Tags » Iran

Mr Australia

For months, we had arranged to date infrequently due to his work commitments. Sometimes work dropped his mood from the top of the world to the heights of Burj Khalifa. 421 more words

Love

Kathy Kelly | From Yemen to Iran, Syria and Iraq to the Horn of Africa, imperialism is on the march.

This week, Eric of Counterpunch welcomes back to the show veteran peace activist Kathy Kelly to discuss the increasingly deafening drumbeat of war, and the reality of life in the war zones which she has witnessed with her own eyes. 168 more words

Militarism

Shiraz | The Iranian City You Won't Want To Leave

After a wonderful few first days in Shiraz, it is fairly safe to say that I had fallen pretty in love with the city. The crazy traffic, the stunning architecture and the welcoming locals all blended together to create a place that was undeniably enchanting, and I was completely under its spell. 1,274 more words

Travel

بهارتی صحافی نے انڈین سرکار کو ننگا کر دیا..کلبھوشن یادیو سے متعلق بھارتی صحافی کے سوالات پر مودی سرکار کو چپ لگ گئی..

کلبھوشن یادیو سے متعلق بھارتی صحافی کے سوالات پر مودی سرکار کو چپ لگ گئ بھارت تو یہی رٹا لگا رہا ہے کہ کل بھوشن یادیو جاسوس نہیں لیکن اس دعویٰ کی دھجیاں خود بھارتی سنئیر صحافی کرن تھاپر نے اڑا کر رکھ دی جس میں انہوں نے کئی ایسے سوال کئے ہیں جن کے جواب مودی سرکار دے بھی نہیں سکتیتجزیہ نگار اور سنئیر صحافی کرن تھاپر نے انڈین ایکسپریس میں مضمون لکھا جس میں انہوں نے خود بھارتی حکومت کا چہرہ بے نقاب کرتے ہوئے کلبھوشن سے متعلق ایسے سوالات کئے ہیں جن کے جوابات تاحال مودی سرکار دینے سے قاصر ہیں ۔کرن تھاپر نے لکھا ہے کہ کل بھوشن یادیو کا معمہ پیچیدہ ہونے کے ساتھ ساتھ اس کا کردار واقعی پراسراربھی ہےبھارتی صحافی کے مطابق کل بھوشن یادیو کے پاس ایک کے بجائے دو پاسپورٹ کیوں تھے ؟ آخر دو پاسپورٹ الگ الگ ناموں سے رکھنے کا کیا جواز تھا ؟ دوسرے پاسپورٹ کی تجدید دو ہزار چودہ میں کیوں کرائی گئی ؟مسلمان نام سے پاسپورٹ بنانے کی آخر وجہ کیا تھی ؟ اصلی نام سے جاری پاسپورٹ کو کیوں ختم نہیں کرایا گیا ؟ بھارتی حکومت کل بھوشن یادیو تک رسائی مانگ رہی ہے لیکن پاسپورٹ کے نمبرز چیک کرنے سے کیوں کترا رہی ہے؟کل بھوشن یادیو ۲۰۰۷ میں ممبئی میں حسین مبارک پٹیل کے نام سے اپنی ہی ماں کے ہی فلیٹ میں کیوں کرائے پر رہ رہا تھا ؟ آخر اس کی کیا ضرورت پیش آئی ؟ اپنے مضمون میں کرن تھاپر نے سوال اٹھایا ہے کہ بھارت جب یہ واویلا کرتا ہے کہ کل بھوشن یادیو کو ایران سے اغوا کیا گیا تو کیا بھارت نے اس سلسلے میں ایرانی حکومت سے رابطہ کیا ؟صحافی کے مطابق بھارتی وزارت داخلہ نے فی الحال اس بارے میں ایران سے کوئی رابطہ اور نہ ہی کوئی تحقیقات کی آخر اس کی کیا وجہ ہے مزید سوالات پوچھتے ہوئے کرن تھارپر لکھتا ہیں کہ ایران میں ۴ سے زیادہ بھارتی رہائش پذیر ہیں آخر کل بھوشن یادیو کو ہی کیوں اغوا کیا گیا جس کے ۲ دو پاسپورٹ ہیں ؟ کا کردار مشکوک ہےجس کی سرگرمیاں خطرناک ہیں۔بھارتی حکومت پاکستان میں سابق جرمن سفیر کا حوالہ دیتی ہے کہ انہوں نے کل بھوشن یادیو کے ایران سے اغوا کی بات کہی کیوں مودی حکومت نے سابق جرمن سفیر سے اس سلسلے میں مزید گفتگو نہیں کی ؟ بھارتی صحافی نے را کے سابق چیف اے ایس دلت کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ کل بھوشن یادیو بھارتی جاسوس ہے کرن تھاپر کے مطابق بھارتی حکومت سچ بتانے کے بجائے اصل صورتحال چھپانے کے لیے مختلف بہانے تراش رہی ہے۔ان کے مطابق سوالوں کے جواب ملنے کے بجائے مزید سوالات کا انبار لگتا چلا جارہا ہے اور بھارتی حکومت کی اس بات کی تصدیق کڑہی ہے کہ کل بھوشن یادیو ایک جاسوس ہی ہے جسے بچانے کے لیے مودی حکومت جھوٹ کا سہارہ لے رہی ہے ۔بھارتی میڈیا نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ کل بھوشن یادیو ، کراچی اور بلوچستان میں تخریب کاری میں ملوث تھا ۔ اور لیاری گینگ مافیا عذیر بلوچ سے اس کے رابطے تھے عزیر کی گرفتاری کے بعد ہی کل بھوشن یادیو گرفت میں آیا