنی دیر تک غیر مبہم رہنا اور بار بار اپنی باتوں اور عمل کو تبدیل کرنا ان کی سیاست اور فیصلہ سازی کی کمزوری کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ عمران خان صاحب کو عوام کی اکثریت ملک کے لئے ایک امنگ اور امید تصور کرتی ہے۔ وہ نواز شریف، زرداری، الطاف حسین، مولانا فضل، مولانا سراج اور دوسرے سیاستدانوں کی روایتی سیاست سے عاجز آئے ہوئے ہیں اور عمران خان کو اس ملک کی آخری امیدتصور کرتے ہیں۔مگر عمران خان کی اس طرح کی کنفیوزڈ سیاست ان کی امیدوں کودریا برد کرسکتی ہے۔ تحریک انصاف کی سیاسی ناکامی انہیں مایوسی اور یاسیت کے گہرے سمندر میں ڈبوسکتی ہے۔جو اس ملک کے حق میں ہے نہ عوام کے۔ عمران خان اور اس کی جماعت کو روایتی سیاست کے چنگل سے ٓآزاد ہوکر صاف ستھری سیاست کرنی چاہئے ۔ ان کے لئے پنجابی ، پٹھان دوستی اور سندہ اور بلوچستان دشمنی کا لیبل بھی خطرناک ہے، گو وہ الزام ابھی تک سیاست کے تناظر میں کم اور کرکٹ کے تناظر میں زیادہ ہے مگر اس طرح کے الزامات کبھی بھی سیاسی رنگ لیکر عمران خان اور اس کی سیاست کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ اس سے پہلے پی ٹی آئی کوچاہئے کہ اپنی صفوں میں سندہ اور بلوچستا ن سے تعلق رکھنے والے افراد کو پہلی نشستوں پر بٹھاکر اس اشو کو دفن کرنے کی کوشش کرے۔

 

ٓآخر میں:

عمران خان صاحب کی جانب سے اپنے ایک صوبائی وزیر کو غیر قانونی کارروایوں پر قانون کے سامنے پیش کرنے والا عمل خوش آئند ہے۔ ہمارے یہاں اپنوں کے ہر جرم کو معاف کرنے کی ایک لمبی تاریخ ہے۔ اس طرح کے اقدامات غیر روایتی ہیں اور خوش آئند بھی۔ عمران خان کے اس عمل سے ان کی شفافیت اور کرپشن کے لئے زیرو ٹالرنس والے تصور کو عوام میں اور بھی تقویت ملے گے۔ جو عمران خان، اسکی جماعت اور اس کی مستقبل کی سیاست کے لئے عالیشان ثابت ہوسکتی ہے۔ 

Pakistan

Younis & Pakistan creates history as Pakistan chase down 6th highest total in Test Cricket's History in 4th Inning - Pak vs Srilanka - 3rd Test- 2015

After both teams winning test match each convincingly, teams geared up for the final & deciding test at Pallekele International Cricket stadium, Srilanka. Pakistan’s Misbah ul Haq won the toss & decides to bowl to utilize some initial help for the bowlers. 722 more words

Cricket

More records by Imran Khan (Jr)

Imran Khan (junior), a Pathan like his better-known namesake, already has a couple of interesting Test records in his name.

http://www.espncricinfo.com/ci/content/player/316363.html

One, he joins the select group of only 5 players with 5 or more Tests whose team won every Test he played in. 187 more words

Cricket