Tags » Karachi

پنجاب میں آخری سانسیں لیتی پیپلز پارٹی کا سیاسی مستقبل

 تحریر: ماجد صدیقی

میں نے اپنے گذشتہ مضمون میں بلاول بھٹو زرداری اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سیاسی مستقبل کے بارے میں تجزیہ کیا تھا۔اپنے مضمون میں میں نے اس بات پر بحث کی تھی کہ پیپلز پارٹی کی موجودہ قیادت کی کارستانیوں کی وجہ سے جماعت تاریخ کے بدترین دور سے گذررہی ہے، ایسے میں صورتحال کو واپس اپنی جگہ پر لانے کے لئے بلاول کو اپنے نام پر نہیں کارکردگی پر انحصار کرنا ہوگا اور اسے کسی وڈیرے کے بیٹے کا نہیں، عوامی رہنما کا رویہ اپنانا ہوگا۔ بلاشبہ پاکستان پیپلز پارٹی اور اس کا سیاسی مستقبل ایک ایسا ٹاپک ہے ،جس پر تجزئے کے لئے کئی ایک تحریروں کی ضرورت ہوگی۔ پارٹی کی تاریخ اب نصف صدی کی ہو چلی ہے۔گو وہ اپنے وجود کی آخری سانسیں لے رہی ہے ، تاہم کہا جاسکتا ہے کہ اب بھی مردے میں جان ہے۔ حالانکہ بستر مرگ پر پڑے مریض کے جسم اور روح کا تعلق اب منقطع ہی معلوم پڑتا ہے، لیکن ظاہر ہے جب تک سانسوں کا سلسلہ چلتا رہے گا، تب تک طبیب عارضہ کے علاج کے لئے آخری حربہ یہ سوچ کر استعمال کرتے رہینگے کہ نجانے کونسا  نسخہ کیمیا کام دکھادے اور مردہ کو اپنے دونوں قدموں پر کھڑا کردے۔ 

آج کے اس مضمون کے ذریعے میری کوشش ہوگی کہ میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں سیاسی مستقبل پر بحث کروں۔ میں نے اپنے گذشتہ آرٹیکل میں بھی اس پر تھوڑی سی گفتگو کی تھی اور خدشہ ظاہر کیا تھا کہ اب دراڑیں پڑی ہوئی پیپلز پارٹی میں جلد ٹوٹ پھوٹ نظر آنا شروع ہوجائیگی اور عنقریب پیپلز پارٹی پنجاب کی قیادت راہ فرار اختیار کرکے اپنی سیاسی جان بچائے گی اور جماعت کو چھوڑ چھوڑ کر دوسری جگہ سیاسی پناہ گاہیں تلاش کرے گی۔ عین اتفاق یہ تھا کہ اسی دن پیپلز پارٹی کے دو اہم رہنماؤںصمصام بخاری

اور اشرف سوہنانے پارٹی چھوڑ کر پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیا ر کرلی ۔ اطلاعات یہ ہیں کہ پارٹی  سینٹرل اور اپر پنجاب کے تقریبن تمام اضلاع سے اسی صورتحال کا سامنا ہے اور آنے والے دنوں میں مزید بری خبریں آنے کے عندیے مل رہے ہیں۔ خود پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت کے پاس اس طرح کے اطلاعات غالبن ہم سے بھی زیادہ تفصیلات کے ساتھ موجود ہیں، اس لئے گذشتہ دنوں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں اس بات پر تفصیلی طور پر غوروخوض کیا گیا۔ مگربات دراصل یہ ہے کہ معاملات ڈرائینگ روم ڈسکشن سے کہیں زیادہ آگے نکل چکے ہیں ۔

 

گذشتہ سات سالوں میں، جب سے جناب آصف علی زرداری نے پارٹی کی باگیں اپنے ہاتھ میں

لیں۔جماعت تقریبن ہر جگہ پستی کا شکار ہوئی۔ مگر پنجاب میں یہ نقصان سب سے زیادہ ہوا ہے۔ اس کی تین بنیادی وجوہات ہیں۔ ایک تو پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت کی عدم دلچسپی اور صوبے کی سیاسی قیادت کے حوالے سے غلط فیصلے، دوسرا پاکستان تحریک انصاف کاپنجاب میں ایک مربوط سیاسی جماعت کے طور پر ابھر کر آنا اور تیسرا پنجابکی سماجی اور معاشی حوالے سے تبدیلی اور پیپلز پارٹی کو اس کا ادراک نہ ہونا۔ ان تینوں عوامل کی وجہ سے آج پیپلزپارٹی پنجاب اپنے آپ کو مجموعی طور پر تنہا کھڑی پاتی ہے، جس کی وجہ سے پنجاب سے تعلق رکھنے والی سیاسی قیادت، جسے بہرحال سیاست تو کرنی ہے اب اپنے سیاسی سروائیول کی تلاش میں سرگردان نظر آتی ہے۔ حالانکہ زرداری صاحب نے اپنے دور صدارت کے دوران اعلان کیا تھا کہ لاھور میں بلاول ہاؤس بن جانے کے بعد و ہ زیادہ تر وقت وہیں پر گذارینگے مگر وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے اور پارٹی آج بھی بلاول ہاؤس کراچی سے چلائی جارہی ہے۔ اس کی بھی بنیاد ی وجہ یہ ہے کہ پیپلز پارٹی قیادت اپنے آپ کو سند ہ میں اپنی جماعت کی حکومت کے باعث زیادہ محفوظ تصور کرتی ہے۔ جب کہ پنجاب کی راجدہانی لاھور ان حالات میں ان کے لئے بہت سارے حوالوں کی وجہ سے ایک غیر محفوظ جگہ ہے۔ حال ہی میں جب بلاول بھٹو زرداری نے پنجاب جاکر پیپلز پارٹی کو دوبارہ فعال کرنے کا اعلان کیا تو جلد ہی یہ خبر بھی آئی کہ ان کی پنجاب روانگی سیکیورٹی وجوہات کے سبب منسوخ کرنے پڑے گی۔ کیونکہ پنجاب کی صوبائی حکومت نے انہیں سیکورٹی کلیئرنس نہیں دی تھی۔ پیپلز پارٹی کی قیادت اسے پنجاب کی صوبائی حکومت کے عدم تعاون سے تعبیرکرتی ہے۔ مگر ساتھ ساتھ پیپلز پارٹی یہ بھی سمجھتی ہے کہ ن لیگ، جسے پہلے ہی پنجاب میں تحریک انصاف کی شکل میں ایک مضبوط اور ابھرتے ہوئے سیاسی مخالف کا سامنا ہے، وہ بھلا کیونکر پیپلز پارٹی کی قیادت کو راہ ہموار کرکے دے گی۔ حالانکہ دونوں جماعتیں ، تحریک انصاف کے حوالے سے ایک صفحے پر دکھائی دیتی ہیں ، تاہم دونوں ایک دوسرے کواب بھی ایک دوسرے کاسیاسی مخالف سمجھتی ہیں اور سمجھنا بھی چاہیے کیونکہ بہرحال سیاست مفادات کی جنگ کا نام ہے۔اس میں تمام صورتحال کے باوجود نہ تو حتمی دوستی ہوتی ہے اور نہ ہی دشمنی۔سو ن لیگ کے لئے یہ بات آسان نہیں کہ وہ بلاول ہاوس لاھور کو وہ تمام سہولیات فراہم کردے ، جس سے پیپلز پارٹی کو اپر اور سینٹرل پنجاب تک رسائی مل جائے اور ن لیگ کو پی ٹی آئی کے علاوہ ایک اور مخالف سے نبرد آزما ہونا پڑے۔ اس لئے یہ صورتحال پیپلز پارٹی قیادت کے لئے انتہائی پیچیدہ ہے کہ وہ ن لیگ کیصوبائی حکومت کے عدم تعاون کے باوجود حالات سے نمٹنے کے لئے آگے بڑھے، جس میں کہ بلاول کی جان کو خطر ہ ہے ۔ یا اسی طرح پیپلز پارٹی پنجاب کو بے بسی کے عالم میں ٹوٹتے پھوٹتے اورڈوبتے، ڈہتے دیکھے۔ 

 

زرداری صاحب نے اپنے دور صدارت کے دوران پیپلز پارٹی پنجاب کی قیادت میں کافی ساری تبدیلیاں کی تھیں۔ انہوں نے محترمہ شہید کے دنوں کا سارا ارنجمینٹ تبدیل کرکے اپنی صف بندیاں کرنے کی کوشش کی تھی مگر ان تبدیلیوں کی وجہ سے پارٹی مضبوط ہونے کے بجائے مزید کمزوری کی طرف مائل رہی۔ انہوں نے پارٹی قیادت پرانے جیالوں سے چھین کر میاں منظور احمد وٹو کو غالبن یہ سوچ کرکے حوالے کی کہ وہ بڑے جادوگر آدمی ہیں۔ وہ کمزوری کو طاقت میں بدل دینگے۔ مگر زرداری صاحب یہ بھو ل گئے تھے کہ وٹو صاحب ماضی میں اسٹبلشمینٹ کے پروجیکٹس لے کر اسے کامیاب کرتے رہے ہیں ، جبکہ پیپلز پارٹی ایک عوامی جماعت ہے ، جو صرف عوام سے مربوط رابطے کے ذریعے ہی اپنا وجود قائم رکھ سکتی ہے۔ وہ کسی سازشی اندازکی سیاست سے نہیں محض عوامی اندازکی سیاست سے ثابت قدم رہ سکتی ہے۔ جناب وٹو کی مقرری نے پیپلز پارٹی پنجاب میں اضطراب کی کیفیت بپا کردی۔ پہلے پہل تو اسے پورے پنجاب کا پروجیکٹ ہاتھ میں تھمایا گیا۔ تاہم بعد میں سابق وزیراعظم گیلانی اور دوسرے اہم رہنماؤں کے اعتراض کے باعث یہ فیصلہ واپس لینا پڑا اور بعد ازاں وٹو صاحب کو صرف سینٹرل اور اپر پنجاب کی ذمیداری سونپی گئی جبکہ جنوبی پنجاب گیلانی صاحب کے حصے میں آیا۔ انہوں نے بھی ذمیداری احساس کے ساتھ نہ نبھائی ،جس کے باعث جنوبی پنجاب میں بھی پیپلز پارٹی بیک فوٹ پر کھڑی نظر آتی ہے۔ موجودہ صورتحال یہ ہے پیپلز پارٹی پنجاب کی قیادت ، جس نے بھٹو کی شہادت کے بعد کوڑے کھائے، اذیتیں برداشت کی، جیلیں کاٹیں اور جو شہید بینظیر کے ساتھ قدم بقدم رہے ، وہ کہیں دو ر دور تک دکھائی نہیں دیتے۔ یہی وہ لوگ تھے جو پیپلز پارٹی کو پنجاب میں تمام مشکل حالات کے باوجود زندہ رکھنے کی کوشش کرتے اور ہر کٹھن وقت سے لڑ جاتے۔مگر ان کی اہم جگہوں سے بیدخلی پارٹی کے لئے زحمت کا باعث بن رہی ہے۔ تقریبن تمام پیپلز پارٹی پنجاب، وٹو صاحب کو قائد بنانے کے قدم پر سوالیہ نشان لگائے بیٹھی ہے اور پارٹی سے مکمل طور پر کنارہ کش نظرآتی ہے، اب ایسی صورتحال میں وہ پارٹی کے ساتھ وفادار رہ کر کیا حاصل کرلینگے۔ 

 

دوسری اہم وجہ جیسا کہ میں نے اوپر عرض کیا تحریک انصاف ہے، جو گذشتہ بیس سال کی محنت کے بعد آخر کا ر ملک کے سیاسی منظر نامے پر ایک مضبوط سیاسی کھلاڑی کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہے۔ تحریک انصاف نوجوانوں کی جماعت ہے، اسی طرح جیسے کبھی ذوالفقار علی بھٹو کی سربراہی میں پیپلز پارٹی ہوا کرتی تھی۔ اس کا رہنما عمران خان ایک ایسا شخص ہے ، جس پر کرپشن کاکوئی داغ نہیں۔ بلکل اسی طرح جیسے سینتالیس بر س پہلے پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو پراس طرح کا کوئی داغ نہیں تھا۔ تحریک انصاف کا جوش اور ولولہ اور ملک کے حالات کو ٹھیک کرنے کی امنگ بھی وہی ہے اور یہ خدوخال بھی سینتالیس سال پہلے کی پیپلز پارٹی سے ملتے جلتے نظر آتے ہیں ۔ جس طرح ساٹھ کی دہائی کے آخر میں پیپلز پارٹی عوام کی آزمائی جماعت نہیں تھی اور عوام اسے اقتدار سونپ کر آزمانہ چاہتے تھے، تقریبن اسی طرح کے خیالات اب عوام میں تحریک انصاف کے لئے پائے جاتے ہیں۔ مجموعی طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ تحریک انصاف اس ملک کے نئے نسل کی جماعت ہے۔ جیسے سینتالیس سال پہلے بھٹو صاحب کی قیادت میں پیپلز پارٹی ہوا کرتی تھی۔ سینتالیس بر قبل پہلے بھٹو کی پارٹی کو بنانے والے اور اس کی بیٹی کی سربراہی میں چلانے والے اب گذشتہ نسل کے لوگ ہیں ، جو تھک ہار کر بیٹھ گئے ہیں۔ جب کہ آج کا نسل اپنے آپ کو پیپلز پارٹی سے اس لئے بھی جڑا ہوا محسوس نہیں کرتا ، اس لئے کہ انہوں نے جب سے ہوش سنبھالا ہے، پیپلز پارٹی کو عوام کے نہیں ، بلکہ اپنے حق میں حکمرانی کرتے دیکھا ہے۔ ملک کی نئی نسل پیپلز پارٹی سمیت اسٹیٹس کو کی تمام جماعتوں سے خائف نظر آتی ہیں۔ موٹے الفاظ میں کہا جائے تو ان کا پیپلز پارٹی جیسی اولڈ فارمیٹیڈ اور جاگیردارانہ اور شاہانہ طرز سیاست رکھنے والی جماعت سے کوئی سروکا ر نہیں۔جلد ہی آنے والی نسل ن لیگ کو بھی اسی طر ح ڈس اون کرنے والی ہے۔ فی الحال ن لیگ نے اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے نوجوانوں کو بھی فوکس کیا ہے اور ساتھ ساتھ پنجاب ، خاص طور پر سینٹرل اور اپر پنجاب میں ترقیاتی کام کرواکر زندہ رہنے کی راہ نکال لی ہے۔ پیپلز پارٹی کے پاس نہ تو نوجوانوں کے لئے کوئی پروگرام ہے ، نہ ہی ملک کی ترقی پر کوئی توجہ۔ حد تو یہ ہے کہ پارٹی کی قیادت ان حالات میں بھی پارٹی کو بہتر انداز میں ریفارم کرنے کا کوئی واضح پلان نہیں رکھتی۔ وہ سمجھتے ہیں کہ بس بلاول کے آجانے سے حالات ان کے حق میں ہوجائینگے۔جو کہ طفل تسلی یا خودفریبی کے علاوہ کچھ نہیں۔ تحریک انصاف کی آمد نے جہاں ن لیگ کو چونکا دیا ہے، وہا ں پنجاب میں پیپلز پارٹی جیسی جماعتوں کے تو جوتوں سمیت پیر گھسیٹ لئے ہیں ۔ آنے والے دنوں میں صورتحال اور بھی خراب ہونی والی ہے۔ اس سال اکتوبر میں پنجاب میں بلدیاتی انتخابات ہونے جارہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے لئے وہ ایسی جنگ ثابت ہونے جارہے ہیں جو لڑائی سے پہلے ہی فیصلہ کن ہوجاتی ہے اور جس میں جیتنے اور ہارنے والے فریق کی شکلیں واضح دیکھیں جاسکتی ہیں۔ انتخابات کے نزدیک آتے ہی پیپلز پارٹی پنجاب کے لوگ یاتو تحریک انصاف میں جاتے دکھائی دینگے یا ن لیگ کے سائے میں پناہ لیتے نظر آئینگے۔ 

 

پیپلز پارٹی کی پنجاب میں سبکی کی تیسری اہم اور بنیادی وجہ ہے پنجاب کے اندر آنے والی سماجی اور معاشی ترقی اور تبدیلی ۔پاکستان بننے کے بعد پنجاب واحد صوبہ ہے جہاں واضح سماجی تبدیلی عیاں نظر آتی ہے۔ بتدریج ہوتی ترقی نے وہاں معاشی صورتحال کے ساتھ ساتھ سیاسی حالات بھی تبدیل کردیے ہیں۔ جس کی وجہ سے لوگوں کی نفسیات تبدیل ہوگئی ہے۔ وہ اب اپنے چودہریوں اور رولنگ ایلیٹ کو بھی اسی شرط پر اقتدار کی ایوانو ں میں پہنچاتے ہیں کہ وہ وہاں پہنچ کر ان کی تبدیلی کی رفتار کواور بھی بڑہائینگے اور صوبے کو مزید ترقی یافتہ بنانے میں اپنا مثبت کردار ادا کرینگے۔ یہ سیاسی سجاگی کی اولین سیڑھی ہے۔ جو بلآخر ترقی کی پے درپے منزلیں طے کرنے میں مدد کرتی ہے۔ وہ سندہ، کے پی اور بلوچستان کے عوام کی طرح بغیر سوچے سمجھے ووٹ نہیں کرتے۔ بلکہ وہ جانتے ہیں کہ ان کے حق میں کیا بہتر ہے اور اس کے لئے وہ کیا کیا کرسکتے ہیں۔ ن لیگ فی الحال تو ان کے ذہن کو سمجھ کر آگے بڑہ رہی ہے، جس وقت رک گئے ، بس روک دیئے جائینگے۔ ا ب ایسی عوام پیپلز پارٹی جیسی جماعت کو بھلا کیونکر ترجیح دے گی۔ جس کے پاس نہ تو کو ئی واضح پلان ہے نہ ہی جدید مزاج اور سوچ۔ میں نے پہلے بھی کہا تھا پنجاب کے عوام کو اب سیاسی اور سماجی حوالے سے پیپلز پارٹی سوٹ ہی نہیں کرتی۔وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کے گذشتہ پانچ سالہ حکومت نے کسی کے حق میں کام نہیں کیا۔ وہ اسے جاگیردارانہ سماج کی نمائندہ جماعت سمجھتے ہیں۔جاگیرداری یاطاقت ور چودہری کلچر جسے وہ اب کافی حد تک پیچھے چھوڑ آئے۔اس بھلا کیوں واپس اپنے اوپر مسلط کرینگے۔ پنجاب کے عوام ، جو اب کافی حد تک نئے اور جدید سماجی سیٹ اپ کا حصہ بن چکے ہیں یا بن رہے ہیں، ان کے لئے جاگیردار وں کی پارٹی کو ووٹ کرنا کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں۔ وہ تو کھیت سے مارکیٹ تک لنک روڈز اور بہترین شاہراہوں کے جال کے فوائد اٹھا رہے ہیں۔ جہاں جلد سے جلدوہ اپنی فصل بیچ کر بہترین منافع کما رہے ہیں۔ جہاں صنعتوں کے جال نے انہیں روزگار دے کر اچھا خاصہ مستحکم کردیا ہے، جہاں وہ اپنے زمیندار یا صنعتکا ر سیاستدان سے اونچے الفاظ میں سوال کرنے کے اہلیت حاصل کر چکے ہیں۔ ایسے میں وہ پیپلز پارٹی کی قیادت کی فرسودہ سوچ کو پروان چڑہانے میں بھلا مددگار ثابت کیوں ہونگیں۔ انہیں تو ترقی مزید منازل کی طرف قدم بڑہانا ہے ایسے میں انہیں صرف اور صرف ایسی جماعتوں کی ضرورت ہے، جو ان کی بہتر سے بہتر تعلیمی ضروریات پوری کریں۔ جو ان کے لئے ترقی کا باعث ہو۔ وہ ایسی جماعت کے ساتھ قدم بقدم ہونگیں جن کی سوچ اور عمل ہم آہنگ بھی اور جدید بھی۔ وہ سندہ کی عوام کی طرح بھیڑ بکریاں بن کر زندگی بسر نہیں کرتے ۔ اس لئے ایسی جگہ پر پیپلز پارٹی کا مستقبل اس وقت تک تاریک رہے گا، جب تک وہ اپنے رویے اور طرز سیاست میں تبدیلی نہیں لاتے اور عوام اور اس کے خواہشات سے خود کو ہم آہنگ نہیں کرتے اور ایسا مجھے اس لیڈرشپ کے ہاتھوں ہوتے دکھائی نہیں دیتا۔ آئیے ہم سب مل کر پیپلز پارٹی کے ایصال ثواب کے لئے دعا ابھی سے ہی کرلیں۔

 

اب تو آھستہ آھستہ سند ہ میں بھی تبدیلی کی سو چ پنپنے لگی ہے۔ گو اس کی رفتار سست روی کا شکار ہے ،مگر سندھی عوام کی نئی نسل میں بھی سوچ کی نئی لہر موجود ہے۔ جو آنے والے دنوں میں طوفان کی شکل اختیار کرسکتی ہے۔ پنجاب کے مقابلے میں سند ہ میں کوئی ایک جماعت بھی پیپلز پارٹی کے مدمقابل کھڑی نظر نہیں آتی، جس کے باعث پیپلز پارٹی کو کھیلنے کے لئے بڑا میدا ن مل گیا ہے۔ جس دن کوئی بھی جماعت ، پھرچاہے وہ زمین سے پیدا ہونے والی جماعت ہو یا کوئی باہر سے آنے والی، مخصوص سوچ کے ساتھ میدان میں اتری تو پیپلز پارٹی سے پرانا تاج چھیننے میں زیادہ دن نہیں لگائے گی۔پھر یہاں پر بھی پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والی سیاسی ایلیٹ آپ کو بھاگتے ہوئے نظر آئے گی۔ فی الحال تو بستر مرگ پر پڑی پارٹی میں جب تک دم ہے، یہ اپنے ذریعہ معاش کے لئے اس سے وابستہ رہینگے۔ جب بھینس دودہ دینا چھوڑ دے گی تب یہ اسے کاٹ کر کھا چائینگے اور ڈکار بھی نہیں لینگے۔ 

Pakistan

Beautiful Islamabad off limits for some Pakistanis

Top Ten Findings has enlisted Islamabad as the second most beautiful capital in the world.

‘Elite apartments looking at the slums of Islamabad’ – And why Islamabad would not be the most beautiful city in Pakistan. 89 more words

Karachi

Soup

The Darakshan police station was a building that was rife with inconsistencies, similar to most government institutions in the country. The building was in desperate need of repair, the rooms were small and ventilated, and the upper levels that should have housed separate departments for forensics and evidence were used as a more private location for prostitutes and transvestites to negotiate their release. 1,279 more words

Short Stories

پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن

تحریر: ماجد صدیقی

اڑتیس سال قبل آج ہی کے دن پاکستان کی پہلی جہموری حکومت کا تختہ الٹ کر ملک میں تیسرا مارشل لا نافذ کردیا گیا تھا۔ وہ دن پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن تھا۔ یہ محض اتفاق تھا یا کسی سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ہوا تھا کہ چار جولائی کو آمریکا کے آزادی کادن منایا گیا اور اس کے اگلے ہی روز پاکستان میں لوگوں کی آزادی کو سلب کیاگیا۔ یہ بات اب کوئی سیکریٹ نہیں رہی کہ آمریکا کے اس وقت کے وزیر خارجہ ھینری کسینجر نے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو سنگین نتائج کی دھمکی تھی۔ خود بھٹو صاحب نے اپنی حکومت کے تختہ الٹنے سے کئی دن پہلے قومی اسیمبلی کے فلور پر خطاب کرتے ہوئے اپنے خلاف چلائی جانے والی تحریک کو عالمی سازش کا حصہ قرار دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا یہ کوئی دیسی سازش نہیں بلکہ عالمی سطح کی انتہائی بڑی سازش ہے۔

آج اس واقعے کو اتنے برس بیت گئے ۔ ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت اور پاکستان کے خلاف کی گئی سازش کے تقریبن تمام کردار اس دنیا سے منتقل ہوگئے ۔ مگر قوم، اپنے ملک کو پیچھے کی جانب دکھیلنے والے ان تمام حضرات کو بھول نہیں پائی۔ تاریخ ان لوگوں کو کبھی بھی معاف نہیں کرے گی۔

Pakistan

Kolachi Restaurant (Spirit of Karachi)

Kolachi Restaurant is one of the finest restaurants in Karachi, located at the food street of Do Darya. It’s operations began back in april 2012 on 25th. 85 more words

Pakistan

I am Karachi...

Reimagining Karachi is a heritage preservation initiative by Seedventures. It is an endeavour to restore Karachi to its former glory, prolong architectural and historical assets and rehabilitate old neighbourhoods around the city. 1,190 more words

Social

The Dacoits of Lyari

It was a public execution unprecedented in its brutality even by Karachi’s own gruesome standards. The criminal who had been lording over Lyari, the city’s most dangerous neighborhood, had gone missing days earlier. 21 more words

Politics