Tags » Karachi

The History of NFC and Missing Role of PPC-Part-1

قومی مالیاتی کمیشن  (این ایف سی) کی پاکستانی تاریخ

پاکستان میں اٹھاریوں ترمیم  کو  بڑے طمطراق سے صوبوں کو مالیاتی اور انتظامی طور پر با اختیار بنانے کے لیے لایا گیا تھا  مگر کف افسوس ملنے کے علاوہ کچھ نہیں کہہ سکتے کہ اس کے بعد صوبے تو بہت طاقتور ہوئے بلکہ بسا اوقات صوبوں نے اپنے انتظامی اختیارات کو ملکوں کی طرح بلاشرکت غیرے اور فیڈریشن کے بنیادی اصولوں کے خلاف بھی استعمال کرنا شروع کردیا۔  صوبوں نے مالیاتی اور انتظامی امور کو مقامی حکومتوں  کی سطح تک لے جانے کے بجائے مقامی حکومتوں کے نظام کو یکسر مسترد کرکے گذشتہ سات سالوں سے کوئی مقامی حکومت کے الیکشن نہیں کروائے جس سے صوبوں کو تو مستقل قومی مالیاتی کمیشن سے اپنا جو بھی حصہ ہے وہ مل رہا ہے لیکن وہ نیچے مقامی حکومتوں کو منتقل نہ ہونے کے باعث ذیادہ تر وسائل و مالیاتی معاملات کرپشن کی نذر ہورہے ہیں۔ سندہ وہ واحد صوبہ ہے جس نے شائد مالیات کے معاملات کو کرپشن ہی کی نذر کر دیا ہے۔

یہ بلاگ دو حصوں پر مشتعمل ہے اس بلاگ کا اصل مقصد قارئین کو صوبائی مالیاتی کمیشن کے ادارے سے واقف کروانا ہے مگر صوبائی مالیاتی کمیشن پر اس وقت تک بات نہیں کی جاسکتی جب تک قومی مالیاتی کمیشن پر بات نہ ہوجائے اسی لیے یہ بلاگ دو حصوں پر مشتعمل ہے پہلے حصے میں قومی مالیاتی کمیشن کی پاکستان میں تاریخ جبکہ دوسرا حصہ صوبائی مالیاتی کمیشن سے متعلق ہوگا۔

قومی مالیاتی کمیشن کے بنیادی طور پر دو بڑے مقاصد ہیں ایک تو ملک میں وسائل کی تقسیم کو منصفانہ بنایا جائے اور دوسرا تمام ترقیاتی عمل کو وفاق اور صوبے ملکر مکمل کریں ۔ قومی مالیاتی کمیشن کو 1973 کے قانون   1-160 کے مطابق  بنایا گیا ہے  اور وسائل کی تقسیم کو جاری رکھنے کے لیے ہر پانچ سالوں کے بعد اسکا اجلاس لازمی قرار دیا گیا۔ اسکے ممبران میں وفاقی فائنانس منسٹر  جو کہ کمیشن کے چئیر مین بھی ہوتے ہیں۔ اسکے دوسرے ممبران تمام صوبوں کے فائنانس منسٹر ہوتے ہیں۔ اسکے علاوہ ہر صوبہ ایک ایکسپرٹ کو ممبر بنا سکتا ہے جو کہ گورنر کے مشورے سے ہوتا ہے۔

قیام پاکستان سے قبل مالیاتی تقسیم :

قیام پاکستان سے قبل مالیاتی وسائل کی تقسیم پورے برصغیر میں نئیمیر ایوارڈ کے مطابق کی جاتی تھی جو 1935 کے قانون کے مطابق تھا۔ اس کے مطابق  سیلز ٹیکس کو صوبائی اختیار میں دیا گیا جبکہ انکم ٹیکس کے 50 فیصد کو صوبوں میں تقسیم کیا جاتا تھا۔ پاکستان کے قیام کے بعد بھی مارچ 1952 تک اسی نیمئیر ایوارڈ کو ہی بس تھوڑی بہت تبدیلی کے ساتھ نافذ العمل رکھا گیا۔

قیام پاکستان کے فورا” بعد وسائل کی تقسیم کے لیے فارمولہ بنانے کا کام سر جیرمی رئیزمین کے حوالے کیا گیا۔ ریزمین نے دسمبر 1947 کو اپنا فارمولہ پیش کردیا جو مارچ 1952 میں فافذ العمل ہوا۔ اس فارمولے کے مطابق صوبوں کے 50 فیصد سیلز ٹیکس کو وفاق کی کمزور مالیاتی پوزیشن کی وجہ سے عارضی طور پر  وفاق کو دے دیا گیا ۔  جبکہ 50 فیصد انکم ٹیکس کا  45 فیصد مشرقی پاکستان کو جبکہ 55 فیصد موجودہ پاکستان کو دیا جانے لگا۔ موجودہ پاکستان میں مالیاتی وسائل کو پنجاب ، سندہ ، بہاولپور، خیر پور ، سرحد ، بلوچستان  اسٹیٹ یونین اور وفاقی علاقوں میں تقسیم کیے جاتے تھے۔ بہت سارے لوگ جو یہ دعوی کرتے ہیں کہ سندہ ناقابل تقسیم ہے وہ شائد اس حقیقت سے منہ چراتے ہیں کہ خیر پور ایک الگ صوبہ تھا

1955 میں تمام اسٹیٹس اور صوبوں کو انتظامی طور موجودہ پاکستان میں یکجا کرکے ون یونٹ بنایا گیا جس میں بہاولپور کو پنجاب میں مدغم  کرکے صوبہ پنجاب اور خیر پور کو سندہ میں مدغم کرکے سندہ صوبہ جبکہ بلوچستان میں جتنے اسٹیٹ جیسے قلات وغیرہ تھے کو ملاکر بلوچستا ن صوبہ بنا دیا گیا۔ اس طرح عملا” پاکستان میں 1955 میں انتظامی طور پر صوبوں کی تعداد کو بڑھانے کے بجائے کم کرکے چار کردیا گیا۔ تاکہ وسائل کی تقسیم کو مصفانہ کیا جائے۔

1961 میں ون یونٹ کے قیام کے بعد مشرقی و مغربی (موجودہ پاکستان) کو وفاق کی جانب سے 54 اور 46 فیصد باالترتیب دئیے گئے۔

1964 میں 1962 کے آئین کے مطابق قومی مالیاتی کمیشن تشکیل دیا گیا،  اور مشرقی و مغربی پاکستان کو وہی 54 اور 46 فیصد دئیے گئے ۔ اس مالیاتی کمیشن کے ایوارڈ کو 1970 پہلی جولائی  میں اچانک مغربی پاکستان کو  پنجاب، سندہ ، سرحد اور بلوچستان میں تقسیم کرکے 46 فیصد کا 56.5،  23.5، 15.5 اور بلوچستان کا 4.5 فیصد تقسیم کردیا گیا۔ تقسیم کے اس فارمولے کو صوبوں کے مشرقی پاکستان کے علیحدہ ہو جانے کے بعد بھی برقرار رکھا گیا۔  1973 کے آئین میں وفاق و صوبوں کو پابند کیا گیا کہ وہ  ہر پانچ سال کے بعد مالیاتی کمیشن تشکیل کا اجلاس بلائیں گے جو صوبوں اور وفاق کے درمیان وسائل کو بہتر طریقے سے تقسیم کرے ۔

مشرقی پاکستان کے علیحدگی کے بعد پہلا مالیاتی کمیشن ایوارڈ 1974 کو اعلان ہوا اس میں وفاق اور صوبوں کے درمیان تو فارمولہ وہی 20 اور 80 فیصد باالترتیب رہا مگر آبادی کو تقسیم کا  واحد فارمولہ قرار دیکر  صوبوں کے لیے تقسیم کا فارمولہ تبدیل کردیا گیا۔ اس کے مطابق پنجاب کا حصہ 56.05 سے بڑھا کر 60.25 جبکہ بقیہ تین صوبوں کے حصے کو گھٹا دیا گیا اور اس میں سب سے ذیادہ نقصان سندہ کو پہنچا کیوں کہ اسکا شئیر 23.5 سے گھٹ کر 13.39 کر دیا گیا۔ یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ اس وقت بھٹو سول مارشل لا ایڈمنسٹریٹر تھے اور انکا تعلق سندہ صوبے ہی سے تھا۔

1979 میں ایک اور مالیاتی کمیشن تشکیل دیا گیا جس کے چئیر مین جناب غلام اسحاق خان تھے مگر یہ کمیشن کبھی اپنی میٹنگ نہ کرسکا  1981 کے مردم شماری میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی کی وجہ سے  فارمولہ بھی تبدیل ہوا اور اس کے مطابق  پنجاب کو 57.97 جبکہ سندہ کو 23.34 فیصد ملے  سرحد کے تناسب میں کوئی فرق نہیں پڑا اور بلوچستان کو 5.30 فیصد ملے۔

1985 میں نیا مالیاتی کمیشن تشکیل دیا گیا جس نے محبوب الحق کی چئیر مین شب میں 9 اجلاس کیے مگر کوئی نیا فارمولہ نہیں بنا اس وجہ سے  1990 تک وہی فارمولہ چلتا رہا۔ 1990 میں چوتھا مالیاتی کمیشن ایوراڈ وزیر اعظم نواز شریف کے دور حکومت میں تشکیل پایا اس نے بہت ساری تبدیلیاں کی لیکن تقسیم کا فارمولہ وہی آبادی کا تناسب رہا۔

پانچواں مالیاتی کمیشن 1996 میں تشکیل دیا گیا جبکہ اس میں تمام ٹیکسیز کی ایک جگہ شمولیت کے باعث وفاق کا حصہ 20 سے بڑھا کر 62.5 فیصد جبکہ صوبوں کا 80 سے گھٹا  کر 37.5 فیصد کر دیا گیا جبکہ صوبوں کی تقسیم کا فارمولہ کم و بیش  وہی رہا ۔ 2002 میں 1998 کے مردم شماری کے باعث آبادی کے تناسب سے معمولی تبدیلی ہوئی۔

چھٹا مالیاتی کمیشن 2000 میں تشکیل دیا گیا لیکن پرویز مشرف کی حکومت میں شوکت عزیز کوئی فارمولہ وضع نہیں کرپائے کیوں کہ صوبوں کی ڈیمانڈ تھی کہ انھیں 50 فیصد حصہ دیا جائے اور آبادی کے علاوہ دوسرے  فیکٹرز بھی مالیاتی فارمولے میں شامل کیے جائیں۔

ساتواں مالیاتی کمیشن 2006 میں تشکیل دیا گیا اس نے بہت ساری مینٹنگز کیں لیکن کسی بھی فارمولے کو بنانے میں ناکام رہا جس پر صدر جناب پرویز مشرف نے  آئین کے آرٹیکل 6-160 کے مطابق مالیاتی ایوارڈ کا اعلان کیا جس میں وفاق صوبوں کے درمیان تقسیم کا فارمولہ وفاق کے لیے 55 اور صوبوں کے لیے 45 فیصد کیا اور صوبوں کو ہر سال ایک فیصد اضافے کا فارمولہ دیا تاکہ 5 سالوں میں صوبوں اور وفاق کے درمیان 50 فیصد تک تقسیم ہوجائے۔

ساتواں مالیاتی کمیشن نے 2009 میں پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار آبادی کے علاوہ دوسرے فیکٹرز کو بھی شامل کیا گیا۔ اس سے پہلے دنیا میں پاکستان واحد ملک تھا جو آبادی کی بنیاد پر اپنے مالیات کی تقسیم کر رہا تھا ۔ لیکن ساتویں مالیاتی کمیشن میں پنجاب نے واقعتا” بڑے بھائی ہونے کا ثبوت دیا اور ساتھ ہی ساتھ وفاق نے بھی اپنے حصے کو کم کرنے کو تسلیم کیا ۔ اس کمیشن میں صوبوں کو مالیات کی تقسیم کچھ یوں کی گئی۔ آبادی 82 فیصد، ریوینیو کلیکشن 5 فیصد، صوبے کا رقبہ اور آبادی  یعنی انورس پاپولیشن ڈینسٹی کو 2.7 فیصد پر تقسیم کیا گیا۔ اس فارمولے کے مطابق پنجاب کا حصہ 51.74 فیصد ، سندہ کا 24.55 فیصد، سرحد موجودہ کے پی کے 14.62 فیصد اور بلوچستان کو 9.09 فیصد ملے۔

Karachi

Pakistan Seize Three Tonnes Of Hashish

Pakistani authorities have seized more than three tonnes of hashish, on route to Europe and the Middle East on board an oil tanker. 168 more words

World

Dolmen Mall Karachi to Celebrate Mother's Day

Dolmen Mall, one of the largest shopping destinations in Pakistan, will be welcoming Mother’s Day this year by putting together a special 3-day celebration for the MOMs – giving them ample opportunity to bond and spend quality moments with their loved ones. 175 more words

Pakistan

The slow torture.

I woke up to the darkness surrounding me, sweating heavily. There was eerie silence, the air was hot and humid. I gulped for air and blinked my eyes several times to adjust to the darkness. 810 more words

Country

Nuclear Power Generation & Its Safety

Watch my Report on Nuclear Power Generation and its Safety…As Nuclear Power is the cheapest way to produce electricity but there was question of its safety especially Karachi plants K2 and K3 raised lot of questions on the safety of Karachities …lets know how safe it is?

News Report

Do You Remember -

تمہیں یاد ہو کہ نہ کہ یاد ہو  
 
پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو بہادری سے دہشت گردوں کے خلاف ڈ ٹہ ہوا ہے اور 50,000 سے زائد سویلین اور فوجیوں کی شہادتوں کے باوجود ہمت و حوصلے پست نہیں ہوے.پاکستان کی افواج پاکستان نے آج سے 10 ماہ پہلے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیاتھا جس میں اب تک ہماری افواج پاکستان نے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں سے ان گنت کامیابیاں حاصل کی ہیں اور آپریشن ابھی بھی جاری ہے.

Pakistan.