Tags » International Events

SIGGRAPH 2018 (12 August – 16 August 2018)

SIGGRAPH 2018
12 August – 16 August 2018

45th International Conference on Computer Graphics and Interactive Techniques
Vancouver, Canada

SIGGRAPH 2018 is a five-day immersion into the latest innovations in CG, Animation, VR, Games, Digital Art, Mixed Reality and Emerging Technologies. 15 more words

International Events

پاکستانی فٹ بال کی جنگ

#RK_Mirza

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پانچ بار فیفاورلڈکپ جیتنے والی چیمپئن ٹیم برازیل اب ورلڈ کپ سے باہر ہو گئی ہے۔ 1986 کے بعد یہ پہلی مرتبہ  ہے کہ برازیل سیمی فائنل میں نہیں پہنچ سکا۔

فیفا ورلڈ کپ 2018 کے دوسرے کوارٹر فائنل میں بیلجیئم نے برازیل کو ایک کے مقابلے میں دو گول سے ہرا کر سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا ہے۔ سیمی فائنل میں بیلجیئم کا مقابلہ فرانس سے ہو گا۔اس سے قبل پہلے کوارٹر فائنل میں فرانس نے یوراگوئے کو دو صفر سے شکست دے کر سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کیا ۔

پاکستان سمیت دنیا بھر  کے لوگوں کو  فٹ بال فیور ہوگیا ہے ۔ایک  دوسرے پر بازی  لے جانے کے لیے ہر ٹیم سرتوڑ کوششیں کررہی  ہے ، بڑے اپ سیٹس نے مقابلوں  کو چار چاند لگادئیے ہیں ۔سنسنی خیز جیت ہار کے  درمیان   کئی شکستہ دل جان کی بازی بھی  ہار گئے  تو کئی پھولے نہیں سمارہے ،، فٹ بال میں  بڑےبڑے برج الٹنے سے کئی معروف کمپنیو ں کےدیوالیے کاخطرہ ہے ۔۔

ایک طرف پاکستانی فٹ بال سے مقابلے ہورہےہیں۔۔ تو دوسری طرف  پاکستان کے الیکشن میں عوام فٹ بال بنے ہوئے ہیں ۔۔فیفا ورلڈکپ میں پاکستان کی تیار کردہ فٹ بال استعمال کی جارہی ہے، ایک میچ کا ٹاس بھی پاکستانی نوجوان سے کرایاگیا۔ لیکن پاکستان میں نہ تو عوام کی قدر ہے نہ ہی ملکی   مصنوعات کی ۔۔

فٹ بال ورلڈ کپ کے24 سال میں پہلی بارسویڈن کوارٹر فائنل میں پہنچا ہے ۔ جاپان  کا فٹ بال  ورلڈ کپ کاسفر بیلجیئم کے ہاتھوں تمام ہوا، لیکن انہوں نےصفائی کی اعلی ٰ مثال اور  تاریخ رقم کردی ،،

فٹ بال ورلڈ کپ کی فیورٹ ٹیموں میں سے ایک، اسٹار فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو کی ٹیم پرتگال ناک آؤٹ مرحلے میں ہی مقابلے سے باہر ہوگئی۔ پہلے ناک آؤٹ میچ میں فرانس نے لائنل میسی کی ارجنٹائن کو 3-4 سے شکست دے کر انہیں گھر کی راہ دکھادی تھی ۔انگلینڈ کی  پاناما کے خلاف سب سے بڑے مارجن سے فتح بھی فٹ بال ورلڈ کپ میں یاد رکھی جائے گی ۔۔میسی اور رونالڈو تو کھیل سےآؤٹ ہو گئے لیکن  نائیکی اور ایڈیڈاس کو اپنے اپنے سپانسرڈ کھلاڑیوں سے خاصی امیدیں ہیں۔

فٹ بال ورلڈکپ کا جنون اتنا ہے کہ  پاکستانی عوام کوکچھ اور نظر  ہی نہیں  آرہا۔۔حالانکہ پاکستان میں آج کل سیاستدان بھی فٹ بال بنے ہوئے ہیں۔ انتخابات کا موسم آتے ہی مفادات کی خاطر وہ کبھی ایک پارٹی میں تو کبھی دوسرے میں جارہے ہیں ۔انہوں نے اپنے ساتھ عوام کو  بھی فٹ بال بنادیا ہے ۔ شخصیت پرستی میں اندھے عوام نظرئیے ، ضروریات اور مفادات کو بھول کر بھیڑ بکریوں کاریوڑ بن گئے ہیں، جہاں ہانک دیاوہاں چل دئیے،  کبھی ایک طرف لڑھک جاتے ہیں تو کبھی دوسری طرف ، کک لگنے پر کبھی ضمیر جاگتا ہے تو کبھی گول ہو جاتا ہے اور کبھی ریڈ کارڈ دکھا کر گیم سے آؤٹ کردیاجا تا ہے ۔۔

سچ پوچھئے تو ’دو ٹکے کے پاکستانی عوام‘ وہ فٹ بال بن چکے ہیں، جسے ہر کوئی ٹھوکریں مار رہا ہے۔’’ووٹ کو عزت دو‘‘ یاووٹر کو عزت دو۔۔کانعرہ بھی سیاستدانوں کے کھیل کا حصہ ہے۔

لیاری کو کراچی کے’سب سے خطرناک علاقے‘  کے بجائے ’منی برازیل ‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

جہاں  جرائم پیشہ افراد مخالفین کے سُروں سے فٹ بال کھیلتے ہوئے بھی پائے گئے۔۔ارشد پپو اور عزیر بلوچ  کی ویڈیو خوب وائرل ہوئی اور وہاں آپریشن کرنا پڑا۔۔ ماضی میں لیاری کے حوالے سے پیپلز پارٹی کی مقامی قیادت کی ’غلط پالیسیوں اور گینگ وار کی سر پرستی‘ کا خمیازہ بلاول بھٹو زرداری کو بھگتنا پڑرہا ہے ۔پیپلز پارٹی نے بلاول بھٹو کی انتخابی زندگی کے آغاز کے لیے اپنے سب سے مضبوط حلقوں لاڑکانہ اور لیاری کو ہی  چُنا۔ لیکن ۔بلااجازت بنابتائے لیاری پہنچنے پر بلاول کی ریلی کا پتھروں اور ٹماٹروں سے استقبال کیاگیا۔۔

لیاری وہ واحد جگہ ہے جہاں کھیل کے لیے عوام  کا جذبہ ہر چیز پر سبقت لے جاتا ہے، پھر چاہے یہ سبقت یہاں کے عوام کی سیاسی وابستگی ہی کیوں نہ ہو۔عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان ہونے کے باوجود لیاری والوں نے اس بار فیفا ورلڈ کپ کو ترجیح دی ہے ۔۔جہاں جگہ جگہ ورلڈ کپ میں شامل ملکوں اور ان کے کھلاڑیوں کی تصاو یر موجود ہیں ۔جنھیں دیکھ کر یہ تاثر مل رہا ہے جیسے انتخابات میں بلاول بھٹو زرداری  اور حلقے کے تمام امیدواروں کا مقابلہ برازیل اور دیگر فٹ بال ٹیموں  سے ہورہا ہے ۔

انتخابات میں کچھ ہی روز رہ گئے ہیں لیکن لیاری میں  سیاسی جماعتوں کے جھنڈے اور نمائندوں  کے جلسے اور تصاویر ندارد۔15جولائی کو  فٹ بال ورلڈ کپ فائنل کے بعد ہی شاید  لیاری میں انتخابی مہم کا  ہاف شروع ہوسکے۔ ۔

نئے لیگی صدر نے بھی اپنے انتخابی میچ کا آغاز کراچی سے کیا،، دیگر ٹیموں نے انہیں کھیلنے کیلئے کھلا میدان فراہم کیا۔لیکن ایک غلطی کی تصحیح اور پان کے معاملے پر پکڑ ہوگئی اور ایسی لے دے ہوئی کہ ان کی انتخابی فٹ بال سے ہوا ہی نکل گئی ۔۔ 30 برس سے کراچی پر حکومت کرنے والی جماعت تقسیم در تقسیم ہوگئی ۔ رفاقتیں ، عداوتیں اور فوری ردعمل  میں ایک دوسرے کے خلاف بڑھ چڑھ کر بولنے پر عوام کا اس ٹیم سے اعتماد اٹھ گیا، کس پر یقین کریں ؟کون سچا ہے کراچی والے تو اسی شش وپنچ میں ہیں  ،، اور تقسیم ہوئی متحدہ کی ٹیم اس سوچ میں کہ گول  پوسٹ پر کس کو کھڑا کریں ، گول کرنے کے لیے کون سے کھلاڑیوں کو آگے کرنا ہے ؟ ٹیم کی شرٹس کیسی ہوں گی ؟ جیت پر کون سا جھنڈ الہرایا جائے گا؟

انتخابات  میں کس کو اکثریت ملے گی عوامی ردعمل کے بعد اس کافیصلہ کٹھن ہوتاجارہا ہے ، اس لیے دیرینہ  اور سخت مخالف ٹیموں   نے مفادات کے لیے ہاتھ ملانے کا فیصلہ کرلیا ہے ۔اسی  عوامی ردعمل نےصاف چلی  شفاف چلی کو جگہ بنانے  نہ دی ۔۔گول کے بارے میں سوچنے اور بات کرنےسے قبل ہی کپتان کو کراچی چھوڑ کر جانے پرمجبور کردیا گیا۔ ملک کے دیگر شہروں اور علاقوں کا بھی یہی حال ہے ۔ انتخابی امیدواروں کو عوام کے سخت سوالوں کا جواب اور غصہ مل رہا ہے ۔۔ عوام کہتے ہیں ووٹ کا سوال اب بعد میں ۔۔

عوام کسی بھی جماعت یا امیدوار  کے لیے فٹ بال بننا نہیں چاہتے ، لیکن ان کے سامنے ساڑھے 12 ہزارامیدوار ہونے کے باوجود بھی کوئی چوائس نہیں ۔

روس میں فیفا ورلڈ کپ ہوگا کس کے نام ، اس کا فیصلہ ہے قدرے آسان ۔۔

لیکن پاکستان  میں   ہونے والے انتخابی میچ  میں اس بار کیا جیت ہوگی خواجہ سرا ؤں کی  ۔۔؟

کیااس بار کوئی ’’مخلوط‘‘ مخلوق حکمران ہوگایا ہوگی؟

Miscellaneous

گھلنے لگے زباں  پہ مزے چاکلیٹ کے

#RK_Mirza

گھلنے لگے زباں  پہ مزے چاکلیٹ کے

تحریر: ربیعہ کنول مرزا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سائنسدانوں  کی  ایک مزیدار تحقیق  سے یہ معلوم ہوا ہے  کہ چاکلیٹ کھانا دل کے لیے اچھا ہے۔ہالینڈ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑی عمر کے وہ افراد جو چاکلیٹ کھاتے ہیں ان کا بلڈ پریشر کم رہتا ہے اور اس طرح سے دل کی شریانیں بند ہوکر دورے پڑنے کا امکان بھی کافی کم ہوجاتا ہے۔سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ کو کو میں ایسے اجزا پائے جاتے ہیں جن سے دوران خون صحت مند رہتا ہے۔

برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے ایک ایسی چاکلیٹ تیار کی ہے جس کو کھانے کے بعد آپ کی عمر بڑھنے کا عمل نہ صرف کم ہو جائے گا بلکہ انسان کے چہرے پر پڑنے والی جھُریاں بھی ختم ہو جائیں گی۔ اور 50 سے60 سالہ انسان کی جلد 20 سالہ نوجوان شخص کی طرح تروتازہ اور توانا نظر آئے گی۔

تاہم برطانوی سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ چاکلیٹ کے شوقین افراد یہ تحقیق پڑھ کر چاکلیٹ کھانے لئے اپنے آپ کو آزاد نہ محسوس کریں کیونکہ اس ایک فائدے کے ساتھ ساتھ چاکلیٹ کھانے کے کئی نقصان بھی ہیں۔

اس کی بہت زیادہ مقدار کا استعمال موٹاپے کا خطرہ بڑھا دیتا ہے جبکہ کچھ شواہد ایسے بھی سامنے آئے ہیں کہ چاکلیٹ منشیات کی طرح لوگوں کو اپنا عادی بنادیتی ہے جبکہ اس میں کچھ ایسے ایسڈ شامل ہوتے ہیں جو طبی نقصانات کا باعث بن سکتے ہیں خاص طور پر گردوں میں پتھری کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔

آخریہ  چاکلیٹ سب سے پہلے کہاں سے آئی ؟ اس کی پروڈکشن کیسے ہوتی ہے ؟

بچوں او ربڑوں کی بلکہ سب کی پسند یدہ چاکلیٹ کا عالمی دن منایاجاتا ہے 7 جولائی کو ۔۔اس دن دنیا بھر کے لوگ مختلف قسم کی چاکلیٹس ایک دوسرے کو تحفے دیتے ہیں ، چاکلیٹ کی مدد سے مزیدار ڈشز بنائی جاتی ہیں ۔۔جن میں  کیک ، آئس کریم ، شیک ،موز، ڈونٹس، مفنس شامل ہیں ۔۔چاکلیٹ بنانے کی بڑی بڑی کمپنیاں نئی منفرد شکل اور قسم کی چاکلیٹس متعارف کرائی جاتی ہیں ، کئی ملکوں میں چاکلیٹ کے فیشن شوز ہوتے ہیں ، چاکلیٹ کی نمائش  بھی لگائی جاتی ہے ،،

رواں سال مارچ میں پرتگال میں چاکلیٹ کی عالمی نمائش میں دنیا کی سب سے مہنگی چاکلیٹ کی رونمائی کی گئی ۔۔نو ہزار ڈالر کی اس چاکلیٹ میں سونا اور زعفران استعمال کیا گیا ہے۔ ہیرے کی شکل جیسی اس چاکلیٹ کو تجوری میں رکھا جاتا ہے اور اسکے اندر پانچ سو پچاس کرسٹل کے ٹکڑے بھی استعمال کئے گئے ہیں۔

چاکلیٹ دراصل ہزاروں سال قبل جنوبی امریکامیں ایمیزون اور رینوکو کی وادیوں میں اگتے تھے ،چاکلیٹ کے بیج کوکوا کے درخت سے حاصل کئے جاتے ہیں۔کوکوا کے ان بیجوں کا کسی نہ کسی صورت بطور خوراک استعمال گیارہ سو قبل مسیح سے جاری ہے جو تبدیل ہوتے ہوتے پانچ صدیاں پہلے چاکلیٹ کی شکل اختیار کر گیا۔ان بیجوں کو پودے سے اتار کر خشک کیا جاتا ہے،بھونا جاتا ہے اور پھر لیکویڈیعنی مائع کی شکل دے کر خوبصورت اور ذائقے دار چاکلیٹ کی شکلوں میں ڈھالا جاتا ہے۔

تقریبا 5سو سال قبل 7 جولائی کو چاکلیٹ یورپ میں متعارف کروائی گئی۔۔ جس کے بعد چاکلیٹ کے دن کو عالمی سطح پر منانے کافیصلہ کیاگیا۔امریکی طبی جریدے میں شائع ایک  تحقیق کے مطابق باقاعدگی سے چاکلیٹ کھانا دماغی کارکردگی میں اضافہ کرتا ہے۔کچھ اور فائدے بھی بتاتے ہیں ۔۔

  • چاکلیٹ کھانے والوں کی یادداشت ان افراد سے بہتر ہوتی ہے جو چاکلیٹ نہیں کھاتے یا بہت کم کھاتے ہیں
  • دراصل چاکلیٹ دماغ میں خون کی روانی بہتر کرتی ہے جس سے یادداشت اور سیکھنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے۔
  • ایک تحقیق کے مطابق ناشتے میں چاکلیٹ کھانے والے افراد دن بھر چاک و چوبند رہتے ہیں اور وہ اپنے کاموں میں زیادہ صلاحیت اور مستعدی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
  • براؤن چاکلیٹ جسم کو نقصان پہنچانے والے کولیسٹرول میں کمی کر کے مفید کولیسٹرول کو بڑھاتی ہے۔یہی چاکلیٹ بلڈ پریشر کو معمول کی سطح پر رکھنے میں بھی مددگار ہے۔اگر متناسب مقدار میں کھائی جائےتو۔۔
  • براؤن چاکلیٹ دماغ میں سیروٹونین نامی مادہ پیدا کرتی ہے جس سے ذہنی دباؤ سے نجات ملتی ہے۔ چاکلیٹ ہمارے جسم کی بے چینی اور ذہنی تناؤ میں 70 فیصد تک کمی کرسکتی ہے۔
  • یہ جسم میں موجود پولی فینول کو بھی بڑھاتی ہے جس سے خون میں آکسیجن کی روانی بہتر ہوتی ہے۔
  • یہ پٹھوں کے خلیات کی کارکردگی میں بھی اضافہ کرتی ہے اور وہ زیادہ آکسیجن کو خون میں پمپ کرتے ہیں۔
  • چاکلیٹ قوت مدافعت میں بھی اضافہ کرتی ہے۔سیاہ چاکلیٹ کھانسی کیلئے نہایت مفید ہے ، دائمی یا موسمی کھانسی کو ختم کرسکتی ہے۔

رواں سال اپریل میں جرمنی  کی خواتین چاکلیٹ چور گروپ پکڑا گیا۔۔جن  کے قبضے سے ایک دودرجن چاکلیٹ نہیں بلکہ 60کلوگرام چاکلیٹ برآمد ہوئی ، جس کی مالیت ایک ہزار یورو یعنی ایک لاکھ 43 ہزار پاکستانی روپے  بنتی ہے ۔

کیا آپ کو پتا ہے کہ :

  • چاکلیٹ کا سب سے بڑا دس فٹ اسٹرکچر آسٹریلیا کے شہر میلبورن میں بنا یا گیا ہے۔
  • صرف بیلجئیم میں 17,000افرادچاکلیٹ انڈسٹری سے وابستہ ہیں ۔
  • نپولین بونا پارٹ ہر وقت اپنے پاس چاکلیٹ رکھتے اور چستی اور چاق وچوبند رہنے کیلئے کھاتے۔
  • چاکلیٹ کے تقریبا چھ سو فیلور متعارف کرائے جا چکے ہیں ۔
  • برسلز ائیر پورٹ دنیا کا سب سے بڑا چاکلیٹ فروخت کرنے والا ائیر پورٹ ہے ۔ جہاں ہر سال آٹھ سوٹن سے بھی زیادہ چاکلیٹ فروخت کی جاتی ہے ۔

ترکی کے محکمہ شماریات کے مطابق سال2016 میں 182.6ملین ڈالر مالیت کی71.3ٹن چاکلیٹ کی پیداوار ہوئی ۔ جس میں سے35.3ملین ڈالر مالیت  کی  چاکلیٹ عراق کو، 17.1 ملین ڈالر مالیت کی چاکلیٹ سعودی عرب کو  اور14.7ملین ڈالر مالیت کی چاکلیٹ متحدہ عرب امارات کو برآمد کی گئی ۔۔

اور ہاں ایک ٹینشن والی بات یہ ہے کہ 2020 تک یعنی آئندہ 2سا ل میں چاکلیٹ دنیا سے ختم ہوجائےگی اور اس کی وجہ بنے گی چاکلیٹ کی طلب میں اضافہ اور پیداوار میں کمی۔۔

Miscellaneous

بوسہ دینے کی چیز ہے آخر

#RK_Mirza

ننھے بچوں کی کلکاریوں پر، ان کی خوبصورت شرارتوں پر برجستہ پیار کرنے کو جی چاہتا ہے ۔لیکن اس محبت و پیار کے مختلف نام ، طریقے بھی ہیں ، ہاں وقت کی قید آج تک کوئی نہ لگا سکا۔۔

بوسہ ، پپّی، کِس، پیار، چُما ۔۔

ان الفاظ  اور احساسات کا ذکر  ہر دور کے شاعروں نے   کھل کر اپنے اشعار  میں کیا ، لیکن ہمارے معاشرے میں اسے کھلے عام کرنا معیوب سمجھاجاتا ہے ،  شوبز میں بھی کسی حد تک   ’سب چلتا ہے‘ہی چلتا ہے  ، فلم میں سینسر بورڈ کی قینچی سےایسے مناظر  بچ جائیں ،اوراسکرین پر نظر آجائیں توکئی اک بس دیکھ دیکھ ہی آنکھوں کو ٹھنڈ ک پہنچاتے ہیں ۔۔

ہاں یہ الگ بات  ہے کہ بھارتی معاشرے میں یہ سب عام ہے اور فلمیں بوس وکنار کے بغیر مکمل ہی نہیں ہوتیں ۔۔

تقریبا 5سا ل قبل وینا ملک نےاپنی سالگرہ کے دن اپنے ہاتھ پر ایک منٹ میں ایک سو سینتیس بوسے وصول کیے اور  ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ اس سے قبل بھارتی اداکارسلمان خان نے اپنے ہاتھ پر ایک منٹ میں ایک سو آٹھ بوسے حاصل کر کے یہ ریکارڈ بنایا تھا۔

وینا ملک  کے مطابق  “بوسے تو ہوتے ہی اچھے ہیں اور یہ ایک عقیدت کا اظہار ہوتا ہے اگر آپ کوکوئی ہاتھ پر بوسہ دے۔  اگر ایک منٹ میں اتنے بوسے ملیں تو یہ بہت خوبصورت احساس اور ریکارڈ ہے۔”

رواں سال فروری میں ہونے والی لکس اسٹا ئل ایوارڈ کی تقریب یاد  ہے آپ کو۔۔اس میں بھی جاوید شیخ نے اسٹیج پر ماہرہ  کا بوسہ لینے کی کوشش کی ، جس پر سوشل میڈیا صارفین نے خوب تنقید کی ،، اور ایسی باتیں بھی کہیں جو بوسہ دینے یا لینے سے بھی زیادہ نازیبا تھیں ۔۔

فیفا ورلڈ کپ کےدوران برازیلین ٹی وی کی صحافی جولیا گوئماریس روس کے شہر یکاٹیرن برگ میں کیمرے کے سامنے رپورٹنگ کے فرائض انجام دے رہی تھیں کہ ایک شخص نے ان کے گال پر بوسہ لینے کی کوشش کی لیکن خاتون صحافی نے پیچھے ہٹ کر خود کو بچا لیا۔اس موقع پر جولیا غصے میں آگئیں ۔  بوسہ لینے کی کوشش کرنے والے شخص نےبھی فوراً معذرت کر لی۔

اس سے قبل جرمنی کے نشریاتی ادارے سے اسپورٹس رپورٹر  کولمبیا کی جولیتھ گونزالےکو صحافتی ذمے داریوں کی انجام دہی کے دوران ایک مداح نےدبوچ کر بوسہ لیا تھا۔

خاتون رپورٹر نے ویڈیو  انسٹا گرام پر شیئر  کرتے ہوئے لکھا کہ ‘احترام کیجیے! ہم اس طرز عمل کے مستحق نہیں، میں فٹبال کے مسحورکن لمحات سے آگاہ کرتی ہوں لیکن ہمیں پیار اور ہراساں کرنے کی حد کی شناخت ہونی چاہیے’۔

گزشتہ سال ٹینس کے کھلاڑی21سالہ  میکزیم ہمو نے فرنچ اوپن کے دوران ایک لائیو انٹرویو میں  رپورٹر مالے تھومس کو گردن سے پکڑ کر بوسہ دینے کی کوشش کی۔ خاتون صحافی بچنے اور پیچھے ہٹنے کی کوشش کرتی رہیں ،،

یہ تو تھے کھیل اور شوبز سے جڑے پپّی،کس اور بوسے کے کچھ واقعات ۔۔ آج کل تو سیاست میں بھی  بوسوں کی بھرمار ہے ۔۔ذرا سیاست کی پھرکی کچھ پیچھے لے جائیں ۔۔ تو  بانی ایم کیو ایم الطاف حسین کی وہ ویڈیو یاد آجائے گی ،،جس میں وہ بڑےپیار سے کہہ رہے ہیں ، ایک پپی اِدھر ایک پپی اُدھر۔۔

الطاف حسین  کی جانب سےمصطفیٰ کمال کے سرپر ہاتھ پھیرنے ان کوگلے لگانے اور پھر پپی گرنے کی ویڈیو اور تصاویر  بھی خوب وائرل ہوئیں ،،لیکن مفادات  کی جنگ نے اپنوں کو بیگانہ کردیا، آمنے سامنے کھڑا کردیا۔پھر تم تم نہ رہے اور ہم ہم نے رہے ۔۔

اور وہ سابق گورنر سندھ عشر ت العباد کو بانی ایم کیو ایم الطاف حسین کی جانب سے ملنے والی چُمی۔۔

حقیقت تو یہ ہے کہ ایم کیو ایم ہی ہے کہ جس میں قائد/سربراہ/ بانی نے کسی بھی کارکن کو’کِس‘ کیا ۔۔ورنہ پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے کارکن پارٹی قیادت سے محبت کا اظہار کرنے کیلئے کیا کیا انداز اپناتے ہیں۔ کوئی نہیں جانتا کب کون کہاں سے کس گال پر ایک “چمّی” ثبت کرجائے۔

الیکشن قریب آتے ہی رومانس کی فضا چل پڑی ہے ۔ جس سے سب سے زیادہ متاثر نظر آرہے ہیں ،پیپلز پارٹی کے کارکن ، جو اپنے قائد یا لیڈر کو دیکھتے ہی ان کا منہ چومنے کیلئے اتاولے ہوجاتے ہیں۔

گزشتہ روزپیپلزپارٹی کے رہنما خورشید شاہ روہڑی جلسے میں دلچسپ صورتحال میں پھنس گئے۔ ایک پرستار خورشید شاہ کا بوسہ لینے پر اصرار کرتا رہا ۔ بوسے کے بعد بھی پرستار مزید بوسے کیلئے بیقرارتھا۔  بڑی مشکل سے خلاصی پائی۔

اس سے قبل بلاول بھٹو زرداری  کے ساتھ بھی کراچی میں عبداللہ شاہ غازی کی درگاہ پر حاضری  کے بعدایسا ہی معاملہ پیش آیا،،ایک شخص نےبلاول کو  اجرک  پہنانے کے دوران چہرے پر بوسہ لینے کی کوشش کی ۔ تاہم بلاول  نے سخت ناگواری کااظہار کیا۔اور اس شخص کو جھڑک دیا۔۔

اس سے پہلے بنوں جلسے کے دوران کارکن نے اسٹیج پر بلاول کے گال کو چوما تو بی بی کے لعل نےلال پیلے ہوکر فوراً اپنا رخسار  صاف کرلیاتھا۔

شیخ رشید بھی اس صورتحال سے دوچار ہوچکے ہیں ۔نوازشریف نااہلی کیس کی سماعت کے دوران  عدالت سے باہر آتے ہوئے ایک شخص نے شیخ رشید کابوسہ لینے کی کوشش کی جس پر شیخ رشید برہم ہو گئے اور نوجوان کو تھپڑ رسید کر دیا۔

نواز شریف اور شیخ رشید کو آج کی نسل ایک دوسرے کا دشمن سمجھتی ہے، لیکن نوے کی دہائی میں یہ دونوں ایک دوسرے پر جا ن چھڑکتے تھے ۔اور ا ن کا سیاسی رومانس عروج پر تھا۔

6جولائی کو بوسے کے عالمی دن پرسیاستدان اور ان کے پرستار کیا گل کھلاتے ہیں ،بس دیکھتے جائیں۔۔۔

ارے ہاں !  وہ بوسہ ۔۔ جسے  سجدہ کہا جارہا ہے ۔

کچھ روز قبل ہی عمران خان اور ان کی تیسری اہلیہ  پاکپتن میں دربار حضرت بابا فرید شکر گنج پر حاضری کے حوالے سے وائرل ہوئی ویڈیو نے ہنگامہ برپا  کردیا۔۔ فتوے جواب فتوے سےزیادہ  تماشے لگ رہے ہیں ان پر افسوس ہی کیا جاسکتا ہے۔ دعویداران دہلیز کے بوسے کو سجدہ تعظیمی قرار دے کر ہنگامہ اٹھائے ہوئے ہیں۔ عمران خان کہتے ہیں انہوں نے خانقاہ کی دہلیز کو عقیدت سے بوسہ دیا۔  جبکہ مخالفین اسے سجدہ اور شرک سے تعبیر کررہے ہیں ۔۔تاہم دلوں کا حال تو اللہ ہی جانتا ہے ۔

ان بوسوں کو بھی سیاسی  گُرہی سمجھ لیں ۔۔ عوام میں مشہور ہونے  کا طریقہ ۔۔ پہلے مخالفین سے  نعرے لگوا کر جلسوں کی رونق بڑھوائی جاتی تھی ، سیاسی شہید  بننے کے لیے اداروں سے تصادم کیا جاتاتھا۔۔ لیکن جوتا، انڈے، ٹماٹر، سیاہی  والے ٹرینڈ پرانے ہوگئے ہیں ، کچھ نیا ہے تو و ہ ہے  بوسے کی سیاست۔ اب اس کو عقیدت سمجھیں ،محبت سمجھیں یا ہراساں کرنے کی کوشش ۔۔

گئے وقتوں کے حکمرانو ،ان داتاؤ۔۔!!! تم نے برس ہا برس ہمیں کچھ نہ دیا۔۔ ووٹ ،روٹی ، کپڑا، مکان ، عزت ، جان سب ہی تو  ہم سے لے لیا ہے ، ہم تو آج تک صرف دیتے ہی آئے ہیں  سو یہ بھی  دے دیا۔۔ کہ یہ دینے کی چیز ہے اور ہم غریب ہو کر بھی بڑے دل والے ہیں۔کیونکہ ’بوسہ دینے کی چیز ہے آخر۔۔۔۔۔۔۔ ‘

Miscellaneous

Clarisse User Group in Berlin (4th July 2018)

Clarisse User Group in Berlin

4th July 2018 | 7:00 PM – 9:00 PM CEST
Mitosis Coworking Factory, Sonnenallee 67, 12045 Berlin, Germany

Good news Clarisse folks! 110 more words

International Events

Arts for All: Aardman Workshop (30th June 2018)

Arts for All: Aardman Workshop

30th June 2018 | 11 AM – 5 PM UTC+01
Magdalen College School, Cowley Place, OX4 1DZ Oxford, Oxfordshire

Aardman family favourite Shaun the Sheep is an unusually bright and mischievous sheep who lives on Mossy Bottom Farm. 83 more words

International Events