Tags » Karachi University

Refreshing Mushayera by Zau (A Literary Magazine) at the University of Karachi

A friendly advice; Always say yes to the friend who wants to take you to a literary gathering.

“Mujhko Darr hai Kaheen Khamosh na Karde Mujhko…

589 more words
All

Junadi Jamsheed arrives at KU to celebrate Independence day

Junadi Jamsheed arrives at KU to celebrate Independence day

Junadi Jamsheed arrives at KU to celebrate Independence day Junadi Jamsheed arrives at KU to celebrate Independence day

Zemtvs

The longest block- EVER!

Well yes, that’s true. The past few months had been a roller coaster ride for me. The worse part being in a writer’s block for approx 7 months! 327 more words

Experiences Of Life

5 Reasons While Uok Isn't That Bad

Let’s admit it, university is an important part of your life. No matter how rough the days may be, you can’t help but feel thankful that you are getting a  higher education. 269 more words

Life

گلگت بلتستان یونائیٹڈ اسٹوڈنس کے زیر اہتمام کراچی میں طلبہ کے لیے بیرونی اسکالرشب کے حوالے سے تربیتی پروگرام کا انعقاد

کراچی (پ ر) گلگت بلتستان یونائیٹڈ اسٹوڈنس کے زیر اہتمام کراچی میں طلبہ کے لیے گزشتہ روز بیرونی اسکالرشب کے حوالے سے تربیتی پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں کراچی میں زیر تعلیم گلگت بلتستان کے طلبہ نے شرکت کی۔ پروگرام دو حصوں پر مشتمل تھا۔ پہلے حصے گلگت سے تعلق رکھنے والے جامعہ کراچی کے نوجوان پی ایچ ڈی اسکالر شبیر حسین نے بیرون ملک وظائف کے حصول کا طریقہ کار بتایا۔ دوسرے حصے میں جی بی یو ایس کے نئے منتخب صدر کا اعلان کیا گیا۔ ڈاکٹر شبیر نے اپنی پریزنٹیشن میں مختلف ممالک کی جانب دیے جانے والے وظائف کی تفصیلات بتادی اور ساتھ ہی ساتھ ان کے حصول کے طریقہ کار سے بھی شرکاءکو آگاہ کر دیا۔ جسے نوجوان طلبہ نے نہایت دلچسپی سے سنا۔ پروگرام کے دوسرے حصے میں نو منتخب صدر خالد نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ جی بی یو ایس کے کوارڈینیٹر ذوالقرنین حیدر بہلول نے تنظیم کے اغراض و مقاصد بیان کیے۔ سی اے کے طالب علم صدا عباس، احمد علی اور تقی محمد نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ پروگرام کے آخر میں جی بی یو ایس کے چئیرمین معظم علی نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ پروگرام کے میزبانی کے فرائض علی احمد جان نے انجام دیے۔

گلگت بلتستان

جامعہ کراچی میں "جنسی ہراسانی" کا ایک واقعہ

ویب ڈیسک: دو روز قبل جامعہ کراچی کے ایڈمن بلاک کے سامنے پلے کارڑز اٹھائے کچھ طلبہ نظر آئے۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ پاکستان اسٹڈی سینٹر،سال آخر یہ طلبہ دو وجوہات کے بنا پر مظاہرہ کر رہے ہیں۔

اول یہ کہ وہ اردو کے معلم کے طریقہ تدریس سے مطمئن نہیں اور دوم یہ کہ اسی استاد پر ایک خاتون ٹیچر کو جنسی ہراساں کرنے کا الزام ہے۔ مظاہرین کے مطابق انھوں نے دو ہفتے قبل تحریری طور شعبے کے ڈائریکٹر سے شکایت کی تھی مگر انھوں نے کو ایکشن نہیں لیا۔ طلبہ کے مطابق گزشہ دو ہفتوں سے انھوں نے کلاسس کا بائیکاٹ کیا ہوا ہے اور ڈائریکٹر کے پاس تین درخواستیں جمع کراچکے ہیں مگر ان کی جانب سے کوئی ایکشن نہیں لینے پر یہ ایڈمن کے سامنے مظاہرہ کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔


نہایت افسوس کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔۔۔ کہ جامعہ میں یہ کوئی پہلا واقع نہیں۔ ماضی میں بھی استاد کی روپ دھارے ان بھیڑیوں کی جانب سے لڑکیوں کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کی معتدد خبریں اخباروں کی زینت بن چکی ہیں مگر ان بھیڑیوں کے خلاف کوئی سخت کاروائی نہیں کی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ اس نوعیت کے واقعات پھر رونما ہورہے ہیں۔


نہایت افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ جامعہ مہں موجود درجنوں نام نہاد طلبہ تنظیمیں ان مسائل کے خلاف آواز نہیں اٹھاتی ہیں۔ فٹ بال، کرکٹ، بینرز، پوسٹرز اور مذہبی و مسلکی منجھن بیچنے کے لیے ایک دوسرے کے کا خون تک بہاتے ہیں مگر طلبہ کے حقوق کے لیے کبھی میدان میں نہیں آتے ہیں۔

The Dissent Post